’والدہ برسوں سے بھائی کے انتظار میں تھیں‘: سعودی عرب میں انڈین شہری کی دیت کے لیے 34 کروڑ کی رقم کیسے جمع ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہNaseer
- مصنف, عمران قریشی
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
’میری والدہ فاطمہ کئی برسوں سے بھائی کے انتظار میں ہیں، لیکن انھیں اُس وقت ہی یقین آئے گا جب عبدالرحیم ان کے سامنے کھڑا ہوگا۔‘
یہ الفاظ عبدالرحیم کے بھائی نصیر کے ہیں۔
عبدالرحیم کی رہائی کے لیے دنیا بھر، خصوصاً انڈین ریاست کیرالہ، کے لوگوں نے ’بلڈ منی‘ یعنی ’دیت‘ یعنی خون بہا کی مد میں کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے 34 کروڑ انڈین روپے جمع کیے۔
یہ معاملہ تقریباً 20 سال پہلے شروع ہوا تھا۔ نومبر سنہ 2006 میں عبدالرحیم نے کوژیکوڈ میں آٹو رکشہ چلانے کا کام چھوڑ کر سعودی عرب میں ڈرائیور کی ملازمت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
نئی ملازمت شروع کیے ابھی صرف 28 دن ہی ہوئے تھے کہ انھیں ایک 17 سالہ مفلوج لڑکے کی دیکھ بھال کی اضافی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی۔ اسی دوران عبدالرحیم پر اپنے مالک کے بیٹے کے قتل کا الزام عائد کر دیا گیا۔
عبدالرحیم کا مؤقف تھا کہ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھے لڑکے کا سانس لینے والا آلہ غلطی سے الگ ہو گیا تھا۔ وہ اس لڑکے کو ریاض کے ایک ہائپر مارکیٹ لے جا رہے تھے۔
عبدالرحیم کے اہلِ خانہ اور معاونتی کمیٹی کے ارکان حالیہ دنوں میں شدید پریشانی میں مبتلا تھے کیونکہ 20 مئی کو ان کی عمر قید کی سزا مکمل ہو چکی تھی۔
نصیر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’گرفتاری کے چھ ماہ بعد میرے والد کو اس واقعے کی اطلاع ملی۔ وہ شدید صدمے میں چلے گئے اور خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیا۔ چند ماہ بعد ہی ان کی وفات ہو گئی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو سال قبل ’دیت‘ کی رقم ادا کیے جانے کے بعد سے نصیر کی والدہ مسلسل کہتی آ رہی ہیں کہ ’رحیم ایک دن ضرور گھر واپس آئے گا۔‘ وہ آج بھی اسی اُمید پر زندہ ہیں۔
اس دوران مختلف عدالتوں میں متعدد اپیلیں دائر کی گئیں جبکہ سعودی فرمانروا سے سزائے موت معاف کرنے کی درخواست بھی کی گئی، تاہم عبدالرحیم کے سر پر سزائے موت کی تلوار لٹک رہی ہے۔
مذاکرات اور قانونی جنگ
عبدالرحیم لیگل سسٹنس کمیٹی کے رکن اشرف وینگاٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سنہ2011 میں پہلی مرتبہ سزائے موت سنائے جانے کے بعد ہی ہم نے مقتول لڑکے کے والد سے بات چیت شروع کر دی تھی، لیکن جون سنہ 2024 میں جا کر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس دوران کمیٹی کے ارکان نے ریاض میں انڈین سفارت خانے کے اُس وقت کے ویلفیئر افسر یوسف کننمل کی مدد سے قانونی جنگ جاری رکھی۔
ساتھ ہی مقتول لڑکے کے اہلِ خانہ سے معافی اور تصفیے کے لیے مذاکرات بھی کیے جاتے رہے۔
یوسف کننمل کے مطابق ’اکتوبر سنہ 2019 میں ایک وکیل کے ذریعے سنجیدہ سطح پر مذاکرات شروع ہوئے۔ اکتوبر سنہ 2023 میں ہم ایک مفاہمتی معاہدے تک پہنچ گئے۔ اس وقت مقتول کے خاندان نے ’دیت‘ کے طور پر ایک کروڑ پچاس لاکھ سعودی ریال، یعنی انڈین کرنسی میں تقریباً 34 کروڑ روپے قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔‘

،تصویر کا ذریعہNaseer
عبدالرحیم کا خاندان اتنی بڑی رقم جمع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا، اس لیے ’عبدالرحیم لیگل اسسٹنس کمیٹی‘ کو ایک فلاحی ٹرسٹ کے طور پر رجسٹر کیا گیا۔
نصیر نے بتایا کہ ’ابتدائی چند ہفتوں میں کراؤڈ فنڈنگ ایپ کے ذریعے صرف دو سے تین کروڑ روپے جمع ہوئے تھے، لیکن بعد میں مقامی ٹی وی چینلز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی وجہ سے یہ خبر دور دور تک پھیل گئی۔ مندروں اور گرجا گھروں میں بھی میرے بھائی کے لیے فنڈ جمع کرنے کی اپیلیں کی گئیں۔‘
کاروباری شخصیت بوبی چیمنور کی جانب سے ایک کروڑ روپے عطیہ کرنے کے بعد ترواننت پورم میں فنڈ ریزنگ کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی گئی۔
سیاسی جماعتوں اور ملیالم فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات نے بھی اس مہم میں حصہ لیا۔
47 کروڑ روپے کا فنڈ جمع
اشرف نے بتایا کہ کراؤڈ فنڈنگ ایپ یکم مارچ سنہ 2024 کو شروع کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’رقم 34 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ وہ رمضان کا 27 واں دن تھا، شاید اسی وجہ سے لوگوں نے بڑی تعداد میں عطیات دیے۔ لیکن ہدف مکمل ہونے کے بعد ایک غیر متوقع بات ہوئی۔‘
اشرف کے مطابق ’لوگوں نے اس اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانا جاری رکھی اور مجموعی رقم 47 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ہمارے بینک اکاؤنٹ میں اب بھی 13 کروڑ روپے موجود ہیں۔ عبدالرحیم کی واپسی کے بعد کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ اس اضافی رقم کا کیا کیا جائے۔‘
کمیٹی نے ’دیت‘ کی رقم انڈین وزارتِ خارجہ کے حوالے کی جس کے بعد وزارت نے یہ رقم ریاض میں انڈین سفارت خانے کو منتقل کر دی۔
اشرف نے بتایا کہ ’چیک ریاض کے گورنر آفس کے حوالے کیا گیا، جہاں سے اسے عدالت میں جمع کرایا گیا۔ دو جون سنہ 2025 کو عدالت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ سنایا۔‘

،تصویر کا ذریعہNaseer
یوسف کننمل نے کہا کہ ’وکیل کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ وہ وکیل مقتول لڑکے کے خاندان کے رشتہ دار بھی تھے۔‘
انڈین سفارت خانے کے اس ریٹائرڈ افسر نے سعودی عرب میں نو انڈین شہریوں کو سزائے موت سے بچانے میں کردار ادا کیا ہے۔
عبدالرحیم سمیت ان نو افراد میں پنجاب، بہار اور اتر پردیش سے تعلق رکھنے والا ایک ایک شخص جبکہ کیرالہ کے مزید پانچ افراد شامل ہیں۔
























