بلوچستان میں 400 سے زائد قیمتی سرکاری بھیڑوں کا ’اغوا‘: ’کروڑوں کا نقصان ہوا ہے‘

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

بلوچستان کے ضلع پشین کے سرحدی علاقے میں محکمہ لائیوسٹاک کی چار سو سے زائد بھیڑیں چھینے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں سرکاری حکام کے مطابق مسلخ کے علاقے میں قائم فارم کے ملازمین کو یرغمال بنانے کے بعد مسلح افراد بھیڑیں ہانکتے ہوئے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

اس فارم پر قرہ قل نسل کی بھیڑوں کی افزائش ہوتی تھی جن کی کھالیں قرہ قلی ٹوپی یا جناح کیپ بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق مسلخ فارم میں پیش آنے والے واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کسی سرکاری فارم سے اتنی بڑی تعداد میں بھیڑوں کو چھیننے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

بی بی سی نے اس واقعے کی معلومات کے لیے جب محکمہ لائیو سٹاک کے وزیر میر فیصل خان جمالی سے رابطہ کیا تو انھوں نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ لائیو سٹاک اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔

ایف آئی آر میں کیا درج ہے؟

اس واقعے کی ایف آئی آر محکمہ لائیوسٹاک کے متعلقہ سٹاک اسسٹنٹ عبدالمنان کی مدعیت میں پولیس تھانہ سلطان پشین میں درج کی گئی ہے۔

ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعات 365 اور 397 کے تحت درج کی گئی جس کے مطابق ان بھیڑوں کو بندوق کی نوک پر چھیننے کا واقعہ 16 مئی کو پیش آیا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ چھ مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر ضلع پشین کے سرحدی علاقے کوڑائی کیمپ مسلخ آئے اور وہاں پر موجود محکمے کے دو ملازمین کو یرغمال بنایا۔

ایف آئی آر کے مطابق مسلح افراد بھیڑوں اور یرغمال بنائے جانے والے دونوں ملازمین کو لیکر ضلع کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں داخل ہوئے جہاں انھوں نے دونوں ملازمین کو چھوڑ دیا جبکہ 406 بھیڑوں کو غوغاڑ کے پہاڑی علاقے کی جانب لے گئے۔

کوئٹہ میں ایک پولیس آفیسر نے بتایا کہ مسلخ شیپ فارم پر موجود جن ملازمین کو مسلح افراد یرغمال بنانے کے بعد لے گئے تھے ان سے بھی تفتیش جاری ہے۔

محکمہ لائیو سٹاک کے ان دونوں ملازمین نے ابتدائی تفتیش کے دوران بتایا کہ مسلح افراد نے ان کو بتایا کہ ان کا تعلق ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے ہے۔

تاہم ابھی تک کسی کالعدم تنظیم کی جانب سے سرکاری فارم سے بھیڑوں کو چھیننے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

عام بھیڑوں کے مقابلے میں قیمت کہیں زیادہ

محکمہ لائیو سٹاک کے ایک سابق ڈائریکٹر جنرل غلام رسول تاج نے بتایا کہ مسلخ قرہ قل نسل کی بھیڑوں کی افزائش کے لیے تین چار دہائی قبل بنایا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس نسل کی بھیڑوں کی کھال کی اہمیت زیادہ تھی اور قرہ قلی ٹوپی جسے ہمارے ملک میں جناح کیپ کہا جاتا ہے اسی نسل کے نوزائیدہ بچوں کی کھال سے تیار کیا جاتا ہے۔

یہاں یہ جان لیں کہ چند دہائیوں قبل جناح کیپ کا فیشن بہت مقبول تھا لیکن اب اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

غلام رسول تاج نے بتایا کہ ’اپنے گوشت کے حوالے سے بھی بھیڑوں کی دیگر نسلوں سے اچھی ہوتی ہے اس لیے اس کی قیمت بھی بلوچستان کے عام بھیڑوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس نسل کے بھیڑوں کی ایک بہت بڑی تعداد چھینی گئی ہے اور اس لحاظ سے نقصان کروڑوں روپے کا ہوگیا ہے ۔

دوسری جانب ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ قرہ قل نسل اب نایاب ہو چکی ہے اور یہ بھیڑیں اب صرف لائیو سٹاک کے محکمہ کے پاس افزائش ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق محکمہ لائیو سٹاک کے پاس سے (گن پوائنٹ پر) لے جانے والی بھیڑوں کی قیمت اندازہ ڈھائی سے تین کروڑ کے درمیان ہو سکتی ہے تاہم حساس معاملے کے سبب اس کا حتمی تخمینہ نہیں دیا جا سکتا۔

مسلخ میں قائم بھیڑوں کا فارم بلوچستان میں محکمہ لائیو سٹاک کے ان فارموں میں شامل ہے جہاں جانوروں کی اہم اور منافع بخش نسلوں کی افزائش کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ مسلخ کوئٹہ سے شمال مغرب میں اندازاً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور انتظامی لحاظ سے ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کا علاقہ ہے۔

یہ پشین کا ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں اس کی سرحد ایک جانب ضلع کوئٹہ سے لگتی ہے جبکہ دوسری جانب یہ بلوچستان کے ضلع مستونگ سے بھی متصل ہے۔

یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے اور اس علاقے سے متصل ضلع کوئٹہ کے علاقے پنجپائی کی سرحد افغانستان سے لگتی ہے۔

’شاید اس عید پر اس نسل کی بھیڑیں دستیاب نہ ہوں‘

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سرکاری فارمز سے بھی عیدالاضحٰی پر فروخت کے لیے اور بھیڑ اور بکرے لائے جاتے ہیں۔

سابق ڈائریکٹر جنرل غلام رسول تاج نے دعویٰ کیا کہ لائیو سٹاک کے فارمز سے آنے والے جانور عام جانوروں کے مقابلے میں صحت مند ہوتے ہیں اس لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد لائیو سٹاک قربانی کے جانور خریداری کے لیے آتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ محکمے کے ڈائریکٹر جنرل تھے تو مسلخ سے بھی بھیڑیں عید کے موقع پر فروخت کے لیے لائی جاتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی بہت بڑی تعداد کی چھینے جانے کے باعث شاید اس مرتبہ مسلخ فارم کی بھیڑیں سرکاری سطح پر فروخت کے لیے دستیاب نہ ہوں ۔

تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل

بلوچستان میں کسی بھی سرکاری شیپ فارم سے اتنی بڑی تعداد میں بھیڑوں کے گن پوائنٹ پر چھیننے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

غلام رسول تاج کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بلوچستان میں محکمہ لائیو سٹاک کے کسی فارم سے اتنی بڑی تعداد میں جانوروں کے چھینے جانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

تاہم گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں میں ایک سرکاری ڈیری فارم سے بڑی تعداد میں گاِئیں چھیننے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

مسلخ شیپ فارم سے بھیڑیں چھیننے کے واقعے کے حوالے سے کوئٹہ میں محکمہ لائیوسٹاک کے دو سینیئر افسروں سے رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے موقف دینے سے گریز کیا۔

ان میں سے ایک نے کہا کہ اس فارم کا انتظام ان کے پاس نہیں بلکہ دوسرے آفیسر کے پاس ہے۔

جب دوسرے آفیسر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے پہلے کہا کہ وہ میٹنگ میں ہیں تاہم بعد میں رات دیر تک انھوں نے کال وصول نہیں کی۔

تاہم جب محکمہ لائیو سٹاک کے وزیر میر فیصل خان جمالی سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ محکمہ لائیو سٹاک اس معاملے کو دیکھ رہا ہے ۔

ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے بعض اہم سراغ ملے ہیں لیکن تاحال جہاں تک بھیڑوں کی برآمدگی کی بات ہے تو تاحال یہ ممکن نہیں ہوسکی ۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے ملزمان کی گرفتاری اور بھیڑوں کی برآمدگی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

سرکاری اہلکار نے بتایا کہ محکمہ لائیوسٹاک نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے جو کہ فارم سے متعلقہ ملازمین سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔