آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
96 سال کی ہوں اور میرے ایک کروڑ 50 لاکھ فالوورز ہیں: ٹک ٹاک پر راج کرنے والی نانیاں دادیاں
- مصنف, یاسمین روفو
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
96 سالہ لیلین ڈرونیاک، جو اپنے سوشل میڈیا فالوورز میں گرینڈما ڈرونیاک کے نام سے جانی جاتی ہیں، جون میں اُس وقت وائرل ہو گئیں جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ریٹائرمنٹ ہوم نے پارٹیاں کرنے پر انھیں نکالنے کی دھمکی دی تھی۔
بعد ازاں ریٹائرمنٹ ہوم نے اس دھمکی کی تصدیق کی، لیکن ڈرونیاک کے ساتھ ایک سمجھوتہ کر لیا جس کے تحت انھیں پارٹیاں جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی، تاہم وہ ان میں نشہ آور مشروبات فراہم نہیں کر سکتیں۔
ایک کروڑ 50 لاکھ فالوورز کے ساتھ، ڈرونیاک نے اپنی شخصیت کو ایک منافع بخش کاروبار میں بدل دیا ہے اور سوشل میڈیا سے اتنی آمدنی حاصل کرتی ہیں کہ اپنے نرسنگ ہوم کی ماہانہ 12 ہزار ڈالر فیس ادا کر سکیں۔
امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کی رہائشی ڈرونیاک ان بہت سی عمر رسیدہ خواتین میں شامل ہیں جو آن لائن غیر متوقع شہرت حاصل کر رہی ہیں، جبکہ ان کے سامعین میں اکثر ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جو عمر میں ان کے پوتے پوتیوں جتنے ہوتے ہیں۔
فیشن اور کھانے سے لے کر ڈیٹنگ اور گھریلو امور تک، وہ نئے سامعین حاصل کر رہی ہیں اور بعض صورتوں میں زندگی کا ایک نیا مقصد بھی پا رہی ہیں۔
’میں دکھا رہی ہوں کہ بوڑھا ہونا اتنا برا نہیں‘
ڈرونیاک بتاتی ہیں: ’مجھے ہمیشہ معلوم تھا کہ میں مشہور ہو سکتی ہوں، بس یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہونے تک میری عمر 90 سال سے اوپر ہو چکی ہو گی۔‘
وہ وضاحت کرتی ہیں کہ ان کے پوتے نے 2020 میں ان کی ویڈیوز پوسٹ کرنے میں مدد دینا شروع کی، اور ابتدا میں یہ صرف وقت گزاری کے لیے تھا۔
ان کا ماننا ہے کہ ان کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو دکھاتی ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ زندگی ختم نہیں ہوتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈرونیاک کہتی ہیں: ’وہ سمجھتے ہیں کہ بوڑھے لوگ بس بیٹھ کر دیوار کو دیکھتے رہتے ہیں، مگر میں دکھا رہی ہوں کہ بوڑھا ہونا اتنا برا نہیں۔ ہم اسے قبول کرتے ہیں، اب بھی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، اور میں اب بھی کبھی کبھار پارٹی کرتی ہوں اور باہر جاتی ہوں۔‘
وہ بیوٹی اور فوڈ برینڈز کے لیے بھی مواد تیار کرتی ہیں، جس کے لیے ان کے پوتے ان کی مدد کرتے ہیں۔
نرسنگ ہوم کی فیس ادا کرنے کے علاوہ یہ رقم ان کے پڑپوتے اور پڑپوتیوں کے لیے کالج فنڈ میں بھی جاتی ہے۔
اگرچہ عوامی مقامات پر مداح انھیں پہچان لیتے ہیں، لیکن وہ کہتی ہیں کہ ریٹائرمنٹ ہوم میں ان کی شہرت مختلف محسوس ہوتی ہے۔
’وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کیونکہ وہ ٹک ٹاک استعمال نہیں کرتے۔‘
’میں معاہدوں کے لیے برینڈز کا انتخاب بہت احتیاط سے کرتی ہوں‘
برطانیہ کے شہر کارڈف کی رہائشی 82 سالہ ویو ٹروران بھی اتنی ہی شوخ اور خوش مزاج ہیں۔
انھوں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر پوسٹس کرنا شروع کیں، جب ان کی پڑوسن نے مشورہ دیا کہ ان کے رنگا رنگ لباس کی ویڈیوز بنائی جائیں۔
انھوں نے اپنے سونے کے کمرے کو سٹوڈیو میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہاں سے وہ روزانہ دو ویڈیوز بناتی ہیں، جن میں وہ اپنے کپڑے، چشموں کے 22 جوڑے اور سکارفوں سے بھرے دو دراز دکھاتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’میں صبح اٹھتی ہوں اور جب تک اپنی صبح کی ویڈیو نہ بنا لوں، نیچے نہیں آتی، اور میں اس معاملے میں بہت سخت ہوں۔‘
وہ اپنے فالوورز اور ویوز کا ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک نوٹ بک بھی استعمال کرتی ہیں، اور اب وہ پانچویں نوٹ بک تک پہنچ چکی ہیں۔
ٹروران کو اکثر اجنبی لوگ روک لیتے ہیں، جن میں سے بہت سی خواتین کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ یہ خواتین انھیں بتاتی ہیں کہ وہ ’بوڑھا ہونے سے خوفزدہ‘ ہیں اور ٹروران انھیں دکھاتی ہیں کہ ’یہ اتنا برا نہیں۔‘
برینڈز نے بھی ان پر توجہ دی ہے اور ٹروران کہتی ہیں کہ معاہدے نہ کرنا ’بے وقوفی‘ ہو گی، لیکن وہ برینڈز کے انتخاب میں احتیاط کرتی ہیں۔
وہ ہر ماہ چند سپانسر شدہ پوسٹس کرتی ہیں اور مقامی برینڈز اور ایج یو کے جیسے خیراتی اداروں کو ترجیح دیتی ہیں، جنھوں نے ایک حالیہ مہم کے لیے انھیں کئی ہزار کی رقم ادا کی۔
وہ کہتی ہیں: ’میں نے کچھ بڑے معاہدے مسترد کیے ہیں کیونکہ وہ میری پسند کے مطابق نہیں تھے۔ میں بہت احتیاط سے فیصلہ کرتی ہوں کہ کس کے ساتھ کام کروں، مجھے اس برینڈ سے واقعی محبت ہونی چاہیے۔‘
’دنیا بھر سے لوگ پیغامات بھیجتے ہیں تو میں رو پڑتی ہوں‘
انفلوئنسر مارکیٹنگ ایجنسی ’وی آر سوشل‘ سے وابستہ نومی بارکر کا کہنا ہے کہ زیادہ عمر کے تخلیق کار برینڈز کے لیے پُر کشش ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اکثر فالوورز کی ’انتہائی وفادار‘ کمیونٹیز ہوتی ہیں جن کی خریداری کی قوت زیادہ ہوتی ہے، اور اس چیز کی بہت قدر (ویلیو) ہے۔
83 سالہ گریس جیرامیٹا کے لاکھوں فالوورز ہیں۔ وہ ان کے سامنے کھانا پکانے کی وہ تراکیب پیش کرتی ہیں، جو وہ خود کئی دہائیوں سے استعمال کر رہی ہیں۔
نونا گریسی کے نام سے معروف جیرامیٹا 18 برس کی عمر میں اٹلی سے امریکہ منتقل ہوئیں اور اپنی دو بیٹیوں کی کفالت کے لیے بیک وقت کئی ملازمتیں کیں۔ اب وہ اس سے زیادہ کماتی ہیں جتنا انھوں نے اپنی کسی بھی سابقہ ملازمت میں کمایا تھا۔
چھ سال قبل ان کے نواسے میتھیو نے مشورہ دیا کہ کھانا تیار کرنے کے دوران ان کی ویڈیوز بنائی جائیں۔ مگر جیرامیٹا اس میں دلچسپی نہیں رکھتی تھیں کیونکہ وہ سوشل میڈیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھیں اور ’بہت اچھی انگریزی نہیں بولتی تھیں‘، لیکن ویڈیوز غیر معمولی طور پر مقبول ہو گئیں۔
وہ کہتی ہیں: ’جب دنیا بھر سے لوگ مجھے پیغامات بھیجتے ہیں تو میں ہمیشہ رو پڑتی ہوں۔‘
ان کے مواد کا بڑا حصہ صرف کھانے کے بارے میں نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ’خاندان کو ایک میز کے گرد اکٹھا کرنے کی روایت‘ آگے منتقل کرنا چاہتی ہیں۔
فالوورز کے لیے ’ورچوئل دادی‘
انفلوئنسر مارکیٹنگ ایجنسی ’وی آر سوشل‘ کی نومی بارکر کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کی نانیوں دادیوں کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں ایک طرف دنیا میں ہر جانب غیر یقینی کی سی صورتحال پائی جاتی ہے، ایسی دنیا میں وہ لوگوں کو سکون اور اطمینان فراہم کرتی ہیں۔
ان کے مطابق، ان کا صاف ستھرا اور مثبت مواد فالوورز کے لیے ایک ’ورچوئل دادی‘ کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔
یہ بات یقیناً 77 سالہ سابق استاد باربرا کوسٹیلو پر صادق آتی ہے، جو اب اپنے ’برنچ ود بابس‘ اکاؤنٹس پر کھانا پکانے، صفائی اور گھریلو امور سے متعلق ویڈیوز شیئر کرتی ہیں۔
فالوورز بتاتے ہیں کہ باربرا کو دیکھ کر انھیں اپنی مائیں اور نانیاں دادیاں یاد آ جاتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’حال ہی میں ایک یونیورسٹی طالبہ نے ایک ریستوران میں مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ میری کُک بُک نے یونیورسٹی کے پہلے سال میں ان کی مدد کی، اور یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔‘
کوسٹیلو برینڈز کے ساتھ کام کرتی تو ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھیں احتیاط سے سوچنا پڑتا ہے کہ آیا یہ ایسی چیز ہے جس کے ساتھ وہ اپنا نام جوڑنا چاہتی ہیں یا نہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ بطور تخلیق کار سب سے بہترین لمحہ وہ ہوتا ہے جب کتابوں پر دستخط کی تقریبات میں ان کے سابق طلبہ اپنی اولاد کے ساتھ ان سے ملنے آتے ہیں۔
’میں یقین نہیں کر سکتی کہ یہ میری زندگی ہے۔‘