آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
406 رنز کا ہدف، پانچ سنچریوں کا ریکارڈ اور شبمن گل کی ویسٹ انڈیز کے خلاف 223 رنز کی اننگز: ’یہ ون ڈے میچ ہے یا بیٹنگ پریکٹس‘
- مصنف, مارک ہگنسن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
شبمن گل کی شاندار ناقابلِ شکست 223 رنز کی اننگز کی بدولت انڈیا نے ویسٹ انڈیز کے 406 رنز کے ہدف کو صرف 43.3 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے دوسرے ایک روزہ میچ میں آٹھ وکٹوں سے فتح اپنے نام کر لی۔
ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 405 رنز بنائے، جو ایک روزہ کرکٹ میں اس کا اب تک کا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔ جان کیمبل 101، شائی ہوپ 104 اور عامر جانگو 114 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ان سنچریوں کی بدولت ویسٹ انڈیز کی ٹیم ریکارڈ مجموعے تک پہنچی۔
یہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں صرف چھٹا موقع تھا جب ایک ہی اننگز میں کسی ٹیم کے تین بلے بازوں نے سنچریاں سکور کیں۔
وقفے تک ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ویسٹ انڈیز مضبوط پوزیشن میں ہے، تاہم انڈیا کے کپتان شبمن گل نے تنہا میچ کا رخ بدل دیا۔ انھوں نے صرف 62 گیندوں پر سنچری مکمل کی اور مزید 55 گیندوں میں ڈبل سنچری تک پہنچ گئے۔
دائیں ہاتھ کے بلے باز نے اپنی جارحانہ اننگز میں آٹھ چھکوں اور 26 چوکوں کی مدد سے 223 رنز بنائے اور آخر تک ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کے ساتھ روہت شرما نے بھی 101 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جبکہ دونوں نے پہلی وکٹ کے لیے 255 رنز کی شراکت قائم کی۔
روہت شرما 101 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے جبکہ ویرات کوہلی 29 رنز بنا سکے۔ اس کے بعد رتوراج گائیکواڑ نے شبمن گل کا ساتھ دیتے ہوئے ٹیم کو آسان فتح دلوا دی۔
223 رنز کے ساتھ شبمن گل کی یہ اننگز مردوں کی ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ کا تیسرا بڑا انفرادی سکور ہے۔
انڈیا کی جانب سے یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی قابلِ ذکر رہی کہ میچ کے دوران گیند باز پرسدھ کرشنا اور نمن دھیر انجری کا شکار ہوئے، جبکہ ڈیبیو کرنے والے فاسٹ بولر عاقب نبی نے 84 رنز دیے، جو اپنے پہلے ون ڈے میں کسی انڈین گیند باز کی جانب سے فتح کے باوجود دیے جانے والے مہنگے ترین سپیلز میں سے ایک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویسٹ انڈیز کی شاندار بیٹنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ مالی اخراجات کم کرنے کی پالیسی کے تحت کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔ دو مرتبہ کی عالمی چیمپیئن ٹیم کو آئندہ ورلڈ کپ میں براہِ راست رسائی کے لیے بھی سخت چیلنج درپیش ہے اور اسے 2027 کے اوائل میں کوالیفائنگ مرحلے سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔
کرکٹ کے اعداد و شمار کے ماہر مظہر ارشد نے اس میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’گواہاٹی میں انڈیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرے ون ڈے میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا، جہاں ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہی میچ میں پانچ بلے بازوں نے سنچریاں سکور کیں۔‘ شمبن گل کی ڈبل سنچری کے ساتھ اس میچ میں مجموعی سکور 811 رنز بنتا ہے۔
سپورٹ جرنلسٹ طلحہ نواز نے لکھا کہ ’یہ ون ڈے میچ ہے یا بیٹنگ پریکٹس۔۔ بولرز کے لیے اس پچ پر کچھ نہیں۔ آئی سی سی کو کارروائی کرنی چاہیے۔‘
ان کی رائے میں ’پچ کو بولرز کے لیے قبرستان ثابت ہو رہی ہے، ڈیمیرٹ پوائنٹس ملنے چاہییں اور انڈیا کو میزبان کی حیثیت سے پابندیوں کا سامنا بھی کرنا چاہیے۔‘
صارف مانک دیپ سنگھ نے لکھا کہ ’کیپٹن شبمن گل ٹیم انڈیا کا دل ہے۔‘
منظور شابان نامی صارف نے لکھا، ’فلیٹ پچز اور چھوٹی باؤنڈریز کا مطلب ہے زیادہ رنز، زیادہ تفریح اور زیادہ آمدنی۔ گواہاٹی میں ہونے والے حالیہ ون ڈے میچوں کے اعداد و شمار اس رجحان کی واضح مثال ہیں، جس سے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیٹنگ کے لیے انتہائی سازگار حالات مسلسل بڑے مجموعوں کو جنم دے رہے ہیں۔
ان کی رائے میں ’تاہم اس طرزِ کرکٹ کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔ کہیں نہ کہیں بولرز کے کریئرز داؤ پر لگ رہے ہیں، کیونکہ ایسے حالات میں ان کے لیے مؤثر کارکردگی دکھانا مشکل ہو جاتا ہے۔‘
ورات گپتا نامی صارف نے لکھا کہ بچ جانے والے اوورز کو دیکھ کر تو یوں لگ رہا ہے کہ اس میچ میں انڈیا 500 رنز کا ہدف بھی حاصل کر سکتا تھا۔
خود شبمن گل کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کیے گئے ٹویٹ میں اس میچ پر یوں تبصرہ کیا گیا، ’406 رنز؟ کمال ہے!‘