’بچوں کے اہلخانہ کی چیخوں کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا‘: افغانستان میں پاکستانی حملوں میں 28 شہری ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ کا مشن

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’پہلا حملہ رات 12:30 بجے ہوا اور مساجد میں اعلانات کیے گئے کہ لوگ مدد کے لیے آئیں۔ جب لوگ مدد کے لیے پہنچ رہے تھے تو تقریباً 20 منٹ بعد ایک جہاز دوبارہ آیا اور ان لوگوں پر بمباری کر دی جو مدد کے لیے آئے تھے۔‘

افغانستان میں پاکستانی فوج کے فضائی حملوں کے عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب پاکستانی طیاروں نے پہلے حملے کے بعد ’واپس مڑ کر‘ اُن لوگوں پر بمباری کی جو پہلے حملے کے متاثرین کی مدد کے لیے جمع ہوئے تھے۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اتوار کی شب ’مستند انٹیلیجنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔

تاہم افغان طالبان کے ترجمان نے اس کارروائی کو ’بزدلانہ‘ اور ’سفاکانہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان فوج کے فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 36 افراد ہلاک جبکہ 163 زخمی ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام عام شہری ہیں۔

ادھر افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یوناما) کا بھی دعویٰ ہے کہ پاکستانی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔ یوناما کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز پاکستان کی جانب سے سرحد پار کارروائیوں میں کم از کم 28 عام شہری ہلاک جبکہ 49 زخمی ہوئے ہیں۔

اب تک پاکستان کی جانب سے یوناما کے بیان پر تبصرہ نہیں کیا گیا۔ تاہم ان کارروائیوں پر پاکستانی حکام کا یہی موقف رہا ہے کہ ان میں شدت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بی بی سی کسی بھی فریق کی جانب سے اِن اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

افغانستان میں ہلاکتوں سے متعلق یوناما اور پاکستان کے متضاد بیانات

29 جون کو جاری کردہ بیان میں یوناما نے کہا کہ ’اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے 11 بجے صوبہ پکتیا کے ضلع چمکنی میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 22 عام شہری ہلاک جبکہ کم از کم 47 دیگر زخمی ہوئے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تقریباً اسی وقت صوبہ پکتیکا کے ضلع گیان میں ایک اور فضائی حملے میں چھ عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ صوبہ کنڑ کے ضلع مراورہ میں تیسرے فضائی حملے میں دو بچے زخمی ہوئے۔

یوناما کے مطابق وہ ’ان واقعات کی تصدیق کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے‘ جبکہ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار ’ابتدائی ہیں اور زخمیوں کے علاج کا عمل جاری ہے جس کے باعث ان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کے دوران ’سکیورٹی فورسز نے پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا‘ تھا۔

اس حوالے سے فضائی کارروائیوں کی فوٹیج بھی جاری کی گئی تھی اور ساتھ یہ بھی ذکر کیا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ’پاکستان، افغانستان سرحد کے قریب خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر زمینی کارروائی کی ہے۔‘

پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب سنیچر کی شب کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینجرز کے دفتر کے قریب دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستانی فوج کے مطابق اس واقعے میں تین حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

کالعدم تحریکِ طالبان سے منسلک گروہ جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں رینجرز کیمپ حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے ایک مبینہ شدت پسند نے اعتراف کیا کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے اور اُس نے وہیں سے تربیت حاصل کی۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’بچوں کے اہلخانہ کی چیخوں کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا‘

63 برس کے آدم خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ان حملوں کا نشانہ بننے والے بچوں کی حالت اور ان کے اہلخانہ کی چیخوں کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایک فضائی حملے میں اپنے گھر میں سوئے ہوئے بچے، عورتیں اور بوڑھے افراد بھی مارے گئے۔

آدم خان نے میڈیا کو بتایا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر ’عام شہری‘ تھے اور ایک ایسے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس کے کچھ افراد قطر اور سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

واضح رہے کہ علاقے سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں بھی تین منزلہ خستہ حال ایک مکان نظر آتا ہے، جس کی دیواریں اور چھت تباہ ہو چکی ہیں۔

کابل کے ایک ہسپتال میں زخمیوں کے ساتھ موجود حیات اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مدخیل گاؤں میں ہائی سکول کے پرنسپل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب لوگ مدد کے لیے پہنچ رہے تھے تو تقریباً 20 منٹ بعد جہاز دوبارہ آیا اور اُن افراد پر بمباری کر دی جو مدد کے لیے وہاں آئے تھے۔‘

پکتیا کے ضلع چمکنی سے تعلق رکھنے والے مقامی رہائشی اور عینی شاہد ہاشم خیل ہاشمی نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے بعد علاقے میں ’خوف‘ پھیل گیا اور ’قیامت‘ برپا ہو گئی۔

انھوں نے بتایا کہ کچھ زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے قریبی اضلاع اور کابل منتقل کیا گیا۔

ان کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی گئی ہے، جس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کی تدفین میں شرکت کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہاشم خیل ہاشمی نے بتایا کہ ’تقریباً 11 افراد کو ایک ساتھ دفن کیا گیا۔ تین افراد کو ایک اور جگہ دفن کیا گیا اور مزید دو کو مختلف مقام پر سپردِ خاک کیا گیا، جبکہ دو افراد کی نمازِ جنازہ ابھی ہونی ہے۔‘

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’یہ پاکستان کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے‘: انڈیا کی مذمت

انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اتوار کی شب افغانستان پر کیے گئے پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

29 جون کو جاری بیان میں پاکستان کے حملوں کو ’کھلی جارحیت، افغانستان کی خود مختاری پر حملہ اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک ہوئے۔

انڈین وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ’انڈیا اپنے عزیزوں کو کھونے والے افغان خاندانوں سے تعزیت کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ انڈیا ’افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘

افغانستان میں پاکستان کے حملوں پر اپنے بیان میں انڈین وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ’یہ پاکستان کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویے اور اپنی داخلی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کے لیے سرحد پار تشدد کا سہارا لینے کی ناکام کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔‘

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے افغانستان اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کریں۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ فریقین سے مسلسل مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے افغانستان میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی کہ حالیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی افغانستان میں کارروائیوں کے دعوے

یاد رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں اب تک دونوں ممالک کے حکام کے مطابق درجنوں افراد کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

پاکستان افغان طالبان کی حکومت پر اُن شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

پاکستان حالیہ مہینوں میں متعدد مرتبہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی حملے کر کے تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کے دعوے کر چکا ہے تاہم افغان طالبان ہمیشہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ان حملوں میں مارے جانے والے افراد عام شہری ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ ان جھڑپوں اور تشدد کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان راستے کافی عرصے سے بند ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی بند ہے۔