نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار: ’ڈرگ ٹیسٹ ہو بھی جاتا تو آپ کو اس کا کیا فائدہ ہوتا؟‘

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

سپریم کورٹ نے سابق سفارتکار شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ واضح ثبوتوں کی روشنی میں مجرم کی نظر ثانی کی درخواست کو منظور نہیں کیا جا سکتا۔

قانونی ماہرین کے مطابق اب مجرم ظاہر جعفر کے پاس صرف اس سزا کے خلاف رحم کی اپیل دائر کرنے کا آپشن بچا ہے۔

واضح رہے کہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مجرم ظاہر جعفر کی طرف سے ٹرائل کورٹ سے ملنے والی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے اس اپیل کے مسترد ہونے کے بعد مجرم نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔

اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ بھی مجرم ظاہر جعفر کی طرف سے سزائے موت کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست مسترد کر چکی ہے۔

یاد رہے کہ نور مقدم کا قتل جولائی 2021 کے دوران ہوا تھا اور اسی روز پولیس نے ظاہر جعفر کو گرفتار کیا تھا جنھیں فروری 2022 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں ظاہر جعفر کو قتل کے علاوہ ریپ میں بھی سزائے موت سنائی تھی۔ تاہم جسٹس ہاشم کاکڑ پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپیل کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کی ریپ کے تحت دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا جبکہ قتل کی دفعات کے تحت ظاہر جعفر کو دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا تھا۔

دماغی حالت ٹھیک نہ ہونے کا دعویٰ جسے عدالت نے مسترد کیا

جمعرات کو مجرم کی جانب سے دائر کی گئی اس نظر ثانی اپیل کی سماعت ہوئی۔

مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے نظر ثانی کی اپیل پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 'میں سب سے پہلے تسلیم کرتا ہوں کہ مقتولہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا۔'

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں وہ مقتولہ کے خاندان کے سامنے معذرت خواہ ہیں۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ان کے دلائل کا مرکزی نقطہ 'وقوعہ کے وقت مجرم کی دماغی حالت ہے۔'

خواجہ حارث نے یہ تسلیم کیا کہ نور مقدم کے قتل کے وقت ان کا موکل جائے حادثہ پر موجود تھا۔ انھوں نے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ اس بات پر اصرار نہیں کریں گے کہ ان کے موکل نے نور مقدم کو قتل نہیں کیا۔

مجرم کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب نور مقدم کا قتل ہوا تو اس وقت ان کے موکل کی 'دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی۔'

انھوں نے کہا کہ ٹرائل کے دوران 'جیل میں بھی مجرم کو ادویات دی جاتی رہی ہیں۔'

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ریکارڈ موجود ہے کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیہ اور ڈپریشن کی ادویات لیتا تھا اور ان کے بقول یہ وہ بیماریاں ہیں جن میں مریض میں 'جارحانہ مزاج میں آ جاتا ہے۔'

مجرم کی طرف سے دائر کی گئی نظرثانی کی اس اپیل کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس اشتاق ابراہیم نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ ایسا ریکارڈ دکھائیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ان بیماریوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے مجرم کا علاج کب اور کہاں شروع ہوا۔

اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جس وقت نور مقدم کو قتل کیا گیا کیا، آیا اس وقت بھی مجرم کا علاج چل رہا تھا؟

اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس صلاح الدین پہنور نے مجرم کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ یہ بھی ثابت کریں کہ مجرم کب اس بیماری کا شکار ہوا اور کس ڈاکٹر نے علاج کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ مجرم کی سکول، کالج یا یونیورسٹی کی پوری میڈیکل ہسٹری ہو گی۔

عدالت کی طرف سے پوچھے گئے ان تمام سوالوں کے جواب میں خواجہ حارث نے لندن کے ہارلے اسٹیٹ کلینک کا خط عدالت میں پیش کر دیا۔ اس خط کو پڑھنے کے بعد جسٹس صلاح الدین پہنور نے مجرم کے وکیل سے کہا کہ اس خط پر تو سنہ 2022 کی تاریخ درج ہے اور کیا مجرم نور مقدم قتل کے واقعے کے بعد خود خط لینے لندن گیا تھا؟

جسٹس صلاح الدین پہنور نے مجرم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ کی دلیل ہے کہ مجرم کو مرضی کا وکیل نہیں ملا اور عجیب حیرت کی بات ہے کہ مجرم کو مرضی کا وکیل نہ ملا لیکن لندن سے اس کے لیے خط آ گیا۔'

’آپ نے تین گھنٹوں سے عدالت کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے‘

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نور مقدم کے قتل کے بعد اس کا پوسٹ مارٹم وغیرہ تو کروایا گیا لیکن مجرم کا 'نشے کی جانچ کا ٹیسٹ نہیں ہوا۔'

انھوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ پراسیکیوشن کی جانب سے مجرم کے نشے کا ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا گیا جس پر عدالت کی طرف سے ریمارکس دیے گئے کہ یہ معاملہ ٹرائل کورٹ میں اٹھانا چاہیے تھا اور سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے۔

مجرم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ٹرائل کے دوران جس طرح کی رپورٹنگ ہوئی اس کو دیکھتے ہوئے استغاثہ نے 'دباؤ میں آ کر میرے موکل کا ٹیسٹ نہیں کرایا۔'

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اس وقت سوشل میڈیا پر یہی چل رہا تھا مجرم کو نشہ کا عادی ثابت کر کے بچایا جائے گا۔ مجرم کے وکیل کا کہنا تھا کہ 'معذرت کے ساتھ جج صاحب نے بھی ٹرائل کے دوران میڈیا کا دباؤ لیا۔'

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت فیصلہ 'نہ اخباری رپورٹنگ پر کرتی ہے نہ ہی ہم سوشل میڈیا کے دباؤ میں آتے ہیں۔' انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے چند روز پہلے ایک اور کیس میں اس ایشو کو طے کر دیا ہے۔

اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس صلاح الدین پہنور نے مجرم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان دلائل میں تضاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ وقوعہ کے وقت مجرم کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ سوشل میڈیا کے تبصروں کو درست قرار دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'فرض کریں ہم مان لیتے ہیں کہ مجرم کی ذہنی حالت درست نہیں تھی تو اس صورتحال میں نظرثانی میں کیا ریلیف چاہتے ہیں؟' انھوں نے کہا کہ 'اگر مجرم کا ڈرگ ٹیسٹ ہو بھی جاتا تو آپ کو اس کا کیا فائدہ ہوتا؟'

مجرم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کی جانب سے ٹرائل کورٹ میں معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی جو مسترد ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مرکزی کیس میں بھی میڈیکل بورڈ کے لیے متفرق درخواست دائر کی تھی۔

بینچ میں شامل جسٹس اشتیاق ابراہیم نے مجرم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے مجرم کی طرف سے دی جانے والی میڈیکل بورڈ کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا اور عدالتی فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا، اس لیے یہ معاملہ حتمی ہو چکا ہے۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ان کی استدعا ہے کہ ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نظرثانی میں میرٹس دیکھ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسی مثالیں بھی ہیں جس میں سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں دوبارہ ٹرائل کا حکم دے چکی ہے۔

مجرم کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ اس مقدمے کا دوبارہ ٹرائل نہیں چاہتے بلکہ وہ مجرم کی سزا میں رعایت کی استدعا کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سزائے موت دیتے وقت عدالت کو مکمل حقائق سامنے رکھنے چاہییں تھے۔

اس تین رکن بینچ کے سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے مجرم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'عدالت کب سے آپ کو سن رہی ہے اور تین گھنٹوں سے آپ نے عدالت کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے، کچھ تو گریس دیکھائیں۔'

مجرم کے وکیل نے نظرثانی کی اپیل پر سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی جو کہ مسترد کر دی گئی۔

مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ قتل کے اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ مجرم کی ذہنی حالت کا معاملہ ’ٹرائل کورٹ میں بھی اٹھایا گیا تھا اور اس ضمن میں ایک میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیا گیا جس نے مجرم ظاہر جعفر کو ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ قرار دیا تھا۔‘

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نظرثانی کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔