اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں جبکہ حزب اللہ نے ’غیر ملکی سرپرستی‘ اور تقسیم کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع کے شہروں اور دیہاتوں میں اسرائیلی فضائی حملے شدت اختیار کر گئے، جب اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ حزب اللہ کو ’کچل دیا جائے‘۔
ان بیانات کے بعد بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی، کیونکہ لوگوں کو خدشہ تھا کہ ان علاقوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حزب اللہ کے جنگجو مقبوضہ لبنانی علاقوں میں اسرائیلی افواج اور شمالی اسرائیل کے مقامات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جنھیں حزب اللہ لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کا ردعمل قرار دیتی ہے۔
اپنی جانب سے، لبنانی حزب اللہ نے لبنانی آئین کے اجرا کی صد سالہ تقریب کے موقع پر طائف معاہدے کے بعد ترمیم شدہ آئین کو تنازعات کے حل اور ریاستی امور کے نظم و نسق کے لیے بنیادی حوالہ قرار دینے پر زور دیا۔
لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاری بیان میں جماعت نے ’تقسیم، وفاقیت اور آبادکاری‘ کے منصوبوں کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ آئین کی روح اور لبنان کے اتحاد کے خلاف ہیں اور تنوع کو اختلاف اور تنازعے کا ذریعہ بناتے ہیں۔
حزب اللہ کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ نظام اب ایک مستحکم اور منصفانہ ریاست قائم کرنے کے قابل نہیں رہا، اور طائف معاہدے کی اصلاحات کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کیا، خاص طور پر سیاسی فرقہ واریت کے خاتمے اور ’شہری ریاست‘ کے قیام پر زور دیا۔
جماعت نے مزید کہا کہ ’قابض کے خلاف مزاحمت‘ ایک جائز حق ہے جو لبنانی آئین اور عرب و بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ ہے، اور اسرائیلی خطرے کے پیش نظر لبنان سے ’طاقت کے عناصر‘ کو ختم کرنا طائف معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ’دشمنی، قبضے اور مسلسل خطرے‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کسی بھی قسم کے معمول کے تعلقات کو مسترد کیا گیا ہے۔
حزب اللہ نے لبنان کو جارحیت اور بیرونی مداخلت سے بچانے اور ’خودمختاری، شراکت داری اور اصلاحات‘ کی بحالی کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ لبنان ’صرف متحد، خودمختار، آزاد اور قابض کے خلاف مزاحمت کرنے والا ہو کر ہی باقی رہ سکتا ہے۔‘
اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ شمالی اسرائیل کے علاقے ساسا میں، جو لبنان کی سرحد کے قریب ہے، ’دشمن طیارے‘ کی ممکنہ دراندازی کے الرٹ سائرن بجائے گئے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے مشرقی لبنان کی وادیِ بقاع سمیت ملک بھر میں ’حزب اللہ کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا، جب کہ نیتن یاہو نے پیر کی رات خطاب میں کہا کہ اسرائیل ’حزب اللہ کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے‘ اور فوج کو اسے ’کاری ضرب‘ لگانے کی ہدایت دی ہے۔
ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے پیر کے روز شمالی اسرائیل میں تین فوجی بیرکوں اور ایک فوجی مقام پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کیے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل نے لبنان میں حملے مزید تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جماعت نے متعدد بیانات میں کم از کم چار ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں شمرا بیرک، شمالی اسرائیل کے دو شہروں میں واقع بیرکوں اور مصغاف عام کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان اور اسرائیل نے اسی ماہ جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس دوران جھڑپیں جاری رہیں۔
ابتدائی جنگ بندی کے بعد اب تک 10 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان میں اسی عرصے کے دوران شدید اسرائیلی گولہ باری میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد طبی عملے اور امدادی کارکنوں کی تھی۔
اسرائیل نے اس کے جواب میں پورے لبنان میں فضائی مہم شروع کی اور پھر زمینی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 3,185 افراد ہلاک اور 9,633 زخمی ہوئے۔