گوجرانوالہ میں ٹک ٹاکر بہنوں کے درمیان ’ویوز اور فالوورز‘ سے شروع ہونے والا جھگڑا قتل تک کیسے پہنچا؟

Indian woman in handcuffs

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, احتشام شامی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں دو بہنوں کے درمیان مبینہ طور پر ٹِک ٹاک کے ویوز سے شروع ہونے والے معمولی جھگڑے کا اختتام ایک بہن کے قتل پر ہوا ہے۔

لدھے والا وڑائچ پولیس نے لڑکیوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے 15 سالہ زوبیہ مناہل کے قتل کے الزام میں 18 سالہ بڑی بہن کو گرفتار کر لیا ہے۔

لدھے والا وڑائچ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او محمد افضل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزمہ سے آلہ قتل برآمد کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں کیا لکھا ہے؟

تھانہ لدھے والا وڑائچ میں درج کروائی جانے والی ایف آئی آر میں عبدالشکور خان مدعی ہیں، جو ملزمہ اور مقتولہ دونوں کے والد ہیں۔

مدعی کے مطابق وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ڈرائیور ہیں اور ان کی چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ان کے گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے اور سب اہل خانہ صحن میں بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ اچانک چھت سے شور کی آواز آئی۔ جب اہلخانہ چھت پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ دونوں بہنیں ’آپس میں پیسوں کے لین دین پر جھگڑا کر رہی تھیں۔‘

’اس دوران بڑی بیٹی نے باورچی خانے میں پڑی ہوئی چھری اٹھائی اور زوبیہ کو ماری جو اسے کمر پر لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہوکر گر پڑی اور خون بہنے لگا۔‘

TikTok

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ہم سب اہل خانہ نے زوبیہ کو ابتدائی طبی مدد دینے کی کافی کوشش کی لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے زوبیہ مناہل فوت ہو گئی۔‘

مدعی کا کہنا ہے کہ ان کی بڑی بیٹی نے اپنی چھوٹی بہن زوبیہ مناہل کو ناحق قتل کرکے سخت زیادتی کی ہے۔

قتل کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

پولیس کی جانب سے مرتب کی گئی ابتدائی رپورٹ اس واقعے کے محرکات پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ رپورٹ ایس ایچ او محمد افضل نے پولیس کے اعلی افسران کو بھجوائی ہے۔

رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ دونوں بہنیں ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنایا کرتی تھیں اور ان دونوں کے درمیان جان لیوا جھگڑے کی بنیاد بھی یہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنا۔

رپورٹ کے مطابق ’اس جھگڑے کے دوران ملزمہ نے اپنی ہمشیرہ زوبیہ مناہل عرف عیشہ کو تیز دھار آلے سے کمر پر وار کرکے اسے قتل کر دیا۔‘

ایس ایچ او محمد افضل نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے زیرحراست ملزمہ کا ابتدائی بیان قلمبند کیا ہے، جس کے مطابق ’مقتولہ کے فالورز زیادہ تھے جبکہ ملزمہ کے فالورز کم تھے۔ ملزمہ کا الزام تھا کہ تم میرے فالورز چوری کرتی ہو، جس وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہوا اور بات بڑھ گئی۔‘

تاہم ملزمہ کے رشتے دار غلام رسول کہتے ہیں کہ دونوں بہنوں نے ٹک ٹاک پر ویڈیوز اس لیے بنانا شروع کی تھیں تاکہ وہ معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں۔

’دونوں بچیاں انتہائی تابعدار اور والدین کی فرمانبردار تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں، اسی لیے اکثر فوڈ وی لاگنگ کرتیں اور مختلف سوشل میڈیا اکائونٹس پر مصروف رہتیں۔‘

غلام رسول نے مزید بتایا کہ ’یہ خاندان کے لیے بڑا دھچکا ہے کیونکہ ایک بیٹی وفات پا چکی ہے اور دوسری پولیس کی حراست میں ہے۔ والدین پر جیسے پر قیامت ٹوٹ گئی ہے، کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔‘

مقدمے کے مدعی عبدالشکور کہتے ہیں کہ وہ اپنی بڑی بیٹی کو سزا دلوانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے اپنی بڑی بیٹی کو خود پولیس کی تحویل میں دیا ہے اور اب وہ ملزمہ کی طرف سے ’کیس کی پیروی نہیں کریں گے۔‘

’جس نے میرے ہنستے بستے گھر کو برباد کردیا میرا اب اس کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں رہا۔‘

’ملزمہ کے پاس وکیل نہ ہونے کی صورت میں سرکاری وکیل مہیا کرے گی‘

فوجداری قوانین کے ماہر شیخ عثمان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ پاکستان کے قانون کے مطابق ’کسی زیرِ حراست ملزم کو صرف اس وجہ سے بغیر وکیل کے نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اس کے مقدمے کی پیروی کے لیے کوئی رشتہ دار یا ذاتی وکیل موجود نہیں۔‘

شیخ عثمان ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ آئین اور قانون ملزم کو وکیل کے ذریعے دفاع کا حق دیتا ہے اور اگر کوئی شخص جیل میں ہے، اس کے گھر والے موجود نہیں یا اس کے پاس کوئی وکیل نہیں، تو عدالت اس بات کو نظرانداز نہیں کرتی اور ملزم کو سرکاری وکیل مہیا کیا جاتا ہے جو ریاستی اخراجات پر ملزم کا دفاع کرتا ہے۔

’پنجاب میں فری لیگل ایڈ کمیٹی بھی کام کررہی ہے، جس میں پنجاب بار کونسل اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے وکلا شامل ہیں۔ مستحق قیدی متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو درخواست دے سکتا ہے، جس کے بعد درخواست وکیل کو بھجوادی جاتی ہے۔‘

’پنجاب لیگل ایڈ ایکٹ 2018 کے تحت پنجاب پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ بھی سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو قانونی امداد فراہم کرتا ہے۔‘

Policeman

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹک ٹاک کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا پر تحقیق کرنے والے ارحم شفیع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’نئی نسل ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹا گرام اور یوٹیوب سے پیسے کمانے کا ہنر جان گئی ہے اور یہ ان کے لیے کمائی کا آسان ذریعہ بن گیا ہے، جس وجہ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ فالورز بنانے اور ویوز لینے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

ڈیجیٹل میڈیا ایکسپرٹ کے مطابق ٹک ٹاک پاکستان میں اپنے موناٹائیزیشن پروگرام کے تحت براہ راست رقم کی ادائیگیاں کرتا ہے۔

’جن افراد کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ مونیٹائزڈ ہیں انھیں ایک ہزار ویوز پر چالیس سینٹ سے ایک ڈالر ملتا ہے، جس کا آسان مطلب یہ ہے کہ ایک ملین ویوز پر چار سو سے ایک ہزار ڈالرز تک کمایا جاسکتا ہے جو کہ پاکستانی کرنسی میں اچھی خاصی رقم بن جاتی ہے۔‘

ارحم شفیع نے مزید بتایا کہ ’پاکستان میں اکثر لوگ امریکہ یا برطانیہ میں رجسٹرڈ شدہ اکاؤنٹس استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس سے انھیں معاوضہ زیادہ ملتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات سب کے سامنے ہیں، سوشل میڈیا روایتی ملازمتوں کی کمی کی وجہ سے ایک بہترین پارٹ ٹائم یا فل ٹائم آمدن کا ذریعہ بن چکا ہے۔‘

’ٹک ٹاک پر آپ کو دولت اور شہرت دونوں مل جاتی ہیں۔ لیکن یہ سارا کھیل فالورز اور ویوز کا ہے۔‘