وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ایک صوبائی رکنِ اسمبلی اور ایک معروف میڈیا شخصیت سے متعلق حالیہ معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے، تاہم اس کو قانون اور میرٹ کے مطابق نمٹایا جائے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مریم نواز نے کہا کہ کسی خاتون کو ہراساں کرنے، دھمکانے یا استحصال کرنے کی کوشش میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص، چاہے اس کا عہدہ، حیثیت یا سیاسی تعلق کچھ بھی ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں آئین اور قانون کے مطابق ادا کریں گے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی خاتون کو ذاتی مواد عام کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرنے یا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ان کے بقول اسے ملوث افراد کے لیے ایک واضح اور سنجیدہ پیغام سمجھا جائے۔
واضح رہے کہ تین روز قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک لیگی ایم پی اے کی جانب سے انھیں اور ان کے خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر مختلف اداروں میں شکایات درج کرا چکی ہیں، تاہم ملزم کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کی شکایت کو دبایا جا رہا ہے۔
جمعے کو ثاقب چدھڑ نے اداکارہ مومنہ اقبال سے متعلق معاملے پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے گذشتہ آٹھ ماہ سے مومنہ اقبال کو کوئی کال نہیں کی اور اب ان کا ان سے کوئی رابطہ بھی نہیں ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اس حوالے سے تمام ریکارڈ موجود ہے اور مومنہ اقبال ’ویمن کارڈ‘ استعمال کر رہی ہیں۔
ثاقب چدھڑ کے مطابق اداکارہ کے ہونے والے شوہر نے ان کے موبائل میں ان کی ایک ویڈیو دیکھی، جس کے بعد انھوں نے غصے میں آ کر انھیں کال کر کے دھمکی دی۔ جبکہ ان کے بقول اداکارہ کی والدہ اور خود اداکارہ نے بھی انھیں فون کر کے معذرت کی ہے اور درگزر سے کام لینے کی درخواست کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر انھوں نے تھانے میں درخواست بھی دی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ انھیں ایک مخصوص نمبر سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
لیگی رکنِ اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ انھیں بعد میں معلوم ہوا کہ مومنہ اقبال شادی کرنے جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر انھوں نے کبھی مومنہ اقبال کو کال کی ہو تو اس کے ثبوت پیش کیے جائیں۔
گذشتہ روز کی پیشی کا احوال
تاہم گذشتہ دن اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ ن کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر میں اپنے اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہوئے۔ مومنہ اقبال کی جانب سے این سی سی آئی اے میں لیگی ایم پی اے کے خلاف ثبوت بھی جمع کروائے گئے ہیں۔
اس کے بعد این سی سی آئی اے نے اداکارہ مومنہ اقبال اور چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو لاہور میں طلب کیا۔
اداکارہ کی درخواست میں ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ ’وزیراعلی مریم نواز نے مومنہ اقبال کیس کا سختی سے نوٹس لیا ہے، اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کی فیملی کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وزیراعلیٰ مریم نواز کے لیے خواتین ریڈ لائن ہیں، ان کی ہراسانی یا ذہنی اور تشدد بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
اداکارہ کے وکیل نے پیشی کے بعد میڈیا کو کیا بتایا؟
پیشی کے بعد مومنہ اقبال کے وکلا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ اداکارہ کی شادی طے ہونے کے بعد خراب ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم پی اے اداکارہ سے شادی کے خواہاں تھے اور اس سلسلے میں رشتہ بھی بھجوایا گیا تھا۔
وکلا کے مطابق دونوں کے درمیان 2022-23 کے دوران تعلقات رہے، تاہم بعد میں مومنہ اقبال کو معلوم ہوا کہ ایم پی اے پہلے سے شادی شدہ ہیں اور وہ تیسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر اداکارہ نے تعلق ختم کر دیا اور ان کی شادی کہیں اور طے ہو گئی، جس کی تقریب آئندہ جون میں متوقع ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ مومنہ اقبال کا رشتہ طے ہونے کے بعد ایم پی اے نے انھیں ہراساں کرنا شروع کیا اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اداکارہ کے ہونے والے شوہر کے خلاف ایک بے بنیاد مقدمہ بھی درج کروایا۔
وکلا کا کہنا تھا کہ اداکارہ کی شادی کی تیاریوں میں مصروف افراد کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے، تاہم شادی طے شدہ تاریخ پر ہی ہوگی۔ ان کے مطابق تمام شواہد متعلقہ حکام کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔ انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انھوں نے معاملے کا نوٹس لیا اور سکیورٹی فراہم کی۔
ایم پی اے کے وکیل نے کیا صفائی دی؟
دوسری جانب این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیشی سے قبل ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر غیر مناسب مواد اپ لوڈ کیے جانے کے حوالے سے نوٹس موصول ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی مؤقف دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہراساں کیے جانے کے الزامات زیرِ گردش ہیں، تاہم این سی سی آئی اے ایسے معاملات کے لیے موزوں فورم نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر سوشل میڈیا پر کوئی غیر قانونی مواد شائع کیا گیا ہے تو اس حوالے سے معلومات حاصل کر کے قانونی کارروائی میں حصہ لیا جائے گا۔