’واپس جا کر لڑنا ایک مذہبی اور قومی فریضہ ہے‘: بی بی سی نے یمن میں جنگ کے محاذ پر کیا دیکھا؟

    • مصنف, اورلا گیرن
    • عہدہ, خصوصی بین الاقوامی نامہ نگار
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

یہ صحرائی علاقے میں ایک تیز رفتار سفر تھا۔ ہم ایک پک اَپ ٹرک میں سوار تھے، جس کے پچھلے حصے میں مسلح جنگجو بیٹھے تھے۔

ہم یمن کی حکومت نواز افواج کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ راستے میں بحیرۂ عرب کی جھلک دکھائی دیتی رہی، جبکہ دور افق پر سنگلاخ اور بلند پہاڑیاں ابھرتی نظر آئیں۔

فوجی اہلکاروں نے بتایا کہ صرف چند روز قبل حوثی باغیوں کو اس علاقے سے پسپا کیا گیا تھا۔

وسیع و عریض اور سنسان صحرائی علاقوں میں لڑی جانے والی جنگوں میں زمینی صورتِ حال اور پیش رفت کا درست اندازہ لگانا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم صوبہ لحج کے علاقے شعب الجن میں موجود فوجیوں نے ہمیں ریت کے ٹیلوں سے بنائی گئی نئی دفاعی چوکیاں دکھائیں، جو اس بات کا اشارہ تھیں کہ محاذ کی حدبندیاں حال ہی میں تبدیل ہوئی ہیں۔

کیموفلاج وردی میں ملبوس باریش کمانڈر توفیق الحَبون نے ہمیں بتایا کہ ’یہاں بہت شدید لڑائی ہوئی تھی۔‘

ان کے مطابق ’ان کے پاس ماہر نشانہ باز، توپ خانہ اور بیلسٹک میزائل لانچر موجود ہیں۔‘

مشرقِ وسطیٰ کے اس دور افتادہ حصے میں جاری یہ جنگ اب صرف مقامی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

یمن کی طویل اور گہری جڑوں والی خانہ جنگی کو اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہ ایک وسیع تر علاقائی کشمکش کا حصہ بن چکی ہے، جو تہران سے ریاض تک پھیلی ہوئی ہے اور جس کی جھلک اس ہفتے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گرنے والے میزائلوں کی صورت میں بھی دیکھی گئی۔

حوثی جنگجو، جو پہلے ہی عالمی بحری تجارت کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھے جاتے ہیں، اب سعودی عرب کے لیے بھی بڑھتا ہوا سکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔ ساتھ ہی وہ اپنے حامی ایران کو، جو سعودی عرب کا ایک اہم علاقائی حریف ہے، خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی فراہم کرتے ہیں۔

کمانڈر توفیق الحَبون نے اپنے قدموں کے قریب بکھرے فائبر گلاس اور دھات کے ٹکڑوں کی جانب اشارہ کیا۔ ان کے بقول یہ ایک تباہ کیے گئے حوثی ڈرون کا ملبہ تھا، جس میں سی فور (سی فور) دھماکہ خیز مواد نصب تھا۔

الحَبون جنوبی افواج سے تعلق رکھتے ہیں، جو ان متعدد گروہوں کے ایک ڈھیلے ڈھالے اتحاد کا حصہ ہیں جو یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے دفاع میں برسرِ پیکار ہیں۔

اس حکومت کو سعودی عرب کی سیاسی اور عسکری حمایت حاصل ہے، جبکہ سعودی قیادت میں اتحاد اس کی پشت پناہی میں فضائی کارروائیاں بھی کرتا رہا ہے۔

سنہ 2014 میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر کے حکومت کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں ایک سال بعد سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کے عسکری اتحاد نے مداخلت کی، جس کا مقصد حوثیوں کو اقتدار سے ہٹانا تھا۔

تاہم برسوں تک جاری رہنے والے شدید اور تباہ کن فضائی حملوں کے باوجود یہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا اور حوثی تحریک بدستور یمن کے بڑے حصوں پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔

توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے، مگر یمن میں اس جنگ کی اصل قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ لڑائیوں کے باعث لاکھوں افراد ایک نئے انسانی بحران کی زد میں ہیں اور ہزاروں خاندان اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے نقل مکانی (امیگریشن) یعنی آئی او ایم کے مطابق ستمبر کے آغاز سے کشیدگی میں اضافے کے بعد تقریباً دو لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ عرب دنیا کے غریب ترین ملک یمن میں یہ بحران ایسے وقت شدت اختیار کر رہا ہے، جب ملک کی بڑی آبادی پہلے ہی انسانی امداد پر انحصار کر رہی ہے۔

متاثرہ علاقوں سے واپسی کے دوران ہمیں انسانی المیے کی ایک دردناک تصویر دیکھنے کو ملی۔ بے گھر خاندان چھوٹے چھوٹے گروپوں کی صورت میں کمزور درختوں کے سائے تلے پناہ لیے بیٹھے تھے۔ خواتین اور بچوں کے ایک گروہ میں ہماری ملاقات عائشہ نامی ایک ضعیف خاتون سے ہوئی، جو نحیف و نزار حالت میں زمین پر بیٹھی تھیں۔

عائشہ نے بتایا کہ وہ کہبوب کے پہاڑی علاقے میں اپنے گھر سے جان بچا کر فرار ہوئی تھیں، جو حوثی ڈرون حملوں کی زد میں رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم گذشتہ تیس دن سے یہاں ہیں۔ میرے پاس نہ جانور ہیں، نہ پیسے، نہ پانی اور نہ کھانا۔ یہاں تک کہ ایک کمبل بھی نہیں۔ ہمیں صرف تن پر موجود کپڑوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔‘

ادھر سنیچر کے روز سعودی دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی خوف و ہراس کی فضا دیکھی گئی، جہاں حوثیوں کے حملے کے بعد شہری محفوظ مقامات کی تلاش میں دوڑ پڑے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی سرزمین پر ہونے والے اس مہلک ترین حملے نے نہ صرف خطے کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ مملکت کے احساسِ تحفظ کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔

تاہم یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر عدن کے ہسپتالوں میں علاقائی سیاست اور جغرافیائی کشمکش بہت دور کی بات محسوس ہوتی ہے۔ یہاں وارڈ زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ڈاکٹر محاذِ جنگ سے لائے جانے والے زخمی سرکاری فوجیوں کے علاج کے لیے دن رات مصروف ہیں۔

مسلسل جھڑپوں اور حملوں کے باعث طبی مراکز پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ یمن کے عام شہری ایک بار پھر اس طویل جنگ کا سب سے بھاری بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔

ہم نے ایک فوجی ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں صرف ایک دن کے دوران 51 زخمیوں کو لایا گیا تھا۔ ان میں کئی افراد گولیوں سے زخمی ہوئے تھے، جبکہ متعدد مریض ایسے تھے جن کے اعضا اتنی بری طرح متاثر ہوئے کہ انہیں کاٹنا پڑا۔

ہسپتال کے ایک مصروف وارڈ میں ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا۔ وہاں حوثی جنگجو بھی زیرِ علاج تھے اور حکومت نواز فورسز کے اہلکار بھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق علاج کے معاملے میں کسی مریض کے ساتھ اس کی وابستگی یا شناخت کی بنیاد پر کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔

ڈاکٹر بسام حزر نے کہا کہ ’مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کہاں سے آیا ہے، اس کا پس منظر کیا ہے یا اس کا مذہب کیا ہے۔ وہ ایک انسان ہے اور میرا فرض ہے کہ میں اس کا علاج بھی ایک انسان ہی کی حیثیت سے کروں۔‘

یمن کے محاذوں پر اگرچہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف برسرِ جنگ ہیں، لیکن ہسپتالوں میں ایک مختلف حقیقت دکھائی دیتی ہے، جہاں زخمیوں کا علاج ان کی سیاسی یا عسکری وابستگی نہیں بلکہ انسانی ضرورت کو مدِنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ خواہ مریض کسی بھی فریق سے تعلق رکھتا ہو، طبی عملے کی ترجیح اس کی جان بچانا اور اسے معیاری علاج فراہم کرنا ہے۔

جنگ ختم ہو بھی جائے تو بعض لوگوں کے لیے اس کے زخم شاید کبھی نہ بھریں۔

عدن کے ایک ہسپتال میں ایک شخص اپنے بستر پر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے بائیں بازو کی جگہ سفید پٹی بندھی ہوئی تھی، جبکہ سر پر دھاتی ٹانکوں کے نشانات اس جنگ کی قیمت کی یاد دلا رہے تھے۔

تاہم محاذ سے آنے والے تمام زخمی مایوس نہیں تھے۔

ان ہی میں احمد علی محمود بھی شامل ہیں، جن کے جسم میں کئی فریکچر ہیں، مگر ان کے حوصلے میں کوئی کمی دکھائی نہیں دیتی۔ وہ مسکراتے ہوئے مستقبل کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی نظریں صحت یابی کے بعد دوبارہ محاذ پر واپسی پر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں مکمل صحت یاب ہونے کا انتظار نہیں کر رہا۔ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکوں۔ میرے نزدیک واپس جا کر لڑنا ایک مذہبی اور قومی فریضہ ہے۔ حوثیوں نے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔ جب فتح حاصل ہو گی تو مجھے اپنے یہ زخم اور ٹوٹی ہوئی ہڈیاں بھی یاد نہیں رہیں گی۔‘

یمن کی طویل جنگ نے ہزاروں افراد کو جسمانی اور ذہنی طور پر متاثر کیا ہے، لیکن محاذ سے واپس آنے والے بہت سے جنگجو اب بھی اپنے مقصد کے لیے لڑنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں، چاہے اس کی قیمت انھیں اپنے جسم پر مستقل زخموں کی صورت میں ہی کیوں نہ چکانی پڑی ہو۔

اگلے وارڈ میں 12 سالہ علی زیرِ علاج ہے۔ بھورے بالوں والا یہ لڑکا یمن کی خانہ جنگی سے صرف ایک سال بڑا ہے۔ علی سڑک پر چلتے ہوئے ایک ڈرون حملے کی زد میں آ گیا تھا اور اب اسے ایک پیچیدہ آپریشن کا سامنا ہے۔

اس کے بستر کے قریب کھڑے ڈاکٹر عمرو ریاض السقاف نے بتایا کہ ’اس کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب دھات کے ٹکڑے پھنسے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ آپریشن آسان نہیں ہو گا، لیکن انشا اللہ ہمارا طبی عملہ اسے انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔‘

ڈاکٹر السقاف کے مطابق علی ایک خاموش طبع اور نرم مزاج بچہ ہے۔

’ابتدا میں وہ شدید افسردہ تھا، لیکن ہم نے اسے کھیلنے کے لیے کھلونے فراہم کیے۔ اب آہستہ آہستہ اس کا حوصلہ بحال ہو رہا ہے اور اس کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔‘

علی کی کہانی یمن کی جنگ کے انسانی پہلو کی ایک جھلک پیش کرتی ہے، جہاں برسوں سے جاری تنازع صرف محاذوں پر لڑنے والوں ہی نہیں بلکہ معصوم بچوں کی زندگیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ہسپتال کے اس وارڈ میں جنگ کے اعداد و شمار نہیں، بلکہ ان انسانوں کی کہانیاں نظر آتی ہیں جن کی زندگیاں اس تنازع نے بدل کر رکھ دی ہیں۔

لیکن کیا جنگ اس کا پیچھا کرتے ہوئے اس کی جوانی تک بھی پہنچے گی؟

سنہ 2022 کی جنگ بندی کے بعد یمن میں چند برس تک نسبتاً سکون رہا، لیکن حالیہ واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ حوثی اب پہلے سے زیادہ طاقتور حریف بن چکے ہیں۔ وہ پہلے ہی یمن کی اکثریتی آبادی والے علاقوں پر اپنا کنٹرول رکھتے ہیں۔ اگر ثالثی کی کوئی نئی کوشش شروع ہوتی ہے، جیسا کہ اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، تو ممکن ہے حوثی مذاکرات کی میز پر سخت شرائط منوانے کی پوزیشن میں ہوں۔

ڈاکٹر بسام حضر زخمیوں کی ایک اور ممکنہ لہر کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ وہ تبدیلی کے خواہاں ہیں، مگر انہیں نہیں لگتا کہ یہ جلد آئے گی۔

وہ کہتے ہیں، ’شاید جنگ خبروں کے لیے اہم ہو، لیکن لوگوں کے لیے یہ ایک بھیانک تجربہ ہے۔‘

ان کے بقول، ’بیٹے اپنے باپوں سے محروم ہو رہے ہیں اور مائیں اپنے بیٹوں کو کھو رہی ہیں۔ ہمیں امن چاہیے۔‘

اس خبر کے لیے ویٹسکے بیوریما، لی ڈیورنٹ اور سعاد الصلاحی نے بھی اضافی رپورٹنگ کی ہے۔