وسیم پاشا تجمل اور کیولیئر گروپ: امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والی نجی پاکستانی دفاعی کمپنی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

امریکہ نے ایران کی وزارتِ دفاع کے لیے مبینہ طور پر اسلحہ اور عسکری ساز و سامان کی خریداری میں معاونت کرنے والے عالمی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی کاروباری شخصیت وسیم پاشا تجمل، ان کی تین کمپنیوں اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد و اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق وسیم پاشا تجمل نجی دفاعی کمپنی کیولیئر گروپ کے چیئرمین ہیں، جس کے دفاتر اور سرگرمیاں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں موجود ہیں۔

بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ تجمل اور کیولیئر گروپ ایران کی وزارتِ دفاع و مسلح افواج لاجسٹکس (ایم او ڈی اے ایف ایل) کے لیے تیسرے فریق کے ذریعے کام کرنے والے ثالث کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور وسیم پاشا تجمل نے اپنے پیشہ ورانہ روابط استعمال کرتے ہوئے ایران کی جانب سے اسلحہ کی خریداری اور تقسیم میں معاونت کی۔

امریکی حکام کے مطابق تجمل پاکستان میں قائم کیولیئر ڈائنامکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے اکثریتی شیئر ہولڈر اور چیف ایگزیکٹو افسر ہیں۔

اس کے علاوہ وہ سعودی عرب میں قائم کیولیئر ڈائنامکس فار ٹیکنالوجیز کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں، جو مکمل طور پر کیولیئر ڈائنامکس پرائیویٹ لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔

بیان کے مطابق تجمل ترکی میں قائم کیولیئر ڈائنامکس ٹیکنالوجی تجارت اینونم شرکتی کے بھی ڈائریکٹر اور واحد شیئر ہولڈر ہیں۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں قائم کیولیئر ڈائنامکس فار ٹیکنالوجیز کمپنی کے خلاف کارروائی سعودی حکام کے تعاون سے کی گئی ہے۔

واشنگٹن کا الزام ہے کہ وسیم پاشا تجمل نے ایم او ڈی اے ایف ایل کو مالی، مادی، تکنیکی معاونت یا اس کے لیے اشیا اور خدمات فراہم کیں یا فراہم کرنے کی کوشش کی۔ اسی بنیاد پر انھیں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جبکہ ان کی تینوں کمپنیوں کو ان کی ملکیت یا کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے نامزد کیا گیا ہے۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے 29 ستمبر کو جاری بیان میں کہا کہ ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت مختلف ممالک میں موجود 10 افراد اور اداروں کو ہدف بنایا گیا ہے، جن پر ایران کی وزارتِ دفاع و مسلح افواج لاجسٹکس (ایم او ڈی اے ایف ایل) کے لیے اسلحہ اور اسلحہ سازی میں استعمال ہونے والے پرزوں کی خریداری کا الزام ہے۔

محکمۂ خزانہ کے مطابق ایم او ڈی اے ایف ایل ایران کی مسلح افواج کے لیے ہتھیاروں کی تحقیق، پیداوار اور حصول کی ذمہ دار تنظیم ہے، جبکہ یہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرونز) کے پروگراموں کی نگرانی بھی کرتی ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان میں کہا کہ ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت محکمۂ خزانہ ان تمام افراد اور اداروں کو نشانہ بناتا رہے گا جو ایرانی حکومت کو مادی، تکنیکی یا مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ ایرانی حکومت کے ایسے معاونین کی نشاندہی، انھیں بے نقاب کرنے اور عالمی مالیاتی نظام سے الگ تھلگ کرنے کے اقدامات جاری رکھے گا۔

محکمۂ خزانہ کا کہنا ہے کہ تازہ پابندیوں کا مقصد ایران کے ہتھیاروں کے پروگراموں کو دوبارہ فعال کرنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا اور تہران کی عسکری خریداری کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے والوں کے اخراجات بڑھانا ہے۔

یہ کارروائی امریکی صدارتی حکم نامہ 13382 کے تحت کی گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) اور ان کی ترسیل کے نظام سے وابستہ افراد اور اداروں کو ہدف بناتا ہے۔ امریکہ پہلے ہی اکتوبر 2007 میں ایم او ڈی اے ایف ایل اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے تعلق کے باعث اسی حکم نامے کے تحت نامزد کر چکا ہے۔

بی بی سی نے حالیہ امریکی پابندیوں کے حوالے سے وسیم پاشا کا مؤقف جاننے کے لیے بارہا ان سے اور ان کی کمپنی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اس خبر کی اشاعت تک ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

وسیم پاشا تجمل اور کیولیئر گروپ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

کیولیئر گروپ اپنی ویب سائٹ پر خود کو پاکستان کے نجی شعبے میں کام کرنے والی ایک نمایاں دفاعی کمپنی قرار دیتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی ’واحد ملٹی ڈومین دفاعی کمپنی‘ ہے اور اس کا مقصد پاکستان کی مسلح افواج کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ اہم دفاعی حل فراہم کرنا ہے، جبکہ وہ دنیا بھر میں اتحادی ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ بھی کام کرتی ہے۔

کمپنی کے چیئرمین وسیم پاشا تجمل کے ویب سائٹ پر موجود پیغام کے مطابق کیولیئر گروپ زمینی، فضائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر شعبوں میں کام کرتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی مصنوعات میں جنگی گاڑیاں، انفرادی ہتھیار، بیلسٹک تحفظ کا سامان، ٹیکٹیکل گیئر، ڈرونز، نظامی خودکاری (سسٹم آٹومیشن) اور سائبر سکیورٹی کے حل شامل ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق کمپنی خود کو ایک ٹیکنالوجی انٹیگریٹر اور اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچرر (او ای ایم) قرار دیتی ہے، جو دفاعی تحقیق، ڈیزائن، ترقی، تیاری اور مختلف دفاعی مصنوعات و خدمات کی فراہمی میں مصروف ہے۔

کیولیئر گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی کئی برسوں کی تحقیق اور ترقی کے نتیجے میں ایسی مصنوعات اور سروسز تیار کی گئی ہیں جو فوجی معیار کے تقاضوں پر پورا اترتی ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کی تحقیق و ترقی کی سرگرمیاں جنگی گاڑیوں، ہتھیاروں، ڈرونز، نظامی خودکاری اور سائبر سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق کمپنی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں واقع ہے، جہاں اس کی ڈیزائن اور پروٹوٹائپنگ کی سہولتیں بھی موجود ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ جدید کمپیوٹرائزڈ ڈیزائن تجزیے، نیم خودکار پیداواری نظام اور اپنے ملکیتی سافٹ ویئر کی مدد سے دفاعی مصنوعات تیار کرتی ہے اور اس کی پیداواری سرگرمیاں بین الاقوامی اور فوجی معیار کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔

سنہ 2022 میں کراچی میں منعقد ہونے والی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 کے موقع پر دیے گئے ایک انٹرویو میں کیولیئر گروپ کے چیئرمین وسیم پاشا تجمل نے کہا تھا کہ ان کی کمپنی تقریباً 22 برس سے کام کر رہی ہے اور اس کی بنیادی کوشش دفاعی مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری رہی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کیولیئر گروپ پاکستان کا واحد ’ملٹی ڈومین دفاعی صنعت کار‘ ہے۔ ان کے مطابق کمپنی نے ابتدا بلٹ پروف جیکٹس سے کی، بعد ازاں بکتر بند گاڑیوں، سافٹ ویئر، بغیر پائلٹ طیاروں (یو اے ویز)، اسالٹ رائفلز اور سنائپر رائفلز کی تیاری کے شعبوں میں بھی کام شروع کیا۔

اس موقع پر ایک بکتر بند گاڑی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وسیم پاشا تجمل نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں ٹریک والی بکتر بند گاڑیوں کے مقابلے میں پہیوں والی گاڑیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے کیونکہ ان کی نقل و حرکت بہتر اور آپریٹنگ لاگت کم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں اس نوعیت کی کوئی مقامی وہیلڈ آرمرڈ پرسنل کیریئر (اے پی سی) موجود نہیں تھی، جس کے بعد ان کی کمپنی نے اس شعبے میں کام شروع کیا۔

انھوں نے کہا تھا کہ اس گاڑی کی تیاری اور فوجی معیار کے مطابق جانچ پڑتال مکمل کرنے میں تقریباً آٹھ سال لگے اور بعد ازاں کمپنی نے ان گاڑیوں کی فراہمی کے لیے پاکستانی فوج کے ساتھ معاہدے بھی کیے۔

برآمدات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم پاشا تجمل نے کہا تھا کہ دفاعی صنعت میں غیر ملکی خریدار عموماً یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کسی مصنوعات کو پہلے اس کے اپنے ملک کی مسلح افواج نے استعمال کرنا شروع کیا ہے یا نہیں۔ ان کے بقول اگر کوئی مصنوعات پاکستانی فوج جیسے سخت آزمائشی معیار رکھنے والے ادارے کی جانچ میں کامیاب ہو جائے تو عموماً دوسرے ممالک بھی اسے قبول کرنے میں زیادہ اعتماد محسوس کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ کمپنی کو مختلف ممالک سے دلچسپی اور سوالات موصول ہو رہے تھے، تاہم ممکنہ خریداروں کا ایک اہم سوال یہ ہوتا تھا کہ آیا یہ مصنوعات پاکستان کی اپنی فوج میں شامل کی جا چکی ہیں یا نہیں۔

پابندیوں کی زد میں آنے والے دیگر افراد اور ادارے

امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے اعلان کردہ پابندیوں میں شامل افراد اور اداروں میں:

  • وسیم پاشا تجمل، جو پاکستان میں قائم نجی دفاعی کمپنی کیولیئر گروپ کے چیئرمین ہیں۔
  • سید اصغر علی زادہ طباطبائی، جو بیجنگ میں ایران کی وزارتِ دفاع و مسلح افواج لاجسٹکس کے نمائندے ہیں۔
  • کاوش کام ایشیا آر اینڈ ڈی گروپ، ایران میں قائم کمپنی جس پر ایرانی دفاعی اداروں کے لیے الیکٹرانک آلات اور پرزے خریدنے کا الزام ہے۔
  • ای سی موجو ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ، ہانگ کانگ میں قائم کمپنی، اور اس کی چینی نمائندہ لی فین۔
  • علی فتوت احمدی اور پریسا لالی، جن پر ایرانی خریداری نیٹ ورک میں کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔
  • جوائنٹ سٹاک کمپنی ایکسپیریمنٹل ڈیزائن بیورو نیمڈ آفٹر اے ایس یاکوولیوف، روس میں قائم طیارہ ساز کمپنی۔
  • ایم جی فلوٹ ایل ایل سی، روسی شپنگ کمپنی۔
  • ساہا ایئرلائنز، ایران کی فضائیہ سے منسلک ایئرلائن۔

دیگر افراد اور کمپنیوں پر کیا الزامات ہیں؟

امریکی بیان کے مطابق سید اصغر علی زادہ طباطبائی بیجنگ میں ایم او ڈی اے ایف ایل کے نمائندے کے طور پر کام کرتے ہیں اور ایران کی جانب سے چین میں مکمل اسلحہ جاتی نظام اور دوہرے استعمال کی حامل ٹیکنالوجی اور پرزوں کی خریداری میں رابطہ کاری کرتے رہے ہیں۔

اسی طرح ایران میں قائم کاوش کام ایشیا آر اینڈ ڈی گروپ پر الزام ہے کہ اس نے ایران ایئرکرافٹ مینوفیکچرنگ انڈسٹریل کمپنی (ہیسا) کے لیے الیکٹرانک آلات، بشمول کنیکٹرز، خریدے۔

امریکی حکام کے مطابق ایچ ای ایس اے ایران کی وزارتِ دفاع کے ماتحت ادارہ ہے جو فوجی طیاروں اور ڈرونز کی تیاری میں مہارت رکھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کاوش کام نے شہید باقری انڈسٹریل گروپ (ایس بی آئی جی) کو بھی الیکٹرانک سامان فراہم کیا، جو ایران کے ٹھوس ایندھن والے بیلسٹک میزائل پروگرام سے وابستہ ادارہ ہے۔

بیان کے مطابق علی فتوت احمدی کاوش کام کے ڈائریکٹر ہیں اور انھوں نے کمپنی کی جانب سے ایچ ای ایس اے کے ساتھ خط و کتابت پر دستخط کیے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں قائم ای سی موجو ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ نے کاوش کام کی خریداری کی کوششوں کے لیے الیکٹرانک پرزے فراہم کیے، جبکہ اس کی چین میں موجود نمائندہ لی فین نے ان سرگرمیوں کے دوران پابندیوں اور برآمدی کنٹرول سے بچنے کی کوشش کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران میں موجود پریسا لالی نے ایچ ای ایس اے کے لیے کاوش کام کی خریداریوں میں سہولت کاری کی۔

’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کیا ہے؟

امریکی حکومت کے مطابق 24 اگست 2026 کو شروع کیے گئے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کو بعض حکام نے ’اکنامک ڈی ڈے‘ کا نام دیا تھا۔

امریکی حکومت کے مطابق اس مہم کا مقصد ایرانی حکومت کو سہارا دینے والی باقی ماندہ معاشی شہ رگوں کو کاٹنا ہے۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس نے ان نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور مالیاتی راستوں کی نشاندہی کر لی ہے جن کے ذریعے ایران تیل کی اسمگلنگ کرتا، پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتا اور اپنی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرتا ہے۔

محکمۂ خزانہ کے مطابق امریکہ یورپی یونین، برطانیہ، خلیجی شراکت داروں اور دیگر حکومتوں کے ساتھ مل کر ایران کی مبینہ غیر قانونی آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بنا رہا ہے۔

امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے منی لانڈرنگ یا پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والی کسی بھی کمپنی یا ادارے کو امریکی مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے والے افراد اور اداروں کو ثانوی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پابندیوں کے اثرات کیا ہوں گے؟

امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق ان پابندیوں کے نتیجے میں نامزد افراد اور اداروں کے وہ تمام اثاثے اور مالی مفادات منجمد ہو جائیں گے جو امریکہ میں موجود ہیں یا امریکی شہریوں اور اداروں کے قبضے یا کنٹرول میں ہیں۔

اس کے علاوہ اگر کوئی ادارہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر 50 فیصد یا اس سے زیادہ کسی نامزد فرد یا ادارے کی ملکیت ہو تو وہ بھی پابندیوں کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

امریکی ضوابط کے تحت امریکی شہریوں اور اداروں کو، جب تک خصوصی اجازت نہ دی جائے، پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا اداروں کے ساتھ مالی یا تجارتی لین دین سے روکا جاتا ہے۔

محکمۂ خزانہ نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی پر امریکی اور غیر ملکی افراد یا اداروں کو دیوانی یا فوجداری سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بیان کے مطابق نامزد افراد یا اداروں کے ساتھ اہم مالی لین دین میں ملوث غیر ملکی مالیاتی اداروں کو بھی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ ان کے لیے اپنے بینکاری نظام تک رسائی محدود یا ختم کر سکتا ہے۔

امریکی محکمۂ خزانہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ رویے میں تبدیلی لانا ہے، اور متعلقہ افراد یا ادارے قانونی طریقۂ کار کے تحت پابندیوں کی فہرست سے نام خارج کرانے کے لیے درخواست بھی دے سکتے ہیں۔