عریف پٹیل: کروڑوں پاؤنڈ کے فراڈ میں 20 برس قید کی سزا پانے والا مجرم دبئی کیسے پہنچا؟

    • مصنف, بین رابنسن اور ایلس ہارٹے
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

برطانیہ کے سب سے سرگرم دھوکہ بازوں میں شمار کیے جانے والے عریف پٹیل، جنھیں ایک جج نے ’انتہائی متکبر‘ اور ’مکمل طور پر بے ایمان‘ شخص قرار دیا تھا، تین کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ سے زائد عوامی رقم ہتھیانے کے باوجود اب بھی دبئی میں مفرور ہیں۔

لنکاشائر کے شہر پریسٹن سے تعلق رکھنے والے عریف پٹیل کی جعلسازی کئی برسوں پر محیط ایک پیچیدہ تحقیقات کے بعد بے نقاب ہوئی، جس کی قیادت برطانیہ کے محکمہ محصولات و کسٹمز نے کی۔

تحقیقات کے مطابق پٹیل اور ان کے ساتھیوں نے مجموعی طور پر نو کروڑ پاؤنڈ تک ہتھیانے کی کوشش کی تھی۔

پٹیل 2011 میں برطانیہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اور پھر واپس نہیں آئے۔ بالآخر انھیں عدم موجودگی میں مجرم قرار دیا گیا اور 2023 میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

بی بی سی کے پروگرام فائل آن 4 انویسٹیگیٹس نے اس شخص کا سراغ لگایا ہے، جس نے سرکاری خزانے کو کروڑوں پاؤنڈ کا نقصان پہنچایا اور بظاہر اب تک قانون کی گرفت سے بچا ہوا ہے۔

بڑے پیمانے پر ٹیکس فراڈ کے مقدمات کی تحقیقات کا وسیع تجربہ رکھنے والے سابق افسر راڈ سٹون کہتے ہیں ’جس طرح بدنام زمانہ امریکی گینگسٹر ال کیپون بالآخر ٹیکس حکام کے ہاتھوں پکڑا گیا تھا، یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ 20 سال قید کی سزا ایک تسلی بخش نتیجہ تھا۔‘

سزا سنانے والے جج نے عریف پٹیل کو اپنے بھائیوں، مناف اور فیصل پٹیل، کے ساتھ ایک ’خاندانی منظم جرائم پیشہ گروہ‘ کا سربراہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’اعلیٰ درجے کے مجرم‘ تھے۔

تاہم راڈ سٹون کے لیے یہ بات اب بھی باعثِ تشویش ہے کہ عریف پٹیل نے اپنی 20 سالہ سزا کا ایک دن بھی جیل میں نہیں گزارا۔ ان کے بقول تفتیش میں شامل متعدد افراد کے ذہن میں آج بھی یہ احساس موجود ہے کہ اگرچہ عدالت نے فیصلہ سنا دیا، لیکن انصاف ابھی مکمل طور پر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

نئی صدی کے ابتدائی برسوں میں عارف پٹیل ایک ایسے کامیاب تاجر کے طور پر سامنے آئے جن کا کاروبار تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔

ان کی کمپنی ’فیصل ٹیکس‘، جس کا مرکزی دفتر ان کے آبائی شہر پریسٹن میں تھا، موزوں، نائٹیوں اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات تیار کرتی تھی۔ سنہ 2006 میں ان کی دولت کا تخمینہ 10 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ لگایا گیا تھا اور ان کا نام سنڈے ٹائمز کی رِچ لسٹ میں بھی شامل تھا۔

وہ پریسٹن اور اس کے نواح میں جائیدادوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ سنہ 2007 میں ان کے کم عمر بیٹے نے پریسٹن نارتھ اینڈ فٹ بال کلب میں اقلیتی حصص خریدے، جبکہ شہر کے مرکز میں 10 کروڑ پاؤنڈ مالیت کی 19 منزلہ عمارت تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور تھا، جس میں نباتاتی باغات اور ایک ریستوران شامل ہونا تھا۔

تاہم اس ظاہری کامیابی کے پیچھے ایک بالکل مختلف کہانی چھپی ہوئی تھی۔

سنہ 2000 کی دہائی کے آغاز میں منظم جرائم پیشہ گروہوں نے برطانیہ کے ٹیکس نظام کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ یہ طریقۂ واردات بعد میں ’کیروسل فراڈ‘ کے نام سے معروف ہوا۔ اس فراڈ میں جعلی تجارتی لین دین کی پیچیدہ زنجیریں بنا کر برطانوی محکمہ محصولات و کسٹمز سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی واپسی کی رقوم حاصل کی جاتی تھیں۔

اشیا مختلف کمپنیوں کے درمیان، ملک کے اندر اور بیرونِ ملک منتقل کی جاتیں تاکہ جعلی ٹیکس ریفنڈز کے دعوے کیے جا سکیں۔ اکثر ایک ہی کھیپ کو بار بار مختلف لین دین کا حصہ بنایا جاتا، جس کی وجہ سے اسے ’کیروسل فراڈ‘ کہا جاتا ہے۔

اس نوعیت کے فراڈ سے ٹیکس دہندگان کو ہر سال اربوں پاؤنڈ کا نقصان ہو رہا تھا اور سٹون جیسے تفتیشی افسران اس کے خلاف کارروائی میں صفِ اول میں تھے۔ اسی دوران پٹیل کی ٹیکسٹائل سلطنت بھی ان کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

سٹون کے مطابق ’جب ہم نے ان کے کاروبار کی جانچ شروع کی تو کچھ غیر معمولی کھیپیں سامنے آئیں۔ مثال کے طور پر سوئٹزرلینڈ بھیجی جانے والی ٹوپیوں سے بھری ایک کھیپ ہمیں عجیب لگی کیونکہ وہ دراصل سوئس ساختہ ٹوپیاں تھیں۔‘

کیروسل فراڈ میں ملوث بیشتر گروہ عموماً موبائل فونز، کمپیوٹر چپس اور دیگر مہنگی، زیادہ مقدار میں خرید و فروخت ہونے والی اشیا استعمال کرتے تھے، جن پر تفتیش کاروں کی خصوصی نظر رہتی تھی۔ تاہم عریف پٹیل کا نیٹ ورک زیادہ تر ٹیکسٹائل کی تجارت سے وابستہ تھا، جس کے باعث فراڈ کا سراغ لگانا خاصا مشکل ثابت ہوا۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ کسٹمز حکام کو شبہ ہونے سے پہلے ہی پٹیل ٹیکس دہندگان کے تین کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم حاصل کر چکے تھے۔ تفتیش کاروں کے مطابق انھوں نے مجموعی طور پر نو کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ عوامی رقم ہتھیانے کی کوشش کی، تاہم بعد کی ادائیگیاں روک دی گئی تھیں۔

اس فراڈ کو بے نقاب کرنے کے لیے تفتیشی ٹیموں نے کئی سال تک مالی لین دین کے پیچیدہ اور طویل ثبوتوں کا جائزہ لیا، جس کے بعد کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

عریف پٹیل پر ٹیکس فراڈ کی سازش، منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس تیار کرنے اور نقلی اشیا فروخت کرنے سمیت متعدد جرائم کے الزامات عائد کیے گئے۔ تاہم 2011 میں جب وہ بولٹن کراؤن کورٹ میں پیش ہوئے تو انھوں نے جج سے دبئی جانے کے لیے ضمانت کی درخواست کی۔

جج نے یہ درخواست منظور کر لی اور پٹیل برطانیہ چھوڑ کر دبئی چلے گئے، جہاں سے وہ پھر واپس نہیں آئے۔ وہاں جا کر وہ اپنے بھائیوں مناف اور فیصل پٹیل کے ساتھ مل گئے، جو پہلے ہی برطانیہ سے جا چکے تھے۔

اس کے بعد کے تین برسوں میں پٹیل کے جرائم پیشہ نیٹ ورک کے 24 ارکان مختلف مقدمات میں مجرم قرار پائے۔ عدالتوں نے مجموعی طور پر ان افراد کو 116 برس سے زیادہ قید کی سزائیں سنائیں، تاہم اس پورے فراڈ کا مرکزی کردار عریف پٹیل آج بھی برطانوی حکام کی پہنچ سے باہر ہیں۔

عریف پٹیل کو برطانیہ واپس لانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں اور وہ دبئی میں آزادانہ زندگی گزارتے رہے۔

بی بی سی کو ایسے دعوے بھی موصول ہوئے ہیں کہ پٹیل نے برطانوی حکام کے ساتھ کسی ممکنہ سمجھوتے کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔

سابق تفتیش کار گراہم ہنی کے مطابق ’میری رائے میں پٹیل خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے تھے۔‘

گراہم ہنی نے بتایا کہ 2020 میں، جب وہ نجی شعبے میں کام کر رہے تھے، پٹیل کے نمائندوں نے ان سے رابطہ کیا۔ ان کے بقول ان سے درخواست کی گئی کہ وہ کسٹمز کے شعبے اور کراؤن پراسیکیوشن سروس کے ساتھ رابطہ قائم کریں کیونکہ پٹیل کسی قسم کے تصفیے یا معاہدے کے خواہاں تھے۔

تاہم جلد ہی ایک بنیادی مسئلہ سامنے آ گیا۔ گراہم ہنی کہتے ہیں ’مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ پٹیل برطانیہ واپس آنا ہی نہیں چاہتے۔‘

ان کے مطابق پٹیل کا خیال تھا کہ شاید ایسا معاہدہ ہو جائے جس کے تحت وہ کچھ رقم واپس ادا کر دیں اور معاملہ وہیں ختم ہو جائے۔

گراہم ہنی کا کہنا ہے کہ پٹیل جرم تسلیم کرنے اور رقم لوٹانے پر تو آمادہ دکھائی دیتے تھے، مگر وہ فوجداری مقدمے کا سامنا کرنے یا جیل جانے کے لیے تیار نہیں تھے۔

گراہم ہنی نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب پٹیل نے اس نوعیت کے کسی سمجھوتے کی کوشش کی ہو۔

ان کے بقول ایک تفتیشی افسر نے انھیں بتایا تھا کہ پٹیل نے ایک بار کہا تھا کہ ’میں شیر ہوں، پنجرے میں بند شیر نہیں۔‘

گراہم ہنی کے نزدیک اس جملے سے پٹیل کی سوچ عیاں ہوتی ہے ’وہ خود کو ایک بااثر اور طاقتور شخص سمجھتے تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ انھوں نے کیا کیا ہے، لیکن وہ کسی صورت جیل نہیں جانا چاہتے تھے۔‘

برطانیہ کے محکمہ محصولات و کسٹمز کے مطابق اس گروہ کے برطانیہ میں موجود سات کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ سے زائد مالیت کے اثاثے ضبط کر لیے گئے تھے۔

سنہ 2023 میں پٹیل کے خلاف مقدمے کی سماعت ان کی غیرحاضری میں شروع ہوئی، جو ایک غیرمعمولی قانونی اقدام ہے اور عموماً صرف آخری چارۂ کار کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔

بعد ازاں انھیں برطانیہ کے سب سے بڑے کیروسل فراڈ نیٹ ورکس میں سے ایک کی قیادت کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سنہ 2025 میں عدالت نے انھیں نو کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ کی رقم واپس کرنے کا حکم دیا، جو ان اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونی تھی جنھیں جرائم سے حاصل شدہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جانی تھی۔

تاہم ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی رقم وصول نہیں ہو سکی کیونکہ بیرونِ ملک مفرور ہونے کے باوجود پٹیل نے ضبطگی کے اس حکم کے خلاف کورٹ آف اپیل سے رجوع کر رکھا ہے۔ یہ مقدمہ اب بھی زیرِ سماعت ہے۔

سوال یہ ہے کہ عریف پٹیل اس وقت کہاں ہیں اور مبینہ طور پر حاصل کی گئی اس دولت کا کیا ہوا؟

بی بی سی کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران متعدد ویب سائٹس، پریس ریلیز اور سوشل میڈیا ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جن میں دبئی میں مقیم ایک کاروباری شخصیت عریف پٹیل کی کامیابیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

ان مواد میں عریف پٹیل کو کبھی ایک کامیاب کاروباری شخصیت، کبھی سرمایہ کار اور کبھی فلاحی کاموں میں سرگرم شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

تاہم ان ویب سائٹس پر استعمال ہونے والی تصاویر اکثر سٹاک فوٹوگرافی پر مشتمل ہیں، جبکہ کم از کم ایک معاملے میں کسی دوسرے برطانوی کاروباری شخص کی تصویر استعمال کی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے متعدد ویب سائٹس عریف پٹیل کا تعلق پریسٹن سے جوڑتی ہیں اور یہ بھی بتاتی ہیں کہ انھوں نے ٹیکسٹائل کی صنعت میں کام کیا تھا۔

دیانت داری کا ستون

دلچسپ بات یہ ہے کہ عریف پٹیل سے جڑے تنازعات یہیں ختم نہیں ہوتے۔

2024 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں عریف پٹیل نے کسٹمز کی جانب سے عائد کیے گئے فراڈ کے الزامات کو مسترد کیا۔ رپورٹ میں ’سام میکنزی‘ نامی ایک شخص کا حوالہ دیا گیا، جسے پٹیل کا قریبی ساتھی قرار دیا گیا تھا۔ اس شخص نے پٹیل کی حمایت کرتے ہوئے انھیں ’دیانت داری کا ستون‘ قرار دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ پٹیل کو ’اینڈریو فاکس‘ کی حمایت حاصل ہے، جنھوں نے مبینہ طور پر الزامات کا جائزہ لینے کے بعد انھیں ’بے بنیاد‘ قرار دیا۔

تاہم یہاں ایک غیرمعمولی اتفاق سامنے آتا ہے۔ لنکاشائر پولیس کے ڈپٹی چیف کانسٹیبل کا نام بھی سام میکنزی ہے، جبکہ اینڈریو فاکس کراؤن پراسیکیوشن سروس میں ایک سینیئر پراسیکیوٹر ہیں۔ عریف پٹیل کو سزا سنائے جانے کے بعد ان دونوں کے بیانات میڈیا میں شائع ہو چکے تھے۔

ان کے نام دیگر مضامین میں بھی استعمال کیے گئے۔ ایک رپورٹ میں تو یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ پٹیل نے لنکاشائر میں کسٹمز کے شعبے کی انسدادِ فراڈ ٹیکنالوجی کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔

بی بی سی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ ان ویب سائٹس یا مضامین کا براہِ راست تعلق عریف پٹیل سے تھا یا نہیں۔ تاہم فائل آن 4 انویسٹیگیٹس کی تحقیقات سے پتا چلا کہ ان میں سے بعض ویب سائٹس دبئی میں قائم ایک آن لائن کام کرنے والی کمپنی سے منسلک تھیں جس کا کام ساکھ بہتر بنانا تھا۔

اسی سلسلے میں رواں برس کے اوائل میں ایک اور رپورٹ سامنے آئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پٹیل نے دبئی میں معذور بچوں کی مدد کرنے والے ایک خیراتی ادارے کو عطیہ دیا ہے۔ اس رپورٹ میں بھی دیگر مشتبہ ویب سائٹس سے مماثلت رکھنے والی کئی خصوصیات موجود تھیں، تاہم ایک اہم فرق یہ تھا کہ اس میں عریف پٹیل کی ایک حقیقی تصویر شامل تھی۔

’سزا ملنی چاہیے‘

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تصویر کی مدد سے چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، جس کے بعد دبئی میں ہونے والی کئی پُرتعیش تقریبات سے عریف پٹیل کی مزید تصاویر کا سراغ ملا۔

بی بی سی نے اس معاملے سے متعلق اپنی تمام معلومات برطانوی وزیرِ اعظم کی انسدادِ بدعنوانی کی مشیر، ڈیم مارگریٹ ہوج، کے سامنے رکھیں۔

ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں یہ ایک حیران کن معاملہ ہے۔ ایک شخص نے دانستہ طور پر فراڈ کیا، منی لانڈرنگ کی اور اسے اس کے نتائج بھگتنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہ برطانوی نظامِ انصاف کی گرفت سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔‘

ڈیم مارگریٹ کے مطابق ’میرا خیال ہے کہ وہ قانونی نظام سے ایسے فائدہ اٹھا رہا ہے، جس کی استطاعت صرف دولت مند افراد کو حاصل ہوتی ہے۔‘

ان کے بقول ’اس نظام میں ایک بنیادی ناانصافی موجود ہے، جس کے باعث مالی وسائل رکھنے والے افراد نہ صرف سزا پر عمل درآمد میں تاخیر کر سکتے ہیں بلکہ جرم سے حاصل کیے گئے اثاثوں کی ضبطی کو بھی مؤخر کروا سکتے ہیں۔‘

بی بی سی نے اس معاملے پر دبئی حکومت سے بھی مؤقف لینے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

بی بی سی نے عریف پٹیل سے ان کے مانچسٹر میں موجود وکیل کے ذریعے رابطہ کیا، جبکہ ان کے بھائیوں مناف پٹیل اور فیصل پٹیل سے بھی مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، لیکن کسی جانب سے جواب نہیں ملا۔

یوں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود برطانیہ کے سب سے بڑے ٹیکس فراڈ مقدمات میں سے ایک کا مرکزی کردار بدستور بیرونِ ملک موجود ہے، جبکہ اس کے خلاف سزا، اثاثوں کی ضبطی اور رقم کی واپسی سے متعلق قانونی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔