پاسدارانِ انقلاب کے دو ارکان کا اپنے گھروں کے باہر قتل: پراسرار اور غیر معروف کُرد تنظیم ’خوری ھیوا‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شاداب ہاتمی، سرباس نظری
- عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
29 جون کو ایران کے کُرد آبادی والے شہر ’پاوَہ‘ میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکاروں کو اُن کے گھروں کے باہر قتل کیے جانے کے واقعے نے ایک غیر معروف گروہ ’خوری ھیوا‘ (یعنی اُمید کا سورج) کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
اگرچہ اس تنظیم (خوری ھیوا) کے بارے میں آزادانہ طور پر بہت کم معلومات دستیاب ہیں، لیکن یہ واقعہ ایران کے کرد اکثریتی علاقوں میں پیش آنے والے مسلح واقعات کے سلسلے، سیاسی جبر، پھانسیوں اور سخت سکیورٹی جیسے اقدامات سے متعلق طویل عرصے سے موجود شکایات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کے قتل کا واقعہ کسی نئے عسکریت پسند گروہ کے سامنے آنے کی علامت ہے یا امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں پیدا ہونے والی وسیع تر بے چینی کا نتیجہ۔
تاہم، اس حملے نے یہ سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران داخلی استحکام برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
پاوَہ میں کیا واقعہ پیش آیا؟

،تصویر کا ذریعہKhori Hiwa INSTAGRAM
ایران کے صوبے کرمانشاہ کے شہر پاوَہ میں ہونے والے مسلح حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے دو ارکان ہلاک جبکہ دو شدید زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعے کی تصدیق کرمانشاہ میں پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر نے کی تھی جبکہ فارس نیوز نے بھِی اسے رپورٹ کیا ہے۔
ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت خالد خالدینیا اور برہان کاریسانی کے طور پر کی گئی۔
اس حملے کی ذمہ داری فوراً ہی ’خوری ھیوا‘ نامی گروہ نے قبول کی۔ اس گروہ کا نام پہلی مرتبہ مرکزی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
فی الحال اس گروہ کی تشکیل، قیادت، تنظیمی ڈھانچے، اراکین کی تعداد یا عملی دائرۂ کار سے متعلق عوامی طور پر دستیاب معلومات زیادہ تر اُن بیانات اور پوسٹس سے سامنے آئی ہیں، جو اس گروہ سے منسوب ایک انسٹا گرام اکاؤنٹ پر شائع کی گئی ہیں۔
خوری ھیوا کے بیان اور دیگر غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق نشانہ بنائے گئے افراد پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس ونگ سے وابستہ تھے۔ یہ ونگ سنہ 2022 میں مہسا امینی کی پولیس حراست کے دوران ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو روکنے اور کریک ڈاؤن میں ملوث تھا۔
ان مظاہروں کے دوران ایسے واقعات بھی ہوئے تھے جن میں مظاہرین کے چہروں پر براہِ راست گولیاں ماری گئی تھیں۔
فیروز میرانی نامی ایک نوجوان موسیقار، ان مظاہرین میں شامل تھے جن کی بینائی 2022 کے ایک احتجاج کے دوران گولی لگنے سے ختم ہو گئی تھی۔ الزام ہے کہ یہ گولی خالد خالدینیا نے چلائی تھی۔
انسٹاگرام پر ایک انٹرویو میں فیروز کا کہنا تھا کہ ’میں اس سب پر خوش ہوں، اُن تمام مقامی لوگوں کے لیے بھی جو اس شخص (خالد) کے ہاتھوں تکلیف اٹھاتے رہے۔‘
ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
’جبر، قبضے اور ایرانی حکومت کی پالیسیوں‘ کی مخالف
انسٹاگرام اکاؤنٹ پر موجود پوسٹس کے مطابق ’خوری ھیوا‘ نامی گروہ خود کو ایک مسلح تنظیم قرار دیتا ہے جو ’جبر، قبضے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیوں‘ کی مخالف ہے۔
ایک پوسٹ میں گروہ نے کہا کہ اُن کا مقصد ’سیاسی شعور بیدار کرنا اور قومی احساس کو مضبوط بنانا‘، خود کو ’سچ کی آواز‘ کے طور پر پیش کرنا، کرد سرگرمیوں سے متعلق معلومات کو نشر کرنا اور ’ریاستی جبر‘ کے ہتھکنڈوں کو سامنے لانا ہے۔
اس گروہ نے ایرانی عوام سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے کرد آبادی والے علاقوں میں ہونے والی پیش رفتوں سے متعلق معلومات شیئر کریں۔
اس تنظیم کے لوگو میں ایک ہاتھ کو دکھایا گیا ہے جو پہاڑی منظرنامے اور طلوع ہوتے سورج کے سامنے ایک خودکار رائفل تھامے ہوئے ہے۔ طلوع ہوتا سورج کُرد ثقافت میں ایک قومی علامت ہے اور اس گروہ کے نام کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
کُرد پرچم کے رنگوں والی پھولوں کی چادر میں گھری یہ تصویر کُرد شناخت، مسلح جدوجہد اور آزادی کی خواہشات جیسے موضوعات کو یکجا کرتی دکھائی دیتی ہے، جو سوشل میڈیا پر گروہ کے پیغام سے مطابقت رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMahsa Amini family
کیا خوری ھیوا کا تعلق مرکزی دھارے کے گروہوں سے ہے؟
ایران کے مغربی سرحدی علاقوں میں گذشتہ کئی دہائیوں سے ایرانی سکیورٹی فورسز اور کرد مسلح گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
تاہم ناروے میں قائم ہینگاو ہیومن رائٹس آرگنائزیشن سمیت کرد ذرائع ابلاغ نے حالیہ عرصے میں مہلک حملوں میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔
زیادہ تر جھڑپیں مریوان، بانہ اور مہاباد میں پاسدارانِ انقلاب فورسز اور ایسٹ کردستان ڈیفنس یونٹس (YRK) کے ارکان کے درمیان ہوئی ہیں، جو فری لائف پارٹی آف کردستان (PJAK) کا عسکری ونگ ہے۔
اگرچہ خوری ھیوا نے فری لائف پارٹی آف کردستان کے مقصد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، لیکن اس نے گروہ یا دیگر نمایاں کرد اپوزیشن تنظیموں کے ساتھ کسی تعلق کا اعتراف نہیں کیا ہے۔
30 جون کو خوری ھیوا نے فری لائف پارٹی آف کردستان کے اُن ارکان کے ساتھ تعزیت کی اور اُنھیں خراجِ تحسین پیش کیا، جو کرد جدوجہد میں مارے گئے ہیں۔
دیگر معروف کرد گروہوں، جن میں کردستان ورکرز پارٹی (PKK)، ڈیموکریٹک پارٹی آف ایرانی کردستان (PDKI) اور کوملہ پارٹی آف ایرانی کردستان (KSZK) شامل ہیں، نے اب تک خوری ھیوا کے ساتھ کسی تعلق کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اور یہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اس گروہ کے ڈھانچے، سیاسی رجحانات اور عملی صلاحیتوں کے دائرۂ کار کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
خوری ھیوا اہم کیوں ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاوَہ میں پاسداران پر ہوئے حملے کے بعد خوری ھیوا کا اُبھرنا تہران کے سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نہایت حساس وقت میں سامنے آیا ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے تہران نے بارہا عراق کے کردستان ریجن میں موجود ایرانی کرد گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ بغداد پر اِن گروہوں کی سرگرمیاں محدود کرنے کے لیے سفارتی دباؤ بھی بڑھایا گیا ہے۔
تہران نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سنہ 2023 کے سکیورٹی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرے، جس کے تحت بغداد نے سرحدی سکیورٹی سخت کرنے اور ایرانی کرد مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا عہد کیا تھا۔
ایرانی حکام بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ اس معاہدے پر مکمل عمل نہیں ہوا اور اسی دعوے کو سرحد پار جاری عسکری دباؤ کے جواز کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
ایران، امریکہ تنازع میں کرد گروہوں کے شامل ہونے کا امکان بھی جنگ کے ابتدائی مراحل میں زیرِ بحث آیا تھا، اس سے پہلے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کُرد اس میں شامل ہوں۔
اس کے بعد سے ایران اس امکان کے بارے میں محتاط رہا ہے کہ ایران کے کُرد علاقے اس کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد ایرانی حکومت کی تشویش مزید بڑھ گئی، جب عراق میں قائم ایرانی کرد اپوزیشن کے چھ گروہوں نے ایک نئی مشترکہ تنظیم، کولیشن آف پولیٹیکل فورسز آف ایرانی کردستان (CPFIK)، کے قیام کا اعلان کیا، جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ کے خلاف اپنی سیاسی اور زمینی سرگرمیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔
ابتدائی طور پر اس اتحاد میں KDPI، PJAK، کردستان فریڈم پارٹی (PAK)، آرگنائزیشن آف ایرانی کردستان سٹرگل (خبات) اور کوملہ آف دی ٹوائلرز آف کردستان شامل تھے، بعد میں کوملہ پارٹی آف ایرانی کردستان بھی اس میں شامل ہو گئی۔
اگر خوری ھیوا کی طاقت اور اثر و رسوخ کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، لیکن حالیہ مسلح واقعات اشارہ دیتے ہیں کہ تہران کو اب صرف سرحد پار سرگرمیوں کے بجائے ایک زیادہ پیچیدہ سکیورٹی چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہاں تک کہ اگر یہ گروہ بالآخر ایک محدود کردار ادا کرنے والا ثابت ہو، تب بھی اس کا ظہور ایران کے ان دیرینہ خدشات کو مزید تقویت دے سکتا ہے کہ منتشر کرد عسکریت پسند گروپ کو قابو میں رکھنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
























