جارج علی مراد: والد کی گولی سے بچ نکلنے والا شہزادہ جو ریاست خیرپور کا آخری حکمران بنا

،تصویر کا ذریعہFacebook/Khairpur
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
میر جارج علی مراد خان دوم تالپور برطانوی ہندوستان کی کسی بھی سابق ریاست کے آخری حکمران مانے جاتے تھے، جو پانچ اکتوبر 2026 کو پاکستان کے شہر سکھر میں وفات پا گئے ہیں۔
میر جارج علی مراد خان دوم کی شاہی ریاست (خیرپور) نے پاکستان کے ساتھ سنہ 1947 میں الحاق کیا تھا۔ ’رائل آرک‘ کی تحقیق کے مطابق شہزادے علی مراد خان کے نام میں ’جارج‘ کا اضافہ اُس وقت کے برطانوی بادشاہ جارج پنجم کے اعزاز میں کیا گیا تھا۔
29 جون 1933 کو برطانیہ کے علاقے برائٹن (سسیکس) میں پیدا ہونے والے جارج علی مراد ، خیرپور کے حکمران میر فیض محمد خان دوم تالپور اور پاشا بیگم کے اکلوتے بیٹے تھے۔
میر سہراب خان تالپور کی بنائی ریاستِ خیرپور کو برطانوی حکومت نے سنہ 1832 میں تسلیم کیا تھا اور سنہ 1843 میں سندھ پر اپنے قبضے کے بعد بھی اس ریاست کو اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔
لیکن میر جارج علی مراد خان کے والد میر فیض محمد خان 15,700 مربع کلومیٹر رقبے اور تقریباً تین لاکھ آبادی کی ریاست خیرپور کے ایک غیر مؤثر حکمران ثابت ہوئے۔
آسٹریلوی مصنف جان زُبرزیکی نے سابق شاہی ریاستوں سے متعلق اپنی کتاب ’ڈی تھرونڈ‘ میں لکھا ہے کہ ’اُن کی ریاست میں رعایا کی ایک بڑی تعداد غریب اور ناخواندہ تھی۔ کئی دہائیوں کی بدانتظامی کے نتیجے میں خیرپور کی توپوں کی سلامی کا درجہ 19 سے گھٹ کر 15 توپوں تک آ گیا۔‘
600 کے قریب شاہی ریاستیں برطانوی ہندوستان کے کل رقبے کا ایک تہائی تھیں اور ان کی حیثیت توپوں کی سلامی کی تعداد سے طے ہوتی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ فیض محمد خان میں مختلف ذہنی اور جسمانی امراض کی علامات ظاہر ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جان زُبرزیکی نے لکھا ہے کہ اُن کی ذہنی حالت پر اُس وقت مزید شکوک پیدا ہوئے جب انھوں نے حادثاتی طور پر اپنے نو ماہ کے بیٹے (میر جارج علی مراد خان) پر گولی چلا دی۔ گولی بچے کے معدے اور دائیں پھیپھڑے کو چیرتی ہوئی دائیں کندھے کے پچھلے حصے سے باہر نکل گئی۔
میر جارج علی مراد خان معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے اور بعد میں اپنے والد کے جانشین بنے۔

،تصویر کا ذریعہMargaret Bourke
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
میر فیض محمد خان کو سنہ 1944 میں ’شیزوفرینک سِمپل‘ کے مرض میں مبتلا قرار دیا گیا، اُن کے اختیارات محدود کر دیے گئے اور پنجاب کے ریزیڈنٹ جے پی تھامپسن نے ریاست خیرپور کا انتظام سنبھال لیا۔
جان زُبرزیکی نے لکھا ہے کہ ’سنہ 1947 میں اقتدار کی منتقلی کی تاریخ قریب آنے پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سفارش کی کہ میر فیض محمد کو باضابطہ طور پر معزول کر دیا جائے اور اُن کے نابالغ بیٹے جارج علی مراد کی طرف سے حکومت چلانے کے لیے ایک مجلسِ نیابت قائم کی جائے۔ اس کا مقصد خاندان کے افراد کی جانب سے تختہ الٹنے کی ممکنہ کوشش کو روکنا تھا۔‘
’20 جولائی 1947 کو میر فیض محمد خان کو باضابطہ طور پر خیرپور کی حکمرانی سے سبکدوش کر دیا گیا اور علاج اور بحالی کے لیے پونا بھجوا دیا گیا۔۔۔ خیرپور پر انڈیا سے الحاق کا کوئی دباؤ نہ تھا اور پاکستان کی طرف سے بھی اس نوعیت کا کوئی فوری تقاضا نہیں تھا۔‘
انگریزی اخبار ’ڈان‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق چار اگست 1947 کو خیرپور حکومت نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا کہ 15 اگست 1947 کو خیرپور کا یومِ آزادی منایا جائے گا۔
’لیکن پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ہو گیا تو دستاویز پر میر آف خیرپور کی جانب سے وزیرِاعلیٰ غلام حسین خان تالپور نے 3 اکتوبر 1947 کو جبکہ پاکستان کے بانی اور گورنر جنرل محمد علی جناح نے نو اکتوبر 1947 کو دستخط کیے۔‘
لاہور، کراچی ریلوے لائن کا ایک اہم حصہ ریاست خیرپور کی حدود سے گزرتا تھا، جس کے باعث نئی قائم ہونے والی مملکتِ پاکستان کے لیے یہ علاقہ خاص اہمیت رکھتا تھا۔
جان زُبرزیکی نے لکھا ہے کہ تب نوجوان شہزادے جارج علی مراد خان کشمیر کی سیر پر تھے۔

،تصویر کا ذریعہTFT
میر جارج علی مراد خان نے ابتدائی تعلیم سینٹ بوناوینچر ہائی سکول (حیدر آباد) سے حاصل کی تھی۔ ایچیسن کالج سے سینیئر کیمبرج کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے برطانیہ روانہ ہوئے، جہاں انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔
مصنفین راجرڈی لانگ، گَرہَرپال سنگھ، یونس صمد اور ایان ٹیلبوٹ کی کتاب ’سٹیٹ اینڈ نیشن بلڈنگ ان پاکستان‘ کے مطابق یکم فروری 1949 کو ایک اضافی معاہدے کے نتیجے میں جارج علی مراد خان اور دربار کے مؤثر اختیارات میں نمایاں کمی کر دی گئی جس کے تحت ریاستی فوج کا انتظام پاکستان کو دے دیا گیا اور یہ بھی طے پایا کہ ریاست کے وزیرِاعلیٰ کا تقرر قومی حکومت سے مشاورت کے بعد ہو گا۔
’خیرپور گورنمنٹ ایکٹ 1949 کے ذریعے نیم جمہوری اصلاحات متعارف کروائی گئیں اور مقامی نمائندوں پر مشتمل 15 رکنی قانون ساز اسمبلی قائم کی گئی۔ یوں خیرپور پاکستان کی ابتدائی دو ریاستوں (دوسری ریاست بہاولپور تھی) میں شامل ہوا جہاں بالغ رائے دہی کا نظام رائج کیا گیا۔‘
رائل آرک کی تحقیق ہے کہ بالغ رائے دہی کے اس نظام کے تحت ہونے والے انتخابات برصغیر میں اپنی نوعیت کے پہلے انتخابات تھے۔
’سٹیٹ اینڈ نیشن بلڈنگ ان پاکستان‘ کے مطابق تاہم وزیرِاعلیٰ کو اسمبلی کی کارروائیوں پر ویٹو کا اختیار حاصل تھا اور وہ اسمبلی کی منظوری کے بغیر بھی قوانین نافذ کر سکتا تھا۔
سنہ 1951 میں پاکستان کے وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے 18 سالہ علی مراد خان کو حکمرانی کے اختیارات سونپ دیے اور ریجنسی کونسل کو تحلیل کر دیا۔ دو سال بعد خیرپور کو صوبے میں تبدیل کرتے ہوئے مزید اختیارات مرکز کی جانب سے مقرر کردہ وزیرِاعلیٰ کے ہاتھ میں دے دیے گئے۔
کتاب ’سٹیٹ اینڈ نیشن بلڈنگ ان پاکستان‘ کے مطابق 25 مئی 1954 کو اسمبلی نے سندھ کے ساتھ انضمام کی تجاویز مسترد کر دیں، مگر بالآخر جب انضمام ناگزیر سمجھا جانے لگا تو 10 نومبر 1954 کو اسمبلی نے پاکستان کے ساتھ انضمام کی قرارداد منظور کی۔ دس دن بعد جارج علی مراد خان نے پاکستان کے ساتھ انضمام کے معاہدے پر دستخط کر دیے، یوں ان کی خودمختار حکمران کی حیثیت ختم ہو گئی۔
جدید جنوبی ایشیا کے مؤرخ ڈاکٹر یعقوب خان بنگش اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ سنہ 1955 تک، یعنی 14 اکتوبر 1955 کو خیرپور کے مغربی پاکستان ’ون یونٹ‘ میں انضمام سے عین قبل، خیرپور ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھری اور پاکستان کی پہلی دہائی میں ایک ترقی پذیر ’فلاحی ریاست‘ کی بہترین مثال بن گئی۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
بعد ازاں خیرپور کو ایک ڈویژنل ہیڈکوارٹر کا درجہ دے دیا گیا۔ اس وقت یہ سندھ کے خطے پر مشتمل تین ڈویژنوں میں سے ایک تھا۔
رائل آرک کی تحقیق ہے کہ جارج علی مراد خان پاکستان آرمی میں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل بھی رہے۔ سنہ 1955 میں خیرپور ویلفیئر ٹرسٹ کے صدر، سنہ 1968 میں مہران وائلڈ لائف ریفیوج کے بانی اور سنہ 1986 سے سنہ 1994 تک سندھ وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے نائب چیئرمین رہے۔ پاکستان ہسٹوریکل سوسائٹی سمیت متعدد اداروں سے وابستہ رہے۔
ان کی پہلی شادی صادق گڑھ پیلس (بہاولپور) میں غلام صدیقہ بیگم سے ہوئی، جو بہاولپور کے فرمانروا نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ مگر یہ شادی بعد میں ختم ہو گئی۔
انھوں نے دوسری شادی علامہ راشد ترابی کی بیٹی عائلہ سے کی، جن کے بطن سے دو بیٹے، عباس رضا خان تالپور اور مہدی رضا خان تالپور، اور ایک بیٹی زہرا پیدا ہوئے۔
صحافی شاہ زیب جیلانی کے مطابق بعد ازاں جارج علی مراد خان گوشہ نشین اور فطرت سے محبت کرنے والے انسان بن گئے تھے۔
ان کی موت پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ ریاستِ خیرپور اور سندھ کی تاریخ و ثقافت کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
ترقیاتی امور کے ماہر اور سندھ کے سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے بیٹے اسد علی شاہ کے مطابق جارج علی مراد خان کی وفات خیرپور، سندھ اور پاکستان کے ابتدائی تشکیلی برسوں کی تاریخ سے جڑے ایک غیر معمولی زندہ ربط کے اختتام کی علامت ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی تعزیتی پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’خیرپور سے ان کی زندگی بھر کی وابستگی اور ان کی میراث کو عزت و احترام سے یاد رکھا جائے گا۔‘




















