سات مزدوروں کو ملنے والا ’انتہائی قیمتی‘ ہیرا اور شادی کا خواب

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

انڈیا میں ہیروں کی کان کُنی کے لیے مشہور علاقے ’پنا‘ میں سات غریب مزدوروں کو ایک ایسا قیمتی ہیرا ملا ہے جس کے بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ یہ اُن کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔

مزدوروں کے مطابق انھیں یہ بڑا اور قیمتی ہیرا اُس جگہ سے ملا جسے انھوں نے دو سال قبل لیز پر حاصل کیا تھا۔ اس دریافت کے بعد مزدوروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

اِس ہیرے کا وزن 17.96 قیراط ہے اور پنا ڈائمنڈ آفس سے منسلک روی پٹیل کا کہنا ہے کہ یہ ہیرا ’جِیم کوالٹی‘ کا ہے۔ یاد رہے کہ ’جِیم کوالٹی‘ قدرتی طور پائے جانے والے ہیروں کی بہترین اقسام میں شمار ہوتی ہے۔

روی پٹیل نے ہیرے کو ’انتہائی قیمتی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے دو ماہ بعد یعنی اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اُن کے مطابق اس ہیرے کی متوقع قیمت کم از کم 50 لاکھ انڈین روپے (تقریباً ایک کروڑ 45 لاکھ پاکستانی روپے) ہو سکتی ہے۔

پنا، ریاست مدھیہ پردیش کا ایک ضلع ہے اور اسے انڈیا میں ہیروں کے ذخائر کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے میں ہیروں کی دریافت کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ مگر اس سب کے باوجود یہ ضلع ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں غربت، پینے کے پانی کی قلت اور بے روزگاری جیسے مسائل عام ہیں۔

محدود روزگار کے مواقع کے باعث مقامی افراد اپنی قسمت بدلنے کے لیے ہیروں کی تلاش میں مصروف رہتے ہیں، جس کے سبب یہ علاقہ ہیروں کے متلاشی افراد کی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔

تاہم پنا میں ہیرا دریافت کرنے والے افراد کو ہمیشہ اس کا پورا فائدہ نہیں ملتا۔ رپورٹس کے مطابق ہیروں کی کان کنی سے وابستہ بیشتر افراد یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور اگر انھیں ہیرا مل جائے تو اس کی آمدنی عموماً لیز ہولڈر کو ملتی ہے، نہ کہ مزدوروں کو۔

موجودہ واقعہ اُن چند مثالوں میں شامل ہے جہاں ہیرا دریافت کرنے والے افراد خود بھی اس مالی فائدے سے مستفید ہوں گے کیونکہ یہ اُس جگہ سے ملا ہے جو انھوں نے لیز پر حاصل کر رکھی تھی۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق پنا کے گاؤں ’سروکھا‘ میں واقع اس کان کی لیز اکھیلیش پال اور اُن کے چھ ساتھیوں نے دو سال قبل معمولی رقم کے عوض حاصل کی تھی۔

اکھیلیش پال نے بتایا کہ اس جگہ پر موجود کان تقریباً ایک سال سے بند تھی اور حال ہی میں دوبارہ کھولی گئی تھی۔ ان کے مطابق پیر کے روز شدید بارشوں کے بعد جب وہ کان کا معائنہ کرنے گئے تو انھیں یہ قیمتی پتھر نظر آیا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم تقریباً دو سال تک وہاں کان کنی کرتے رہے، لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی، اسی لیے ہم نے پھر ایک سال کے لیے کان بند کر دی تھی۔ بعد ازاں ہم نے اس کے بالکل ساتھ ایک نئی کان پر کام شروع کیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’جب ہم نئی کان کا جائزہ لینے گئے تو پرانی کان کو بھی دیکھا۔ اسی دوران ہمیں یہ ہیرا ملا، جو بالکل زمین کی اُوپری سطح پر موجود تھا۔‘

روی پٹیل کے مطابق یہ ہیرا اکتوبر میں ہونے والی نیلامی میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا، جس میں انڈیا اور بیرونِ ملک سے خریدار حصہ لے سکیں گے۔

رپورٹس کے مطابق فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے حکومت 12 فیصد رائلٹی وصول کرے گی، جبکہ باقی رقم ساتوں مزدوروں میں برابر تقسیم کی جائے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس دریافت نے ان مزدوروں کی زندگی میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ سات میں سے تین مزدوروں کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کے باعث وہ اب تک شادی نہیں کر سکے تھے، تاہم ہیرے کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اب انھیں اپنا شادی کرنے کا خواب پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔