آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا اورنگزیب کے دور میں آٹھ من چاول کی قیمت ایک روپے تھی؟
- مصنف, مقیم الاحسن
- عہدہ, بی بی سی نیوز بنگلہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
’شائستہ خان جب ڈھاکہ چھوڑ کر گئے تو انھوں نے لال باغ قلعے کا مغربی دروازہ بند کروا دیا اور وہاں ایک کتبہ نصب کروا کر لکھوایا کہ جب تک چاول کی قیمت ان کے دور کی طرح سستی نہیں ہو جاتی، یہ دروازہ نہیں کھولا جائے گا۔‘
مغل دورِ حکومت میں بنگال کے صوبیدار شائستہ خان کے زمانے میں چاول کی قیمت کے بارے میں تاریخ دان پروفیسر عبد الکریم نے اپنی کتاب ’بنگال کی تاریخ‘ میں یہ تفصیل بیان کی ہے۔
پروفیسر عبد الکریم کے مطابق یہ دروازہ واقعی نصف صدی سے زیادہ عرصے تک بند رہا۔
انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بعد میں 1740 میں نواب سرفراز خان کے دور میں جب آٹھ من چاول کی قیمت دوبارہ کم ہو کر ایک روپے (یا ایک ٹکا) ہوئی تو یہ دروازہ کھولا گیا۔
تاریخ کی درسی کتابوں اور مختلف تحقیقی مطالعات میں شائستہ خان کے دور میں ایک ٹکے میں آٹھ من چاول ملنے کا ذکر اتنی تفصیل سے کیا گیا ہے کہ جب بھی سستی اشیا کی مثال دی جاتی ہے تو شائستہ خان کا دور سامنے آتا ہے۔
اسی طرح مختلف ادوار میں جب بازار میں چاول، دال اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو بھی بہت سے لوگ مثال کے طور پر شائستہ خان کے زمانے کا حوالہ دیتے ہیں۔
تاہم وقتاً فوقتاً تاریخ کے محققین کے سامنے یہ سوال بھی اٹھتا رہا ہے کہ کیا واقعی شائستہ خان کے دور میں اشیا اس قدر سستی تھیں؟
کیا وہ واقعی عام لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے قیمتوں کو قابو میں رکھتے تھے؟ اور کیا چاول کی سستی قیمت کا مطلب یہ تھا کہ اس زمانے میں لوگ واقعی خوشحال اور آسودہ زندگی گزار رہے تھے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا واقعی ایک روپے میں آٹھ من چاول ملتے تھے؟
آج بنگلہ دیش میں چند دن بعد ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ دیگر اشیا کے ساتھ چاول کی قیمت میں بھی اکثر اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
اسی لیے جب بھی روزمرہ استعمال کی اشیا اور خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو لوگ شائستہ خان کے دور کی مثال دینے لگتے ہیں، کیونکہ اس زمانے میں اشیا کی قیمتیں بہت کم بتائی جاتی ہیں۔
انیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی مصنف بریڈلی برٹ نے شائستہ خان کے دورِ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’آج بھی پورے صوبے میں ان کی یاد انتہائی احترام کے ساتھ کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے دور میں چاول اتنے سستے فروخت ہوتے تھے کہ ایک روپے میں 740 پاؤنڈ یا آٹھ من چاول مل جاتے تھے۔‘
تاریخ دانوں کے مطابق بعض اوقات ایک روپے میں صرف آٹھ من ہی نہیں بلکہ نو من سے بھی زیادہ چاول مل جاتے تھے۔
تاریخ دان ڈاکٹر محرم علی نے اپنی کتاب ’مغل دور میں بنگال میں مسلم حکمرانی کی تاریخ‘ میں لکھا ہے کہ شائستہ خان کو اپنی اس کامیابی کا احساس تھا۔ اسی لیے جب وہ آخری مرتبہ بنگال سے روانہ ہوئے تو انھوں نے جہانگیر نگر، یعنی موجودہ ڈھاکہ، کے مغربی دروازے پر یہ عبارت کندہ کروائی: ’جو شخص چاول کی قیمت اتنی سستی کر سکے، صرف وہی اس دروازے کو کھولے۔‘
تاریخ کی استاد اور محقق ڈاکٹر نسیمہ حمید نے بی بی سی بنگلا کو بتایا کہ ’صوبیدار شائستہ خان کے دور میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں کم تھیں۔‘ ان کے مطابق مختلف تاریخ دانوں اور غیر ملکی سیاحوں کے بیانات سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس زمانے میں ایک روپے میں آٹھ من چاول ملتے تھے۔
چٹگرام یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور تاریخ دان پروفیسر عبد الکریم نے بھی اس دور کے بارے میں لکھا ہے کہ ’اس سے پہلے کسی دور میں اشیا اتنی سستی نہیں تھیں۔‘
تاریخ دانوں کی کتابوں میں یہ بھی ملتا ہے کہ جب تک چاول کی قیمت ایک روپے میں آٹھ من نہیں ہوئی، لال باغ قلعے کا مغربی دروازہ بند رہا۔ یہ سلسلہ صوبیدار سوجا الدین محمد خان کے دور تک جاری رہا۔
تاریخ دان مسٹر علی کی کتاب کے مطابق 1740 میں نواب سرفراز خان کے دور میں جب چاول کی قیمت دوبارہ کم ہو کر ایک روپے میں آٹھ من ہوئی تو یہ دروازہ کھول دیا گیا۔ پروفیسر عبد الکریم نے بھی اپنی کتاب میں اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔
چاول کی قیمت اتنی کم ہونے کی کیا وجہ تھی؟
مغل بادشاہ اورنگزیب کے دورِ حکومت میں شائستہ خان نے دو مرتبہ مجموعی طور پر تقریباً 22 سال تک بنگال پر حکومت کی۔
اس دوران انھوں نے ایک طرف جنگوں میں کامیابی کے ذریعے بنگال کی حدود وسیع کیں، تو دوسری جانب انتظامی اصلاحات، سرکاری اہلکاروں میں بدعنوانی کے خاتمے اور غیر قانونی ٹیکس ختم کرکے عوام کو ریلیف دینے کے لیے بھی تعریف حاصل کی۔
نتیجتاً ان کے دور میں صوبائی دارالحکومت ڈھاکہ مغل سلطنت کا ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا۔
مغل دور میں بنگال میں مسلم حکمرانی کی تاریخ نامی کتاب میں ڈاکٹر محمد محار علی نے شائستہ خان کے دورِ صوبیداری کو بنگال میں ’مغل مسلم حکمرانی کا بہترین دور‘ قرار دیا ہے۔
شائستہ خان سے پہلے بنگال کے صوبیدار یا حکمران میر جملہ تھے۔ مختلف کتابوں میں ذکر ملتا ہے کہ میر جملہ کے دورِ صوبیداری کے آخری حصے میں ڈھاکہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں قحط پڑا تھا۔
محمد محار علی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس قحط کے بعد ڈھاکہ اور اس کے گرد و نواح کی معاشی صورتِ حال کو سنبھالنا شائستہ خان کی ’معمولی کامیابی نہیں تھی۔‘
چنانچہ ڈھاکہ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد شائستہ خان نے چاول سمیت روزمرہ استعمال کی اشیا کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے۔
پروفیسر عبد الکریم کی کتاب ’بنگال کی تاریخ‘ کے مطابق، ’شائستہ خان نے زرعی ترقی کے لیے کسانوں کو دوہرے ٹیکس سے محفوظ رکھا۔ ساتھ ہی زرعی پیداوار کو بازار تک پہنچانے کے لیے تاجروں کی حوصلہ افزائی کی۔‘
ان محققین کے مطابق شائستہ خان کی جانب سے بازار کی نگرانی، لوگوں کی کم قوتِ خرید اور بعض دیگر عوامل کی وجہ سے اس زمانے میں چاول، دال اور دیگر اشیائے خورونوش نسبتاً بہت سستی تھیں۔
تاہم پروفیسر غلام ربانی اس بات سے اختلاف کرتے ہیں کہ یہی عوامل چاول کی انتہائی کم قیمت یا ایک ٹکے میں آٹھ سے نو من چاول ملنے کی وجہ تھے۔ انھوں نے بی بی سی بنگلا کو بتایا کہ ’اس زمانے میں کسانوں کے حالات انتہائی خراب تھے۔ انھیں کسی کیمیائی کھاد یا آب پاشی کے نظام کے بغیر دھان اور چاول پیدا کرنا پڑتا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اتنے مسائل کے باوجود مون سون اور جسمانی محنت پر انحصار کرنے والے زرعی نظام میں کسان کو ایک ٹکے کی پیداوار حاصل کرنے کے لیے آٹھ من چاول پیدا کرنا پڑتا تھا۔ یہ کسی بھی طرح معاشی خوشحالی کا معیار نہیں تھا۔‘
پروفیسر ربانی کی گفتگو سے ایک اور اہم بات سامنے آتی ہے۔
ان کے مطابق قدیم زمانے سے ہی بنگال سے چاول برآمد کیا جاتا تھا۔ برطانوی اور دیگر ممالک کے تاجر بحری جہازوں کے ذریعے ڈھاکہ کی ململ لے کر جاتے تھے۔ ململ انتہائی ہلکی ہوتی تھی، لیکن سمندر میں جہاز کا توازن برقرار رکھنے کے لیے جہازوں کو وزنی رکھنا پڑتا تھا۔ اسی وجہ سے غیر ملکی تاجر ململ کے ساتھ چاول بھی جہازوں میں لے جاتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ بنگال سمیت ساحلی علاقوں سے چاول خریدتے تھے۔
جب شائستہ خان کی توجہ اس معاملے کی طرف گئی تو انھوں نے چاول کی برآمد پر پابندی عائد کر دی۔
پروفیسر ربانی کے مطابق ’شائستہ خان نے تاریخ میں اپنا نام بنانے کے لیے چاول کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی۔ چاول کی برآمد بند ہونے کے بعد کسانوں کے گھروں میں چاول سڑنے لگے اور اس وقت ایک ٹکے میں آٹھ من سے بھی زیادہ چاول ملنے لگے۔‘
تاہم تاریخ دانوں کے مطابق اس عرصے میں کوئی بڑی قدرتی آفت نہیں آئی تھی۔ استاد اور محقق ڈاکٹر نسیمہ حمید کے خیال میں اس وجہ سے اس زمانے میں بڑی مقدار میں غذائی اجناس پیدا ہوتی تھیں اور بازار میں ان کی وافر رسد موجود تھی، جو چاول کی قیمت کم ہونے کی ایک اور وجہ تھی۔
تاریخ دان یدوناتھ سرکار کے مطابق ڈھاکہ بنگال کے چاول پیدا کرنے والے بڑے علاقوں کے مرکز میں واقع تھا۔ اسی لیے وسطی بنگال کے مقابلے میں ڈھاکہ میں چاول اور دیگر غذائی اجناس کی قیمتیں فطری طور پر کم تھیں۔ اس کے علاوہ اس زمانے میں عام لوگوں کی قوتِ خرید بھی بہت کم تھی، جس کے باعث عام لوگوں کے لیے اشیا کی خریداری آسان نہیں تھی۔
معیشت اور تجارتی نظام کی صورتِ حال
صرف شائستہ خان کے دور میں ہی نہیں بلکہ قدیم زمانے سے بنگال کی معیشت کا انحصار زراعت پر تھا۔ زرعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے انھوں نے کسانوں کو دوہرے ٹیکس سے تحفظ دیا۔
مختلف کتابوں میں ذکر ملتا ہے کہ شائستہ خان کے دور میں بنگال میں انتظامی استحکام معاشی ترقی کے ایک اہم دور کی حیثیت رکھتا تھا۔
اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ صوبیدار شائستہ خان یورپی تاجروں کو درآمدات اور برآمدات کے لیے حوصلہ دیتے تھے۔ ان کے دور میں بنگال کی گھریلو دستکاری اور کپڑے کی صنعت کو عالمی سطح پر شہرت ملی۔ بنگال سے سوتی اور کپڑا یورپ کے مختلف ممالک کو برآمد کیا جاتا تھا۔
بنگلہ دیش اوپن یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد ڈاکٹر محمد عدنان عارف سلیم نے بی بی سی بنگلا کو بتایا کہ ’شائستہ خان کا دورِ حکومت بنگال میں انتظامی استحکام اور معاشی ترقی کا ایک اہم دور تھا۔ بنگال کے صوبیدار کی حیثیت سے انھوں نے محصولات کے نظام کو منظم کیا اور زرعی پیداوار بڑھانے اور تجارت کو وسعت دینے میں کردار ادا کیا۔‘
تاہم ایسا نہیں تھا کہ ان اقدامات سے بنگال کے عام لوگوں کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا ہو۔
تاریخ پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق شائستہ خان کے دور میں اضافی ٹیکس ادا کرتے کرتے بہت سے لوگ بے بس ہو گئے تھے۔
پروفیسر غلام ربانی کہتے ہیں کہ ’شائستہ خان کے بعض اقدامات دیکھ کر بہت سے لوگ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس دور میں معاشی خوشحالی تھی، لیکن یہ کسی بھی طرح معاشی خوشحالی کی حقیقی تصویر پیش نہیں کرتے۔‘
ان کے مطابق ایک طرف اضافی ٹیکس وصول کیا جاتا تھا اور دوسری طرف کسانوں اور محنت کش لوگوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت بھی نہیں ملتی تھی، جس کی وجہ سے ان کی مشکلات بڑھ گئی تھیں۔
ڈاکٹر سلیم کا کہنا ہے کہ ’ان کی انتظامی صلاحیت کے نتیجے میں بنگال میں امن و امان قائم ہوا، تاہم مہنگائی، محصولات کی پالیسی اور معاشی نظام کے حوالے سے مختلف تنقیدیں بھی موجود ہیں۔‘
تاہم تاریخ پر تحقیق کرنے والے ماہرین ایک اور پہلو کو بھی اہم سمجھتے ہیں اور وہ ہے روزمرہ خریداری میں پیسے کا استعمال۔
کیونکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مغل دور میں روزمرہ کی خریداری کے لیے پیسے کا استعمال بہت کم ہوتا تھا۔
ماہرِ اقتصادیات پروفیسر انو محمد نے بی بی سی بنگلا کو بتایا کہ ’اس زمانے میں روزمرہ کی خریداری میں پیسے کا استعمال بہت کم تھا۔ لوگ لین دین کے لیے زیادہ تر اشیا کے تبادلے کا طریقہ استعمال کرتے تھے۔‘
انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’مثلاً اگر آپ کسی حجام سے بال کٹواتے تھے تو اسے فوری طور پر پیسے نہیں دیتے تھے۔ سال میں جب دھان کی فصل کا موسم آتا تو بال کاٹنے کے بدلے اسے دھان دے دیا جاتا تھا۔‘
کوڑی، آنے اور پائی سے چاندی کے سکوں تک
بہت سے تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ مغل دور میں بنگال کے صوبیدار کی حیثیت سے آنے والے بیشتر حکام اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد دوبارہ دہلی واپس چلے جاتے تھے۔
ان میں سے بہت سے لوگ بنگال کے عام لوگوں اور کسانوں کی مشکلات پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے۔ اس زمانے میں لوگوں کے پاس فصل کے علاوہ کوئی خاص دولت نہیں ہوتی تھی۔ معیشت کا زیادہ تر انحصار اپنی ضرورت کی اشیا پیدا کرنے پر تھا۔
جس سال فصل اچھی ہوتی، اس سال عام کسانوں اور لوگوں کے لیے خوراک کا انتظام آسان ہوتا۔ روزمرہ ضروریات کی خریداری میں بھی فصلوں کا لین دین زیادہ عام تھا، جبکہ بعض چیزوں کی خریداری کے لیے کوڑیوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔
پروفیسر غلام ربانی نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ’کچھ خریداریوں میں کوڑیاں استعمال ہوتی تھیں۔ عام لوگوں کے پاس چاندی کے سکے نہیں ہوتے تھے۔ چاندی کے سکے زیادہ تر تاجروں کے کاروباری لین دین میں استعمال ہوتے تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس زمانے میں استعمال ہونے والی کوڑیاں بھی مالدیپ سے چاول کے بدلے لائی جاتی تھیں۔
اس دور کے حساب کے مطابق، ایک روپے کی قدر بہت زیادہ تھی۔ اس وقت چار کوڑیوں سے ایک گنڈا بنتا تھا، 20 گنڈوں سے ایک پن، چار پن سے ایک آنہ اور 80 کوڑیوں سے ایک آنہ بنتا تھا۔ 16 آنے ملا کر ایک روپیہ ہوتا تھا۔
ماہرِ اقتصادیات پروفیسر انو محمد نے بی بی سی بنگلا کو بتایا کہ ’اس زمانے میں آج کی طرح پیسے کے بارے میں گفتگو نہیں ہوتی تھی۔ لوگوں کے حساب کتاب میں کوڑیاں اہم تھیں۔ اس وقت پیسے کی قدر بہت زیادہ تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت باقاعدہ مالیاتی معیشت موجود نہیں تھی۔ پیسوں کا حساب، لین دین اور یہاں تک کہ چاول کی خرید و فروخت بھی بہت محدود تھی۔ زیادہ تر خاندان خود چاول پیدا کرتے اور کھاتے تھے۔ بازار سے چاول خرید کر کھانے کا رواج بہت کم تھا۔‘
اس دور میں چاندی کے سکوں کے ذریعے سرکاری اور بڑے کاروباری لین دین کیا جاتا تھا۔ بڑے کاروبار میں زمیندار اور مذہبی پیشوا چاندی کے سکے یا پیسے استعمال کرتے تھے۔
پروفیسر انو محمد کے مطابق اس زمانے کے چاندی کے ایک سکے کی قدر اور آج کے ایک روپے میں بھی بہت بڑا فرق ہے۔
مغل دور کا ایک روپیہ خالص چاندی کا بنا ہوتا تھا اور اس کا وزن ایک تولہ، یعنی تقریباً 11.6 گرام تھا۔ موجودہ حساب سے 11.66 گرام 22 قیراط چاندی کی قیمت تقریباً دو ہزار سے ڈھائی ہزار ٹکے بنتی ہے۔ بعض تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ اس زمانے میں ایک تولہ سونا 16 ٹکے میں مل جاتا تھا۔
پروفیسر انو محمد کا کہنا ہے کہ ’مغل دور کے ٹکے کا آج کے ٹکے سے براہِ راست موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اگر اس دور کی قدر کو موجودہ زمانے کے حساب سے دیکھا جائے تو ایک روپیہ آج کے چند ہزار ٹکے کے برابر ہو سکتا ہے۔‘
اس کے باوجود زرعی معیشت اور تجارت کی ترقی کے حوالے سے شائستہ خان کے دور کو بنگال کی تاریخ کا ایک یادگار اور سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔
استاد اور محقق نسیمہ حمید کا کہنا ہے کہ شائستہ خان کے دور میں ہی بنگال کی معاشی خوشحالی میں اضافہ ہوا اور صوبائی دارالحکومت ڈھاکہ مغلوں کے ایک اہم تجارتی مرکز میں تبدیل ہو گیا۔ 18ویں صدی کی سرکاری دستاویزات میں بنگال کو ’ہندوستان کی جنت‘ قرار دیا گیا ہے۔