’سکائی میپ ریڈار‘: یوکرین اپنے آسمانوں کو کیسے ’ڈرون پروف‘ بنا رہا ہے؟

    • مصنف, جوناتھن بیل
    • عہدہ, بی بی سی کے نامہ نگار برائے دفاعی امور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

اس ہفتے جب دور کہیں فضائی حملے کے سائرن سنائی دے رہے تھے، کیئو میں دو بہنوں کی تدفین کی گئی۔

12 سالہ لیوباؤا اور ان کی 17 سالہ بہن ویرا ان 24 شہریوں میں شامل تھیں جو اس ماہ کے اوائل میں ایک روسی میزائل حملے میں ہلاک ہو گئیں، جس نے ان کی رہائشی عمارت کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔

ان کے والد پہلے ہی محاذ پر لڑتے ہوئے جان گنوا چکے تھے۔ اب ان کی غمزدہ والدہ خاندان کی واحد زندہ بچ جانے والی فرد ہیں۔

یہ اب تک کے سب سے بڑے روسی فضائی حملے کی انسانی قیمت ہے، جس میں 48 گھنٹوں کے اندر یوکرین پر 1,500 ڈرونز اور 56 میزائل داغے گئے۔

لیکن جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا تھا تاہم یوکرین کے فضائی دفاع نے مزید ہلاکتوں کو روکا۔

صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق ان طویل فاصلے کے ڈرونز میں سے 94 فیصد اور میزائلوں میں سے 73 فیصد کو کامیابی سے روک لیا گیا۔

اس کے مقابلے میں 14 مئی 2025 کو کیئو کی افواج نے ملک بھر میں داغے گئے روسی ڈرونز کا 55 فیصد مار گرایا تھا۔

یوکرین اپنے آسمانوں کے دفاع میں بہتری لا رہا ہے۔

یوکرین کی وزارتِ دفاع کے انسپیکٹر جنرل لیفٹیننٹ کرنل یوری میرونینکو کہتے ہیں کہ ’ہم اب بدقسمتی سے دنیا میں بہترین ہیں‘ تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ روسی بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانا ’اتنا آسان نہیں‘۔

یہ انٹرسیپٹر ڈرونز سستے اور مؤثر طریقے سے روسی شاہد ڈرونز کو تباہ کر سکتے ہیں اور یوکرین اب انھیں بڑے پیمانے پر تیار کر رہا ہے

روس کے حملے کے چار سال سے زیادہ عرصے بعد، یوکرین نے ایک بتدریج زیادہ جدید اور کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام قائم کر لیا ہے۔

جنگ کے آغاز میں وہ سوویت دور کے پرانے ہتھیاروں پر انحصار کرتا تھا۔

بعد میں مغرب نے پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل جیسے مہنگے اور زیادہ جدید نظام فراہم کر کے اس کے دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔

لیکن یوکرین نے خود بھی اپنے دفاع کو ٹرکوں پر نصب بھاری مشین گنز کے ساتھ کام کرنے والی موبائل فائر ٹیموں سے لے کر سستے، بڑے پیمانے پر تیار کردہ انٹرسیپٹرز تک بہتر بنایا۔

جدت اور ٹیکنالوجی کو اپنانا یوکرین کو برتری دے رہا ہے۔

یوکرین کے فضائی دفاع کے مرکز میں وہ سافٹ ویئر ہے جو روس کی جانب سے داغے جانے والے ہر گلائیڈ بم، میزائل اور ڈرون کا تعاقب کرتا ہے۔

’سکائی میپ‘ ریڈار، ہزاروں سینسرز، ویڈیو فیڈز اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے خطرات کی نشاندہی کرتا اور فضائی دفاع کی رہنمائی کرتا ہے۔

ابتدا میں یوکرین ٹیلی گراف کے کھمبوں پر نصب موبائل فونز کے ایک نیٹ ورک پر انحصار کرتا تھا تاکہ قریب آتے ڈرونز کی آواز سنی جا سکے۔

اب یہ نظام زیادہ جدید سینسرز استعمال کرتا ہے۔

امریکہ ’سکائی میپ‘ کا استعمال مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ایک اڈے کے تحفظ کے لیے بھی کر رہا ہے۔

اور ایک ہتھیار ایسا ہے جو روسی ڈرونز کو گرانے میں سب سے زیادہ مددگار ثابت ہو رہا ہے اور وہ سستے انٹرسیپٹر ڈرونز ہیں۔

ان کی شکل ایک بڑے کارتوس جیسی ہوتی ہے اور انھیں نچلے حصے میں لگے چار روٹرز کی مدد سے چلایا جاتا ہے۔

یوکرین اب اس قسم کے ایک ہزار سے زیادہ ڈرون روزانہ تیار کر رہا ہے۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق مارچ میں انھوں نے 30 ہزار سے زیادہ روسی ڈرونز تباہ کیے۔

خرسون شہر کے باہر ایک میدان میں، یوکرین کی میرین کور کا بغیر پائلٹ نظام کا رجمنٹ ان میں سے ایک کا عملی مظاہرہ کرتا ہے۔

مستحکم لانچ سے ان کا P1-SUN انٹرسیپٹر 300 کلومیٹر فی گھنٹہ (186 میل فی گھنٹہ) سے زیادہ رفتار اور 30 کلومیٹر سے زیادہ رینج حاصل کر سکتا ہے۔

یونٹ نے ابھی روسی ڈرونز کو تباہ کرنے کا ایک مشن مکمل کیا تھا۔

کمانڈر ویلکوس اسے ’انتہائی سنجیدہ ہتھیار‘ قرار دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کتنی تیزی سے خود کو ڈھال سکتے ہیں، ہم کس طرح محاذ کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور ہم کتنی ترقی کر سکتے ہیں۔‘

نجی کمپنیاں بھی اس نظام کا حصہ بن رہی ہیں۔

میرونینکو، جو اس اقدام کی نگرانی کرتے ہیں، وضاحت کرتے ہیں کہ ’ہمیں پورے یوکرین کو کور کرنا ہے اور تمام اہداف کو دیکھنا ہے۔ اسی لیے ہم اپنے تمام وسائل استعمال کرتے ہیں۔‘

اب تک 25 کمپنیاں اس سکیم میں شامل ہو چکی ہیں۔

سردیوں کے دوران یوکرین کے توانائی کے نظام پر روسی حملوں نے لاکھوں لوگوں کو بجلی سے محروم کر دیا۔

’کارمین سکائی‘ ان کمپنیوں میں سے ایک ہے جو اب نجی شعبے کے دیگر صارفین کو فضائی دفاع فراہم کر رہی ہے۔

انھوں نے پہلے ہی روسی سرحد کے قریب خارکیف کے علاقے میں دور سے کنٹرول ہونے والی مشین گنز سے لیس ٹاورز کا ایک نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔

ہم ایک عمارت کے تہہ خانے میں ان کے کنٹرول روم کا دورہ کرتے ہیں۔

سکرینوں کی قطاریں یوکرین کے ’سکائی میپ‘ کو دکھاتی ہیں، جو روسی ڈرونز اور جیٹ طیاروں کی نگرانی کر رہا ہے۔ ان سکرینوں کے پیچھے عام شہری بیٹھے ہیں، مائیں، ٹیکسی ڈرائیور اور سابق فوجی۔

ہر ایک کی جانچ پڑتال کی گئی اور چند ہفتوں کی تربیت کے بعد انھیں دور سے کنٹرول ہونے والی ان گنز کو چلانے کی اجازت دی گئی۔

کمپنی کے ترجمان رسلان مجھے بتاتے ہیں کہ ان کا کام ’مشکل نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ڈرونز کو گرانے کے لیے دور سے کنٹرول ہونے والی مشین گنز چلانا ’ایک کمپیوٹر گیم کی طرح ہے، بالکل ایکس باکس یا پلے سٹیشن جیسا‘۔

یوکرین کا ’سکائی میپ‘ نظام فضا میں روسی ڈرونز اور جیٹ طیاروں کی نگرانی کرتا ہے۔

رسلان اپنے کردار کو ’ریاستی فضائی دفاعی ڈھانچے کی تکمیل‘ قرار دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم فوجی نظام میں ضم ہیں۔ یہ کوئی جنگل کا قانون نہیں، اس لیے ہم فوج کی ہدایات اور احکامات پر عمل کرتے ہیں۔‘

رسلان کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کو شامل کرنے کے دیگر فوائد بھی ہیں۔ ’ہم سرکاری شعبے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے توسیع کر سکتے ہیں۔‘

ابھی یہ ابتدائی مرحلہ ہے لیکن یہ نجی کمپنیاں پہلے ہی درجنوں روسی ڈرونز مار گرا چکی ہیں۔

یوکرین نے روس پر اپنے حملوں میں بھی اضافہ کیا۔

حالیہ حملوں نے ملک بھر میں روسی تیل صاف کرنے والے کارخانوں میں بڑے پیمانے پر آگ لگا دی اور سینٹ پیٹرزبرگ اور ماسکو جیسے بڑے شہروں تک پہنچ گئے، جس کے باعث کریملن نے مئی میں دوسری عالمی جنگ کے یومِ فتح کی پریڈ کا حجم یوکرینی حملے کے خدشے کے پیش نظر کم کر دیا۔

نتیجتاً، دونوں فریق اب اس جنگ میں برتری حاصل کرنے کے لیے تیزی سے جدت لانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

روس تیز رفتار جیٹ سے چلنے والے ڈرونز تیار کر رہا ہے۔ وہ اب یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کے مقامات معلوم کرنے کے لیے دھوکہ دینے والے ڈرونز بھی استعمال کر رہا ہے۔

یوکرین کے فضائی دفاع میں اب بھی نمایاں خلا موجود ہیں۔

ایک طرف جدید مگر مہنگے میزائل انٹرسیپٹرز کی کمی ہے۔ یوکرین کو اب بھی امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائلوں کی ضرورت ہے۔ اب تک یہی واحد مؤثر ہتھیار ہیں جو روسی بیلسٹک میزائلوں کو مار گرا سکتے ہیں۔

ایران میں امریکی جنگ کے باعث ان کی فراہمی محدود ہے۔

محاذ کے قریب، یوکرین کو بھی روس کی طرح چھوٹے ایف پی وی ڈرونز کے خطرے سے نمٹنے میں مشکل پیش آئی ہے، جنھیں آپریٹرز دور سے اپنے ہدف تک لے جاتے ہیں۔

یہ اب بھی زیادہ تر جانی نقصان کی وجہ ہیں۔

اس جنگ میں تکنیکی ترقی کے باوجود، سڑکوں کے اوپر جال، رائفلیں اور شاٹ گنز اب بھی آخری دفاعی لائن ہیں۔

یوکرین کے آسمانوں کا دفاع کبھی آسان نہیں ہو گا۔

صدر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ روس کے بڑے پیمانے کے حملے اس کے فضائی دفاعی نظام کو مغلوب کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔

سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائل داغنے سے یہ ناگزیر ہے کہ کچھ اپنے ہدف تک پہنچ جائیں، جس کا مطلب ہے کہ لیوباؤا اور ویرا جیسی مزید المناک اموات ہوں گی۔