آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تیز رفتار، سستے اور زیادہ خطرناک: نئے جیٹ انجن والے ’شاہد‘ ڈرونز کو روکنا مشکل کیوں ہے؟
سنہ 2022 کے اواخر سے خودکش ڈرونز ’شاہد-136‘ اور ان کے روسی ورژن ’گران-ٹو‘ یوکرین میں دور دراز علاقوں پر حملوں کے لیے روسی فوج کا سب سے اہم اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا ہتھیار بن گئے ہیں۔
لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ان ڈرونز کا دور ختم ہونے والا ہے، کیونکہ اب جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرونز تیزی سے میدان میں آ رہے ہیں۔ جنھیں یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کے لیے روکنا اور مار گرانا زیادہ مشکل ہے۔
روس ان ڈرونز کی مدد سے بحیرۂ اسود کے ساحل پر یوکرین کی بندرگاہوں پر سرگرمیوں کو بھی متاثر کر چکا ہے۔
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق، کیئو پر ہونے والے حالیہ حملے میں پہلی مرتبہ روس کی جانب سے استعمال کیے گئے نصف سے زیادہ ڈرونز جیٹ انجن سے چلنے والے تھے۔
چار اور پانچ اگست کی درمیانی شب روس نے یوکرین کی جانب 115 حملہ آور ڈرونز داغے جن میں سے یوکرینی افواج تقریباً 85 فیصد کو نشانہ بنانے اور ناکارہ بنانے میں کامیاب رہیں۔
اگلے روز روس نے 101 نگرانی کرنے والے ڈرونز بھیجے، جن میں نصف سے زیادہ جیٹ انجن والے تھے۔ تاہم ان ڈرونز کو روکنے میں یوکرینی افواج کی کامیابی کی شرح کم ہو کر 65 فیصد رہ گئی۔
روس دراصل شاہد ڈرونز کی نئی اقسام تیار کر رہا ہے تاکہ سنہ 2025 اور سنہ 2026 کے دوران سامنے آنے والی ایک اہم تبدیلی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس عرصے میں یوکرین نے روسی حملہ آور ڈرونز کو روکنے اور مار گرانے کی شرح 90 سے 95 فیصد تک پہنچا دی تھی۔
یوکرین کی اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ ڈرونز کو مار گرانے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر ڈرونز کی صنعت میں تیز رفتار ترقی بھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ڈرونز عام ’شاہد‘ ڈرونز، جنھیں روس میں ’گران-ٹو‘ بھی کہا جاتا ہے، کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتار تھے۔ پرانی قسم کے شاہد ڈرونز میں کم طاقت والے پیٹرول انجن استعمال ہوتے تھے اور ان کی رفتار تقریباً 150 سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوتی تھی۔
یہ ڈرون عموماً تقریباً دو کلومیٹر تک کی کم بلندی پر پرواز کرتے تھے۔ اس کے علاوہ سٹارلنک تک رسائی نہ ہونے کے باعث یہ دورانِ پرواز آن لائن نیویگیشن نہیں کر سکتے تھے، جبکہ مواصلاتی نیٹ ورک کے نظام میں بھی مسائل کا سامنا رہتا تھا۔ ان خامیوں نے رفتہ رفتہ ان ڈرونز کے استعمال کا دور ختم کرنے میں کردار ادا کیا۔
اپنے انجن کی مخصوص آواز کی وجہ سے ’گیس انجن‘ کے نام سے مشہور یہ ڈرون اب اپنی عملی مدت کے اختتام کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم روس پہلے ہی ان کی جگہ نئی قسم کے ڈرونز متعارف کرا چکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ نئے ڈرونز کیا ہیں، ان میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں اور انھیں روکنا یوکرین کے لیے کتنا مشکل یا آسان ہوگا؟
جیٹ انجن والے ڈرونز اور ایک نیا خطرہ
جیٹ انجن والے ڈرونز میں عام انجن کے بجائے ایک چھوٹا ٹربو جیٹ انجن استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مدد سے یہ ڈرون عام شاہد ڈرونز کے مقابلے میں دو سے ڈھائی گنا زیادہ رفتار سے پرواز کر سکتے ہیں۔ اس تیز رفتاری کی وجہ سے ان کے لیے فضائی دفاعی نظام کو عبور کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے، کیونکہ بعض اوقات دفاعی نظام کے پاس انھیں روکنے کے لیے ردِعمل کا وقت نہیں ہوتا۔
یہ ڈرونز بنیادی طور پر کروز میزائلوں کا ایک سستا متبادل سمجھے جا سکتے ہیں۔ تاہم کروز میزائلوں کے مقابلے میں یہ زیادہ سستے اور چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کے حملے میں کروز میزائل کے مقابلے میں تباہی بھی کم ہوتی ہے۔
جنگ کے دوران یوکرین پہلا ملک تھا جس نے جیٹ انجن والے ڈرونز کا استعمال شروع کیا، اگرچہ اس نے انھیں ’میزائل ڈرونز‘ کا نام دیا۔ ان میں ’پیکلو‘، ’بارس‘ اور ’روٹا‘ نمایاں مثالیں ہیں جنھیں عوام کے سامنے بھی پیش کیا جا چکا ہے۔
تاہم روس پہلا ملک تھا جس نے ان ڈرونز کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کی صلاحیت کو بھانپا۔ یوکرین کی ملٹری انٹیلیجنس سروس کے مطابق روس اب ہر ماہ تقریباً 500 ایسے جیٹ انجن والے ڈرونز تیار کر رہا ہے اور اس کا منصوبہ ہے کہ مجموعی ’شاہد‘ ڈرونز میں ان کا حصہ 50 فیصد تک بڑھایا جائے۔
یوکرین کی جنرل انٹیلیجنس سروس کے نائب سربراہ وادیم سکبتسکی کے مطابق روس کے سنہ 2026 کے دفاعی منصوبوں میں تقریباً ایک لاکھ ’شاہد‘ ڈرونز، ان کے مختلف ماڈلز اور ڈمی یا دھوکا دینے والے ڈرونز شامل ہیں۔
ان کے مطابق سنہ 2025 اور سنہ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں جیٹ انجن والے ’شاہد‘ ڈرونز کا استعمال محدود اور باقاعدہ نہیں تھا، تاہم رواں سال کی دوسری ششماہی سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اب ان کے حملے تقریباً روزانہ ہونے لگے ہیں۔
یوکرینی فوج کے ڈرون شکن یونٹ ’ڈارکنوڈ‘ کے نائب کمانڈر آرٹس نے بی بی سی کی یوکرینی سروس کو بتایا کہ روس کی جانب سے جیٹ انجن والے ڈرونز کے استعمال میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مجموعی طور پر داغے جانے والے حملہ آور ڈرونز میں جیٹ انجن والے ڈرونز کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ ہمارے مشاہدے کے مطابق روزانہ داغے جانے والے تمام ڈرونز میں ان کا حصہ 25 سے 50 فیصد تک ہو سکتا ہے۔‘
ان ڈرونز کے اہداف بھی مختلف نوعیت کے ہیں۔ زمینی علاقوں میں ریلوے انجنوں اور ٹرینوں کو باقاعدگی سے نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ سمندر میں اناج لے جانے والے بحری جہاز ان کے اہداف میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کے گرڈ سے منسلک تنصیبات، گوداموں اور ہینگرز کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جیٹ انجن والے ’شاہد‘ ڈرونز نے کارخانوں، بنیادی ڈھانچے، بجلی اور توانائی پیدا کرنے والی تنصیبات اور فضائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
جیٹ انجن والے ’شاہد‘ ڈرونز کی مختلف اقسام
روسی فوج یوکرین پر حملوں کے لیے جیٹ انجن سے چلنے والے مختلف ڈرونز استعمال کر رہی ہے۔ یہ تمام ڈرونز ’شاہد‘ ڈرونز کی ہی قسم اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ روس میں انھیں ’گران‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
مجموعی ساخت کے لحاظ سے ’گران-3‘ دوسرے ماڈلز کے مقابلے میں روایتی ’شاہد-136‘، جسے روسی ورژن میں ’گران-ٹو‘ کہا جاتا ہے، سے زیادہ مشابہ ہے۔ اس ڈرون کا ڈیزائن ایرانی ماڈل ’شاہد-238‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، جسے سنہ 2023 میں متعارف کرایا گیا تھا۔
’گران-تھری‘ ایک بغیر پائلٹ طیارہ ہے جس کی شکل تکونی اور ’اڑتے ہوئے پر‘ جیسی ہے، جبکہ اس میں دم موجود نہیں۔ اس کی لمبائی تقریباً 3.5 میٹر اور چوڑائی تین میٹر ہے اور اس میں ٹربو جیٹ انجن نصب ہے۔
یوکرین کی ملٹری انٹیلیجنس سروس کے مطابق روس ان ڈرونز میں چینی ساختہ ٹیلی فلائی جے ٹی 80 انجن استعمال کرتا ہے، جو عام مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور ہر انجن کی قیمت تقریباً 24 ہزار سے 30 ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
یہ انجن گران-تھری کو 300 سے 350 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے پرواز کرنے کے قابل بناتا ہے۔
اس ڈرون کا زیادہ طاقتور ورژن ’گران-فور‘ کہلاتا ہے۔
یوکرینی انٹیلیجنس اداروں کے مطابق روس نے ’گران-فور‘ کو رواں سال مئی میں پہلی مرتبہ جنگی کارروائیوں میں استعمال کرنا شروع کیا۔
’گران-فور‘ کی شکل اور جسامت عام شاہد ڈرون جیسی تکونی ہے، تاہم اس کے ڈھانچے کو زیادہ مضبوط بنایا گیا ہے اور اس کے ہوا میں پرواز کرنے کے نظام میں بھی بہتری کی گئی ہے۔ یہ تبدیلیاں زیادہ طاقتور جیٹ انجن کے استعمال کی وجہ سے کی گئی ہیں۔
یوکرین کی ملٹری انٹیلیجنس سروس کے مطابق ’گران-فور‘ میں چینی ساختہ ٹیلی فلائی ایل ایکس-ڈبلیو پی-160 یا ٹی ایف-ٹی جے 2000 اے انجن استعمال کیا جاتا ہے، جس کی مدد سے یہ ڈرون 500 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار حاصل کر سکتا ہے۔
مضبوط ڈھانچہ گران-فور کو اتنی زیادہ رفتار پر پرواز کے دوران اپنی ساخت برقرار رکھنے اور تیز رفتاری سے سمت تبدیل کرتے وقت پیدا ہونے والے دباؤ کو برداشت کرنے میں مدد دیتا ہے۔
شاہد ڈرون کی ہی فیملی کے جیٹ انجن والے ڈرونز کا جدید ترین ماڈل گران-فائیو ہے، جو انھیں اقسام کے دیگر ڈرونز سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا ڈیزائن ایرانی کرار ڈرون کی طرز پر تیار کیا گیا ہے اور یہ روایتی کروز میزائل جیسا دکھائی دیتا ہے۔
گران-فائیو کو طیارے سے بھی داغا جا سکتا ہے اور یہ 600 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ڈرون تقریباً چھ میٹر لمبا اور 5.5 میٹر چوڑا ہے جبکہ اس میں نصب وارہیڈ کا وزن 90 کلوگرام ہے۔
یوکرین پر حملوں میں گران-فائیو کا استعمال خاندان کے دیگر ماڈلز کے مقابلے میں نسبتاً کم ہوا ہے۔ روس عام طور پر گران-تھری اور گران-فور کو زیادہ استعمال کرتا ہے، جن میں تقریباً 50 کلوگرام وزنی وارہیڈ نصب ہوتا ہے۔
ان ڈرونز میں سب سے زیادہ نقصان وہ ورژن پہنچاتے ہیں جن میں ’سیکر‘ نصب ہوتا ہے۔ سیکر ایک ایسا نظام ہے جو کسی ہدف کی شناخت کرکے اسے خودکار طور پر نشانہ بنانے کے لیے لاک کر لیتا ہے۔
روسی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ان ڈرونز کو یوکرین کے ساحل کے قریب بحیرۂ اسود میں موجود بحری جہازوں پر حملوں کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔
یوکرینی صدر کے مشیر سرہی بیسکریستوف کے مطابق یہ نسبتاً مہنگے ڈرونز مختلف طریقوں سے کام کرنے والے کئی کیمروں کے علاوہ ’میش‘ نیٹ ورک پر مبنی موڈیم سے لیس ہوتے ہیں۔ اس نظام کی مدد سے ڈرون کا پائلٹ اسے آن لائن اور ریڈیو رابطے کے ذریعے کنٹرول کر سکتا ہے۔
ان کے بقول مثال کے طور پر اگر سیکر نظام سے لیس ڈرون کا پائلٹ ایک کلومیٹر دور سے کسی ریلوے انجن کو نشانہ بنا کر لاک کر لے تو انجن کے کم طاقت والے الیکٹرانک وارفیئر نظام کے لیے ڈرون کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔
اس نظام کے تحت جیٹ انجن والا ’گران‘ ڈرون اپنی تیز رفتار کی مدد سے یوکرین کے فضائی دفاع کی مختلف تہوں کو عبور کرتا ہے۔ اس کے بعد جب یہ کسی متحرک ہدف، مثلاً بحری جہاز، ریلوے انجن یا گاڑی کے قریب پہنچتا ہے تو ڈرون میں موجود نظام ہدف کی شناخت کرکے اسے لاک کر لیتا ہے۔ آپریٹر کی جانب سے ہدف کی تصدیق کے بعد ڈرون خودکار طور پر اس پر حملہ کر دیتا ہے۔
روسی وزارتِ دفاع نے جون کے اواخر سے اب تک سیکر نظام سے لیس جیٹ انجن والے ڈرونز کے ذریعے یوکرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کی تقریباً 40 ویڈیوز جاری کی ہیں۔
ان حملوں میں بحری جہازوں کے علاوہ طیارے، بغیر پائلٹ کے فضائی ڈرونز، دکانیں، گودام، ریلوے انجن، ایندھن کے سٹیشن، ٹرک اور بجلی کے گرڈ کی تنصیبات بھی نشانہ بنائی گئی ہیں۔
کیا ان ڈرونز کی کوئی کمزوری بھی ہے؟
’ڈارک نوڈ‘ بٹالین کے نائب کمانڈر ’آرٹس‘ ان جیٹ انجن والے ڈرونز کو ’گائیڈڈ کروز میزائل‘ قرار دیتے ہیں، جو تیز رفتار، درست اور شناخت و سراغ لگانے میں مشکل ہتھیار ہیں۔
تاہم اس ہتھیار کی بھی چند کمزوریاں ہیں۔
ان کی قیمت عام خودکش ڈرونز کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہے۔
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’پہلا مسئلہ اس کی رینج ہے۔ جوں جوں کسی شاہد ڈرون کے جیٹ انجن کی رفتار بڑھتی ہے، وہ زیادہ ایندھن استعمال کرتا ہے۔ ایندھن کی کھپت بڑھنے سے ڈرون کو یا تو چھوٹا وارہیڈ لے جانا پڑتا ہے یا کم فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔‘
جیٹ انجن والے ’گیران‘ ڈرونز کے حملوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق، ان ڈرونز کی عملی رینج تقریباً 500 کلومیٹر ہے۔
اسی لیے یہ زیادہ تر محاذ کے قریب علاقوں اور کیؤ، چرنیہیف، خارخیو، اوڈیسا، سومی، پولتاوا اور دنیپروپیتروفسک صوبوں کے سرحدی علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
’میش‘ مواصلاتی نیٹ ورک کے ذریعے رہنمائی حاصل کرنے والے ڈرونز کی صورت میں یہ فاصلے مزید بڑھائے جا سکتے ہیں۔
تاہم رابطہ برقرار رکھنے اور ڈرون کو فعال رکھنے کے لیے ہر 100 کلومیٹر پر سگنل کو مضبوط کرنے اور دوبارہ منتقل کرنے والے ایک سٹیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
دوسری کمزوری اس کی تیزی سے سمت بدلنے کی صلاحیت ہے۔
ایک جیٹ انجن والا ڈرون زیادہ رفتار پر طبعی طور پر تیز موڑ نہیں کاٹ سکتا۔
اگر اسے کسی مخصوص علاقے میں کچھ وقت تک چکر لگانا پڑے تو اسے اپنی رفتار کم کرنی ہوگی، اور یہی صورت حال اسے ہدف بنا کر مار گرانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
آرٹس کا کہنا ہے کہ ’ڈارک نوڈ‘ بٹالین اب تک شاہد قسم کے تین ہزار سے زیادہ ڈرونز مار گرا چکی ہے، جن میں درجنوں جیٹ انجن والے تھے۔
ان میں سے بیشتر جیٹ انجن والے ڈرونز عام انٹرسیپٹر ڈرونز کے ذریعے تباہ کیے گئے۔
یہ کامیابی ’مناسب حکمت عملی اور حملے کے درست وقت کے انتخاب‘ کا نتیجہ تھی۔
یوکرین جیٹ انجن والے ڈرونز کا مقابلہ کیسے کرتا ہے؟
یوکرین جیٹ انجن والے شاہد ڈرونز کے خلاف ’ویمپائر‘ جیسے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام، لڑاکا طیارے، قابلِ حمل فضائی دفاعی نظاموں سے لیس متحرک فائر گروپس اور انٹرسیپٹر ڈرونز استعمال کرتا ہے۔
یقیناً یہ مشن انٹرسیپٹر ڈرونز کے لیے بہت مشکل ہے۔ یہ ڈرون بنیادی طور پر اندرونی احتراقی انجن (انٹرنل کمبسشن انجن) سے چلنے والے روایتی فضائی اہداف کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے اور ان کی زیادہ سے زیادہ پرواز کی رفتار 250 سے 300 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
تاہم جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرونز کی رفتار 500 بلکہ 600 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہیں زیادہ بلندی پر، تقریباً نو کلومیٹر تک پرواز کرتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ڈرونز کو آپریٹر براہِ راست آن لائن کنٹرول کرتا ہے۔
سٹنگ انٹرسیپٹر ڈرون بنانے والی کمپنی ڈِکی شریشنی کا کہنا ہے کہ اس کے ڈرون اب تک متعدد جیٹ انجن والے ڈرونز کو مار گرا چکے ہیں۔
کمپنی کے ایک نمائندے نے، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، بی بی سی کو بتایا کہ ’اب ہم انٹرسیپٹر ڈرونز کی مدد سے تقریباً 90 فیصد عام شاہد ڈرونز کو روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن جیٹ انجن والے ماڈلز کے خلاف یہ شرح تقریباً 10 فیصد ہے۔‘
جیٹ انجن والے ڈرونز کے خلاف نکٹس کمپنی کے تیار کردہ ’زیرکا‘ انٹرسیپٹر ڈرون کے کامیاب استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اس ڈرون کی خاص بات اس کا کمپیوٹر وژن سسٹم ہے، جو ویڈیو کو حقیقی وقت میں دیکھ کر اس کا تجزیہ کرتا ہے، ’شاہد‘ ڈرون کی خودکار طور پر شناخت کرتا ہے اور آپریٹر کو ہدف کی نشاندہی کرتا ہے۔ آپریٹر کی تصدیق کے بعد ڈرون خودکار طور پر ہدف کا تعاقب اور اسے نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔
یہ صلاحیتیں تیز رفتار فضائی ہدف کو زیادہ درستگی سے نشانہ بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ڈرون اس مختصر وقت میں بھی کارروائی کر سکتا ہے جب جیٹ انجن والا ڈرون فضائی دفاعی تنصیبات کے قریب سے صرف چند منٹ کے لیے گزرتا ہے۔
تاہم اتنی زیادہ رفتار حاصل کرنے کے لیے یوکرین کے انٹرسیپٹر ڈرونز کو بھی جیٹ انجن سے لیس ہونا پڑے گا۔ ’ڈارک نوڈ‘ بٹالین کے نائب کمانڈر آرٹس کے مطابق ایسے ڈرونز اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یوکرین کے کئی تحقیقی اور ترقیاتی گروپس تیز رفتار اور خودکار انٹرسیپٹر ڈرونز تیار کر چکے ہیں اور ان کی آزمائش جاری ہے، جن میں جیٹ انجن والے ڈرونز بھی شامل ہیں۔‘ ان کے بقول وہ تفصیلات ظاہر نہیں کرنا چاہتے، تاہم جلد ہی ان تجربات کے ابتدائی نتائج سامنے آئیں گے اور جیٹ انجن والے ’شاہد‘ ڈرونز کو منظم انداز میں روکنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
یوکرینی کمپنی ’ڈِکی شیرشنی‘ کو بھی توقع ہے کہ وہ تقریباً اکتوبر تک جیٹ انجن والے ’شاہد‘ ڈرونز کے خلاف مؤثر حل تلاش کر لے گی۔
تاہم ڈرون بنانے والی کمپنیوں کے مطابق اصل مسئلہ صرف انٹرسیپٹر ڈرون کی رفتار بڑھانا نہیں ہے۔
کمپنی کے ایک نمائندے نے کہا کہ انٹرسیپٹر ڈرون کے لیے رفتار، پرواز کی بلندی اور ہوا میں رہنے کا دورانیہ سب سے اہم باتیں ہیں اور ان تینوں کے درمیان مناسب توازن قائم کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق جیٹ انجن والے ڈرون کو تقریباً 20 منٹ تک پرواز کرنے کے قابل ہونا چاہیے، جبکہ اس کی رفتار میں کم از کم ایک تہائی اضافہ اور مؤثر پرواز کی بلندی میں کئی کلومیٹر کا اضافہ ضروری ہوگا۔
تاہم ڈرون کی رفتار بڑھانے سے عموماً اس کے ہوا میں رہنے کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے، اس لیے موجودہ انٹرسیپٹر ڈرون کو صرف تیز رفتار بنا دینا کافی نہیں ہوگا۔
’ڈِکی شیرشنی‘ گروپ کے مطابق جیٹ انجن والے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے انٹرسیپٹر ڈرونز کو تقریباً ابتدا سے نئے سرے سے ڈیزائن اور تیار کرنا ہوگا، جس میں کئی تکنیکی مشکلات درپیش ہیں۔