کیا امریکہ-ایران جنگ بندی کا کریڈٹ پاکستان کو ملنا انڈیا کے لیے دھچکا ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, سندیپ رائے
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

انڈیا نے اپنے ردعمل میں ایران اور امریکہ کے بیچ دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم تو کیا ہے تاہم اس ضمن میں جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے میں نہ تو پاکستان نام لیا گیا ہے اور نہ ہی دنیا کے متعدد ممالک کی طرح پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے۔

انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم جنگ بندی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے مغربی ایشیا میں مستقل امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ موجودہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی، بات چیت اور سفارتکاری ضروری ہے۔‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کشیدگی نے ’عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی فراہمی اور تجارتی نظام کو متاثر کر دیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اب تجارتی اور تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔‘

برطانیہ اور یورپی یونین سمیت، جہاں ایک طرف دنیا بھر سے کئی رہنماؤں نے گذشتہ دو دنوں کے دوران پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی ہے، وہیں انڈین وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جب پاکستان جنگ کے دوران ثالثی کی کوششوں میں مصروف تھا تو اس حوالے سے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کا ایک متنازع بیان میڈیا کی زینت بنا تھا۔

انڈین میڈیا کے مطابق جے شنکر نے 25 مارچ کو ایک بند کمرہ اجلاس کے دوران پاکستان کی ثالثی کے کوششوں کے تناظر میں کہا تھا کہ ’انڈیا پاکستان کی طرح بروکر ملک نہیں بننا چاہتا۔‘

جے شنکر نے یہ بات مغربی ایشیا کی صورتحال پر حکومت کی پالیسیوں پر وضاحت کے لیے طلب کی گئی ایک کل جماعتی میٹنگ میں کہی تھی۔

بند کمرے میں ہونے والی اس میٹنگ کے دوران انڈیا میں حزب اختلاف کے بعض ارکان نے ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے لیے پاکستان کے ذریعے ثالثی کیے جانے کا ذکر کیا تھا اور انڈین وزیر خارجہ سے یہ جاننا چاہا تھا کہ کیا یہ انڈیا کے لیے ایک سفارتی دھچکا ہے؟

انڈین وزیرِ خارجہ کے اس بیان پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کا ردِعمل بھی سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا کہ ’ایسے غیر سفارتی بیانات گہری مایوسی اور جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اس قسم کی بیان بازی اور بڑھکیں مارنے پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارا طرزِ عمل تحمل، شائستگی اور وقار پر مبنی ہے نہ کہ محض بیان بازی پر۔‘

پاکستان کے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے ایک بیان جے شنکر پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ’جے شنکر خود کو ایک ’ہائی فائی دلال‘ سمجھتے ہیں، اور اُن کا یہ بیان اُن کی ذاتی جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGOP

خارجہ پالیسی پر سوال

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اب جبکہ ایک جانب عالمی رہنما پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف کر رہے ہیں تو دوسری جانب انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں نے بین الاقوامی سفارتکاری میں ’پاکستان کے بڑھتے قد‘ کے حوالے سے انڈیا کی خارجہ پالسی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

کانگریس کے رہنما راشد علوی نے جنگ بندی پر اپنی جماعت کے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان نے جو کیا، وہی انڈیا کو کرنا چاہیے تھا۔ لیکن جب وزیراعظم مودی اسرائیل کو ’فادر لینڈ‘ کہتے ہیں، تو وہ جنگ بندی کی بات کس طرح کر سکتے ہیں؟‘

یاد رہے کہ ایران جنگ کا آغاز امریکہ و اسرائیل کی جانب سے تہران پر 28 فروری کو ہونے والے حملوں سے ہوا تھا۔ اس سے محض دو روز قبل انڈین وزیر اعظم مودی اپنا متنازع دورہ اسرائیل مکمل کر کے واپس لوٹے تھے اور اس دورے کے دوران انھوں نے اسرائیل کو ’فادر لینڈ‘ جبکہ انڈیا کو ’مدر لینڈ‘ قرار دیا تھا، جس پر انڈین حزب اختلاف کی جانب سے تنقید ہوئی تھی۔

کانگریس پارٹی نے وزیراعظم مودی کی قیادت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس رہنما جئے رام رميش نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان نے جو کردار ادا کیا اور جنگ بندی کروائی، اس سے مودی جی کے ذاتی انداز کی سفارتکاری کو بڑا دھچکا لگا ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’وزیر خارجہ (جے شنکر) نے پاکستان کو ’بروکر‘ کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔ لیکن اب خود ساختہ وشوگرو پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں، ان کا خود اعلان کردہ 56 انچ کا سینہ سکڑ کر رہ گیا ہے۔‘

تاہم کچھ آوازیں انڈیا کی حمایت میں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

شیو سینا-یو بی ٹی کی رہنما پریانکا چترویدی نے ایکس پر سوال کیا کہ ’انڈیا کو امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بات چیت کی میز پر کیوں ہونا چاہیے تھا؟ یہ تنقید سمجھ نہیں آتی، کیونکہ یہ ہماری لڑائی نہیں تھی۔ پاکستان کے لیے یہ ایسے ہے جیسے کوئی کچھوا جو پیسے لے کر کہے کہ وہ بحران حل کر دے گا، جیسا کہ انڈیا کے وزیر خارجہ نے آل پارٹی میٹنگ میں اچھے طریقے سے (سیاسی رہنماؤں کو) بتایا۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا ایران جنگ میں پاکستان کو سفارتکاری محاذ پر انڈیا پر برتری حاصل ہوئی ہے؟

اس کے بارے میں حزبِ اختلاف میں تو عام رائے وہی ہے جس کا ہم نے تذکرہ اوپر کیا۔

لیکن انڈین تجزیہ کاروں کی رائے ملی جلی ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر ہرش پنت اسے ’مختصر مدتی سفارتکاری‘ کہتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس تنازع میں پاکستان نے پیغامات کے تبادلے کا کردار ادا کیا ہے۔ اس میں اس کی اپنی پہچان یا کوئی ایسی ذمہ داری - جو نتائج پر اثر ڈال سکے، جیسا کہ ایک ثالث کرتا ہے - ویسی دکھائی نہیں دیتی۔ اس ثالثی کا کیا حتمی نتیجہ نکلے گا ابھی وہ بھی معلوم نہیں ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ پاکستان نے دو ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے ذریعے ثالثی کی کوشش کی، جس سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔‘

اُن کے مطابق ’ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان ایسا کیوں کر رہا ہے۔ دراصل آپریشن سندور (انڈیا کی جانب مئی 2025 میں پاکستان کے خلاف کی گئی فوجی کارروائی) کے بعد سے ہی پاکستان امریکہ کے قریب آنے کی کوشش کرتا نظر آیا ہے۔ پاکستان نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام دیے جانے کی حمایت کی۔‘

’پاکستانی فیلڈ مارشل جب امریکہ گئے تو اُس دوران پاکستان نے ریئر ارتھ منرلز کی بات کی۔ پاکستان یہ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں اب پھر سے اُس کا کردار بڑھے، جو اس سے قبل انتہائی محدود تھا۔ موجودہ ثالثی کی کوششوں کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔‘

سابق سیکریٹری خارجہ نیروپما مینن راؤ نے ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ ’پاکستان کا کردار ثالث کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے ذریعے کے طور پر اُبھرا ہے جس کے ذریعے پیغامات پہنچائے گئے اور ایک چھوٹا سفارتی چینل کھولا گیا۔‘

تجزیہ کار ہرش پنت کی طرح نیروپما راؤ کا بھی یہ ماننا ہے کہ ’تاحال یہ روایتی معنوں میں ثالثی نہیں ہے، لیکن اس کی اہمیت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔‘

نیروپما راؤ کہتی ہیں کہ ’انڈیا کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے اور اسے جنگ بندی کی حمایت کرنی چاہیے۔ اسے سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے کام کرنا چاہیے اور اس جنگ میں کسی ایک فریق کی بالادستی کو روکنا چاہیے۔یہ خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے، یہ سمجھداری اور عقل مندی سے بات کرنے کا وقت ہے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے مزید لکھا کہ ’مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ چین کا بھی اعتماد حاصل ہے۔ مودی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے برعکس انڈیا خود ہی تنہا ہو گئے ہیں۔‘

ہرش پنت کا کہنا ہے کہ ’پاکستان ایسا پہلے بھی کر چکا ہے۔ سرد جنگ کے دوران سنہ 1970 میں اس نے روس اور امریکہ کے درمیان ایسی ہی ثالثی کی تھی۔ امریکی خارجہ پالیسی میں اہمیت پانے کے لیے وہ ماضی میں بھی ایسا کرتا رہا ہے اور اسے اس میں کامیابی بھی ملی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’لوگ بھول جاتے ہیں کہ ایک وقت جب کابل میں طالبان کی حکومت بننے والی تھی تو انڈیا میں کتنی فکر ظاہر کی جاتی تھی کہ انڈیا کی خارجہ پالیسی ناکام ہو گئی، لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ طالبان آج انڈیا سے بات کر رہے ہیں اور پاکستان سے لڑ رہے ہیں۔ اصل میں خارجہ پالیسی کو طویل مدتی شے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔‘

انڈین چینل این ڈی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے کانگریس رہنما ششی تھرور سے سوال پوچھا گیا کہ ’انڈیا میں اس معاملے کو کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان جنگ بندی مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے؟ کیا اس سے علاقائی طاقت کے توازن میں کسی قسم کی تبدیلی آتی ہے؟ اور کیا ہمیں (انڈیا کو) اس پر تشویش میں مبتلا ہونا چاہیے؟‘

اس کا جواب دیتے ہوئے ششی تھرور نے کہا کہ ’تشویش؟ مجھے اس کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی۔۔۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب پاکستانی کسی ایسے مسئلے پر کام کر رہے ہیں، جو قیام امن کے لیے ہو جس کے ہم (انڈیا) بھی خواہاں ہیں، تو میرا خیال ہے کہ ہمیں درحقیقت خوشی منانی چاہیے۔ اسی پس منظر میں حکومتِ ہند کا بیان، جس میں امن کا خیرمقدم کیا گیا، درست اور دانشمندانہ محسوس ہوتا ہے۔ ہمیں ان پیش رفتوں کو سٹریٹجک ضبط، علاقائی ذمہ داری کے احساس اور ایک نئے عزم کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔‘

’اور یہ مت بھولیے کہ ہمارا کردار عالمی جنوبی خطے (گلوبل ساؤتھ) کی آواز کے طور پر بھی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ٹویٹ سے یہ تاثر بھی ابھرا کہ شاید امریکہ نے پاکستان کو محض ایک غیر جانبدار فریق کے طور پر سامنے لا کر جنگ بندی کو ایک معتدل شکل دینے کی کوشش کی ہے، تاکہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے خلاف براہِ راست پسپائی اختیار کیے بغیر کشیدگی کم کر سکیں۔ ’دوسرے الفاظ میں، ممکن ہے کہ پاکستان حقیقی معنوں میں امن کا محرک نہ ہو بلکہ امریکہ کے لیے ایک سفارتی پردہ (ڈپلومیٹک فگ لیف) ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لہٰذا ہمیں فوراً یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان نے کوئی غیر معمولی سفارتی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ پاکستان کا اس عمل میں شامل ہونا خود اسلام آباد کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، اور اس کردار کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سب نے صدر ٹرمپ اور پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً ان کے پسندیدہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان خصوصی تعلقات کو دیکھا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ کئی مواقع پر روایتی سفارتی چینلز کو نظرانداز کر کے براہِ راست رابطے قائم کیے گئے۔‘

’اس کے علاوہ پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ اور اگر خطے میں کوئی بڑی جنگ چھڑتی، تو اس کے اثرات پاکستان تک ضرور پہنچتے، خاص طور پر مہاجرین کی صورت میں۔ مزید یہ کہ پاکستان میں تقریباً چار کروڑ شیعہ آبادی ہے، جس پر اس تنازع کے شدید اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔‘

’اسی لیے یہ بات قابلِ فہم ہے کہ پاکستان اس معاملے میں جنگ بندی کی کوششوں میں خاص دلچسپی رکھتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ کسی بھی صورت میں ہمارے (انڈیا) لیے شکست نہیں ہے، کیونکہ پاکستان کے پاس کچھ ایسی منفرد صلاحیتیں اور جغرافیائی فوائد ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں۔ انھیں اس دائرے میں کام کرنے دیا جانا چاہیے۔ ہمیں اس سارے عمل کو ایک دلچسپی رکھنے والے پڑوسی کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے، نہ کہ تنقید کرنے والے یا رنجیدہ ملک کی طور پر۔ ہمیں کسی امن عمل کی ناکامی کی خواہش رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اصل مقصد علاقائی سلامتی ہے۔ اگر ایران جنگ کی صورتحال میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں توانائی کی منڈی مستحکم ہو گی اور انڈین مفادات کا تحفظ ممکن ہو گا۔ پھر ہمیں اس پر اعتراض یا تنقید کی آخر کیا ضرورت ہے؟‘

’انڈین خارجہ پالیسی میں بہت احتیاط تھی‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بین الاقوامی سیاست کے کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا نے اس جنگ میں بہت احتیاط برتی ہے۔

بی بی سی کے پوڈکاسٹ پروگرام میں بات کرتے ہوئے، بی بی سی ہندی کے ایڈیٹر نیتن سریواستو نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو اس وقت انڈیا کی سفارتکاری بہت نازک مرحلے میں تھی کیونکہ انڈیا طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ ٹیرف پر مذاکرات کر رہا تھا اور اس میں الجھا ہوا تھا۔ اس میں کئی پیچیدگیاں تھیں۔ پہلے یہ ٹیرف 25 فیصد تھا، پھر روس سے تیل لینے پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کے ایران کے ساتھ تعلقات عوامی سطح پر بہت اچھے رہے ہیں۔ انڈیا اور ایران کے درمیان درآمد و برآمد کا بڑا کاروبار بھی ہے، بہت سی چیزیں انڈیا سے ایران برآمد کی جاتی ہیں، جن میں باسمتی چاول بھی شامل ہے۔ دوسری طرف، ایران سے بہت سی چیزیں آ رہی ہیں، جیسے معدنیات، گیس پائپ لائنوں کی بھی باتیں ہو رہی ہیں، جن میں انڈیا بہت سرمایہ کاری کرتا ہے۔‘

یاد رہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی امریکی، اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد بھی انڈین حکومت نے ابتدا میں خاموشی اختیار کی اور کچھ دنوں انتظار کے بعد انڈیا کے وزارت خارجہ کے ایک نمائندے نے نئی دہلی میں واقع ایرانی سفارتخانے جا کر افسوس نامے پر اپنے تاثرات تحریر کیے۔

انڈیا اس معاملے پر شروع سے اپنے رسمی بیانات میں یہ ضرور کہتا رہا ہے کہ جنگ رکنی چاہیے، لیکن اس سے زیادہ اس جنگ میں اس نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

نتن شری واستو کہتے ہیں کہ ’جہاں تک انڈیا کی خارجہ پالیسی کا سوال ہے تو جنگ بندی کا اعلان ہونے سے دو ہفتے پہلے ایران سے بات کر کے ان کی رضامندی سے انڈیا کے آنے والے تیل کے ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے انڈیا لایا گیا۔‘

ان کے مطابق اس لحاظ سے انڈیا کی خارجہ پالیسی میں کافی تحمل برتا گیا ہے اور کافی کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔