قبرص میں موجود برطانوی ائیر فورس ایرانی ڈرونز کے خلاف دفاعی مشن کیسے انجام دے رہی ہے؟

    • مصنف, جوناتھن بیل
    • عہدہ, دفاعی نامہ نگار، قبرص
    • مقام, Cyprus
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

رات کے وقت آسمان پر محوِ پرواز ٹائفون اور ایف-35 طیاروں کی گھن گرج قبرص میں واقع برطانیہ کے ’رائل ایئر فورس اکروتیری‘ سٹیشن میں واضح طور پر سُنائی دے رہی تھی۔

اس کے کچھ ہی دیر بعد ایک بڑے ری فیولنگ طیارے کی گڑگڑاہٹ سنائی دی، جو ایرانی ڈرونز کا شکار کرنے کے لیے مشن میں شامل ہونے والا تھا۔

برطانیہ کی رائل ایئر فورس کا یہ جہاز (وائیجر) آسمان میں موجود ایک دیو ہیکل پیٹرول سٹیشن ہے، جو ٹائفون اور ایف-35 جیٹ طیاروں کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔ یہ طیارے ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے قبرص اور اُردن کے اوپر فضاؤں میں گشت کر رہے ہیں۔

جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی ہے تب سے ہی بی بی سی اس نوعیت کے دفاعی مشنز کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

وائیجر کے کاک پٹ کے اندر سے ہم نے قبرص کی جھلملاتی روشنیاں ماند ہوتی دیکھیں۔ ہم اسرائیل اور لبنان کے ساحل کے قریب پہنچ رہے تھے۔

اسی سمت سے ایک لمحے کے لیے نارنجی روشنی کی جھلک نظر آئی۔

عملے کے ایک رکن نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’اکثر یہاں ایران سے آنے والے میزائل یا اسرائیلی ردِعمل میں داغے گئے انٹرسیپٹرز دیکھنے کو ملتے ہیں۔‘

انھوں نے اگلے ہی جملے میں کہا کہ ’یہ اسرائیل کا آئرن ڈوم بھی ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے، لیکن اس وقت اس علاقے میں بہت کچھ ہو رہا ہے۔‘

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ماہ کی شدید بمباری کے بعد ایران اب بھی خطرہ بنا ہوا ہے اور اسرائیل اور دیگر اہداف کی جانب میزائل و ڈرون فائر کر رہا ہے۔

اس نو گھنٹے کے مشن کے دوران، ٹائفون اور ایف-35 طیاروں نے سات مرتبہ وائیجر سے مجموعی طور پر 30 ٹن ایندھن بھروایا۔

فیول سٹیشن میں موجود رہتے ہوئے، ہم نے انھیں اندھیرے سے تیزی کے ساتھ نمودار ہوتے اور فضا میں انتہائی خطرناک اور نازک عمل کے ذریعے اپنے ٹینک بھرواتے ہوئے دیکھا، ری فیولنگ کے اس عمل کے دوران لڑاکا طیارے بڑے ٹینکر سے لٹکے پائپ کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔

فضا میں ری فیولنگ کا عمل لڑاکا طیاروں کے پائلٹس کے لیے معمول کی بات ہے۔ تاہم اس وقت اصل چیلنج ایرانی ڈرونز کا شکار کرنا ہے۔

گذشتہ ایک ماہ کے دوران برطانوی جیٹ طیاروں نے، جو قبرص اور قطر سے آپریٹ کر رہے ہیں، کئی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔

وہ یہ نہیں بتاتے کہ انھوں نے اپنے جدید اور انتہائی مہنگے ایڈوانسڈ شارٹ رینج ایئر ٹو ایئر میزائل کتنی بار استعمال کیے ہیں۔

یہ مہنگے میزائل ایک سنہری گولے کی شکل کے ہوتے ہیں جن کی مدد سے ایک نسبتاً سستا فائبر گلاس سے بنایا گیا ڈرون گرایا جاتا ہے۔

سکواڈرن لیڈر ’بیلی‘، جو برطانوی فضائیہ کے ایف-35 طیارے کے پائلٹ ہیں، اس مشن کی پیچیدگی کو بیان کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’تیز رفتار جیٹ پر کام کرنا پہلے ہی خطرناک ہوتا ہے، خاص طور پر جب کسی ہدف کو فضا میں اور زمین کے قریب نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ڈرونز چونکہ نچلی سطح اور نسبتاً آہستہ رفتار میں پرواز کرتے ہیں اس لیے اُن کے ’زمین سے ٹکرا جانے کا خطرہ رہتا ہے۔‘

ان کے مطابق خطرات ’صرف دشمن کی سرگرمیاں نہیں ہیں‘ بلکہ اس علاقے میں دیگر جہاز بھی ایک دوسرے کے انتہائی قریب پرواز کرتے ہیں۔

اس مشن میں انھوں نے کسی ہدف کو نشانہ نہیں بنایا۔ لیکن وہ جنگ کے آغاز سے ہی جیٹ ’آپریشن لومیونس‘ کے نام سے مشنز انجام دے رہے ہیں۔

تنقید کے باوجود برطانوی حکومت کے وزرا بار بار بتاتے رہے ہیں کہ انھوں نے اس تنازع سے قبل کافی تیاری کی تھی اور جنگ شروع ہونے سے کئی ہفتے پہلے اضافی جیٹ، فضائی دفاعی نظام اور عملہ قبرص منتقل کر دیا گیا تھا۔

قبرص میں برطانوی فورسز کے میجر جنرل ٹام بیوک نے بتایا کہ جنگ سے پہلے ’محتاط منصوبہ بندی‘ کی گئی تھی، جس میں اضافی زمینی فضائی دفاع اور ریڈار نصب کرنا شامل تھا۔

لیکن اس کے باوجود جنگ کی دوسری رات ایک ڈرون نے قبرص میں فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ یہ چھوٹا ڈرون غالباً لبنان سے فائر کیا گیا تھا، جو امریکی فضائیہ کی زیرِ استعمال بیس کے ایک ہینگر سے ٹکرایا۔

یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ امریکہ باقاعدگی سے آر اے ایف اکروتیری سے یو-2 جاسوس طیارہ اڑاتا ہے، اگرچہ اس کا عوامی طور پر اعتراف نہیں کیا جاتا۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ دو میٹر کے پروں والا ایک ڈرون ریڈار پر بیس کی طرف آتے ہوئے ٹریک کیا گیا تھا، اتنا وقت تھا کہ فضائی حملے کا الارم بجایا جا سکے اور لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔

لیکن جنرل ٹام بیوک کے مطابق نقصان معمولی تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’انھیں اپنی کوشش کا زیادہ فائدہ نہیں ہوا اور انھیں شبہ ہے کہ جس نے ڈرون فائر کیا ’اس نے اپنے مطلوبہ ہدف کو ہی نشانہ بنایا۔‘

اس واقعے کے بعد جنرل ٹام بیوک کے مطابق اکروتیری بیس کے فضائی دفاع کو ’مزید مضبوط‘ کر دیا گیا ہے۔

اس وقت اس اڈے پر آٹھ ٹائیفون اور اور آٹھ ایف 35 طیارے موجود ہیں۔

حال ہی میں بیس پر پہنچنے والے ’وائلڈ کیٹ ہیلی کاپٹرز‘ شارٹ رینج ایئر ڈیفنس میزائلوں سے لیس ہیں اور یہاں ’مرلن ہیلی کاپٹرز‘ جن میں پیشگی وارننگ ریڈار نصب ہے۔

برطانوی رائل نیوی کا ڈسٹرائر ایچ ایم ایس ڈریگن اب قبرص کے ساحل کے قریب اضافی فضائی دفاع فراہم کر رہا ہے۔

جنرل ٹام بیوک کہتے ہیں کہ وہ انتہائی خوش ہیں کہ اس خطے میں ایک انتہائی جدید جنگی جہاز موجود ہے۔

چونکہ ایران نے برملا کہا ہے کہ آر اے ایف اکروتیری ان کا ایک ہدف ہے تو جنرل بیوک کہتے ہیں کہ وہ ’بیوقوف ہوں گے اگر ایرانیوں کی بات کو سنجیدہ نہ لیں۔‘

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ بیس ’آسانی سے دوبارہ حملے کا شکار ہو سکتی ہے‘ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اب ’ہر ممکن حد تک محفوظ ہے۔‘

بیس پر ماحول اطمینان بخش ہے۔ زیادہ تر فوجی خاندان جو حملے کے بعد اپنے گھروں سے نکل گئے تھے، اب واپس آ گئے ہیں۔ بہتر انٹیلیجنس اور ڈیٹیکشن کی بدولت اب فضائی حملے کے الرٹ کم ہو گئے ہیں۔

برطانیہ نے قبرص کو بھی سکیورٹی کی یقین دہانیاں کروائی ہیں۔

جنرل ٹام بیوک کہتے ہیں کہ وہ اب قبرصی حکام کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں، لیکن وہ اصرار کرتے ہیں کہ بیس پر برطانیہ کی خودمختاری پر ’کوئی بحث نہیں ہوگی۔‘

کسی کو معلوم نہیں کہ یہ جنگ کتنی دیر چلے گی، کب اور کیسے ختم ہوگی۔ آر اے ایف اکروتیری پر اضافی دفاعی نظام برطانیہ کی پہلے سے دباؤ کا شکار مسلح افواج کو مزید تناؤ کا شکار کرے گا۔

کچھ رائل نیوی ہیلی کاپٹرز جو اب آر اے ایف اکروتیری پر موجود ہیں اصل میں ایئرکرافٹ کیریئر ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز کے ساتھ شمالی بحرِ اوقیانوس کے سفر پر جانے والے تھے۔

برطانوی فضائیہ کے جہاز وائیجر نے اپنے ایک دہائی طویل انسدادِ دولتِ اسلامیہ مشن ’آپریشن شیڈر‘ کو روک دیا ہے تاکہ قبرص کے دفاع پر توجہ مرکوز کر سکے۔

گروپ کیپٹن ایڈم سمولاک اور اکروتیری بیس کے سٹیشن کمانڈر کو بھی جنگ کے جلد ختم ہونے کی توقع نہیں ہے۔ وہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ وہ ’کافی عرصے تک‘ اس اڈے کا دفاع کرتے رہیں گے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اس غیر مستحکم خطے میں امریکی فوجی مداخلتیں شاذ و نادر ہی جلد یا آسانی سے ختم ہوتی ہیں۔