آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عوامی سطح پر انکار مگر حمایت بدستور جاری: اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات کے حوالے سے کیا ظاہر کرتی ہے؟
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے افغان طالبان حکام کی حمایت جاری ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافے کے ردعمل میں دونوں ملکوں، افغانستان اور پاکستان، کے درمیان فوجی جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔
یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم نے تیار کی ہے جسے 10 اگست کو شائع کیا گیا ہے، اور اسے نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش)، القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں سے متعلق قائم کردہ سلامتی کونسل کی کمیٹی میں جمع کروایا گیا ہے۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب 15 اگست کو افغانستان پر طالبان کے قبضے کے پانچ سال مکمل ہونے جا رہے ہیں۔
افغانستان اور پاکستان کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں جنوبی ایشیا میں شدت پسند گروہوں کا خطرہ بڑھا ہے اور ’جنوبی ایشیا میں علاقائی کشیدگی بلند سطح پر رہی ہے، کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملے جاری ہیں۔‘
’(افغانستان میں) عملی طور پر اقتدار میں موجود حکام (طالبان) نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے اپنی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی نے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا ہے اور اس سے (دونوں ملکوں کے درمیان) فوجی جھڑپیں ہوئی ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان ’عوامی سطح پر مسلسل دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کی تردید کرتے ہیں۔ (مگر) رُکن ممالک نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ یہ تنازع دہشت گرد گروہوں کے لیے مواقع پیدا کر سکتا ہے جس سے خطے کے لیے اضافی سکیورٹی چیلنجز جنم لے سکتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں ٹی ٹی پی کے لیے افغان طالبان کی حمایت کا ذکر کیا گیا تھا۔
فروری 2026 میں بھی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان حکام کی طرف سے 'آزادی اور حمایت' حاصل ہے۔ پاکستان نے اس رپورٹ کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کی ’دہشت گردی کا اصل ہدف پاکستان ہے اور یہ خطرہ افغانستان سے جنم لیتا ہے۔‘
پاکستان نے گذشتہ مہینوں کے دوران بھی اپنی سرزمین پر ہونے والے متعدد حملوں اور خاص طور پر سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے پر ٹی ٹی پی اور افغانستان کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ جبکہ افغانستان میں برسراقتدار طالبان حکام اِن نوعیت کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
دو اگست کو خیبر پختونخوا میں سوات کے کبل پولیس تھانے کے سامنے ہونے والے خود کش دھماکے میں پاکستانی حکام کے مطابق 17 افراد ہلاک جبکہ 22 زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل 24 جولائی کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ ٹانک میں ایک چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے حملے میں 14 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی۔
چھ اگست کو سلامتی کونسل نے سوات میں خودکش حملے پر جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا تھا کہ 'دہشتگردی کی ان کارروائیوں کا ارتکاب کرنے والوں، منصوبہ سازوں، مالی معاونت فراہم کرنے والوں اور سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘
سلامتی کونسل کے ارکان نے ’تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔‘
مانیٹرنگ رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
اقوام متحدہ کی تازہ مانیٹرنگ رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو لاحق شدت پسندی کے خطرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’افغانستان سے جنم لینے والا دہشت گردی کا خطرہ بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوا۔ افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہوں کی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت پڑوسی ممالک اور وسطی ایشیا کے خطے کے لیے ایک مستقل خطرہ بنی رہی ہے۔‘
’اگرچہ (افغانستان میں) قائم مقام حکام نے داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں کرنے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو محدود رکھنے کی کوششیں کیں، تاہم حکام دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانے میں ناکام رہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’طالبان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں، جو بنیادی طور پر شمالی علاقوں اور کابل سمیت بڑے شہروں میں کی گئیں، نے داعش خراسان کی صلاحیتوں کو کمزور کیا اور افغانستان میں اس کے حملوں میں کمی آئی۔ تاہم پاکستان میں اِن حملوں میں اضافہ ہوا۔‘
’خطے کے رُکن ممالک نے رپورٹ کیا کہ داعش خراسان کے پاس جدید ٹیکٹیکل سازوسامان موجود ہے جس میں ڈرون، نائٹ وژن آلات اور تھرمل امیجرز شامل ہیں اور انھیں (شدت پسندوں کو) شہری علاقوں میں لڑائی اور ڈرون کے استعمال کی تربیت بھی دی جاتی تھی۔‘
’ایک رکن ملک نے رپورٹ کیا کہ داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی لاجسٹکس کے لیے معاونتی نیٹ ورکس مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’افغانستان کے قائم مقام حکام نے ٹی ٹی پی کے تقریباً دو ہزار جنگجوؤں اور اُن کے خاندانوں کو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع علاقوں سے افغانستان کے اندرونی حصوں میں منتقل کیا ہے، تاکہ ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھا جا سکے۔‘
تاہم رپورٹ میں اِن اطلاعات کا بھی ذکر ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان رہنما ہیبت اللہ اخونزادہ نے ’پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے ٹی ٹی پی کی قیادت کو تنبیہ کی کہ وہ پاکستان کو نشانہ بنانے والے حملے بند کرے، بصورتِ دیگر اسے طالبان کی حمایت سے محروم ہونے کا خطرہ ہو گا۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ عرصے میں القاعدہ نے پہلی بار پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کے حملوں کی حمایت میں بیان جاری کیا ہے۔ ’28 اپریل کو القاعدہ کے سرکاری میڈیا پلیٹ فارم اسحاب میڈیا فاؤنڈیشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں طالبان کی حمایت کا اظہار کیا گیا اور پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت کی گئی۔‘
’اگرچہ القاعدہ اس سے قبل پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کو نظریاتی رہنمائی، تربیت اور معاونت فراہم کرتی رہی تھی تاہم عوامی سطح پر اظہارِ حمایت کا یہ بیان براہِ راست تھا۔‘
رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی صلاحیت ممکنہ طور پر بڑھنے کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ’افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد بھی بڑی مقدار میں جدید ہتھیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کی دستیابی برقرار ہے۔ قائم مقام حکام ان ہتھیاروں کو ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
سلامتی کونسل کے بعض رکن ممالک نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ’جدید ہتھیاروں کے نظام، جن میں نائٹ وژن چشمے بھی شامل ہیں، کے پھیلاؤ نے کالعدم تنظیموں کی لڑنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور انھیں سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔‘
’یہ پاکستان کے مؤقف کی تائید ہے‘
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں پروفیسر ڈاکٹر خرم اقبال نے کہا ہے کہ کابل میں طالبان حکومت کے قیام کے اِن پانچ برسوں میں سلامتی کونسل سمیت دیگر اداروں کی متعدد رپورٹس میں پاکستان کے اس موقف کی تائید ہوئی ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سمجھتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف حملوں اور ان کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ڈاکٹر خرم اقبال اِسی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اِنھی پناہ گاہوں کی وجہ سے ٹی ٹی پی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں کواڈ کاپٹرز کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے، جیسے ہنگو میں جدید کواڈ کاپٹر استعمال کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اِن پناہ گاہوں میں دہشتگرد گروہوں کو نئے ہتھیاروں کی آزمائش کا بھی موقع مل جاتا ہے۔‘
ڈاکٹر خرم اقبال کی رائے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اُس وقت تک تناؤ کا شکار رہیں گے جب تک طالبان ٹی ٹی پی کے لیے اپنی حمایت ختم نہیں کرتے اور اس کے ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کرتے۔
یاد رہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران پاکستان میں پُرتشدد حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق جولائی 2026 کے دوران مختلف حملوں میں 112 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 205 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
فروری 2026 میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کو ’افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت، سہولت کاری اور وسائل تک رسائی حاصل ہے، جس سے اس کی کارروائیوں کو تقویت ملتی ہے۔‘
یاد رہے کہ فروری 2026 میں العربیہ کو دیے ایک انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا ’اندرونی مسئلہ ہے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی ٹی پی نہ تو افغانستان میں آپریٹ کرتی ہے اور نہ ہی افغان سرزمین استعمال کرتی ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان اپنی سکیورٹی کی ناکامی کو چھپانے اور بیانیہ بنانے کے لیے ان حملوں کا قصوروار افغانستان کو قرار دیتا ہے۔
افغان امور کے ماہر اور تجزیہ کار طاہر خان کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی یہ رپورٹ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے کیونکہ وہ بارہا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک کی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طاہر خان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ افغان طالبان کو اقتدار میں آئے پانچ برس مکمل ہونے پر بھی عالمی برداری کا یہی خیال ہے کہ افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سفارتی جمود برقرار ہے، تجارت اور لوگوں کی آمد و رفت بند ہے جبکہ ثالثی کی کوششیں بھی دیرپا کامیابی نہیں دلا سکی ہیں۔
اسلام آباد ٹی ٹی پی کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر چکا ہے مگر طاہر خان کے بقول اس وقت تک پاکستان طالبان کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے غیر مطمئن ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان میں کچھ اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جیسے اسے سرحدوں سے دور کیا گیا ہے اور اصلاحی کمیشن کے نام سے حکومتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’افغان طالبان میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر کسی گروہ کے خلاف کوئی ایسی فوجی کارروائی نہیں کرنا چاہتے جو افغانستان میں ایک اور تنازع کھڑا کرے۔‘
ان کی رائے ہے کہ اگر طالبان امیر چاہیں تو وہ اپنے تعلقات کی بنیاد پر ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں سے روک سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد افغانستان کے ’دارالافتا‘ کی جانب سے جاری کردہ فتوی سے مطمئن نہیں اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حملوں کی باضابطہ مذمت بھی کی جائے۔
مگر طاہر خان کہتے ہیں کہ افغانستان میں ایسا ہونا مشکل ہے کیونکہ اسلام آباد کی جانب سے سرحد پار کی جانے والی فضائی کارروائیوں پر وہاں بھی کافی غصہ پایا جاتا ہے۔ اُن کے مطابق دونوں جانب اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے تو اُن کی نہیں خیال کہ طالبان عوامی سطح پر ٹی ٹی پی کے خلاف کسی اقدام یا کارروائی کا اعلان کریں گے۔