انتہائی مطلوب سیریل کلر اور بلا کا ذہین ریاضی دان جو 18 سال بعد اپنی ہی غلطی سے پکڑا گیا

بم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, گریگ مک‌کیوٹ
    • عہدہ, بی بی سی کلچر
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

یہ سیریل کلر اتنا چالاک تھا کہ امریکی تحقیقاتی اداروں نے اسے تلاش کرنے میں تقریباً 18 سال گزار دیے مگر ناکام رہے۔ لیکن بالآخر وہ اپنی ہی غلطی کی وجہ سے پکڑا گیا۔

اس کی پرتشدد مہم نے تقریباً دو دہائیوں تک تفتیش کاروں کو حیران و پریشان کیے رکھا۔ بی بی سی نے 30 سال قبل اس کی گرفتاری کی خبر دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایک ’غیر معمولی ذہین‘ ریاضی دان نے ’اپنے ہی گھر تک پہنچنے کا سراغ خود چھوڑ دیا تھا‘۔

3 اپریل 1996 کو امریکی وفاقی اہلکاروں نے مونٹانا کے جنگلات میں واقع ایک دور دراز لکڑی کے کیبن کا محاصرہ کیا اور وہاں سے تھیوڈور ’ٹیڈ‘ کازنسکی کو باہر نکالا۔ وہ ایک بکھرے حلیے والا شخص تھا جو اس وقت تک ایک مطلوب اشتہاری خاکے میں سیاہ چشمے اور نقاب پہنے ہوئے آدمی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

تقریباً 18 برس تک یونابومبر امریکہ کے سب سے مطلوب مجرموں میں سے ایک رہا۔۔۔ ایک پراسرار شخصیت، جس کے سادہ پارسل بم بغیر کسی واضح مقصد کے باقاعدہ انداز کے بھیجے جاتے تھے۔

آخرکار اسے اس کی اپنی تحریروں نے پکڑوا دیا۔ امریکہ کے دو بڑے اخبارات نے اس کا ٹیکنالوجی مخالف منشور شائع کرنے پر اتفاق کیا، بشرطیکہ وہ مزید قتل نہ کرے۔

اس کی مخصوص تحریر کو سب سے پہلے اس کے بھائی کی بیوی نے پہچانا، جس سے وہ کبھی ملا بھی نہیں تھا۔ بی بی سی نیوز نائٹ کے کرشنن گرو مورتی کے الفاظ میں، ’وہ ماہرِ تعلیم جس نے سب کچھ چھوڑ کر ایک سادہ کیبن میں رہائش اختیار کی، دراصل اپنے ہی دروازے تک پہنچنے کا سراغ خود چھوڑ گیا تھا۔‘

یونابومبر کی تلاش اس وقت شروع ہوئی جب ایک سادہ گھریلو بم الینوائے کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کو بھیجا گیا۔ اسی طرح کا دوسرا حملہ تقریباً ایک سال بعد ہوا۔

نومبر 1979 میں ایک بم جو اس نے امریکن ایئر لائنز کی پرواز میں بھیجا تھا، پھٹ گیا۔ اگرچہ بم سے وہ نقصان نہیں ہوا جس کی اسے امید تھی، لیکن اس کے دھوئیں کی وجہ سے 12 افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

چونکہ اس کے ہدف بنیادی طور پر یونیورسٹیاں اور ایئر لائنز لگتے تھے، ایف بی آئی نے اسے کوڈ نام ’یونا بم‘ دیا۔ اگلے چند سالوں میں اس نے مزید 13 حملے کرنے کے لیے بتدریج زیادہ پیچیدہ بم استعمال کیے، جس سے تین افراد ہلاک ہوئے: کمپیوٹر کرایے کی دکان کے مالک ہیو سکرتن، اشتہاری ایگزیکٹو تھامس موسر اور لکڑی کی صنعت کے لابیسٹ گلبرٹ موری۔

چونکہ اس کے ہدف بنیادی طور پر بے ترتیب تھے، اور اس کے بم عام اشیا جیسے لکڑی کے ٹکڑے اور لیمپ کی تاروں سے بنائے جاتے تھے، تفتیش کاروں کے پاس اس کا سراغ لگانے کے لیے زیادہ شواہد نہیں تھے۔ ایف بی آئی کے چیف بیلیسٹکس تفتیش کار کرس رونے نے اسے ’ری سائیکل بمبار‘ کا لقب دیا۔

انھوں نے 1996 میں بی بی سی کو بتایا: ’وہ کچرے کے ڈبوں اور استعمال شدہ مواد کے بن میں کھوج لگاتا ہے اور ایسی چیزیں ڈھونڈتا ہے جن سے وہ پھر ایک بم بنا سکتا ہے۔‘

بم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

35 ہزار الفاظ پر مشتمل مضمون ایک اہم کڑی بن گیا

اپنی پرتشدد کارروائیوں کو جواز دینے کے لیے، اپریل 1995 میں یونابومبر نے نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو ایک35 ہزار الفاظ پر مشتمل مضمون بھیجا جس کا عنوان تھا ’انڈسٹریل سوسائٹی اینڈ اٹس فیوچر۔‘

اس مضمون میں اس نے دلیل دی کہ جدید زندگی نے انسانی آزادی اور وقار کو تباہ کر دیا ہے اور دعویٰ کیا کہ صرف تکنیکی نظاموں کو ختم کرنے سے ہی مزید نفسیاتی اور سماجی نقصان روکا جا سکتا ہے۔ اس نے یہ شرط رکھی کہ اگر یہ مضمون ملک کے دو سب سے معزز اخبارات میں شائع کیا گیا تو وہ مزید قتل نہیں کرے گا۔

واشنگٹن پوسٹ کے پبلشر ڈونلڈ گراہم نے 2016 میں بی بی سی کو بتایا: ’ابتدائی طور پر تشویش واضح تھی۔ اگر آپ اس مطالبے کے آگے جھک جائیں اور اس دستاویز کو شائع کرنے پر رضا مند ہو جائیں، تو کیا یہ دوسرے اسی نوعیت کے مطالبات کو بھی بڑھا سکتا ہے؟‘

ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ ٹری ٹرچی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدا میں تفتیش کاروں کا خیال تھا کہ منشور شائع کرنا ایک غلطی ہوگی ’کیونکہ یہ بہت عجیب اور اشتعال انگیز تھا‘ لیکن پھر اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کیا۔

ان کا خیال تھا کہ اگر یہ منشور شائع ہوا تو یہ تقریباً یقینی تھا کہ کوئی اس کے پیچھے کی آواز کو پہچان لے گا ’کیونکہ الفاظ بہت جذباتی ہیں۔‘

تین ماہ کی سنجیدہ بحث کے بعد اخباری سربراہوں نے ایف بی آئی کے مشورے پر اس منشور کو شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔

بہت سے امریکی حیران تھے کہ ایک مطلوب، جس کی نقاب پوش تصویر ایف بی آئی کے کئی پوسٹروں میں دکھائی دیتی تھی، کو انھوں نے ایسا موقع کیوں دیا کہ ایک عوامی پلیٹ فارم پر وہ اپنے خیالات پھیلا سکے۔

بم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

200 مشتبہ افراد کی فہرست: ایف بی آئی آرٹیکل کے ذریعے سیریل کلر تک کیسے پہنچی؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایف بی آئی یونابومبر کی شناخت اور سزا تک پہنچنے والی معلومات کے لیے ایک ملین ڈالر انعام کا اعلان کر چکی تھی۔ 1993 میں قائم اس کا ٹول فری ہاٹ لائن نمبر 1-800-701-BOMB تھا، جس پر 50 ہزار سے زائد ٹپس موصول ہوئیں۔ منشور میں موجود تازہ سراغ کے ساتھ، پراسرار بمبار کی تصویر واضح ہونے لگی تھی۔

بی بی سی نیوز نائٹ پر گرو مورتی نے کہا: ’یونابومبر کا غرور شاید اس کے زوال کی وجہ بنا۔ مضمون میں اس کے خیالات کے علاوہ، اس کے خطوط سے سائنسدانوں کو اس کے علمی پس منظر کے بارے میں بھی بہت کچھ معلوم ہو رہا تھا۔‘

ایف بی آئی کی یونا بم ٹاسک فورس نے 200 سنگین مشتبہ افراد کی فہرست تیار کی۔ ان میں سے شمالی کیلیفورنیا میں رہنے والے پانچ مشتبہ افراد کو کڑی نگرانی میں رکھا گیا کیونکہ تفتیش کاروں کا خیال تھا کہ مشتبہ کا تعلق وہاں سے ہو سکتا ہے۔

اس معاملے میں اہم سراغ ایک غیر متوقع ذریعہ سے ملا، ایک امریکی شہری جو اپنے شوہر ڈیوڈ کازنسکی کے ساتھ فرانس میں چھٹیاں گزار رہی تھی۔

فلسفہ کی پروفیسر لنڈا پیٹرک بین الاقوامی اخبار انٹرنیشنل ہیراڈ ٹریبیون میں یونابومبر کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹس پڑھ رہی تھیں۔ انھوں نے 2016 میں بی بی سی کو بتایا: ’تقریباً ہر دوسرے دن میں یہ مضامین دیکھتی اور اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر سوچتی کہ ’یہ ڈیو کے بھائی جیسا لگتا ہے۔‘

ایک رپورٹ میں مشتبہ کے لکڑی کے کام کی مہارت کا ذکر تھا۔ دوسری میں ٹیکنالوجی سے نفرت بیان کی گئی تھی۔ کچھ رپورٹس میں وہ شہر شامل تھے جہاں بم پھٹے تھے۔۔۔ وہ مقامات جن میں ڈیوڈ کے بھائی نے کام یا رہائش اختیار کی تھی۔ سب کو ملا کر دیکھا تو وہ پیٹرن نظرانداز کرنا ناممکن تھا۔

انھیں ڈیوڈ سے مشکل سوال کرنا پڑا: ’میں نے کہا، ’کیا ممکن ہے کہ تمہارا بھائی یونابومبر ہو؟‘‘

پیٹرک کے مطابق ڈیوڈ نے ابتدا میں اس پر یقین نہیں کیا، لیکن جب اس نے منشور پڑھا تو وہ حیران رہ گیا۔ ’ڈیو کمپیوٹر سکرین پر بیٹھا تھا، میں دیکھ سکتی تھی کہ پہلا صفحہ پڑھتے ہی اس کے تاثرات بدل گئے۔‘

ڈیوڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ان کے لیے بہت خوفناک صورتحال تھی۔ ’میں نے واقعی اس امکان کے بارے میں سوچنا شروع کیا کہ میرا بھائی ایک سیریل کلر ہوسکتا ہے، امریکہ یا شاید پوری دنیا میں سب سے زیادہ مطلوب آدمی۔‘

خاندان کے لیے حالات انتہائی مشکل تھے۔ اگر وہ خاموش رہتے تو مزید جانیں ضائع ہو سکتی تھیں، لیکن اگر ٹیڈ واقعتاً یونابومبر ہوتا تو اسے سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ڈیوڈ نے بتایا وہ سوچ رہے تھے کہ ’مجھے اپنی باقی زندگی اس بات کے ساتھ گزارنا کیسا ہو گی کہ میرے بھائی کے خون کا الزام میرے ہاتھوں پر ہے؟‘

یونابومبر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یونابومبر کی 17 سالہ تلاش میں، تھیوڈور کازنسکی ایف بی آئی کے یونا بم مشتبہ افراد میں 2416 نمبر پر تھے۔

ایف بی آئی کی خصوصی ایجنٹ ڈاکٹر کیتھیلن پکٹ نے 2025 میں بی بی سی کے پروگرام ویٹسنس ہسٹری کو بتایا: ’شکاگو میں ان کے خاندانی گھر میں ایک ٹرنک تھا جو ان کی والدہ نے رکھا تھا اور اسی ٹرنک میں ہمیں منشور کا اصل ہاتھ سے لکھا ہوا نسخہ ملا۔‘

یہ ایک مضمون تھا جو کازنسکی نے 1971 میں لکھا تھا اور اس میں وہی خیالات موجود تھے۔

تفتیش کاروں نے کافی شواہد جمع کیے تاکہ کازنسکی کے جنگلات میں واقع لکڑی کے کیبن کی تلاشی کے لیے وارنٹ حاصل کیا جا سکے، جہاں وہ بغیر پانی اور بجلی کے رہائش پذیر تھا۔

پکٹ کے مطابق ’کیبن شواہد سے بھرا ہوا تھا۔ یہ ہمارے لیے سونے کی کان کی طرح تھا۔‘

تفتیش کاروں کو بم بنانے کا مواد، 40 ہزار صفحات پر مشتمل ہاتھ سے لکھے ہوئے جرائد ملے جن میں بم بنانے کے تجربات اور یونا بومبر کے جرائم کی کہانیاں تھیں، ساتھ ہی ایک بم بھی ملا جسے میل بھیجنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

ایک باصلاحیت ریاضی دان سے لے کر ڈراپ آؤٹ تک

بم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کازنسکی کا بھائی ڈیوڈ ان کی گرفتاری کی خبر سن کر حیران رہ گیا۔

انھوں نے 2006 میں بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ ’انھیں دو وفاقی مارشلز نے لکڑی کے گھر سے باہر نکالا اور وہ بہت بری حالت میں نظر آئے۔ وہ بہت غیر منظم تھا۔‘

’اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور وہ مہینوں سے نہا بھی نہیں پایا تھا۔ اور انھیں ایک سیریل کلر، ایک دہشت گرد کے طور پر بیان کیا گیا؟ لوگوں کے پاس جو معلومات تھیں وہ ان تمام یادوں سے میل نہیں کھاتی تھیں جو میرے پاس ٹیڈ کے بارے میں تھیں۔۔۔ وہ پیارا سا لڑکا جو میرا بڑا بھائی تھا۔‘

جلد ہی کازنسکی کی ماضی کی زندگی سے متعلق تصاویر اور معلومات سامنے آنا شروع ہو گئیں۔ 167 کے آئی کیو کے ساتھ ایک غیر معمولی ریاضی دان، جس نے صرف 16 سال کی عمر میں ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے دو کلاسیں چھوڑ دی تھیں۔

20 سال کی عمر میں گریجویشن کے بعد، وہ یونیورسٹی آف مشیگن گئے۔ ان کے سابقہ پروفیسر پیٹر ڈورن کے مطابق: ’اس کے اچھے خیالات تھے، وہ ایک حقیقی ریاضی دان تھا، اور اپنی پڑھائی کی بنیاد پر اسے برکلے میں ملازمت مل گئی اور امید تھی کہ ریاضی کے شعبے میں اس کا مستقبل روشن ہو گا۔‘

’لیکن ایک واقعہ نے دنیا کے بارے میں کازنسکی کا نظریہ بدل دیا۔‘

یونابومبر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گرو مورتی نے کہا: ’اس نے اس ڈسپلن کے خلاف بغاوت کی جس میں وہ بہترین تھا، اور دو سال کے اندر ہی سکول چھوڑ دیا۔ یوٹاہ میں قیام کے بعد، وہ مونٹانا منتقل ہو گیا اور تقریباً ایک ہزار افراد پر مشتمل ایک چھوٹ’ی کمیونٹی میں دیہی اور الگ تھلگ زندگی گزارنا شروع کر دی۔‘

گرو مورتی نے کہا کہ یہ واضح تھا کہ اس کے پاس ’ایک غیر معمولی ذہن‘ تھا لیکن اگر تفتیش کار درست ہیں تو اس کا استعمال صرف ایک ایسے شخص کے غصے کو بھڑکانے کے لیے کیا گیا جو اپنی ملازمت سے نفرت کرتا تھا۔‘

کازنسکی کو 1996 میں بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا سنائی گئی ا اور اس نے اگلی تین دہائیاں امریکی جیلوں میں گزاریں، بنیادی طور پر فلورنس، کولوراڈو میں واقع وفاقی سپر میکس جیل میں۔

جیل میں اس کا انٹرویو کرنے والے سائیکاٹرسٹ نے اسے ایک سکٹزوفرینک بتایا اور دعویٰ کیا کہ وہ ہمیشہ جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

1999 میں ٹائم میگزین کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس نے کہا ’مجھے مکمل یقین ہے کہ میں صحیح ذہنی حالت میں ہوں۔‘

کازنسکی نے 2023 میں 81 سال کی عمر میں صحت کی مسلسل خرابی کی وجہ سے خودکشی کر لی تھی۔