آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرمپ کا بیان، اسرائیلی تحفظات اور تہران کا پاکستان کو پیغام: ایران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔
امریکی سیکریٹری خارجہ نے انڈیا میں ایک نیوز کانفرنس میں تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ممکنہ معاہدہ آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی خدشات کو بڑی حد تک دور کرے گا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔
ایرانی حکام نے ابھی تک ممکنہ معاہدے کے مواد کے بارے میں بات نہیں کی ہے۔ تاہم، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے فریم ورک سے باہر اور سپریم لیڈر کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ’منظم اور تعمیری انداز میں‘ جاری ہیں اور انھوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ ’وقت امریکہ کے حق میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیاں کسی معاہدے کے طے، تصدیق اور دستخط ہونے تک برقرار رہیں گی اور فریقین کو مکمل احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
تاہم ایسے میں غیر سرکاری اور غیر مصدقہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں جن میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدے کی تفصیل دی گئی ہے۔
Axios نے ایک امریکی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب ہیں جس کے تحت جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کی جائے گی، آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا، ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جائے گی، ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے بات چیت ہوگی، اور لبنان میں جنگ کا خاتمہ ہوگا۔
ایرانی حکام کی خاموشی میں تسنیم اور فارس خبر رساں ایجنسیوں نے، جو کہ ملکی عسکری اداروں کے قریب مانی جاتی ہیں، نے بھی ممکنہ معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں اپنے اپنے غیر سرکاری اکاؤنٹس کی اطلاع دی ہے، جس کا عمومی خاکہ Axios کی رپورٹ سے ملتا جلتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ممکنہ ایران-امریکہ معاہدے کی تفصیلات
ایک امریکی اہلکار نے Axios کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت 60 دن کے لیے ہو گی اور دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کے ذریعے اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو مال بردار بحری جہازوں سے کوئی ٹول وصول کیے بغیر کھول دیا جائے گا۔
اس کے بدلے میں، امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے گا اور اسے پابندیوں سے استثنیٰ کے ساتھ اس عرصے کے دوران آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دے گا۔
Axios کے مطابق، ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا اور اپنی افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کے خاتمے کے لیے بات چیت کرے گا۔
اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے Axios کو بتایا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے زبانی طور پر بیان کیا ہے کہ وہ یورینیئم کی افزودگی کی معطلی اور جوہری مواد کے ذخیرے کے حوالے سے رعایت دینے کے لیے تیار ہے۔
Axios کے مطابق، امریکہ نے 60 دن کی جنگ بندی کی مدت کے دوران پابندیاں ہٹانے اور منجمد ایرانی اثاثوں کو جاری کرنے پر بات چیت کرنے پر اتفاق کیا ہے، حالانکہ یہ صرف ایک حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر لاگو ہوں گے جس کی عمل درآمد کے دوران تصدیق کی جا سکتی ہے۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق جس نے Axios سے بات کی، ایران پابندیوں کو مستقل طور پر ہٹانے اور اپنے اثاثے فوری جاری کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن امریکہ نے کہا ہے کہ یہ تبھی ممکن ہو گا جب ایران ٹھوس مراعات پر راضی ہو۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں خطے میں تعینات امریکی افواج 60 دن کی مدت کے لیے موجود رہیں گی اور معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بعد واپس چلی جائیں گی۔
Axios کے مطابق یادداشت کے مسودے میں یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ختم ہو جائے گی۔
اسرائیل نے ابھی تک باضابطہ طور پر ان رپورٹس پر ردعمل نہیں دیا ہے، لیکن Axios نے ایک اسرائیلی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر ہونے والی بات چیت میں لبنان جنگ تک امریکہ ایران معاہدے کو بڑھانے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔
امریکی اہلکار نے Axios کو یہ بھی بتایا کہ نیتن یاہو کو معاہدے کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں بھی تحفظات ہیں۔
Axios سے بات کرنے والے ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ ’نیتن یاہو کے تحفظات ہیں، لیکن ٹرمپ کو امریکہ اور عالمی معیشت کے مفادات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘
امریکی عہدیدار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان میں جنگ بندی یک طرفہ نہیں ہوگی اور اگر حزب اللہ خود کو مسلح کرنے یا حملہ کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھاتی ہے تو اسرائیل کو جواب دینے کی اجازت ہوگی۔
ایرانی میڈیا کیا کہتا ہے؟
اگرچہ ایرانی حکام نے ابھی تک ممکنہ معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن تسنیم اور فارس جیسے ایرانی عسکری اداروں کے قریبی خبر رساں اداروں نے چند اکاؤنٹس شائع کیے ہیں۔
ان خبر رساں ایجنسیوں نے ایسی تفصیلات شائع کی ہیں جو بڑے پیمانے پر Axios کے دعووں سے ملتی جلتی ہیں، لیکن ان کی رپورٹس مایوسی پر مبنی ہیں۔
فارس نیوز ایجنسی نے لکھا کہ جب کہ مذاکرات ابتدائی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں، باخبر ذرائع اس امکان کی اطلاع دے رہے ہیں کہ امریکہ اپنے سابقہ طرز عمل پر واپس آجائے اور ابتدائی معاہدے کی ایک شق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ واشنگٹن نے ابتدائی معاہدے کے خلاف کام کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمیں امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں ہے اور عدم اعتماد موجود ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے بھی امریکہ کی جانب سے اثاثوں کی رہائی کے حوالے سے اپنے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر ایران کی تشویش کے بارے میں لکھا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکہ اثاثوں کو جوہری معاملات پر ممکنہ حتمی معاہدے سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا کم از کم کچھ حصہ مفاہمت کے اعلان کے شروع میں ہی جاری کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، باقی ماندہ حصے کو جاری کرنے کا طریقہ کار بھی مذاکرات کے دوران واضح ہونا چاہیے۔
خبر رساں ایجنسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی ممکنہ یادداشت کی ایک یا دو شقوں پر اختلاف بدستور جاری ہے اور امریکہ کی وجہ سے ابھی تک اس معاملے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی ہے۔
تسنیم کے مطابق پاکستانی ثالث کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر اثاثوں کی رہائی سمیت یہ معاملات حل نہ ہوئے تو کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔
ایک اور مسئلہ جس پر ایرانی میڈیا میں زور دیا گیا ہے وہ ہے جوہری مذاکرات کو ابتدائی معاہدے کے بعد تک ملتوی کرنا۔
فارس نیوز ایجنسی نے لکھا ہے کہ مذاکرات سے واقف ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے مسودے میں ایران کے جوہری وعدوں کے حوالے سے کوئی شق شامل نہیں اور جوہری پروگرام سے متعلق تمام معاملات معاہدے پر دستخط ہونے کے 60 دن بعد مذاکرات کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
ایران کے جوہری وعدوں کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوں اور اقتباسات کو مسترد کرتے ہوئے فارس نے لکھا کہ جوہری ذخیرے حوالے کرنے، سازوسامان واپس لینے، تنصیبات کو بند کرنے یا جوہری بم نہ بنانے کا کوئی وعدہ ابھی نہیں ہے۔
تسنیم نے لکھا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کو بروئے کار لانے پر اصرار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی گزر گاہ کو جنگ سے پہلے کی سطح تک بڑھانے کے معاہدے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس آبی گزرگاہ کی حیثیت سابقہ حالات پر واپس آجائے گی۔
خبر رساں ایجنسی نے یہ بھی لکھا کہ یادداشت پر ممکنہ دستخط کے اشارے کے باوجود ایران مذاکرات کی ناکامی کے لیے تیار ہے اور ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا کہ اگر امریکیوں نے ایک بار پھر غلط اندازہ لگایا تو انھیں نئی ایرانی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑے گا جو کہ گزشتہ جنگوں سے مختلف ہوگی۔