آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
متحدہ عرب امارات کے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے سے ایران کو کتنا نقصان ہوگا اور کیا تہران کے پاس اس کا کوئی متبادل ہے؟
- مصنف, سارہ فياض
- عہدہ, بی بی سی نیوز عربی کی نامہ نگار برآئے معاشی امور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
ایک صدی قبل، جب تیل نے خلیج کا نقشہ نہیں بدلا تھا، تب بھی تجارتی کشتیاں جنوبی ایران کی بندرگاہوں اور دبئی کے درمیان سفر کرتی تھیں اور اپنے ساتھ سامان، تاجر اور سرمایہ لے جاتی تھیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تجارت کی نوعیت بدلی اور اس کا دائرہ بھی وسیع ہوا۔ اس کا بڑا حصہ کنٹینرز، فری زونز، شپنگ اور زرِ مبادلہ کی کمپنیوں کے ذریعے ہونے لگا، جبکہ جبلِ علی کی بندرگاہ خطے کے سب سے بڑے تجارتی مراکز میں سے ایک بن کر ابھری۔ تاہم لکڑی کی روایتی کشتیاں اب بھی مکمل طور پر منظر سے غائب نہیں ہوئیں۔ وہ اب بھی ایرانی بندرگاہوں تک خوردنی اشیا، برقی آلات اور مختلف اشیائے صرف پہنچاتی ہیں۔
دہائیوں پر محیط اس تعلق کو اب اپنے مشکل ترین امتحانات میں سے ایک کا سامنا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، تجارتی تبادلے اور مالی لین دین اگلے حکم تک معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان سے قبل متحدہ عرب امارات نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران نے دو بیلسٹک میزائل داغے تھے جو سمندر میں جا گرے۔
ایران نے متحدہ عرب امارات کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔
لیکن اگر متحدہ عرب امارات اپنے فیصلے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف اشیا کی نقل و حرکت تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دبئی دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارت اور مالی لین دین کے تناظر میں ایران کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت اور مالی لین دین کا حجم کتنا ہے؟ کیا متحدہ عرب امارات واقعی یہ تعلق ختم کر سکتا ہے؟ اور کیا ایران کے پاس اس کا کوئی متبادل موجود ہے؟
عالمی منڈیوں تک رسائی اور درآمدات کا مرکز
1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام سے قبل بھی ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی روابط موجود تھے۔ نئی ریاست کے وجود میں آنے کے بعد بڑی تعداد میں ایرانی تاجر وہاں آباد ہوئے۔ ان میں سے بہت سے افراد نے دبئی کریک کے گردونواح کو اپنا مسکن بنایا اور شہر کے محلِ وقوع اور آزاد تجارتی پالیسیوں سے فائدہ اٹھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ایرانی تاجروں نے اپنے آبائی بندرگاہوں کے ساتھ روابط بھی برقرار رکھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1979 میں ایران میں انقلاب کے بعد بھی ان کے روابط منقطع نہیں ہوئے۔ بلکہ اس انقلاب کے نتیجے ایران سے تاجروں اور پیشہ ور افراد کی ایک نئی لہر دبئی منتقل ہوئی۔
ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے دوران اگرچہ ابوظہبی نے عراق کی حمایت کی، لیکن دبئی ایران کے لیے ایک اہم تجارتی اور رسد فراہم کرنے والا مرکز بنا رہا۔ یوں سلامتی سے متعلق خدشات اور تجارتی مفادات کے درمیان ایک ایسا توازن قائم رہا جو عشروں تک برقرار رہا۔
2006 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں، اور پھر 2010 میں ان پابندیوں میں مزید سختی کے بعد دونوں ممالک کے اس معاشی تعلق کو ایک بڑے معاشی امتحان کا سامنا کرنا پڑا۔
متحدہ عرب امارات نے ایران سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں اور مالی ترسیلات پر نگرانی سخت کر دی، متعدد کمپنیوں کو بند کیا گیا اور پابندیوں کی زد میں آنے والے اداروں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے۔ اس کے نتیجے میں دبئی اور ایران کے درمیان تجارت جو 2011 میں 9.8 ارب ڈالر تھی 2012 میں کم ہو کر 6.8 ارب ڈالر تک رہ گئی۔ تاہم تب بھی یہ مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔
2015 میں ایران جوہری معاہدے نے اس تعلق کو کچھ حد تک سہارا دیا، لیکن 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے سے دستبرداری اور پابندیوں کی بحالی کے بعد ایک بار پھر اس پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایران کے لیے دبئی کی اہمیت کم نہ ہوئی۔
عالمی ادارہ تجارت (ڈبلیو ٹی او) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں متحدہ عرب امارات چین کے بعد ایران کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار تھا اور ایرانی درآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ بھی۔ ایران کی مجموعی درآمدات کا 30.6 فیصد حصہ متحدہ عرب امارات سے آیا، جبکہ ایرانی برآمدات کے لیے متحدہ عرب امارات تیسری بڑی منڈی تھا۔
جنگ کا امتحان
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے سے خلیجی ممالک میں سے متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ ایران کے نشانہ پر رہا رہا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے تقریباً تین ہزار میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے جو خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔
اگرچہ اماراتی فضائی دفاعی نظام بڑے پیمانے پر ایرانی حملوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہا تاہم اس کے باوجود ان کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی سیاحت، ہوا بازی اور تجارت کے شعبوں کو نقصان پہنچا جبکہ غیر ملکی شہریوں کی بڑی تعداد بھی عارضی طور پر ملک سے چلی گئی۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تجارت پر بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کیں اور دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست بحری تجارتی نقل و حمل بھی متاثر ہوئی۔ تاہم جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد بعض تجارتی اور سفارتی روابط دوبارہ بحال ہوئے۔ اس دوران اماراتی سرزمین پر حملوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
بین الاقوامی جریدے فنانشل ٹائمز کے مطابق دبئی سے ایران سامان لے جانے والی روایتی لکڑی کی کشتیاں دوبارہ سرگرم ہو گئیں، بعض ایرانی پروازیں بھی بحال ہوئیں اور متحدہ عرب امارات کے رہائشی اجازت نامے رکھنے والے ہزاروں ایرانیوں کو واپس آنے کی اجازت بھی دی گئی۔
لیکن یہ پیش رفت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ گذشتہ ہفتوں کے دوران متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ابو ظہبی کی نیشنل آئل کمپنی 'ادنوک' کے جہازوں کو نشانہ بنایا۔ رواں ہفتے منگل کو دو میزائل داغے جانے کے واقعے کے نتیجے میں کئی ماہ بعد پہلی مرتبہ اماراتی حکام نے شہریوں کو ہنگامی انتباہ جاری کیا۔
ابوظہبی میں مقیم بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ایلی الہندی کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت اور مالی لین دین معطل کرنے کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کشیدگی کم کرنے اور صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کی حکمتِ عملی سے آگے بڑھ کر اقتصادی دباؤ استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستوں نے اپنی معیشتوں اور عالمی ساکھ کی بنیاد استحکام، کھلے پن اور تجارتی تبادلے پر رکھی ہے، اس لیے وہ عموماً ایسے اقدامات سے گریز کرتی ہیں جو ان مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔ ان کے بقول وہ ان مفادات کی قربانی اسی وقت تک نہیں دیتے جب تک ریاست کو ایسا محسوس نہ ہو کہ 'ملک کی سالمیت کو خطرے' کا سامنا ہے۔
تجارت کی معطلی کا اعلان ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے چند روز بعد سامنے آیا، جبکہ اسی عرصے میں ایسے اشارے بھی مل رہے تھے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید کے ساتھ خطے کی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کے معاملے پر تبادلۂ خیال کیا۔ تاہم اس بات کے کوئی اعلانیہ شواہد موجود نہیں کہ متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ واشنگٹن کے ساتھ کسی باقاعدہ رابطے یا ہم آہنگی کے نتیجے میں کیا گیا ہو۔
براہِ راست تجارت سے کہیں بڑھ کر
دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی اہمیت کو اعداد و شمار کے ذریعے بیان کرنا آسان نہیں۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی تجارتی ڈیٹا بیس کو مہیا کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں ایران کے ساتھ اس کی ریکارڈ شدہ تجارت کا حجم تقریباً 6.6 ارب ڈالر تھا۔
تاہم بین الاقوامی اداروں کو ایران کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ایران نے 2024 میں متحدہ عرب امارات سے تقریباً 21 ارب ڈالر کی درآمدات کیں، جبکہ امارات کو اس کی برآمدات سات ارب ڈالر سے زیادہ تھیں۔ اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان مجموعی تجارتی حجم 28 ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتا ہے۔
اس بڑے فرق کی ایک وجہ دوبارہ برآمدات (ری ایکسپورٹ)، فری زونز کے ذریعے ہونے والی تجارت، شپمنٹ کے مقام کے تعین کے مختلف طریقے اور کسٹمز کی جانب سے اشیا کی مالیت کے تعین کے الگ الگ طریقۂ کار ہو سکتے ہیں۔
تاہم دونوں ملکوں کی جانب سے دیے گئے ڈیٹا میں اتنا زیادہ فرق اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ ایسے تجارتی تعلقات کی درست پیمائش آسان نہیں جن کا ایک حصہ ثالثوں اور دوبارہ برآمدی مراکز کے ذریعے انجام پاتا ہو۔
ایرانی ماہرِ معاشیات نادر حبیبی کے مطابق متحدہ عرب امارات کی اہمیت صرف ان اشیا تک محدود نہیں جو اس کی بندرگاہوں پر پہنچنے کے بعد ایران روانہ کی جاتی ہیں، بلکہ اس میں امارات میں مقیم ایرانیوں اور ایرانی کمپنیوں کا کردار بھی شامل ہے، جو ایران کے اندر موجود کاروباروں کو بیرونی دنیا سے جوڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
ان کے بقول اس سرگرمی کا بڑا حصہ ایسی جائز تجارت پر مشتمل ہے جس کی اشیا بین الاقوامی پابندیوں کے دائرے میں نہیں آتیں۔ تاہم بعض کمپنیاں پابندیوں کے شکار اداروں کے لیے فرنٹ کمپنیوں کے طور پر بھی کام کرتی رہی ہیں، جبکہ کچھ عام ایرانی کمپنیوں کو عالمی منڈیوں کے ساتھ کاروباری روابط برقرار رکھنے میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔
’درہم مارکیٹ‘
متحدہ عرب امارات کا کردار صرف اشیا کی تجارت تک محدود نہیں۔ چونکہ ایرانی بینکنگ نظام کا بڑا حصہ عالمی مالیاتی نظام سے کٹا ہوا ہے، اس لیے ایرانی درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان ادائیگیوں کے لیے امارات میں موجود ایکسچینج کمپنیوں اور مالیاتی ثالثوں پر انحصار کرتے رہے ہیں، جہاں لین دین عموماً درہم میں کیا جاتا ہے۔
نادر حبیبی کے مطابق ان کمپنیوں نے براہِ راست یا حوالہ نظام کے ذریعے ایران اور دیگر ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت کی ادائیگیوں کے تصفیے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایران میں اس مارکیٹ کو ’درہم مارکیٹ‘ کہا جاتا ہے اور اس مارکیٹ رائج شرحِ مبادلہ کا شمار ریال کی قدر پر اثر انداز ہونے والے اہم اشاریوں میں ہوتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا کردار صرف اشیا کی تجارت تک محدود نہیں۔ چونکہ ایرانی بینکنگ نظام کا بڑا حصہ عالمی مالیاتی نظام سے کٹا ہوا ہے، اس لیے ایرانی درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان ادائیگیوں کے لیے امارات میں موجود ایکسچینج کمپنیوں اور مالیاتی ثالثوں پر انحصار کرتے رہے ہیں، جہاں لین دین عموماً درہم میں کیا جاتا ہے۔
نادر حبیبی کے مطابق ان کمپنیوں نے براہِ راست یا حوالہ نظام کے ذریعے ایران اور دیگر ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت کی ادائیگیوں کے تصفیے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایران میں اس مارکیٹ کو ’درہم مارکیٹ‘ کہا جاتا ہے اور اس مارکیٹ رائج شرحِ مبادلہ کا شمار ریال کی قدر پر اثر انداز ہونے والے اہم اشاریوں میں ہوتا ہے۔
اگر حبیبی کے اس بیان کا اطلاق ترسیلات اور ایکسچینج کمپنیوں پر کیا جائے تو اس کے اثرات صرف اس تجارت تک محدود نہیں رہیں گے جس کی اشیا امارات کے راستے ایران پہنچتی ہیں۔ اس سے وہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں جن کی اشیا کسی اور ملک سے آتی ہیں، لیکن ان برآمدات کی ادائیگیوں کے تصفیے کے لیے دبئی پر انحصار کیا جاتا ہے۔
حبیبی کہتے ہیں کہ ' امارات اور ایران کے تعلقات میں سب سے اہم عنصر ہمیشہ نفاذ کا رہا ہے، یعنی اماراتی حکومت ان پابندیوں اور قدغنوں کو کس انداز میں نافذ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔'
ان کے مطابق ماضی میں عائد کی جانے والی پابندیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری اور رسمی راستوں کی بندش مالی اور تجارتی سرگرمیوں کو مکمل طور پر نہیں روکتی۔ ان میں سے بعض سرگرمیاں ثالث کمپنیوں، متبادل مالیاتی ذرائع اور بالواسطہ تجارتی راستوں کے ذریعے جاری رہ سکتی ہیں۔
ممکنہ اثرات سب سے پہلے ان شعبوں پر پڑ ہو سکتے ہیں جن کا انحصار امارات کے راستے ایران پہنچنے والی اشیا اور خام مال پر ہے۔ ان میں خوراک، ادویات، الیکٹرانک آلات، گاڑیوں کے پرزے اور مویشیوں کا چارہ شامل ہیں۔
ممکن ہے کہ یہ مصنوعات ایرانی منڈی سے مکمل طور پر غائب نہ ہوں، لیکن ان کی رسد زیادہ طویل راستوں اور اضافی ثالثوں کے ذریعے ہونے لگے، جس کے نتیجے میں ان کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور اس کا بوجھ بالآخر صارفین اور صنعتی اداروں کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
مہنگے متبادل راستے لیکن دبئی جیسا کوئی نہیں
برسوں سے عائد پابندیوں کے باعث ایران کے پاس متبادل راستے تلاش کرنے کا خاصا تجربہ ہے۔ نادر حبیبی اسے ’بلی اور چوہے کے درمیان جاری رہنے والے مسلسل کھیل‘ سے تعبیر کرتے ہیں جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔
ان کے مطابق جب ایک مالی یا تجارتی راستہ بند ہوتا ہے تو لچکدار تجارتی نیٹ ورک کسی دوسرے ملک میں نیا راستہ تلاش کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔
ایران اپنی تجارت کا ایک حصہ ترکی، عراق، عمان، پاکستان اور وسطی ایشیا کی جانب منتقل کر سکتا ہے۔ تہران پہلے ہی خلیج میں کاروباری سرگرمیوں کے مشکل ہونے کے بعد زمینی سرحدوں کے ذریعے تجارت بڑھا چکا ہے۔
تاہم یہ متبادل آسانی سے وہ تمام سہولتیں فراہم نہیں کر سکتے جو دبئی مہیا کرتا رہا ہے۔ دبئی کو اس کے جغرافیائی محلِ وقوع، عالمی معیار کی بندرگاہوں، وسیع مالیاتی نیٹ ورکس اور وہاں موجود مضبوط ایرانی کاروباری برادری کی وجہ سے ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے متبادل راستوں کی جانب منتقلی وقت طلب بھی ہو سکتی ہے اور اس سے نقل و حمل اور مالیاتی اخراجات میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ بطور ثالث کردار ادا کرنے والے ممالک اور کمپنیاں کو امریکی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس فیصلے کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ امارات میں شپنگ، گوداموں، ری ایکسپورٹ اور زرِ مبادلہ کے شعبوں سے وابستہ بعض کمپنیوں کو بھی اپنے کاروبار کے ایک حصے سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
حبیبی کہتے ہیں کہ ’یہ تجارت امارات کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ اس سے لاجسٹکس کے شعبے کو اہم آمدنی حاصل ہوتی ہے، منافع کمانے کے وسیع مواقع پیدا ہوتے ہیں اور اماراتی مالیاتی ادارے بھی ان لین دین سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘
تاہم ماہرین کے مطابق نسبتاً زیادہ نقصان ایران کو ہو سکتا ہے، کیونکہ امارات کی معیشت زیادہ بڑی اور متنوع ہے۔
امارات اپنے تجارتی سرگرمیوں کے ایک حصے میں کمی کو نسبتاً آسانی سے جذب کر سکتا ہے، جبکہ ایران اپنی قریب ترین اور ترقی یافتہ ترین عالمی تجارتی راہداری سے محروم ہو سکتا ہے۔
ایلی الہندی کے نزدیک دونوں ملکوں کے تعلقات ضروری نہیں کہ ایسے مقام پر پہنچ گئے ہوں جہاں واپسی ممکن نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست میں کوئی چیز حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق ہو سکتا ہے جغرافیہ اور تاریخ بالآخر دونوں فریقوں کو دوبارہ ایک میز پر لے آئے۔
تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’کچھ نہ کچھ ٹوٹ چکا ہے، اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اب اس اعتماد کو آہستہ آہستہ دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔‘
چنانچہ اصل سوال شاید یہ نہیں کہ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت دوبارہ بحال ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کب بحال ہوگی، اس کا حجم کتنا ہوگا، اور اگر دبئی کی راہداری طویل عرصے تک بند رہی تو اس تجارت کا کتنا حصہ مستقل طور پر دوسرے راستوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔