آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ثالثی کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں موجود، امریکہ کو ایران سے جلد معاہدے کی توقع

پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جاری ثالثی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق تہران آمد پر اُن کا استقبال اور پُرتپاک خیرمقدم ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کیا، جہاں محسن نقوی بھی استقبالیہ تقریب میں موجود تھے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جاری ثالثی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچ گئے ہیں
  • وزیر اعظم 23 مئی کو چین کے دورے پر روانہ ہوں گے اور اپنے اس دورے کے دوران وہ ایران امریکہ مذاکرات پر بات کریں گے: پاکستانی دفتر خارجہ
  • امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹول (فیس) لینے کا نظام نافذ کرتا ہے تو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدہ ممکن نہیں رہے گا۔
  • امریکہ نے ایران جنگ کے باعث تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت مؤخر کر دی
  • ایران کا کہنا ہے کہ فی الحال مذاکرات کا مرکز صرف لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر ہے اور میڈیا میں کیے جانے والے دعوے، بشمول افزودہ موادمحض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ پولینڈ میں مزید 5000 فوجی بھیجے گا، حالانکہ ایک ہفتہ پہلے پینٹاگون نے وہاں 4000 فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کر دیا تھا۔
  • پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تہران میں ملاقات کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کوئٹہ کے قریب نامعلوم افراد کے حملے میں دو سرکاری اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں دو سرکاری اہلکار ہلاک ہو گئے۔

    دونوں اہلکار، جو آپس میں سگے بھائی تھے، کو نامعلوم مسلح افراد نے جمعہ کی شام ضلع مستونگ کے علاقے غنجہ ڈوری میں نشانہ بنایا۔

    سرکاری حکام کے مطابق مارے جانے والے افراد کی شناخت فنانس آفیسر فرید اللہ شاہ اور ان کے بھائی انعام اللہ شاہ کے ناموں سے ہوئی۔ انعام اللہ شاہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے ملازم تھے۔

    اس حملے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔

    دریں اثنا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزیر اعلیٰ نے واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے۔

    دریں اثنا بلوچستان کے ضلع پشین میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ایک کارروائی میں حکام کے مطابق چار مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق خفیہ معلومات کی بنیاد پر یہ کارروائی ضلع پشین کے علاقے سرخاب میں کی گئی۔

    ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران مبینہ شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں چار شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

    ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا گیا۔

    ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی لاشیں سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دی گئیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا۔

    تاحال ان افراد کی ہلاکت اور کسی کالعدم تنظیم سے تعلق کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

  2. پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی

    پاکستانی حکومت نے عید الاضحیٰ سے کچھ روز قبل پیٹرول کی قیمت میں چھ روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وزارت توانائی میں پیٹرولیئم ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر چھ روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں بھی فی لیٹر 6 روپے 80 پیسے کی کمی کی گئی ہے۔

    اس کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 403 روپے 78 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 402 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

    گذشتہ ہفتے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ، پانچ روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔

  3. ایران کی جانب سے قطری وفد کے دورے کی تصدیق

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ ایک قطری وفد جمعے کو تہران میں موجود تھا جس نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات چیت کی ہے۔

    تفصیلات بتائے بغیر انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مختلف ممالک نے وزیر خارجہ سے بات کی ہے۔ تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث پاکستان ہے۔

    اس سے قبل روئٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ قطر کا ایک وفد تہران پہنچا ہے۔

    قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب وہ تین ممالک تھے جن کے بارے میں ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ انھوں نے ان کی درخواست پر ایران پر حملہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔

  4. قلات میں ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے افسر سمیت دو اہلکار ’اغوا‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع قلات سے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے ایک سینیئر افسر سمیت دو اہلکاروں کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے۔

    قلات میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ژوب میں تعینات ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد وسیم اپنے باورچی کے ہمراہ 20 مئی کو ژوب سے کوئٹہ پہنچے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کوئٹہ سے وہ ایک کرائے کی گاڑی میں کراچی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب وہ قلات پہنچے تو ’نامعلوم مسلح افراد نے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ان کے باورچی کو اغوا کر کے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے‘ جبکہ گاڑی میں سوار ایک مسافر اور ڈرائیور کو چھوڑ دیا۔

    سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق مغوی آفیسر اور اہلکار کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاحال سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں گذشتہ چند دنوں سے قومی شاہراہوں پر معدنیات لے جانے والے گاڑیوں پر حملوں اور اغوا کے واقعات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ گذشتہ شب ضلع زیارت میں مانگی کے علاقے سے پولیس کے ایک ایس ایچ او سمیت تین افراد کو اغوا کرلیا گیا۔

    13مئی کو کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کھوچہ سے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور پرسنل سٹاف آفیسر اور ڈرائیور کو اغوا کرلیا گیا تھاُ۔ دس روز گزرنے کے باوجود تاحال گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر اہلکاروں کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی۔

  5. مارکو روبیو نے امریکی فوجی تعیناتیوں پر نیٹو اتحادیوں کو اعتماد میں لیا, پولین کولا، بی بی سی

    سویڈن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق امریکی فیصلوں پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا ہے۔

    خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ پولینڈ میں مزید پانچ ہزار فوجی تعینات کرے گا۔

    یہ فیصلہ اُس کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا جب ملک میں چار ہزار فوجیوں کی مجوزہ تعیناتی منسوخ کر دی گئی تھی اور چند دن بعد یہ اعلان بھی ہوا تھا کہ امریکہ جرمنی سے اپنے فوجی واپس بلائے گا۔

    یہ اعلانات نیٹو اتحادیوں کے لیے باعث تشویش تھے۔ تاہم جمعے کو نیٹو اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں روبیو نے کہا کہ ’امریکہ اپنی عالمی ذمہ داریوں کے پیش نظر مسلسل اپنے فوجی وجود کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔‘

    امریکی فوجی اس وقت مشرق وسطیٰ میں بھی موجود ہیں جہاں امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے ساتھ تنازع جاری ہے۔

    ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ فیصلہ پولینڈ کے صدر کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا جن کی انھوں نے گذشتہ برس صدارتی انتخابات میں حمایت کی تھی اور جو طویل عرصے سے ان کے حامی رہے ہیں۔

    امریکی صدر نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اضافی فوجی پہلے سے طے شدہ تعیناتی کا حصہ ہیں یا الگ اقدام۔

    سویڈن کی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ واقعی الجھن پیدا کرنے والی صورت حال ہے اور اسے سمجھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

    تاہم ان کے امریکی ہم منصب نے کہا کہ اتحاد کے اندر یہ بات اچھی طرح سمجھ لی گئی ہے کہ یورپ میں امریکی فوجیوں کی موجودگی میں تبدیلی کی جائے گی۔

    روبیو نے کہا کہ یہ عمل پہلے ہی جاری تھا اور اسے اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں رہ کر انجام دیا گیا ہے۔ تشویش کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ اس پر خوش ہوں گے لیکن وہ یقینی طور پر اس سے آگاہ ہیں۔‘

    امریکہ نیٹو کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا رکن ہے۔ اس نے سوویت دور سے کئی دہائیوں تک یورپی ممالک میں فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے۔

    فروری 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے دفاع کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھے۔

    جرمنی میں 36 ہزار امریکی فوجی، اٹلی میں تقریباً 12 ہزار، برطانیہ میں 10 ہزار اور پولینڈ میں بھی اندازاً 10 ہزار فوجی موجود ہیں۔

    ٹرمپ اکثر نیٹو پر تنقید کرتے رہے ہیں اور بعض اوقات یورپی اتحادیوں اور کینیڈا کی جانب سے امریکہ کے مقابلے میں کم مالی شراکت کے باعث امریکہ کو اتحاد سے نکالنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

    اس کے نتیجے میں کئی ممالک نے اب اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

    تاہم امریکی صدر نیٹو ممالک کی جانب سے ایران کے ساتھ تنازع میں امریکہ کی مدد نہ کرنے پر بھی ناراض رہے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے حالیہ ہفتوں میں اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے ’امریکہ فرسٹ‘ ایجنڈے کے تحت یورپ میں مجموعی فوجی تعداد کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے صحافیوں کو بتایا کہ یورپ کا امریکہ پر کم انحصار کرنے کی جانب رجحان جاری رہے گا۔

    سویڈن میں امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ امریکی سیاست میں ہمیشہ نیٹو اتحاد میں امریکہ کے کردار پر بحث ہوتی رہی ہے۔

    روبیو نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ نیٹو یورپ کے لیے اہم ہے اور ایسا ہونا چاہیے، لیکن اسے امریکہ کے لیے بھی اہم ہونا چاہیے۔‘

  6. فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے: آئی ایس پی آر

    پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جاری ثالثی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچ گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تہران آمد پر اُن کا استقبال اور پرتپاک خیرمقدم ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کیا، جہاں محسن نقوی بھی استقبالیہ تقریب میں موجود تھے۔

  7. ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کے دوران ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے پاس دنیا کی سب سے عظیم فوج ہے‘۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے انھیں سخت نشانہ بنایا اور ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا کیونکہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ وہ اسے حاصل نہیں کر سکتے۔‘

  8. صحافیوں کا استحصال بند کیا جائے، پارلیمنٹ پیکا سمیت ان تمام قوانین پر نظرثانی کرے جو آئین کے منافی ہیں: نیشنل جرنلسٹس کنونشن

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والے نیشنل جرنلسٹس کنونشن کے اعلامیے میں پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ایک ’سیاہ قانون‘ قرار دیا گیا ہے، جسے خاص طور پر صحافیوں کو زبردستی دبانے اور پاکستان کے میڈیا کے منظرنامے کو کچلنے کی سہولت کاری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان تمام قوانین پر نظرثانی کرے جو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 کے منافی ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم حکومت کے اس پختہ وعدے کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں کہ ان قوانین کو کبھی بھی پریس کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حکام نے اس کے بجائے عدالتی ہراسانی کی مہم کو تیز کر دیا ہے، جس میں صحافیوں کو پروازوں سے من مانے طریقے سے اتارنا اور بیرونِ ملک پیشہ ورانہ سفر پر پابندیاں لگانا شامل ہے، جس سے خوف اور دھمکیوں کا ایک ہمہ گیر ماحول پیدا ہو رہا ہے۔‘

    یہ کنونشن میڈیا مالکان کی جانب سے جاری جبری برطرفیوں اور جان بوجھ کر پیدا کردہ ملازمت کے عدم تحفظ پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کے شعبے میں جہاں بغیر کسی جواز کے چھانٹیاں کی جا رہی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق اس صورتحال میں ریکارڈ مہنگائی کے باعث سینکڑوں پیشہ ور افراد بے روزگار ہو رہے ہیں۔

    کنونشن نے اعلان کیا کہ ’ہم ان بڑے پیمانے پر ہونے والی برطرفیوں کو میڈیا کو حکومتی اداروں کے کنٹرول میں لانے کا ایک منظم منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ ہم مزید برآں ویج بورڈ اور قومی لیبر قوانین کو بائی پاس کرنے اور ’سیٹھ مافیا‘ کے مفادات کو پورا کرنے کے حربے کے طور پر تھرڈ پارٹی ہائرنگ متعارف کرانے کی مذمت کرتے ہیں۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ کنونشن صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ملازمت کے بنیادی حقوق، بشمول ہیلتھ انشورنس، گریجویٹی اور ای او بی آئی رجسٹریشن و فوائد سے محروم رکھنے کی سخت مذمت کرتا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ایسا انکار محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ کارکنوں کے وقار، تحفظ اور قانونی حقوق کی دانستہ خلاف ورزی ہے۔ ’ہم الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کرنے والے صحافیوں، میڈیا ورکرز اور ٹیکنیشنز کی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے پارلیمانی ایکٹ کے ذریعے ایک واضح ایمپلائمنٹ اسٹرکچر کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

    اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’یہ کنونشن حکومتی پالیسی پر سنگین تشویش کا اظہار کرتا ہے جس کے تحت سرکاری اشتہارات کو اداریہ کے مواد پر اثر انداز ہونے اور غیر رسمی ’پریس ایڈوائس‘ کے ذریعے سنسرشپ نافذ کرنے کے لیے مالی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر روزنامہ ڈان اس پالیسی کا شکار ہے۔ اسے نہ صرف سرکاری اشتہارات سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ ایسی صورتحال کا بھی سامنا ہے جس میں نجی کارپوریٹ سیکٹر کو اشتہارات روکنے کے لیے آمادہ کیا جا رہا ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’ہم اشتہاری فنڈز کے اجرا یا سرپرستی کو میڈیا ہاؤسز کی انتظامیہ کو مخصوص صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی خدمات ختم کرنے سے مشروط کرنے میں حکومت کے کردار کی خاص طور پر مذمت کرتے ہیں۔‘

    کنونشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پیکا کے تحت صحافیوں کے خلاف تمام مقدمات فوری اور غیر مشروط طور پر واپس لیے جائیں اور قانونی فریم ورک کا شفاف جائزہ لیا جائے تاکہ اسے سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

    ’ہم مزید برآں تمام بقایا جات اور تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ اصرار کرتے ہیں کہ معاشی جبر میڈیا کی آزادی پر براہِ راست حملہ ہے۔‘

    یہ کنونشن آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کے فوری نفاذ کا بھی مطالبہ کرتا ہے تاکہ کارکنوں کے معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ ’ہم نویں ویج بورڈ ایوارڈ کے عمل کو شروع کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں جس میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا شامل ہونا چاہیے۔‘

    کنونشن نے مزید مطالبہ کیا کہ تمام میڈیا ہاؤسز صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بغیر کسی امتیاز یا تاخیر کے ہیلتھ انشورنس، گریجویٹی اور ای او بی آئی رجسٹریشن و فوائد فراہم کریں۔ اعلامیے کے مطابق یہ قانونی حقوق اور ضروری تحفظات ہیں، نہ کہ مالکان کی صوابدید پر دیے جانے والے احسانات۔

    ان حقوق سے انکار کو لیبر قوانین اور انسانی وقار کی خلاف ورزی قرار دیا جانا چاہیے۔ ’ہم میڈیا مالکان پر زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی وقار کا احترام کریں اور کم تنخواہ پانے والے عملے کے حقوق کو ترجیح دیں۔‘

    اعلامیے کے مطابق یہ کنونشن آئی ٹی این ای کے چیئرمین کے تقرر کو سراہتا ہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ سربراہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے زیرِ التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کو ترجیح دیں گے۔

    ’ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ صحافت کوئی جرم نہیں ہے اور حکومت سچ بولنے والوں کو خاموش، ہراساں یا قید کر کے سچ کو نہیں دبا سکتی۔‘

    کنونشن نے میڈیا برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک فعال جمہوریت کے لیے اظہارِ رائے کا تحفظ اور صحافیوں و میڈیا ورکرز کا معاشی تحفظ ناقابلِ سمجھوتہ ہیں۔

  9. اسماعیل بقائی ایران کی امریکہ سے مذاکراتی ٹیم کے ترجمان مقرر

    ایران کی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایک حکم نامے کے ذریعے اسماعیل بقائی کو ٹیم کا ترجمان مقرر کر دیا ہے۔

    اسماعیل بقائی اس وقت ایرانی وزارتِ خارجہ کے بھی ترجمان ہیں۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بعد ہونے والے پہلے مذاکراتی دور میں، جو اسلام آباد میں منعقد ہوا، اسماعیل بقائی ایرانی وفد کے رکن کے طور پر پاکستان گئے تھے۔

    گذشتہ دو دنوں کے دوران پاکستان کے وزیر داخلہ کے دورہ ایران کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان اہم بات چیت جاری رہی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی (فارس) کے مطابق مذاکرات کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے تجاویز کا جائزہ لینا تھا۔

    دوسری جانب امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سویڈن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران جا رہے ہیں، ان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور امید ہے ایران سے جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔

  10. بریکنگ, فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں ہیں، امید ہے ایران سے جلد معاہدہ طے پا جائے گا: مارکو روبیو

    امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سویڈن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران جا رہے ہیں، ان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور امید ہے ایران سے جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران سے مذاکرات پاکستانی کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل ہماری پہلی ترجیح ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’امریکہ سے معاہدہ کرنے کے لیے ایران کو فیصلہ کرنا ہے۔‘

  11. ’یہ ذاتی نوعیت‘ کا معاملہ ہے، تاہم کسی خاتون کو ہراساں کرنے کے معاملے پر بلا امتیاز کارروائی ہوگی، مریم نواز کا انتباہ

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ایک صوبائی رکنِ اسمبلی اور ایک معروف میڈیا شخصیت سے متعلق حالیہ معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے، تاہم اس کو قانون اور میرٹ کے مطابق نمٹایا جائے گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مریم نواز نے کہا کہ کسی خاتون کو ہراساں کرنے، دھمکانے یا استحصال کرنے کی کوشش میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص، چاہے اس کا عہدہ، حیثیت یا سیاسی تعلق کچھ بھی ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں آئین اور قانون کے مطابق ادا کریں گے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی خاتون کو ذاتی مواد عام کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرنے یا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ان کے بقول اسے ملوث افراد کے لیے ایک واضح اور سنجیدہ پیغام سمجھا جائے۔

    واضح رہے کہ تین روز قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک لیگی ایم پی اے کی جانب سے انھیں اور ان کے خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر مختلف اداروں میں شکایات درج کرا چکی ہیں، تاہم ملزم کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کی شکایت کو دبایا جا رہا ہے۔

    جمعے کو ثاقب چدھڑ نے اداکارہ مومنہ اقبال سے متعلق معاملے پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے گذشتہ آٹھ ماہ سے مومنہ اقبال کو کوئی کال نہیں کی اور اب ان کا ان سے کوئی رابطہ بھی نہیں ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اس حوالے سے تمام ریکارڈ موجود ہے اور مومنہ اقبال ’ویمن کارڈ‘ استعمال کر رہی ہیں۔

    ثاقب چدھڑ کے مطابق اداکارہ کے ہونے والے شوہر نے ان کے موبائل میں ان کی ایک ویڈیو دیکھی، جس کے بعد انھوں نے غصے میں آ کر انھیں کال کر کے دھمکی دی۔ جبکہ ان کے بقول اداکارہ کی والدہ اور خود اداکارہ نے بھی انھیں فون کر کے معذرت کی ہے اور درگزر سے کام لینے کی درخواست کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر انھوں نے تھانے میں درخواست بھی دی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ انھیں ایک مخصوص نمبر سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    لیگی رکنِ اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ انھیں بعد میں معلوم ہوا کہ مومنہ اقبال شادی کرنے جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر انھوں نے کبھی مومنہ اقبال کو کال کی ہو تو اس کے ثبوت پیش کیے جائیں۔

    گذشتہ روز کی پیشی کا احوال

    تاہم گذشتہ دن اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ ن کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر میں اپنے اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہوئے۔ مومنہ اقبال کی جانب سے این سی سی آئی اے میں لیگی ایم پی اے کے خلاف ثبوت بھی جمع کروائے گئے ہیں۔

    اس کے بعد این سی سی آئی اے نے اداکارہ مومنہ اقبال اور چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو لاہور میں طلب کیا۔

    اداکارہ کی درخواست میں ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    رکن صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ ’وزیراعلی مریم نواز نے مومنہ اقبال کیس کا سختی سے نوٹس لیا ہے، اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کی فیملی کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیراعلیٰ مریم نواز کے لیے خواتین ریڈ لائن ہیں، ان کی ہراسانی یا ذہنی اور تشدد بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

    اداکارہ کے وکیل نے پیشی کے بعد میڈیا کو کیا بتایا؟

    پیشی کے بعد مومنہ اقبال کے وکلا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ اداکارہ کی شادی طے ہونے کے بعد خراب ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم پی اے اداکارہ سے شادی کے خواہاں تھے اور اس سلسلے میں رشتہ بھی بھجوایا گیا تھا۔

    وکلا کے مطابق دونوں کے درمیان 2022-23 کے دوران تعلقات رہے، تاہم بعد میں مومنہ اقبال کو معلوم ہوا کہ ایم پی اے پہلے سے شادی شدہ ہیں اور وہ تیسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر اداکارہ نے تعلق ختم کر دیا اور ان کی شادی کہیں اور طے ہو گئی، جس کی تقریب آئندہ جون میں متوقع ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ مومنہ اقبال کا رشتہ طے ہونے کے بعد ایم پی اے نے انھیں ہراساں کرنا شروع کیا اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اداکارہ کے ہونے والے شوہر کے خلاف ایک بے بنیاد مقدمہ بھی درج کروایا۔

    وکلا کا کہنا تھا کہ اداکارہ کی شادی کی تیاریوں میں مصروف افراد کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے، تاہم شادی طے شدہ تاریخ پر ہی ہوگی۔ ان کے مطابق تمام شواہد متعلقہ حکام کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔ انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انھوں نے معاملے کا نوٹس لیا اور سکیورٹی فراہم کی۔

    ایم پی اے کے وکیل نے کیا صفائی دی؟

    دوسری جانب این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیشی سے قبل ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر غیر مناسب مواد اپ لوڈ کیے جانے کے حوالے سے نوٹس موصول ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی مؤقف دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہراساں کیے جانے کے الزامات زیرِ گردش ہیں، تاہم این سی سی آئی اے ایسے معاملات کے لیے موزوں فورم نہیں ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر سوشل میڈیا پر کوئی غیر قانونی مواد شائع کیا گیا ہے تو اس حوالے سے معلومات حاصل کر کے قانونی کارروائی میں حصہ لیا جائے گا۔

  12. بریکنگ, فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر روانہ ہو گئے: پاکستانی سرکاری میڈیا

    پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر نشر کی ہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج سرکاری دورے پر ایران روانہ ہو گئے ہیں۔

    پی ٹی وی کو ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران-امریکہ مذاکرات، خطے میں امن کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر بات چیت کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق اپنے دورۂ ایران کے دوران آرمی چیف اہم ایرانی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

  13. ایران-امریکہ مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود دو نکات پر تعطل برقرار ہے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں، تاہم ایران کے یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے اہم معاملات پر اب بھی تعطل برقرار ہے۔

    عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سلسلہ وار پیغامات میں کہا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود بات چیت کے عمل میں ’محتاط امید‘ پائی جاتی ہے، تاہم ان کے بقول سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو منظم کرنے کے لیے ایک نئی بحری اتھارٹی قائم کی ہے، اور ایک نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات کے قریب واقع سمندری حدود تک اپنا کنٹرول بڑھا دیا ہے، جہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق مذاکراتی عمل میں دو بڑی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ ایک جانب امریکہ فوری طور پر جوہری پروگرام پر بات چیت چاہتا ہے، جبکہ ایران اس سے قبل 30 روزہ اعتماد سازی کا وقت دینے پر زور دے رہا ہے۔

    دوسری جانب آبنائے ہرمز میں فیس یا ٹول سسٹم کے قیام پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کا حتمی مسودہ تیار ہو چکا ہے، تاہم یہ دو بڑے نکات اب بھی کسی حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ان کے مطابق اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے ’واضح مؤقف، سمجھوتہ اور فیصلہ کن اقدامات‘ ضروری ہیں، اور انھوں نے خبردار کیا کہ ان معاملات کو حل نہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 35 جہاز، جن میں آئل ٹینکرز، کنٹینر جہاز اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل ہیں، ایرانی حکام کی اجازت سے آبنائے ہرمز سے گزرے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس عمل کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی نگرانی میں منظم کیا گیا، جسے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے نظام کو کنٹرول کرنے کی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے مجوزہ ’ٹول سسٹم‘ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ملک کے لیے بھی اس طرح کا اقدام قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

    ان کے مطابق، یہ نظام بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے اور اسے غیر قانونی اقدام سمجھا جائے گا۔

  14. پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ڈرون حملوں کی مذمت کی: ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ 17 مئی کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ڈرون حملے کیے گئے جن کی پاکستان نے شدید مذمت کی ہے اور دونوں برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات پر حملوں کے حوالے سے پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس میں بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کا چارٹر، اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے اصول شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

  15. پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے کوششیں جاری ہیں: ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اس ہفتے بھی مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے پرامن حل، مکالمے کے فروغ اور دیرپا استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھی ہیں۔

    اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے دو مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

    ان کے مطابق ان رابطوں میں دوطرفہ تعاون کے علاوہ خطے اور عالمی صورتحال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری پیش رفت اور پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

    ترجمان نے مزید بتایا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی اس سلسلے میں متحرک رہے اور مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

    ان کے مطابق 18 مئی کو اسحاق ڈار نے قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جبکہ 17 مئی کو مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعتی اور 16 مئی کو ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے رابطہ کیا، جن میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس ہفتے ایران کے دو اہم دورے کیے، 16 اور 20 مئی کو، جہاں انھوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ امور پر بات چیت کی۔

    واضح رہے کہ اس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ فیلڈ مارشل کے دورہِ ایران کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’فیلڈ مارشل دورہ ایران کررہے ہیں یا نہیں، نا اس کی تصدیق کرتے ہیں نا تردید۔‘

  16. نیٹو سربراہ کا پولینڈ میں 5,000 امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا خیرمقدم

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے امریکہ کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت وہ پولینڈ میں مزید پانچ ہزار فوجی تعینات کرے گا۔

    یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک ہفتے بعد کیا گیا ہے، جب پینٹاگون نے پولینڈ میں چار ہزار فوجیوں کی مجوزہ تعیناتی منسوخ کر دی تھی۔

    سویڈن میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ یورپ کا امریکہ پر انحصار کم کرنے کا عمل جاری رہے گا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی تعاون برقرار رہے گا۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ فیصلہ پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی کے ساتھ قریبی تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جن کی انھوں نے گذشتہ برس صدارتی انتخابات میں حمایت کی تھی۔

    تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ فوجی پہلے سے منسوخ کیے گئے منصوبے کا حصہ ہیں یا کوئی نئی تعیناتی ہے۔

    یورپ میں امریکی فوجی موجودگی پر سوالات

    وائٹ ہاؤس حالیہ ہفتوں میں یہ اشارہ دے چکا ہے کہ وہ اپنی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے تحت یورپ میں مجموعی فوجی تعداد کم کرنا چاہتا ہے۔

    دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نیٹو اتحادیوں کے رویے سے مایوس ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیا ہے۔

    سویڈن کے شہر ہیلسنگبورگ میں ہونے والے اجلاس میں مارکو روبیو نیٹو ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے اور ذمہ داریوں میں زیادہ حصہ ڈالنے پر زور دیں گے۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کو اپنی عالمی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی فوجی تعیناتی کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑتا ہے۔ یہ کوئی سزا دینے کا عمل نہیں ہے۔‘

    جرمنی سے فوجیوں کی واپسی

    اس سے قبل امریکہ نے جرمنی سے پانچ ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا، جس کی وجہ صدر ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرِش مرز کے درمیان ایران کے معاملے پر اختلافات بتائے گئے تھے۔

    تاہم یہ واضح نہیں کہ پولینڈ بھیجے جانے والے فوجی اسی فیصلے کا حصہ ہیں یا کسی الگ منصوبے کے تحت تعینات کیے جا رہے ہیں۔

    پولینڈ نیٹو کا ایک اہم رکن ہے اور روس کے قریب ہونے کی وجہ سے اسے یورپ کے دفاعی انتظام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

    پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی، جو صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ ہی واحد عالمی رہنما ہیں جو روس-یوکرین جنگ کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے یورپ میں فوجی موجودگی کے حوالے سے متضاد اشاروں نے نیٹو کے بعض اتحادیوں میں تشویش پیدا کی ہے، جبکہ کئی امریکی قانون سازوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ فوجیوں کے انخلا سے روس کو غلط پیغام جا سکتا ہے۔

    یورپ میں اس وقت امریکہ کے سب سے زیادہ فوجی جرمنی میں تعینات ہیں، جہاں ان کی تعداد 36 ہزار سے زائد ہے، جبکہ اٹلی اور برطانیہ میں بھی ہزاروں امریکی فوجی موجود ہیں۔

  17. امریکہ نے ایران جنگ کے باعث تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت مؤخر کر دی, کو ایو، بی بی سی نیوز

    امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہونگ کاؤ نے کہا ہے کہ امریکہ تائیوان کو 14 ارب ڈالر (تقریباً چار کھرب پاکستانی روپے) کے ہتھیاروں کی فروخت کو عارضی طور پر روک رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے لیے اپنے پاس کافی ہتھیار موجود رکھ سکے۔

    انھوں نے سینیٹ کی ایک سماعت کے دوران اس بات کی تصدیق کی۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد اس معاہدے کے حوالے سے غیر واضح موقف اختیار کیا تھا۔

    تائیوان کے صدارتی دفتر کے ترجمان نے جمعہ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ انھیں امریکہ کی جانب سے اس اسلحہ معاہدے میں کسی قسم کی تبدیلی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت بیجنگ کے لیے ہمیشہ ناراضی کا سبب بنتی رہی ہے کیونکہ چین اس خود مختار جزیرے کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور اسے طاقت کے ذریعے حاصل کرنے کے امکان کو رد نہیں کرتا۔

    ہونگ کاؤ نے سماعت کے دوران کہا کہ ’اس وقت ہم وقفہ لے رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے پاس ’ایپک فیوری‘ کے لیے کافی اسلحہ موجود ہے اور ہمارے پاس کافی مقدار میں موجود ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم صرف یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے پاس سب کچھ موجود ہو، اور پھر جب انتظامیہ مناسب سمجھے گی تو غیر ملکی فوجی فروخت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ تائیوانی حکام سے اس تعطل کے بارے میں کیا بات ہوئی ہے، تو کاؤ نے کہا کہ انھوں نے ’تائیوانی حکام سے بات نہیں کی‘۔

    یہ 14 ارب ڈالر کا پیکیج کئی مہینوں سے ٹرمپ کی منظوری کا منتظر ہے۔ اس میں فضائی دفاعی میزائل جیسے لاک ہیڈ مارٹن کے PAC-3 اور دیگر زمین سے فضا میں مار کرنے والے نظام شامل ہیں۔

    ٹرمپ نے ابھی تک اس پیکیج کی حتمی منظوری نہیں دی۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے فاکس نیوز کو بتایا کہ یہ ’چین کے ساتھ مذاکرات کا ایک بہت اچھا ہتھیار‘ ہو سکتا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ’جلد ہی‘ اس معاہدے پر فیصلہ کریں گے۔

    یہ بیانات بیجنگ میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے بعد سامنے آئے جہاں شی جن پنگ نے ٹرمپ سے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں سب سے اہم ہے۔

    بعد ازاں ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کے معاملے پر شی سے ’تفصیل سے بات کی‘ حالانکہ 1982 کے امریکی وعدے کے مطابق واشنگٹن نے بیجنگ سے اس معاملے پر مشاورت نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر براہ راست تائیوان کے صدر لائی چنگ-تے سے بات کریں گے، جو سفارتی روایات سے ہٹ کر ہوگا اور چین کو مزید ناراض کر سکتا ہے۔

    امریکی اور تائیوانی رہنماؤں کے درمیان کئی دہائیوں سے براہ راست رابطہ نہیں ہوا، تاہم ٹرمپ نے صدر بننے سے پہلے تائیوان کی سابق صدر سائی اِنگ وین سے گفتگو کی تھی۔

    گذشتہ دسمبر میں امریکہ کی جانب سے 11 ارب ڈالر کے اسلحہ پیکیج کی منظوری پر چین نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے ’آبنائے تائیوان میں خطرناک اور پرتشدد صورتحال پیدا ہو سکتی ہے‘۔

    تائیوان کے صدر لائی چنگ-تے کا کہنا ہے کہ امریکی اسلحہ فروخت ’خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ‘ ہے۔

    ان کی قیادت میں تائیوان نے چین کے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے پیش نظر اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

  18. زیارت اور چاغی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے: متعدد گاڑیاں تباہ، ایک پولیس آفیسر سمیت چار افراد اغوا کرلیے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے دو اضلاع زیارت اور چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ ایک پولیس آفیسر سمیت چار افراد کو اغوا کرلیا ہے۔

    اغوا کا واقعہ ضلع زیارت میں پیش آیا۔ محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ گذشتہ شب شرپسندوں نے زیارت میں کوئلے سے لوڈ ٹرکوں کو نذر آتش کیا۔

    زیارت میں پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ضلع زیارت میں مانگی کے علاقے میں حملہ کرکے پانچ ٹرکوں کو نذر آتش کیا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ٹرک کوئلے سے لوڈ تھے جو کہ ہرنائی سے پنجاب جارہے تھے۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد مانگی پولیس کے ایس ایچ او مسعود پانیزئی سمیت چار افراد کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔

    جب فون پر محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں شرپسندوں نے کوئلے سے لوڈ پانچ ٹرکوں کو نذر آتش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز شرپسندوں کے خلاف کاروائی کررہے ہیں۔

    زیارت سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے وزیر نورمحمد دومڑ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جائے گا۔

    ادھر ضلع چاغی میں پولیس حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے چہتر کے مقام پر حملہ کرکے آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا۔

    ادھر ضلع نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں بم کے ایک دھماکے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ڈیرہ مراد جمالی میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی ایک گاڑی پر دستی بم سے حملہ کیا۔

  19. وزیر اعظم چین میں ایران امریکہ مذاکرات پر بات کریں گے، فیلڈ مارشل کے دورہِ ایران کی تصدیق نہیں کر سکتے: پاکستانی دفتر خارجہ

    پاکستان کی وزراتِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران ایران امریکہ مذاکرات پر بات ہوسکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور چینی لیڈر شپ کے درمیان مشرق وسطیٰ تنازعے پر بات چیت متوقع ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مشرق وسطیٰ کے معاملے پر پہلے سے اعتماد موجود ہے۔

    خطے میں قیام امن کے حوالے پاکستانی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں وزیر اعظم شہباز نے دو مرتبہ قطری سربراہ حکومت سے بات کی اور خطے میں امن کے حوالے سے بات چیت کی۔

    اسحاق ڈار بھی دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ خطے میں امن آ سکے۔ انھوں نے بتایا کہ اس معاملے پر پاکستان ک دیگر حکامِ بالا نے بھی قطری حکام سے بات کی۔

    انھوں نے بتایا پاکستانی اعلیٰ حکام نے ازبکستان کے حکام سے بھی خطے کی صوتحال پر مشاروت کی۔

    فیلڈ مارشل کے دورہِ ایران کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’فیلڈ مارشل دورہ ایران کررہے ہیں یا نہیں، نا اس کی تصدیق کرتے ہیں نا تردید۔‘

  20. ممنوعہ جانوروں کی قربانی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہوں گے: دہلی حکومت کی تنبیہ

    انّیا مںی دارالحکومت دہلی حکومت کی وزارت ترقی نے عیدالاضحیٰ کے لیے رہنما خطوط جاری کیے ہیں جن کے مطابق ممنوعہ جانوروں کی قربانی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔

    دہلی حکومت کے وزیر کپل مشرا نے کہا کہ عید پر گائے، بچھڑے، اونٹ اور دیگر ممنوعہ جانوروں کی قربانی مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’عوامی مقامات، گلیوں اور سڑکوں پر قربانی کی اجازت نہیں ہے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

    کپل مشرا نے کہا، ’قربانی کے بعد کچرے کو گٹروں، نالیوں یا عوامی مقامات پر پھینکنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ قربانی صرف مجاز جگہوں پر کی جا سکتی ہے۔‘

    انڈیا میں عید کا تہوار 28 مئی کو منایا جائے گا۔