یوٹیوب کی مدد سے گھر پر ہی زچگی کی کوشش کے دوران ہلاکت: 'حاملہ ہونے کے بعد سے خاتون ہسپتال نہیں گئی تھیں'

تصویر

،تصویر کا ذریعہFamily Handout

،تصویر کا کیپشن32 سالہ خاتون انجینیئرنگ گریجوئیٹ تھیں
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈین ریاست تمل ناڈو میں ایک حاملہ خاتون اُس وقت ہلاک ہو گئیں جب انھوں نے یوٹیوب پر بچوں کی پیدائش سے متعلق ویڈیوز دیکھنے کے بعد، کسی طبی مدد کے بغیر خود ہی گھر میں بچہ ڈیلیور کرنے کی کوشش کی۔

اگرچہ خاتون زچگی کے اس عمل کے دوران ہلاک ہو گئیں تاہم اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بچی زندہ ہے اور حکام کے مطابق اُس کا علاج جاری ہے۔

پولیس نے خاتون کی ہلاکت کا مقدمہ اُن کے شوہر کے خلاف درج کر لیا ہے، تاہم اس سلسلے میں فی الحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

مقامی حکام کی تحقیقات کے مطابق چھ برس قبل خاتون نے سی سیکشن (آپریشن) کے ذریعے اپنی پہلی بیٹی کو جنم دیا تھا، جس کے بعد انھوں نے اور اُن کے شوہر نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دوسرے بچے کو قدرتی طریقے (نارمل ڈیلیوری) سے پیدا کریں گے۔

ہلاک ہونے والی 32 سالہ خاتون سسیکلا اور اُن کے 40 سالہ شوہر ککُلنٹھائی سامی، دونوں ہی انجینیئرنگ گریجویٹ ہیں۔

سسیکلا کے شوہر اپنے والدین اور بھائی کے ساتھ کاشتکاری کے پیشے سے وابستہ ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق 23 جون کو سسیکلا نے گھر میں ہی بچی کو جنم دیا۔ تاہم زیادہ حالت بگڑنے پر انھیں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث 28 جون کو وفات پا گئیں۔

اُن کی موت کے بعد مقامی ہیلتھ حکام کی شکایت پر پولیس حکام نے اُن کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس جوڑے نے کسی سے مشورہ کیے بغیر گھر ہی میں ڈیلیوری کا فیصلہ کیا تھا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپیدا ہونے والی نوزائیدہ بچی کی جان بچا لی گئی اور اب وہ مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے

’ڈیلیوری کے وقت صرف خاتون اور اُن کے شوہر کمرے میں موجود تھے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس انسپکٹر سراوانن نے بتایا کہ ’جب 23 جون کی رات 9 بج کر 45 منٹ پر سسیکلا کو درد زہ شروع ہوا تو اُن کی والدہ اور والد کو اطلاع دی گئی جس کے بعد وہ فوراً اپنی بیٹی کے گھر پہنچے۔ والدین کے مطابق اس موقع پر سسیکلا نے اُن سے کہا کہ وہ انھیں ہسپتال لے کر نہ جائیں کیونکہ وہ خود ڈیلیوری کریں گی۔‘

پولیس کے مطابق سسیکلا کے والدین پوری رات اپنی بیٹی کے گھر کے باہر موجود رہے اور پھر اندر نہیں گئے۔

انسپکٹر سراوانن نے مزید کہا کہ ’ڈیلیوری کے لیے صرف سسیکلا اور ان کے شوہر ہی کمرے میں موجود تھے۔ سسیکلا کے والدین سے پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا کہ انھیں قدرتی طریقے سے ڈیلیوری کی کوشش کے بارے میں تو علم تھا تاہم یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس میں اُن کی رضامندی شامل تھی یا نہیں۔‘

انسپکٹر سراوانن کے مطابق جب اُن سے اپنی بیٹی کی موت کے بارے میں شکایت درج کروانے کا کہا گیا تو انھوں نے انکار کر دیا۔

اس کے بعد پولیس کو مقامی ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر کی جانب سے شکایت موصول ہوئی۔

انسپکٹر سراوانن نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر نیشنل میڈیکل کمیشن ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں لاپرواہی کے نتیجے میں موت واقع ہونے اور مناسب طبی تعلیم اور رجسٹریشن کے بغیر علاج کروانے کے الزامات شامل ہیں۔

پولیس کی طرف سے شیئر کی گئی معلومات کے مطابق دونوں میاں بیوی یوٹیوب پر ویڈیو دیکھتے ہوئے ڈیلیوری کی کوشش کرتے رہے جس کے بعد اگلی صبح بچی کی پیدائش ہوئی۔ اس کے بعد سسیکلا کا بہت زیادہ خون بہنے لگا اور وہ بے ہوش ہو گئیں، جس کے بعد انھیں ہسپتال داخل لایا گیا جہاں اُن کی موت ہو گئی۔

محکمہ صحت کے مطابق نوزائیدہ بچی فی الحال ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

’خاتون حاملہ ہونے کے بعد چیک اپ کے لیے ہسپتال نہیں گئیں‘

سسیکلا اور ککُلنٹھائی سامی کی شادی 23 فروری 2019 کو ہوئی تھی اور شادی کے اگلے ہی سال اُن کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق سسیکلا کے شوہر نے بتایا کہ پہلی بچی سی سیکشن سے ہوئی تو اُن کا اہلیہ کا مختلف وجوہات کی بنا پر ایلوپیتھک ادویات اور طریقہ علاج سے اعتماد اٹھ گیا۔

پولیس کی جانب سے شیئر کیے گئے دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا کہ سسیکلا دوسری بار حاملہ ہونے کے بعد سے ہسپتال چیک اپ کے لیے نہیں گئیں اور انھوں نے اپنے سسر اور ساس کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کو بھی بتایا تھا کہ وہ گھر میں اور خود بچے کو جنم دیں گی۔‘

محکمہ صحت کے جوائنٹ ڈائریکٹر کنن مہاراجن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’بچی کی پیدائش کے بعد بھی نال مکمل باہر نہیں آئی، اس کی وجہ سے خاتون کا خون بہنے لگا۔‘

گھر میں بچے کی پیدائش ماں اور بچے دونوں کی جان کے لیے خطرہ

کوئمبٹور گورنمنٹ میڈیکل کالج ہسپتال کے شعبہ امراض نسواں کی سربراہ گیتھا نے خواتین کو بچے کی پیدائش کے دوران لاحق ہونے والے خطرات سے متعلق بی بی سی کو بتایا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر گیتھا نے کہا کہ ’عام طور پر بچے کی پیدائش کے دوران بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جب کوئی خاتون حاملہ ہوتی ہے تو اس کے بلڈ پریشر میں اُتار چڑھاؤ، خون کی کمی اور ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم حاملہ خواتین کے ہر ماہ بلڈ پریشر، بلڈ شوگر، اور ہیموگلوبن کے ٹیسٹ کرواتے ہیں۔ اگر ابتدائی مرحلے میں ان کی شناخت ہو جائے تو ہی علاج فراہم کیا جا سکتا ہے۔‘

’اگر ان چیزوں پر قابو نہ پایا جائے تو ڈیلیوری مشکل ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیلیوری کے بعد ایکٹو مینجمنٹ آف دی تھرڈ سٹیج آف لیبر (AMTSL) کا علاج بھی ہوتا ہے، جس کے لیے مناسب انجیکشن اور ادویات دی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ صرف ہسپتال میں ہی ممکن ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ خاتون کا پہلا بچہ سی سیکشن سے ہوا تھا اور اگر کسی خاتون کا ایک بار سی سیکشن ہو جائے تو اگلی بار حاملہ ہونے پر ڈیلیوری میں بہت سے مسائل ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ گذشتہ ڈیلیوری کے بعد لگائے گئے ٹانکے الگ ہو جائیں اور بچہ دانی پھٹ جائے۔ اگر ایسا ہو تو ماں اور بچے کی جان بچانا مشکل ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ ہسپتال میں ہیں تو ماں اور بچے دونوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔‘

ڈاکٹر گیتھا نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے کوئی گاڑی چلانے والا شخص ٹرک نہیں چلا سکتا ویسے ہی گھر میں بچے کو جنم دینا اتنا ہی خطرناک ہے جتنا یوٹیوب دیکھ کر ہوائی جہاز اڑانا۔ حال ہی میں بہت سے لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ قدرتی طریقے سے ہی ڈیلیوری ٹھیک ہے لیکن ہر کیس میں ایسا نہیں۔ اگر ماں صحت مند ہو تو ہی بچہ صحت مند پیدا ہو سکتا ہے۔‘