آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایک ہی شخص کے سپرم سے سینکڑوں بچے کیسے پیدا ہو سکتے ہیں؟
کچھ مردوں نے اپنا سپرم عطیہ کر کے بڑی تعداد میں بچوں کو جنم دیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق ایک شخص کا سپرم 14 ممالک میں بھیجا گیا اور اس سے کم از کم 197 بچوں کو جنم دیا گیا۔
اس کیس سے اس بات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ دنیا بھر میں سپرم عطیہ کرنے کی صنعت کس حد تک پھیل چکی ہے۔
اندازوں کے مطابق سنہ 2033 تک یورپ میں اس مارکیٹ کا تخمینہ لگ بھگ دو ارب ڈالر سے زیادہ ہو گا اور ڈنمارک سپرم برآمد کرنے والا کا ایک بڑاملک ہے۔
عطیہ کرنے کے لیے ’سپرم کاؤنٹ‘ ضروری کیوں؟
اگر آپ مرد ہیں اور یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ ضروری نہیں کہ آپ کے سپرم کا معیار اتنا اچھا ہو کہ آپ اسے عطیہ کر سکیں کیونکہ رضاکارانہ طور پر اپنا سپرم عطیہ کرنے والے 100 افراد میں سے صرف پانچ یا اس سے بھی کم افراد کا سپرم اس معیار کا ہوتا ہے۔
سب سے پہلے آپ کو نمونہ دینے کے لیے کافی مقدار میں سپرم کی ضرورت ہوتی ہے جسے ’سپرم کاؤنٹ‘ کہا جاتا ہے۔ پھر آپ کے سپرم کا معیار چیک کرنے کے لیے اس کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
جب سپرم کو منجمد کر کے سپرم بینک میں محفوظ کیا جاتا ہے، تو اس کی جانچ بھی کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اسے محفوظ طریقے سے بھیجا جائے۔
ہو سکتا ہے کہ آپ کے چھ بچے ہوں لیکن ضروری نہیں کہ آپ سپرم عطیہ کرنے کے لیے اہل ہو سکیں۔
اس کے لیے دنیا بھر میں مختلف قوانین ہوتے ہیں لیکن برطانیہ میں سپرم عطیہ کرنے کے لیے آپ کی عمر 18-45 سال کے درمیان ہونا ضروری ہے۔ آپ کو ایچ آئی وی اور سوزاک جیسے انفیکشن سے پاک ہونے کی بھی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مجموعی طور پر اس کا مطلب ہے کہ سپرم ڈونر بننے والے لوگوں کی تعداد کم ہے اور برطانیہ کو درکار سپرم کی نصف مقدار درآمد کی جاتی ہے۔
لیکن سپرم عطیہ کرنے والے افراد کی تعداد چاہے کم ہو لیکن ان سے بڑی تعداد میں بچے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
ایک انڈے کو فرٹیلائز کرنے کے لیے صرف ایک سپرم کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن سیمن میں دسیوں لاکھوں سپرم ہوتے ہیں۔
مرد سپرم عطیہ کرنے کے لیے ہفتے میں ایک یا دو بار کلینک کا دورہ کرتے ہیں اور یہ عمل مہینوں جاری رہ سکتا ہے۔
تولیدی صحت پر کام کرنے والے ادارے ’پروگریس ایجوکیشنل ٹرسٹ‘ کی ڈائریکٹر سارہ نورکراس کہتی ہیں کہ سپرم ڈونرز کی کمی نے اسے ایک قیمتی شے بنا دیا اور سپرم بینک اور فرٹیلیٹی کلینک مانگ کو پورا کرنے کے لیے موجودہ عطیہ دہندگان کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کچھ سپرم زیادہ مشہور ہوتے ہیں
عطیہ دہندگان کی اس چھوٹی سی کمیونٹی میں کچھ مردوں کے سپرم دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ مقبول ہیں۔
عطیہ دہندگان کا انتخاب بے ترتیب طور پر نہیں کیا جاتا۔ یہ ڈیٹنگ ایپس کی طرح ہے جہاں کچھ مردوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ میچ ملتے ہیں۔
سپرم بینک کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر آپ سپرم ڈونر کی تصاویر چیک کر سکتے ہیں، ان کی آواز سن سکتے ہیں، یہ جان سکتے ہیں کہ وہ کیا کام کرتے ہیں، جیسے انجینیئر یا آرٹسٹ اور ان کا قد، وزن وغیرہ چیک کر سکتے ہیں۔
انگلینڈ میں تولیدی صحت کے ماہر پروفیسر ایلن پیسی کہتے ہیں کہ ’آپ کو یہ معلومات مل سکتی ہیں کہ ڈونر کے بال سنہرے ہیں، ان کا قد 6 فٹ 4 انچ ہے، وہ ایتھلیٹک ہے اور وائلن بجاتا ہے اور وہ سات زبانیں بول سکتا ہے۔‘
ڈنمارک میں دنیا کا سب سے بڑا سپرم بینک
ڈنمارک میں دنیا کے سب سے بڑے سپرم بینکس ہیں اور یہ ’وائکنگ بچے‘ پیدا کرنے کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی سپرم بینک ’کراؤس‘ میں 0.5 ملی لیٹر سپرم کی مقدار 100 یورو (88 پاؤنڈ) سے ایک ہزار یورو (880 پاؤنڈ) کے درمیان فروخت ہوتی ہے۔
کراؤس کے بانی اولے شا کہتے ہیں کہ ڈنمارک میں سپرم عطیہ کرنے کا کلچر دوسرے ممالک سے بہت مختلف ہے۔
’یہاں کی آبادی ایک بڑے خاندان کی طرح ہے۔ اس قسم کے مسائل میں روایتی رکاوٹیں بہت کم ہیں اور بہت سے سپرم ڈونرز خون کا عطیہ بھی دیتے ہیں۔‘
اولے شا کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کے مردوں کے سپرم کی مقبولیت میں جینیاتی عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک بچے میں ’نیلی آنکھیں اور سنہرے بال‘ ہونے کے لیے دونوں والدین میں نیلے جین کا ہونا ضروری ہے۔
ڈنمارک کے لوگوں میں یہ دونوں چیزیں (نیلی آنکھیں اور سنہرے بال) ہوتی ہیں۔
اولے شا نے وضاحت کی کہ ماں کی خاص خصوصیات، جیسے سیاہ بال ’بنیادی طور پر پیدا ہونے والے بچے کو وراثت میں مل سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ سپرم کی بنیادی مانگ ’اعلیٰ تعلیم یافتہ، 30 سال کی سنگل خواتین‘ کی طرف سے آتی ہے، جو فی الحال اس مانگ کا 60 فیصد حصہ ہیں۔
ایک سپرم کو کتنی بار استعمال کیا جائے؟
مختلف ممالک کے اپنے اپنے اصول ہیں کہ ایک شخص کے سپرم کو کتنی بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ حد پیدا ہونے والے بچوں کی کل تعداد سے طے کی جاتی ہے جبکہ بعض ممالک میں یہ ماؤں کی تعداد پر منحصر ہوتی ہے۔
ان پابندیوں کی بنیادی وجہ ان سوتیلے بہن بھائیوں کو لاعلمی میں آپس میں رومانوی تعلقات قائم کرنے اور بچے پیدا کرنے سے بچانا ہے۔
تاہم اٹلی، سپین، نیدرلینڈز اور بیلجیئم جیسے ممالک میں ایک ہی عطیہ دہندہ کے سپرم کو استعمال سے روکنے کا کوئی طریقہ نہیں۔
اس سے سپرم عطیہ کرنے والے کے لیے قانونی طور پر بڑی تعداد میں بچوں کے باپ بننے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
اکثر اس سپرم کو موصول کرنے والوں کو بھی علم نہیں ہوتا کہ عطیہ کرنے والا شخص کون ہے۔
سارہ نورکراس کہتی ہیں کہ وصول اور عطیہ دہندگان دونوں کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ سپرم کو قانونی طور پر متعدد ممالک میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسی لیے اس کی مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔
بیلجیئم کے حکام نے یورپی کمیشن سے کہا ہے کہ وہ سرحد پار استعمال ہونے والے سپرم کی نگرانی کے لیے یورپ بھر میں سپرم ڈونر رجسٹری قائم کرے۔
عطیہ کیے گئے سپرم کے ذریعے پیدا پونے والے بچوں پر اس کے اثرات کے بارے میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔
جہاں کئی بچے اس بارے میں خوشی محسوس کرتے ہیں تو وہیں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس بارے میں افسوس کرتے ہیں کہ وہ عطیہ کیے گئے سپرم کی مدد سے پیدا ہوئے اور ان کے سینکڑوں سوتیلے بہن بھائی ہیں۔
یہی بات سپرم عطیہ کرنے والوں کے لیے بھی باعث تشویش ہو سکتی ہے، جو اکثر یہ نہیں جانتے کہ ان کا سپرم کتنے بڑے پیمانے پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب لوگ اب ڈی این اے ٹیسٹنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے بچوں، بہن بھائیوں یا عطیہ دہندگان کا پتہ لگا سکتے ہیں۔
برطانیہ میں سپرم ڈونرز کے لیے اب کوئی گمنامی نہیں کیونکہ وہاں ایک سرکاری عمل ہے جس کے ذریعے بچے اپنے حیاتیاتی والد کی شناخت کا پتہ لگا سکتے ہیں۔
اولے شاہ کہتے ہیں کہ سپرم عطیہ کرنے پر بہت زیادہ پابندیاں لگانے سے کئی افراد ’غیر منظم مارکیٹ‘ کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
لنکاسٹر یونیورسٹی کے ڈاکٹر جان ایپلبی کا ماننا ہے کہ سپرم کا اس طرح وسیع پیمانے پر استعمال ’بہت بڑے‘ اخلاقی بحران کو جنم دے سکتا ہیں۔
ڈاکٹر ایپلبی کہتے ہیں کہ اس صنعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس چیز کو کنٹرول کرے کہ ایک سپرم ڈونر کو کتنی بار استعمال کیا جانا چاہیے۔