ڈاکٹر عظمیٰ کی عمران خان سے ملاقات اور محمد مُرسی کا حوالہ: مصر کے سابق صدر کی موت کِن حالات میں ہوئی تھی؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’وہ (عمران خان) بار بار ایک ہی بات کہہ رہے تھے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے، مجھ پر ٹارچر ہوا ہے۔ میں اُن (جیل حکام) کو کہتا تھا کہ (محمد) مرسی کو بھی ایسے ہی مارا گیا تھا۔ میں اُن (جیل حکام) کو اپنی صورتحال بتاتا تھا مگر یہ علاج نہیں کرواتے تھے۔ میں نے اُنھیں بتایا کہ مرسی کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔۔۔‘

یہ کہنا ہے ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کا، جو جمعہ کی صبح اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران گذشتہ رات اپنے بھائی اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے پمز ہسپتال میں ہونے والی اپنی ملاقات کی تفصیلات بتا رہی تھیں۔

عظمیٰ نیازی نے عمران خان کے ساتھ ہسپتال میں ہونے والی اپنی بات چیت کی تفصیلات جب میڈیا کے ساتھ شیئر کیں تو اُس گفتگو میں انھوں نے مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا چار بار حوالہ دیا۔

عظمیٰ نیازی کا دعویٰ تھا کہ اُن کے بھائی عمران خان نے اس ملاقات میں متعدد مواقع پر انھیں کہا جو کچھ اسیری کے دوران محمد مرسی کے ساتھ ہوا وہی مبینہ طور پر اُن کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

اپنی پریس کانفرنس کے دوران عظمیٰ نیازی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے انھیں بتایا کہ انھیں کیسے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور درخواست کے باوجود اُن کا علاج نہیں کروایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا دیرینہ مؤقف ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید تنہائی کا سامنا ہے اور انھیں مناسب علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں ہے اور اسی بنیاد پر پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر فیصلہ کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے تین رُکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم کو شفا ہسپتال منتقل کرنے اور وہاں علاج کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ سُنایا تھا۔

تاہم حکومت کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ حکومت متعدد مرتبہ یہ وضاحت کر چکی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو علاج معالجے کی تمام تر سہولیات میسر ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڈ نے جمعہ کی صبح اپنی ٹویٹ میں دوبارہ کہا ہے کہ ’اُن (عمران خان) کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب اُن کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘

تاہم ڈاکٹر عظمیٰ کی پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر محمد مرسی بھی موضوع بحث ہیں۔ بی بی سی نیوز اُردو نے اپنی سابقہ تحاریر میں یہ بتایا تھا کہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی کو کیسے اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اور اُن کی موت کن حالات میں ہوئی۔

محمد مرسی کی موت کِن حالات میں ہوئی؟

مصر کے سابق صدر محمد مرسی 17 جون 2019 کو عدالت میں ایک پیشی کے دوران گِر کر وفات پا گئے تھے۔ گِرنے سے قبل پنجرے میں قید محمد مرسی نے عدالت کے سامنے اپنا مؤقف رکھا، جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئے۔

بعدازاں مصر کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا کہ مرسی کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی تھی۔ اقتدار سے بیدخل کیے جانے کے بعد سے مرسی قید میں تھے۔

17 جون 2019 کو محمد مرسی نے عدالت میں ایک ساؤنڈ پروف پنجرے میں لایا گیا تھا جہاں سے انھوں نے پانچ منٹ تک بات کی۔ اُن پر فلسطینی جماعت ’حماس‘ کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے جاسوسی کے ایک مقدمے کی سماعت کی جا رہی تھی۔

اِنسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن اور محمد مرسی کا خاندان طویل عرصے سے یہ کہتا آیا تھا کہ مرسی کو ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے امراض کا علاج کروانے کے لیے مناسب طبی سہولیات مہیا نہیں کی گئیں اور انھیں مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا تھا۔

محمد مرسی کی وفات سے ایک ماہ قبل ان کے اہلِ خانہ نے کہا تھا کہ حکام نے بارہا انھیں اُن تک رسائی دینے سے انکار کیا تھا اور وہ ان کی صحت کے حوالے سے بہت کم جانتے تھے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق محمد مرسی کو قید کے دوران صرف تین بار اپنے رشتے داروں سے ملنے کی اجازت دی گئی جبکہ اس قید کے دوران انھیں اُن کے وکیل اور ڈاکٹر سے بھی ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی امریکہ کا کہنا تھا کہ ’مرسی کو چھ سال تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا جس نے اُن کے دماغ اور جسمانی حالت پر قابلِ ذکر اثر ڈالا۔ انھیں موثر اور بھرپور طریقے سے باہر کی دنیا سے کاٹ دیا گیا تھا۔‘

ہیومن رائٹس واچ کی مشرقِ وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارہ لی وٹسن نے محمد مرسی کی موت کو ’خوفناک لیکن مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی‘ قرار دیا تھا۔

اخوان المسلمین کے سیاسی بازو دی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے محمد مرسی کی موت کو ’قتل‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’محمد مرسی کو اُن کی گرفتاری کے دوران پانچ سال سے زیادہ عرصہ قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، انھیں ادویات مہیا نہیں کی گئیں اور انھیں بُری خوراک فراہم کی گئی۔ انھیں ڈاکٹروں اور وکلا سے ملنے نہیں دیا گیا یہاں تک کہ انھیں ان کے خاندان سے بات چیت بھی نہیں کرنے دی گئی۔‘

اپنے ایک بیان میں محمد مرسی کی بیٹی شیما مرسی نے کہا تھا کہ جیل حکام نے اُن کے والد کی بیماری کا علاج کرنے سے انکار کرکے اُن کی موت میں کردار ادا کیا۔ اُن کے مطابق اُن کے والد کئی سنگین جسمانی بیماریوں میں مبتلا تھے، لیکن اس کے باوجود انھیں عدالت میں پیش ہونے پر مجبور کیا گیا۔

محمد مرسی کون تھے؟

محمد مرسی سنہ 1951 میں مصر کے ضلع شرقیا کے گاؤں ال ادوا میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے پی ایچ ڈی مکمل کی تھی۔

اخوان المسلیمن نے سنہ 2012 میں صدارتی دوڑ کے اپنے پسندیدہ امیدوار کو مقابلہ چھوڑنے پر مجبور کیے جانے کے بعد محمد مرسی کو اپنا صدارتی امیدوار چُنا تھا۔

محمد مرسی جمہوری طور پر منتخب ہونے والے مصر کے پہلے صدر تھے لیکن صرف ایک ہی برس کے بعد تین جولائی 2013 کو فوج نے اُن کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

محمد مرسی نے انتخاب میں کامیابی کے بعد تمام مصریوں کا صدر بننے کے عزم کا اظہار کیا تھا تاہم اُن کے نقادوں کا الزام تھا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور انھوں نے اسلام پسندوں کو سیاسی منظر نامے پر چھا جانے کے مواقع فراہم کیے اور وہ ملکی معیشت کو اچھی طرح چلانے میں ناکام رہے۔

محمد مرسی کے اقتدار میں ایک سال مکمل ہونے پر لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے تھے جس کے بعد مصر کی فوج نے محمد مرسی کو برطرف کر کے انھیں جیل میں بند کر دیا تھا۔

تختہ الٹ دیے جانے کے بعد چار ماہ تک محمد مرسی کو نامعلوم مقامات پر قید رکھا گیا تھا اور پھر ستمبر 2013 میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اب ان پر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا۔

حکومت کا الزام تھا کہ محمد مرسی نے اپنے حامیوں کو صحافیوں اور حزب مخالف کے دو رہنماؤں کو قتل کرنے پر اکسایا اور کئی دیگر افراد کو غیر قانونی طور پر قید کیا اور ان پر تشدد کروایا تھا۔

محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے 14 دیگر سرکردہ رہنماؤں پر قائم کیے جانے والے ان مقدامات کی سماعت نومبر 2013 میں شروع ہوئی تھی۔

مقدمے کی پہلی سماعت پر کٹہرے میں کھڑے محمد مرسی نے نہ صرف چیخ چیخ کر کہا تھا کہ انھیں ’فوجی بغاوت‘ کا شکار کیا گیا ہے بلکہ انھوں نے اس عدالت کو ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا جو ان کے مقدمات کی سماعت کر رہی تھی۔

اُن کا کہنا تھا ’ملک کے آئین کے مطابق میں جمہوریہ کا صدر ہوں اور مجھے زبردستی قید کیا گیا ہے۔‘

لیکن اپریل 2015 میں محمد مرسی اور ان کے دیگر ساتھیوں کو 20، 20 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ اگرچہ انھیں اپنے کارکنوں کو قتل پر اکسانے کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا تاہم انھیں مظاہرین کو حراست میں لینے اور ان پر تشدد کرنے کے جرائم کا مرتکب پایا گیا تھا۔

اس کے علاوہ محمد مرسی کو کئی دیگر جرائم کا بھی مرتکب پایا گیا جن میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کے گٹھ جوڑ سے سنہ 2011 میں قیدیوں کو چھڑانے سے لے کر خفیہ سرکاری معلومات افشا کرنے، دھوکہ دہی اور توہین عدالت کے الزامات شامل تھے۔