’متاثرہ خاتون کی شناخت نہیں ہو سکی‘: واٹس ایپ پر ریپ کی افواہ جس کے بعد یونیورسٹی ’میدان جنگ بن گئی‘

    • مصنف, زویا متین اور آزادے مشیری
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، نئی دہلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انڈیا کی بڑی نجی یونیورسٹیوں میں سے ایک نے اس وقت اپنی کلاسز معطل کر دیں جب ایک طالبہ کے ساتھ کیمپس میں مبینہ ریپ کے غیر مصدقہ دعوے کے بعد شروع ہونے والے احتجاج نے پُرتشدد رُخ اختیار کر لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور یہ تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا گذشتہ ہفتے لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) میں مبینہ ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا یا نہیں۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے اس طرح کے واقعے کی تردید کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی ایسی طالبہ سامنے نہیں آئی جس نے کہا ہو کہ ان پر تشدد ہوا ہے اور تفتیش کار اب تک کسی متاثرہ خاتون یا ملزم کی شناخت نہیں کر سکے ہیں اور نہ ہی سی سی ٹی فوٹیج سے اب تک کوئی ایسا ثبوت ملا ہے۔

طلبہ کے واٹس ایپ گروپس میں گردش کرنے والی افواہوں نے سنیچر کے روز پنجاب میں 600 ایکڑ کے رقبے پر پھیلے یونیورسٹی کیمپس میں بے چینی اور احتجاج کو جنم دیا اور انڈیا اور ملک سے باہر موجود طلبہ کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔

سنہ 2005 میں ایک ایسے خاندان نے اس یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تھی جس کا کاروبار ایک چھوٹی سی مٹھائی کی دکان سے شروع ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ ایل پی یو ایک بڑے، تقریباً خودمختار تعلیمی ادارے میں تبدیل ہو گئی، جہاں ہاسٹلوں، تدریسی عمارتوں اور دیگر سہولیات کے ساتھ ہزاروں طلبہ کیمپس میں ہی رہائش اختیار کرتے ہیں۔

تصاویر اور ویڈیوز میں گاڑیاں شعلوں کی لپیٹ میں دیکھی گئیں، ایک اہم شاہراہ پر ہجوم جمع تھا اور پولیس اہلکار لاٹھیاں تھامے ہوئے تھے۔ جبکہ بے چینی یونیورسٹی کے دروازوں کے باہر تک پھیل گئی تھی۔

پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، اہلکار زخمی ہوئے اور کیمپس کے بعض حصوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

پیر تک شاہراہ دوبارہ کھول دی گئی تھی اور کیمپس میں حالات زیادہ پُرسکون تھے، تاہم وہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، تاہم اس سے ان طلبہ کو زیادہ اطمینان نہیں ملا جن کے ہاسٹل چند ہی گھنٹوں میں خالی ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اہم امتحانات ملتوی کر دیے گئے اور طلبہ کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کے بعد پولیس نے ’ایک نامعلوم شخص‘ کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کر لیا اور تحقیقات کے لیے سات رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔

یہ معاملہ کیا ہے؟

یہ بے امنی 27 ستمبر کے ابتدائی لمحات میں اس وقت شروع ہوئی، جب یہ خبر پھیلی کہ چند روز قبل یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل کے اندر یا اس کے قریب ایک طالبہ کا ریپ کیا گیا تھا۔

مشتبہ شخص کو طلبہ اور میڈیا رپورٹس میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا، کبھی پلمبر، کبھی پینٹر اور کبھی تعمیراتی کارکن بتایا گیا۔ بعض طلبہ کا کہنا تھا کہ یہ حملہ 23 ستمبر کو ہوا تھا اور انھوں نے یونیورسٹی پر الزام عائد کیا کہ اطلاع ملنے کے باوجود اس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

بی بی سی پنجابی کو معلوم ہوا ہے کہ اس الزام کے بارے میں پیغامات واٹس ایپ گروپس کے ذریعے گردش کر رہے تھے اور جیسے جیسے یہ پیغامات پھیلتے گئے، ہجوم جمع ہونا شروع ہوتا گیا۔

بالآخر سینکڑوں افراد نیشنل ہائی وے 44 پر نکل آئے، جو دہلی اور پنجاب کے درمیان ایک اہم شاہراہ ہے اور 15 گھنٹے سے زیادہ وقت تک ٹریفک معطل رہی۔

اتوار کی شام تک یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچایا جا چکا تھا، اشیا کو آگ لگا دی گئی تھی اور پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔ ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین پر لاٹھیاں چلاتے ہوئے دکھایا گیا، اگرچہ پولیس نے بعد میں لاٹھی چارج کرنے کی تردید کی۔

کیمپس کے دروازوں کے پیچھے ایک طالبہ نے خوف کی ایک رات کا احوال بیان کیا۔

آریا نامی ایک طالبہ نے بی بی سی پنجابی کو بتایا ’ہم چاقو اور قینچیاں لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔‘

ان کے مطابق طلبہ کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنے کمروں کے اندر خود کو بند کر لیں، جبکہ لوگ ان کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔

’ہم صرف یہ سوچ رہے تھے کہ کسی نہ کسی طرح یہ رات گزر جائے اور ہم یہاں سے نکل سکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ بعد میں پولیس پہنچی اور اس سے انھوں نے خود کو زیادہ محفوظ محسوس کیا۔ اگلے دن تک وہ وہاں سے جانا چاہتی تھیں۔

’ہمارے والدین بھی چاہتے ہیں کہ ہم بس یہاں سے نکل جائیں۔‘

پولیس نے مقدمہ کیوں درج کیا؟

پولیس کی جانب سے مقدمے کا اندراج اور الزام کی تحقیقات کرنا مظاہرین کے اہم مطالبات میں شامل تھا۔

سینئر پولیس افسر نوین سنگلا نے بی بی سی کو بتایا ’طلبہ کا مطالبہ تھا کہ ایف آئی آر درج کی جائے، لیکن طلبہ ہمیں کسی متاثرہ خاتون کا نام فراہم نہیں کر سکے۔‘

تاہم پولیس نے اس کے باوجود انڈیا کے ریپ کے قانون کے تحت ایک نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ ایف آئی آر باضابطہ طور پر کسی الزام کی تحقیق کے ریکارڈ کا ثبوت ہوتی اور یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہوتی کہ کوئی جرم واقع ہوا ہے۔

سنگلا نے کہا کہ تفتیش کاروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینا بھی شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی جانچ میں اب تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ کوئی باہر کا شخص کسی کمرے میں داخل ہوا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ریپ ہوا ہے یا نہیں۔‘ تاہم وہ فوٹیج کا جائزہ اب بھی لے رہے ہیں۔

پولیس افسر نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ’کیمپس کافی بڑا ہے، اس لیے ہم ابھی تک تمام کیمروں کی فوٹیج نہیں دیکھ سکے ہیں۔ ہم نے ابتدائی طور پر ان مقامات کی جانچ کی ہے جن کا طلبہ نے ذکر کیا تھا، لیکن ہم اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔‘

احتجاج کیسے شروع ہوئے؟

جو معاملہ ریپ کے ایک الزام سے شروع ہوا تھا، وہ جلد ہی سکیورٹی، یونیورسٹی کے ردِعمل اور بالآخر خود تشدد کے خلاف ایک وسیع تر احتجاج میں تبدیل ہو گیا۔

اس بارے میں بھی بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی صورتحال تھی کہ کیمپس میں موجود افراد کون تھے۔ بعض طلبہ کا اصرار تھا کہ مظاہرے پُرامن انداز میں شروع ہوئے تھے اور انھوں نے کم از کم بعض پرتشدد واقعات کا ذمہ دار بیرونی افراد کو قرار دیا۔ دیگر طلبہ نے بی بی سی پنجابی کو بتایا کہ انھوں نے یونیورسٹی کے اندر نقاب پوش یا اجنبی افراد کو دیکھا تھا۔

پون نامی ایک طالب علم کہتے ہیں کہ ’ہم واقعی بہت خوفزدہ تھے۔ یہ مقام مکمل طور پر میدانِ جنگ بن گیا تھا۔‘

ایک اور طالب علم انیکیت سنگھ نے کہا کہ بیرونی افراد خواتین کے ایک ہاسٹل میں داخل ہو گئے تھے اور پولیس اہلکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔ اس کے بعد پولیس نے تصدیق کی کہ ہجوم میں بیرونی افراد بھی شامل تھے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ کون تھے اور ان کا کردار کیا تھا۔

اسی افراتفری کے دوران ریپ کے الزام کی تردید کرنے کے لیے یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی کوشش نے خود ایک نئی تنازعہ کی صورت اختیار کر لی۔

پیر کے روز ایل پی یو نے ہاسٹل کے اس کمرے میں رہنے والی تین طالبات کی ایک ویڈیو جاری کی، جسے مبینہ ریپ کے واقعے سے جوڑا جا رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہاں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اور لوگوں سے اپیل کی کہ انہیں پریشان کرنا بند کریں۔

بعد ازاں ان ہی طالبات نے ایک اور ویڈیو میں الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی حکام نے انہیں بتایا تھا کہ کیا کہنا ہے، ریکارڈنگ میں ترمیم کی گئی تھی اور اسے ان کی اجازت کے بغیر شائع کیا گیا تھا۔

ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایل پی یو نے طالبات کے الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

احتجاج کے دوران گردش کرنے والے ایک اور دعوے میں مبینہ ریپ کے واقعے کو تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی ایل پی یو کی ایک طالبہ کی حالیہ خودکشی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس طالبہ کی موت کی تحقیقات پہلے ہی شروع کی جا چکی تھیں اور دونوں واقعات کے درمیان تعلق ثابت کرنے کے لیے کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں ہے۔

کیمپس میں اس وقت کیا ہو رہا ہے؟

فی الحال کیمپس میں معمولاتِ زندگی متاثر ہو چکے ہیں۔ معمول کی کلاسیں 10 دن کے لیے معطل کر دی گئی ہیں اور امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ طلبہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے والدین یا سرپرستوں سے مشاورت کے بعد گھروں کو واپس چلے جائیں۔

جو طلبہ کیمپس میں قیام کر رہے ہیں، انھیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہوں میں رہیں اور مزید بے امنی پھیلانے یا ہنگامہ آرائی کرنے سے گریز کریں۔

پنجاب سٹیٹ ویمنز کمیشن نے بھی ایف آئی آر، تحقیقات کی تفصیلات اور طلبہ کی حفاظت کے لیے کیے گئے انتظامات کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔

تحقیقات کرنے والوں کو اب دو الگ سوالات کے جواب تلاش کرنا ہیں: کیا اس مبینہ حملے کے شواہد موجود ہیں، جس نے احتجاج کو جنم دیا؟ اور اس کے بعد ہونے والے تشدد کا ذمہ دار کون تھا؟

پیر کے روز طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ایل پی یو کی پرو چانسلر رشمِی متل نے کہا کہ انھیں اس بات کا دکھ ہے کہ طلبہ کے خدشات اور شکایات سامنے لانے کے لیے یونیورسٹی میں کئی ذرائع موجود ہونے کے باوجود انہوں نے اس کے بجائے ’اس افواہ پر یقین کر لیا جو پھیل رہی تھی۔‘

انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بے امنی اور ہنگامہ آرائی میں بیرونی افراد بھی شامل ہو گئے تھے۔

انھوں نے کہا ’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ طلبہ ایسا نہیں کر سکتے۔‘

اضافی رپورٹنگ: ہرمندیپ سنگھ، بی بی سی پنجابی