آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی میں پسند کی شادی کرنے والے نوبیاہتا جوڑے کے قتل کے الزام میں مقتولہ کا بھائی گرفتار: ’نائن ایم ایم پستول سے سات گولیاں چلائیں‘
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
کراچی میں پولیس نے نوبیاہتا جوڑے کے قتل کے الزام میں دوہرے قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے لڑکی کے بھائی کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے پولیس کے مطابق یہ بیان دیا ہے کہ اس نے غیرت میں یہ قتل کیے۔
پیر کے روز ملیر کی مقامی عدالت میں پیشی کے چند گھنٹوں بعد 26 سالہ نجیع اللہ اور اس کی 20 سالہ اہلیہ نادیہ کو سعود آباد کے علاقے میں دن دیہاڑے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
پولیس کو علاقے سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں میاں بیوی ایک سفید رنگ کی آلٹو کار میں سوار ہیں جب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد ان پر فائرنگ کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔
نجیع اللہ اور نادیہ دونوں نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور نکاح نامہ عدالت میں جمع کروایا تھا۔ اس جوڑے نے جج کے سامنے بیان بھی دیا تھا کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں مگر عدالت سے باہر نکلتے ہی ان کے تعاقب میں موجود افراد نے انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔
ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کے مطابق مقتول جوڑے کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے تھا اور وہ کراچی کے علاقے سچل گوٹھ میں رہائش پذیر تھے۔
لڑکی کے والد کا بیٹی کو ورغلا کر اغوا کرنے کا الزام
نجیع اللہ کے بھائی عثمان کی جانب سے دائر مقدمے میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ پیر کی صبح نجیع اللہ اور نادیہ ملیر کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ عدالت میں لڑکی کے والدین، سابق منگیتر اور دیگر رشتہ دار بھی موجود تھے۔
مدعی کے مطابق عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد نجیع اللہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک آلٹو گاڑی میں حیدرآباد کے لیے روانہ ہوئے اور ڈرائیور نے راستے میں سعود آباد کے قریب پٹرول ڈلوانے کے لیے گاڑی روکی۔
ایف آئی آر کے مطابق ’اسی دوران دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار افراد وہاں پہنچے۔ نجیع اللہ نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ڈرائیور سے کہا کہ یہ لوگ ہمارا پیچھا کر رہے ہیں، گاڑی بھگاؤ مگر انہیں فرار کا موقع نہ مل سکا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب نادیہ کے والد محمد سلیم نے چند روز قبل اپنی بیٹی کے اغوا کی رپورٹ درج کروائی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کسی نامعلوم شخص نے ان کی بیٹی کو ورغلا کر اغوا کیا۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ نادیہ کو زبردستی یا زنا کی نیت سے لے جایا گیا تاہم بعد میں عدالت میں نادیہ نے واضح طور پر کہا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی۔
’مقتولین کے جسم پر متعدد گولیاں لگی تھیں‘
پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے سٹوڈنٹ بیکری، سعود آباد کے قریب گاڑی کو گھیر لیا۔ ’ایک موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے گاڑی کے قریب فائرنگ شروع کر دی۔ نجیع اللہ اور نادیہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ڈرائیور خوفزدہ ہو کر گاڑی چھوڑ کر بھاگ گیا جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دونوں مقتولین کے جسم پر متعدد گولیاں لگی تھیں، پولیس نے مقدمہ دفعہ 302، 109 اور 34 کے تحت درج کر لیا۔
کورنگی پولیس نے نادیہ کے بھائی کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے پولیس کو بتایا کہ نادیہ اس سے ایک سال چھوٹی تھی اور خاندان نے پہلے اس کی شادی ساجد گوپانگ نامی شخص سے طے کی تھی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ رشتہ ’ساڑھے تین لاکھ روپے‘ میں طے ہوا تھا اور شادی کی تاریخ بھی مقرر ہو چکی تھی۔
ملزم کے مطابق، نادیہ گھر سے چلی گئی تھی اور بعد میں عدالت میں اس سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ فائرنگ اسی نے کی اور اس کے پاس نائن ایم ایم پستول تھا، جس سے اس نے سات گولیاں چلائیں۔
پاکستان کے صوبہ سندھ میں رواں مہینے اس نوعیت کا یہ تیسرا سنگین واقعہ ہے۔
گزشتہ ہفتے شمالی سندھ کے ضلع قمبر شھداکوٹ میں کورٹ میریج کرنے پر ملزمان نے کاشف میئو کے دو بھائیوں کو قتل کردیا تھا جبکہ اس سے پہلے جیکب آباد کے علاقے ٹھل میں لو میریج پر لڑکے حسن برڑو کے پورے گاؤں کو آگ لگا دی گئی تھی۔