اسلحہ چلانے کی تربیت اور فوجی طرز کی شناختی پلیٹیں: ایران کے سکولوں میں کیا ہو رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہJAMARAN
- مصنف, مسعود اذر
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
ایران کے سکولوں میں طلبہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت دینے کی تصاویر اور رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کے لیے شناختی پلیٹوں کی درخواستوں اور ’نوجوان مبارز‘ اور ’نو+میدان‘ جیسے نئے منصوبوں کے آغاز کے بعد سکولوں میں فوجی اور سکیورٹی اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
شناختی پلیٹیں دھات کی بنی ہوتی ہیں، جنھیں فوجی اپنی شناخت کے لیے گلے میں پہنتے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان پروگراموں کا مقصد طلبہ کو دفاعی تربیت دینا اور انھیں انقلابی نظریات سے روشناس کرانا ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق ان اقدامات سے سکولوں میں فوجی سرگرمیوں کو فروغ مل رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں ہونے والے معاہدوں اور شروع کیے گئے منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے سکولوں میں فوجی اور سکیورٹی اداروں کا کردار صرف طلبہ کی بسیج تنظیم تک محدود نہیں رہا۔
بسیج ایران کی ایک نیم فوجی رضا کار تنظیم ہے اور یہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کا حصہ ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کی حکومت میں بھی ایسے نئے پروگرام شروع کیے گئے ہیں، جن پر تنقید کی جا رہی ہے کہ ان سے سکولوں میں فوجی اور سکیورٹی اداروں کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔
سنہ 2000 کی دہائی کے آخری برسوں اور 2010 کی دہائی کے آغاز میں بسیج تنظیم نے سکولوں میں ’حلقہ ہائے صالحین‘ یا ’شجرہ طیبہ صالحین‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا تھا۔
یہ منصوبہ ابتدا میں مساجد اور بسیج کے اڈوں میں نوجوانوں کی مذہبی تعلیم و تربیت کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا، لیکن بتدریج سکول بھی اس کی سرگرمیوں کا حصہ بن گئے۔ اس منصوبے کے مقاصد میں طلبہ کو بسیج کی سرگرمیوں میں شامل کرنا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ سال فروری میں ایران کی پولیس کمان اور وزارت تعلیم کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔
اس یادداشت کے تحت وزارت تعلیم نے مختلف خصوصی پولیس یونٹوں، جن میں سائبر پولیس، انسدادِ منشیات پولیس، ٹریفک پولیس، پیشگی انسدادِ جرائم پولیس اور تفتیشی پولیس کے لیے اپنے عملے، طلبہ اور ان کے والدین سے متعلق پروگراموں میں تعاون کرنے کا عہد کیا۔

،تصویر کا ذریعہPANA
ناقدین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کی شقیں سکولوں میں پولیس اور سکیورٹی اداروں کی مزید وسیع موجودگی کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان 40 روزہ جنگ نے بھی ان میں سے بعض پروگراموں کے پھیلاؤ کے لیے فضا سازگار بنائی۔
’نوجوان مبارز‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
طلبہ بسیج تنظیم 1990 سے باقاعدہ طور پر سکولوں میں سرگرم ہے، لیکن ایرانی ذرائع ابلاغ نے یکم اپریل 2026 کو ’نوجوان مبارز‘ کے قومی ہیڈ کوارٹر کے پہلے اجلاس کے انعقاد کی خبر دی تھی۔
اس اجلاس میں محاذِ ثقافتی انقلاب اسلامی اور طلبہ تنظیموں کے نمائندے، جن میں طلبہ بسیج تنظیم بھی شامل تھی، شریک ہوئے۔
طلبہ بسیج تنظیم کے سربراہ اور ’نوجوان مبارز‘ ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر سیاوش مسلمی نے کہا: ’ہمارے نوجوان انقلاب کے دفاع کے لیے سڑکوں پر سب سے اہم کردار ادا کرنے والے عناصر بن سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اس ہیڈ کوارٹر کے اہداف میں ’جارحانہ سائبر کارروائیوں کی تربیت، محلوں میں درانداز عناصر کی شناخت کے لیے نگرانی اور عوامی معلومات اکٹھی کرنے کی تربیت، اجتماعات میں نوجوانوں کی سرگرم موجودگی اور اسلحہ چلانے کی تربیت‘ شامل ہے۔
گذشتہ ماہ سیاوش مسلمی نے جنگ کے دوران ’نوجوان مبارز پاتوقوں‘ کی کامیابی کا ذکر کیا اور ’نو+میدان طلبہ لیگ‘ کے نام سے ایک اور منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا، جسے اُنھوں نے ’دوسرا مشترکہ آپریشن‘ قرار دیا۔
یہ منصوبہ طلبہ بسیج تنظیم، وزارتِ تعلیم کے پرورشی و ثقافتی شعبے اور متعدد دیگر اداروں کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے اور اس کا اعلان کردہ مقصد ’امدادی، تبلیغی اور میڈیا شعبوں میں طلبہ کی صلاحیتوں کی شناخت، انھیں بااختیار بنانا اور میدان فراہم کرنا‘ ہے۔
یہ پروگرام ابتدائی، مڈل اور ہائی سکول کے طلبہ کا احاطہ کرتا ہے۔ ’نو+میدان‘ منصوبے کا ایک حصہ طلبہ کی فوجی تربیت کے لیے مختص ہے۔
حال ہی میں ذرائع ابلاغ، جن میں طلبہ خبر رساں ایجنسی ’پانا‘ بھی شامل ہے، نے طلبہ کو آتشیں اسلحہ کے استعمال کی تربیت دیتے ہوئے تصاویر شائع کی ہیں۔
وزارتِ تعلیم کے ترجمان نے 23 اکتوبر کو طلبہ کے لیے جنگی شناختی پلیٹوں کے اجرا کی خبروں کی ’سختی سے‘ تردید کی۔
’جنگی پلیٹ‘ کی تردید سے والدین کے خدشات تک
نئے منصوبوں اور معاہدوں سے ہٹ کر، دفاعی تعلیم کئی دہائیوں سے اسلامی جمہوریہ کے تعلیمی نظام کا حصہ رہی ہے۔
سنہ 1986 سے دفاعی تعلیم باضابطہ طور پر ہائی سکول کے نصاب میں شامل ہے۔
اس مضمون کے 12 تحریری اور آٹھ عملی نمبر ہیں اور اس کی عملی تربیت کا ایک حصہ بسیج کے تعلیمی اضلاع اور طلبہ بسیج یونٹوں کے تعاون سے کرایا جاتا ہے۔
’آمادگی دفاعی‘ نامی کتاب کے دیباچے میں لکھا ہے کہ یہ مضمون ’لازمی مضامین میں شامل‘ ہے۔
اس کے مندرجات میں شہری دفاع اور غیرعامل دفاع کے علاوہ عسکری نظم، انفرادی جنگی طریقۂ کار اور اس چیز کے مقابلے کے موضوعات شامل ہیں جسے ’نرم جنگ‘ کہا جاتا ہے۔
تاہم حالیہ مہینوں میں تنازع کا سبب صرف درسی کتابوں کا مواد نہیں رہا۔
سوشل میڈیا پر بعض سکولوں میں فوجی اہلکاروں کی موجودگی، خصوصاً کم عمر طلبہ کے تعلیمی مراحل میں، سے متعلق تصاویر اور رپورٹس نے تعلیمی ماحول میں نیم فوجی تربیت کے پھیلاؤ کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔
بچوں کی ان تصاویر کے شائع ہونے کے بعد، جن میں وہ سکولوں اور عوامی مقامات پر ہتھیار کھولتے اور جوڑتے نظر آتے تھے، ایسی رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ بعض سکولوں نے والدین سے طلبہ کے لیے ’شناختی پلیٹیں‘ تیار کرنے کی درخواست کی۔
اس موضوع نے سوشل میڈیا پر وسیع ردِعمل پیدا کیا۔
بندر عباس، کرمانشاہ، مشہد، ارومیہ اور کرج سمیت مختلف شہروں میں بعض والدین کا کہنا ہے کہ سکولوں نے ان سے اپنے بچوں کے لیے شناختی پلیٹیں بنوانے کو کہا یا خود سکولوں نے ان پلیٹوں کی تیاری کا انتظام کیا۔
اس معاملے کو مزید توجہ اس وقت ملی جب ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک فائر فائٹر لڑکیوں کے ایک سکول میں حفاظتی دورہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اس ویڈیو میں فائر فائٹر سکول کی ایک ذمہ دار شخصیت کے حوالے سے کہتا ہے کہ طالبات کے لیے ذاتی معلومات والی پلیٹوں کی درخواست کی گئی ہے۔
جب ان پلیٹوں کی فوجی شناختی پلیٹوں سے مشابہت کا سوال اٹھایا جاتا ہے تو سکول کی اہلکار جواب دیتی ہیں: ’اوپر سے حکم آیا ہے۔‘
تاہم یہ واضح نہیں کہ ’اوپر سے حکم‘ سے ان کی مراد کس ادارے سے تھی اور آیا ایسا کوئی حکم باضابطہ طور پر سکولوں تک پہنچایا گیا تھا یا نہیں۔
وزارتِ تعلیم کے ترجمان نے 23 اکتوبر کو طلبہ کے لیے جنگی پلیٹوں کے اجرا کی خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا: ’سکولوں کے پرنسپلوں کو ایسے معاملات یا موضوعات بیان کرنے کا حق نہیں جو خاندانوں میں تشویش پیدا کریں۔‘
اس سے قبل صوبہ ہرمزگان کے محکمہ تعلیم نے بھی طلبہ سے شناختی پلیٹیں طلب کرنے سے متعلق خبروں کی تردید کی تھی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نئی لڑائی کے خدشات کے دوران ان خبروں سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ سکولوں میں جنگ سے متعلق چیزیں اور سرگرمیاں کیوں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPANA
ایک پرانا تنازع
ایران کی جنگ اور ایثار کی ثقافت سے متعلق سرکاری بیانیوں میں بچوں اور نوجوانوں کے کردار کو نمایاں کرنا، اسلامی جمہوریہ کی تاریخ جتنا پرانا ہے۔
شاید اس کی سب سے مشہور مثال محمد حسین فہمیدہ کی کہانی ہے۔ 13 سالہ نوجوان جسے روح اللہ خمینی نے ’ہمارا رہنما‘ قرار دیا تھا۔
ان کی موت سے متعلق سرکاری روایت پر موجود اختلافات سے قطع نظر، محمد حسین فہمیدہ گذشتہ دہائیوں میں ایران کے سرکاری بیانیے میں ایثار اور شہادت کی ثقافت کی اہم ترین علامتوں میں سے ایک بن چکے ہیں۔
ان کی تصویر برسوں تک ملکی کرنسی پر شائع ہوتی رہی اور ان کی کہانی نصابی کتابوں کا حصہ بن گئی۔
ایران عراق جنگ کے بعد کئی برس تک بچوں اور نوجوانوں کے فوجی سرگرمیوں میں استعمال کا موضوع ذرائع ابلاغ میں کم زیر بحث رہا۔
بچوں اور نوجوانوں کو فوجی اور سکیورٹی سرگرمیوں میں شامل کرنے کا موضوع برسوں سے اسلامی جمہوریہ کے حکام اور انسانی حقوق کے اداروں کے درمیان تنازع کا باعث رہا ہے۔
ایران 1993 سے بچے کے حقوق کے کنونشن کا رکن ہے۔
اس کنونشن کی شق 38 کے تحت ریاستیں پابند ہیں کہ 15 سال سے کم عمر افراد کی مسلح تنازعات میں براہِ راست شرکت روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں اور اس عمر سے کم افراد کو اپنی مسلح افواج میں بھرتی نہ کریں۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اساسنامے کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچوں کو مسلح تنازعات میں فعال شرکت کے لیے بھرتی کرنا یا استعمال کرنا جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ کے حکام ایران عراق جنگ میں نوجوانوں کی موجودگی سے انکار نہیں کرتے بلکہ اسے ملک کے دفاع کے لیے رضاکارانہ اقدام قرار دیتے ہیں۔
وہ بعض اوقات اس شرکت پر تنقید کو دشمن کی جارحیت کے خلاف دفاع کی مخالفت اور اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی حمایت کے مترادف بھی قرار دیتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی سمگلنگ سے متعلق ایک حالیہ رپورٹ میں ایران پر بعض فوجی اور سکیورٹی سرگرمیوں میں بچوں کے استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں بسیج کی سرگرمیوں، نوجوانوں کی بھرتی اور نوجوان قوتوں کی تربیت و تنظیم سے متعلق بعض پروگراموں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے ایک اور حصے میں ایران کے اندر بسیج کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اس کے مطابق بعض احتجاجی مظاہروں اور بے امنی کے دوران بسیج فورسز نے 18 سال سے کم عمر افراد کو سکیورٹی میں استعمال کیا، جنھیں رپورٹ میں ’چائلڈ سولجرز‘ کہا گیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ کے حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور ایسی رپورٹس کو سیاسی اور جانبدارانہ قرار دیتے ہیں۔
تاہم ناقدین سپاہ یا بسیج سے وابستہ بعض مہمات میں 12 سال کی عمر سے رضاکاروں کی قبولیت سے متعلق سرکاری بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہIRNA
آئندہ نسل پر اثر و رسوخ
سکولوں کے ماحول کے زیادہ عسکری ہونے پر بحث حالیہ برسوں میں وزارت تعلیم میں مذہبی پروگراموں کے پھیلاؤ پر بڑھتی ہوئی تنقید کے ساتھ سامنے آئی ہے۔
فلسفی اور ماہرِ الہیات محمد مجتہد شبستری نے مسعود پزشکیان کو لکھے گئے ایک خط میں خبردار کیا کہ سکول ’لازمی جماعتی نماز کی چھاؤنیوں‘ میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
اُنھوں نے صدر سے مطالبہ کیا: ’وزیرِ تعلیم سکولوں کو مذہبی چھاؤنیوں میں تبدیل کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ملک کے دسیوں ہزار طلبہ ’خدا کی عبادت کی رغبت سے نہیں بلکہ ناگواری اور مجبوری کے تحت‘ ان نمازوں میں شریک ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFARS
جہاں ایرانی حکام ان پروگراموں کو ملک کے دفاع کے لیے تیار، پرعزم اور انقلابی نسل کی تربیت کا حصہ قرار دیتے ہیں، وہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ ان پروگراموں کے پھیلاؤ کے ساتھ شہری تعلیم، دفاعی تربیت اور طلبہ کی سیاسی یا سکیورٹی تنظیم سازی کے درمیان حد مزید دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔
ایسے وقت میں جب ایران دو جنگوں کا تجربہ کر چکا ہے اور نئے فوجی تصادم کے امکانات اب بھی زیر بحث ہیں، جنگی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے طلبہ کی دفاعی تربیت اور تیاری کو زیادہ اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔
تاہم چونکہ حالیہ جنگیں زیادہ تر فضائی اور میزائل حملوں پر مشتمل رہی ہیں اور زمینی لڑائی نہیں ہوئی، یہ سوال اٹھتا ہے کہ طلبہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت ان جنگوں سے پیدا ہونے والی دفاعی ضروریات سے کیسے مطابقت رکھتی ہے، اور دفاعی تعلیم اور بچوں و نوجوانوں کو فوجی و سکیورٹی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے درمیان حد کہاں واقع ہے؟




















