جہاز کا صرف ایک انجن اور ٹوٹی ہوئی کھڑکی: 148 مسافروں کی جان بچانے والی پائلٹ جن کی دھڑکنیں تک تیز نہیں ہوئیں

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ٹیمی جو شلٹس کا ہمیشہ سے خواب تھا کہ وہ لڑاکا طیارے اُڑائیں۔

وہ سنہ 1960 کی دہائی میں امریکہ کی ریاست نیو میکسیکو میں ہولومین ایئر فورس بیس کے قریب ایک فارم پر پروان چڑھیں، جہاں سے وہ اکثر اپنے خاندان کے گودام کے اوپر سے گرجتے ہوئے جہازوں کو دیکھنا پسند کرتی تھیں۔

ان کے لیے لڑاکا طیاروں کی یہ آوازیں اور پرواز کسی جادو سے کم نہیں تھی۔

شلٹس نے فارم پر سخت محنت کی اور صرف نو برس کی عمر میں ٹریکٹر چلانا شروع کر دیا تھا۔ ان کے والدین مرد اور عورت کے کاموں میں فرق نہیں کرتے تھے اور انھوں نے اپنی بیٹی کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایسا پیشہ اختیار کرے جو اس کی صلاحیتوں کے مطابق ہو۔

اسی لیے شلٹس نے ایک دن اپنی والدہ سے کہا کہ ’میں لڑاکا طیارے اُڑانا چاہتی ہوں۔‘

اس پر ان کی والدہ نے جواب دیا کہ ’ٹیمی، وہ لوگ بہت ذہین ہوتے ہیں تمہیں بہت محنت کرنی ہوگی۔‘

یہ پہلا موقع تھا جب شلٹس کو احساس ہوا کہ پائلٹ بننے کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔

مسائل اور رکاوٹیں

ہائی سکول میں کیریئر ڈے کے موقع پر ٹیمی جو شلٹس نے ہوا بازی کی کلاس کو چُنا۔ کلاس کے نگران کرنل نے کہا کہ ’یہ کیریئر ڈے ہے، مشغلہ ڈے نہیں۔ تمہیں کوئی ایسا شعبہ تلاش کرنا چاہیے جو لڑکیاں آسانی سے کر سکیں۔‘

تاہم شلٹس اپنی نشست پر بیٹھی رہیں اور جوں جوں وہ لیکچر سنتی گئیں ان کا جوش بڑھتا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’آخر تک یہ سب کچھ نہایت سنسنی خیز تھا اور مجھے احساس ہوا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی جو خواتین کی سمجھ سے باہر ہو۔‘

اس لمحے کے بعد وہ لڑاکا طیارے کا پائلٹ بننے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ پُرعزم ہو گئیں۔

کالج مکمل کرنے کے بعد انھوں نے امریکی فضائیہ کے ایک بھرتی والے دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ شلٹس کے مطابق ’انھوں نے میری بات سنی اور پھر کہا کہ ’معذرت، ہم خواتین کو بھرتی نہیں کرتے۔‘

یہ ان کے راستے میں بند ہونے والے کئی دروازوں میں سے پہلا دروازہ تھا۔

اس کے بعد انھوں نے امریکی فوج کے دیگر شعبوں میں اپنی قسمت آزمائی، جہاں طیارے اُڑائے جاتے تھے۔ پہلے آرمی سے رابطہ کیا لیکن وہاں انھیں بتایا گیا کہ وہ اس شعبے کے لیے موزوں نہیں۔ بعد ازاں انھوں نے نیوی سے رجوع کیا جہاں کم از کم انھیں پائلٹ کے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی۔

شلٹس یاد کرتی ہیں کہ فوج میں بھرتی کرنے کے لیے انٹرویو کرنے والے افسر نے کہا کہ ’معذرت، آپ کے نمبر ایک مرد امیدوار کے لیے تو کافی ہیں، لیکن ایک خاتون پائلٹ بننے کے لیے آپ کو زیادہ نمبر درکار ہیں۔‘

اس کے بعد وہ دوبارہ گریجویٹ سکول چلی گئیں تاہم وہ جانتی تھیں کہ اپنے خواب کو ایک آخری موقع ضرور دینا ہے۔ سنہ 1985 میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے امریکی بحریہ کے ایک دوسرے بھرتی دفتر سے رابطہ کیا۔ انھوں نے افسر کو بتایا کہ ان کے نمبر ’ایک لڑکی کے لیے‘ کافی نہیں سمجھے گئے تھے اس لیے وہ دوبارہ امتحان دینا چاہتی ہیں۔‘

شلٹس کے مطابق ’انھوں نے حیرت سے کہا کہ ’آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ ہمارے ہاں مردوں اور خواتین کے لیے الگ نمبر نہیں ہوتے۔ پھر انھوں نے میرا ریکارڈ چیک کیا اور کہا کہ ’آپ کے نمبر بالکل ٹھیک ہیں۔‘

چند ماہ بعد شلٹس فلوریڈا میں ایوی ایشن آفیسر کینڈیڈیٹ سکول میں زیرِ تربیت تھیں ان کے بال منڈوائے جا چکے تھے اور وہ سخت جسمانی مشقیں کر رہی تھیں۔

پرواز کا تجربہ بالکل ویسا ہی پُرکشش اور جادوئی تھا جس کا ٹیمی جو شلٹس نے خواب دیکھا تھا۔ انھوں نے پائلٹ کی تربیت مکمل کی اور بعد ازاں انسٹرکٹر بن گئیں، جہاں ان کی خاص مہارت ’آؤٹ آف کنٹرول فلائٹ‘ میں تھی۔

اس تربیت کے دوران طیارے کو تقریباً 30 ہزار فٹ کی بلندی تک لے جا کر جان بوجھ کر زمین کی جانب چکر کھاتے ہوئے گرنے دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد طالب علم کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ طیارے پر دوبارہ قابو پائے، بصورتِ دیگر شلٹس خود کنٹرول سنبھال لیتیں۔

یہ تمام تربیت آٹھ برس قبل پیش آنے والے اس ہنگامی واقعے میں انتہائی کارآمد ثابت ہوئی، جب شلٹس کے مسافر بردار طیارے کا انجن فضا میں پھٹ گیا تھا۔

اس وقت تک وہ امریکی بحریہ میں ایک دہائی تک بطور پائلٹ خدمات انجام دے چکی تھیں، جہاں ان کی ملاقات اپنے مستقبل کے شوہر سے بھی ہوئی۔ سنہ 1990 کی دہائی میں دونوں نے نیوی چھوڑ دی اور شادی کر لی۔

بعد ازاں دونوں نے امریکی فضائی کمپنی ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کے لیے کمرشل پروازیں اُڑانا شروع کر دیں۔

17 اپریل سنہ 2018 کو فلائٹ 1380 ایک طویل سفر کے لیے ایندھن سے بھری ہوئی تھی اور تمام نشستیں مسافروں سے پُر تھیں۔ جب طیارہ 33 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچا تو شلٹس نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی۔

ان کے ذہن میں پہلا خیال یہ آیا کہ شاید فضا میں کسی دوسرے طیارے سے ٹکر ہو گئی ہے۔ شلٹس کے مطابق ’طیارہ اچانک ایک جانب گرنے لگا، تیزی سے نیچے کی جانب جھکا اور بائیں جانب خطرناک انداز میں گھوم گیا۔‘

انھوں نے مہارت سے طیارے پر دوبارہ قابو پایا لیکن اس کے بعد طیارہ اس شدت سے لرزنے لگا کہ وہ کاک پٹ میں موجود آلات تک کو واضح طور پر نہیں دیکھ پا رہی تھیں۔

فطری صلاحیت اور تربیت نے جانیں بچا لیں

دھماکے کے بعد کاک پٹ دھوئیں سے بھر گیا جبکہ شور اس قدر شدید تھا کہ ٹیمی جو شلٹس اور ان کے فرسٹ آفیسر ایک دوسرے کی آواز تک نہیں سن پا رہے تھے۔

اس وقت شلٹس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ انجن کے ایک فین بلیڈ کا ٹکڑا الگ ہو کر انجن کے اندر مزید گہرائی تک چلا گیا تھا، جس کے باعث انجن پھٹ گیا۔ بعد میں انھیں پتا چلا کہ انجن کا بیرونی خول مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔

شلٹس کے مطابق ’وہ اس طرح پھٹ کر پیچھے کی جانب مڑ گیا تھا جیسے کیلا چھیلنے پر اس کا چھلکا پیچھے کی جانب مُڑ سا جاتا ہے۔‘

دھماکے کے نتیجے میں ملبے کا ایک ٹکڑا طیارے کی ایک کھڑکی سے ٹکرایا، جو ٹوٹ گئی اور اس کے باعث کیبن کے اندر فضائی دباؤ تیزی سے کم ہونے لگا۔

شلٹس یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’اتنی بلندی پر انسانی جسم کے سائنَس ہوا کے دباؤ کے ساتھ اتنی تیزی سے مطابقت نہیں پیدا کر پاتے، جس سے شدید درد ہوتا ہے۔‘ ان کے مطابق یہ درد کانوں سے ہوتا ہوا گردن تک پھیل گیا تھا۔

اس تمام صورتحال کے باوجود ان کی تربیت اور فطری صلاحیت نے فوری طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے قریب ترین ہوائی اڈے فلاڈیلفیا کا رخ کیا۔

شلٹس کہتی ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ میں سوچ رہی تھی کہ شاید ہم وقت پر طیارے کو رَن وے تک نہ پہنچا سکیں۔ اسی لمحے میرے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ شاید آج ہی وہ دن ہو جب میں اپنے خالق سے ملاقات کروں۔‘

اس تمام ہنگامی صورتحال کے باوجود ایئر ٹریفک کنٹرول سے ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ میں ٹیمی جو شلٹس کی آواز غیر معمولی طور پر پُرسکون سنائی دیتی ہے۔ ایک موقع پر وہ کہتی ہیں کہ ’جی ہاں، ہمارے طیارے کا ایک حصہ الگ ہو چکا ہے اس لیے ہمیں رفتار کچھ کم کرنا ہوگی۔‘

بعد ازاں جب رَن وے نظر آنے لگا تو کاک پٹ ریکارڈر میں انھیں دھیمی آواز میں ’ہیونلی فادر‘ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔ اس وقت طیارہ صرف ایک انجن کے سہارے ایک جانب جھکتا ہوا پرواز کر رہا تھا جبکہ شلٹس رَن وے سے آگے نکل چکی تھیں۔

ایسے میں انھوں نے اپنی تمام مہارت اور تجربہ استعمال کرتے ہوئے وہ طیارے کو دوبارہ درست سمت میں لائیں اور بحفاظت لینڈ کر لیا، جس کے نتیجے میں 148 مسافروں اور عملے کی جانیں بچ گئیں۔

تاہم ایک مسافر جینیفر ریورڈن کھڑکی ٹوٹنے کے باعث شدید زخمی ہو گئی تھیں اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئیں۔ شلٹس کہتی ہیں کہ یہ نقصان انھیں ہمیشہ یاد رہے گا۔

لینڈنگ کے بعد شلٹس کا طبی معائنہ کیا گیا۔ ان کے مطابق میڈیکل افسر نے حیرت سے کہا کہ ’آپ کے اعصاب تو فولاد کے بنے ہوئے معلوم ہوتے ہیں، آپ کی دل کی دھڑکن بھی معمول سے زیادہ نہیں۔‘

شلٹس کے مطابق دباؤ کے باوجود پُرسکون رہنے کی وجہ قیادت کا احساس تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ پر ذمہ داری ہو اور لوگ رہنمائی کے لیے آپ کی طرف دیکھ رہے ہوں تو درست رویہ یہی ہوتا ہے کہ آپ خود پر قابو رکھیں اور سامنے موجود مسائل کا سامنا کریں۔‘

یہی طرزِ فکر ان کے پورے کیریئر میں نمایاں رہی، ایک ایسا سفر جس میں انھوں نے نہ کبھی حوصلہ ہارا اور نہ ہی اپنے خواب کو مرنے دیا۔