افغانستان کو چین سے جوڑنے والی واخان راہداری شاہراہ کا افتتاح: یہ سڑک کیوں اہم ہے اور بیجنگ کو کیا تحفظات ہیں؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

طالبان حکومت نے افغانستان کے شمال مشرق میں ملک کو چین سے ملانے والی واخان راہداری سڑک کا افتتاح کر دیا ہے۔

طالبان حکومت کی وزارت دیہی بحالی و ترقی کے مطابق بدخشان کے بروغل علاقے سے چین کی سرحد تک 121 کلومیٹر طویل اس کچی (بجری والی) سڑک کے ساتھ چار بڑے جبکہ 66 چھوٹے پل اور تقریباً 3,100 میٹر حفاظتی دیوار تعمیر کی گئی ہے۔

بروغل بدخشان کے واخان علاقے میں واقع ہے اور ڈیورنڈ لائن پر خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے متصل علاقہ ہے۔

طالبان حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ افغانستان کے لیے سیاسی، اقتصادی اور ٹرانزٹ کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے، اور اس کی تعمیر پر سرکاری بجٹ سے 36 کروڑ 50 لاکھ افغانی خرچ کیے گئے ہیں۔

اس منصوبے کی افتتاحی تقریب میں طالبان حکومت کے وزیر دیہی بحالی و ترقی عبداللطیف منصور اور بدخشان کے گورنر رحمت اللہ نجیب سمیت متعدد حکام نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبداللطیف منصور نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے نہ صرف واخان ضلع کے رہائشیوں، خصوصاً پامیر کے لوگوں، کے لیے آمد و رفت میں بڑی سہولت پیدا ہوئی ہے بلکہ مستقبل میں یہ افغانستان اور چین کے درمیان ایک اہم اور بڑی تجارتی و ٹرانزٹ راہداری بھی بن سکتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت بڑے عوامی فلاحی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترجیح دیتی ہے اور یہ کہ ایسے منصوبے غیر ملکی مشیروں اور انجینیئروں کی موجودگی کے بغیر اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر مکمل کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے اس سلسلے میں قوش ٹیپہ نہر اور سالنگ شاہراہ کی بحالی کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن پر ان کے بقول اربوں افغانی خرچ کیے گئے ہیں۔

واخان سڑک منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے ذمہ دار محمد اسماعیل نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’اب ہم براہِ راست چین سے منسلک ہو گئے ہیں۔ کسی بھی قسم کی گاڑی، چاہے بڑی ہو یا چھوٹی، اب وہاں تک پہنچ سکتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ’خاص تاریخی، تزویراتی اور اقتصادی‘ اہمیت کا حامل ہے۔

طالبان حکومت زمینی راستے کے ذریعے چین سے رابطے کو اپنی اہم ترجیحات میں شمار کرتی ہے اور اس حوالے سے متعدد مواقع پر چینی حکام کے ساتھ بات چیت بھی کر چکی ہے۔

اسی سلسلے میں جولائی 2024 میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اور نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی نے کابل میں چین کی وزارت ثقافت و سیاحت کے نائب وزیر لی چون کی قیادت میں آنے والے وفد سے الگ الگ ملاقاتوں میں امید ظاہر کی تھی کہ یہ منصوبہ افغانستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

تاہم چین کے اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے اسی سال جنوری کے آخر میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ بیجنگ اب بھی سکیورٹی خدشات کے باعث افغانستان کے ساتھ براہِ راست زمینی راستہ کھولنے کے معاملے میں محتاط ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ اس وقت چین کے سنکیانگ صوبے کے سرحدی علاقے میں افغانستان کے ساتھ آمد و رفت اور تجارت کے لیے کوئی کسٹم سہولت موجود نہیں ہے، اور چین کا اس راستے پر آمد و رفت کے انتظام کے لیے کوئی سرحدی مرکز قائم کرنے کا بھی منصوبہ نہیں ہے۔

منصوبے کی افتتاحی تقریب میں کسی چینی عہدیدار کی عدم شرکت کو بھی اس حوالے سے اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان کی سابق حکومت نے بھی اپنے خاتمے سے چند ماہ قبل، مئی 2021 میں، واخان کے پہاڑی علاقے میں 50 کلومیٹر طویل ایک بجری والی سڑک کی تعمیر کا آغاز کیا تھا۔

اس وقت کابل نے بھی امید ظاہر کی تھی کہ اس منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت آسان ہوگی اور اشیا کی نقل و حمل کا وقت کم ہو جائے گا۔

سابق حکومت نے کہا تھا کہ سڑک کی تکمیل کے بعد دوسرے مرحلے میں اسے پختہ (اسفالٹ) بنایا جائے گا۔

سیاحت کے فروغ کی امید

واخان راہداری بدخشان ولایت کے مشرق میں بلند پہاڑوں کے درمیان واقع ایک تنگ وادی ہے۔ اس علاقے کی آب و ہوا سرد رہتی ہے اور یہاں کی پہاڑی چوٹیاں تقریباً پورا سال برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔

اس کی سٹریٹیجک اہمیت کے علاوہ، قدرتی حسن اور بلند برف پوش چوٹیوں نے اس علاقے کو سیاحوں کے لیے ایک پسندیدہ مقام بنا دیا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ واخان کو افغانستان کے دوسرے قومی پارک کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا۔

اس علاقے کو دنیا کے نایاب اور نسبتاً غیر متاثرہ خطوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں قدرتی خوبصورتی بڑی حد تک محفوظ رہی ہے۔

یہاں بعض نایاب اور کم یاب جنگلی جانور بھی پائے جاتے ہیں۔

طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے اس سڑک کی افتتاحی تقریب کے دوران امید ظاہر کی کہ اس راستے کے کھلنے سے علاقے میں سیاحت کی صنعت کو بھی فروغ ملے گا اور سیاح آسانی کے ساتھ اس دور افتادہ مقام کی سیر کے لیے آ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے ساتھ اقتصادی ترقی بھی جڑی ہوتی ہے۔

فطرت نے مزید بتایا کہ ان کی حکومت نے علاقے میں مواصلاتی نیٹ ورکس کی فراہمی کے علاوہ ایک صحت مرکز اور ایک اسکول کی تعمیر کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔