آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
26 زبانوں پر عبور رکھنے والے مہم جُو رچرڈ برٹن، جو ناصرف غیرمسلموں کے لیے ممنوع شہر مکہ تک پہنچے بلکہ ’حجرِ اسود کو بوسہ بھی دیا‘
- مصنف, پاؤلہ روساس
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
کچھ لوگوں کی زندگی واقعات سے اتنی بھرپور ہوتی ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انھیں ایک ہی سوانح حیات میں سمونا شاید ممکن نہ ہو۔
برطانوی مُہم جُو، جاسوس، سفارتکار، سپاہی، مترجم اور محقق رچرڈ برٹن کی زندگی بھی ایسی ہی ہے۔
ایسی زندگی جو اپنے 79 برسوں میں سرانجام دیے گئے تمام کارناموں اور تنازعات کو سمیٹنے کے لیے گویا وقت اور جگہ کی حدود سے ماورا دکھائی دیتی ہے۔
رچرڈ برٹن نامی اس غیر معمولی مہم جُو نے اپنی زندگی میں 26 زبانوں پر عبور حاصل کیا اور اگر اُن زبانوں کی بولیاں بھی شمار کی جائیں جن پر انھیں مہارت حاصل تھی، تو یہ تعداد 40 تک جا پہنچتی ہے۔
انھوں نے بھیس بدل کر سعودی عرب کے شہر مکہ، جہاں غیر مسلموں کا داخلہ سختی سے ممنوع ہے، اور پاکستان کے شہر کراچی میں مردوں کے قحبہ خانوں تک رسائی حاصل کی۔
انھوں نے ’الف لیلہ‘ اور ’کام سوتر‘ (جسے عرف عام میں کاما سُترا بھی کہا جاتا ہے) کا ترجمہ بھی اُس برطانوی معاشرے کے لیے کیا جو قدامت پسندی کے لیے مشہور تھا۔ کام سوتر کا اُن کا ترجمہ انگریزی زبان کی سب سے زیادہ ممنوع اور سب سے زیادہ چوری چھپے پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک بن گیا۔
لیکن رچرڈ برٹن نے صرف برطانوی سلطنت کی سرحدیں وسیع کرنے کے لیے دنیا کی خاک نہیں چھانی۔ برطانوی مصنف اور محقق ریڈمنڈ اوہانلون اپنی 19ویں صدی کے مہم جوؤں پر سیریز میں لکھتے ہیں کہ رچرڈ برٹن نے اُن چیزوں کی بھی کھوج لگائی جیسا کہ ’اجنبی معبود اور مذاہب، تجرباتی ادویات، اور سب سے بڑھ کر جنسیات اور شہوانیت۔‘
کچھ لوگ رچرڈ برٹن کو ذہین و فطین شخص تصویر کرتے ہیں اور کچھ ایک بگڑا ہوا انسان۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1821 میں انگلینڈ کے شہر ’ٹورکی‘ میں پیدا ہونے والے رچرڈ برٹن کی پرورش مختلف یورپی ممالک، خصوصاً فرانس اور اٹلی، میں ہوئی۔
زبانیں سیکھنے کی غیر معمولی صلاحیت اور خود پسندی جیسی خصوصیات کے حامل رچرڈ برٹن کا دعویٰ تھا کہ وہ تین سال کی عمر میں لاطینی اور چار سال کی عمر میں یونانی زبان سیکھ چکے تھے۔
انھیں آکسفورڈ یونیورسٹی کے ٹرینیٹی کالج میں داخلہ ملا، جہاں انھوں نے عربی سیکھی، شکاری باز پالنے میں مہارت حاصل کی، اپنی تلوار بازی کی صلاحیت کو نکھارا، اور ایک ’شاندار مونچھ‘ بھی بڑھائی، جسے بعدازاں انھیں زبردستی منڈوانا پڑا۔
قواعد و ضوابط کی پابندی نہ کرنے کے باعث انھیں سنہ 1842 میں کالج سے نکال دیے گئے کیونکہ وہ اجازت کے بغیر ریلے ریس میں شریک ہوئے تھے۔
جب یونیورسٹی کے حکام نے اس معاملے پر اُن کی سرزنش کی، تو رچرڈ برٹن نے الٹا انھیں یہ کہہ کر ڈانٹا کہ وہ طلبہ کے ساتھ ’بچوں جیسا سلوک‘ کرتے ہیں۔ پھر انھوں نے ایک باوقار انداز میں کالج کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا۔
لیکن انھوں نے یہ سب کچھ بڑی شان سے کیا۔ انھوں نے اپنے جیسے ایک ’نافرمان‘ طالبعلم کے ساتھ گھوڑا گاڑی کرائے پر لی، اور دونوں آکسفورڈ کی مرکزی سڑک پر دندناتے ہوئے چل نکلے۔ ٹین کی بنی ہوئی ایک تُرہی بجاتے ہوئے، دوستوں کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہتے ہوئے۔
یہ ڈرامائی انداز اور بغاوت ان کی پوری زندگی کا حصہ رہی اور اسی طرزِ عمل نے انھیں ایک مشہور لقب دلایا ’ڈِک دی رفّیَن‘۔
وہ اپنے بارے میں کہتے تھے کہ ’میں ایک آوارہ روح ہوں۔۔۔ روشنی کی ایک چمک، جس کی کوئی مقررہ سمت نہیں۔‘
اور شاید یورپ میں گزری ہوئی اُن کی بچپن کی زندگی اور اپنے وطن سے دوری، ہی وجہ تھی کہ وہ اکثر شکایت کرتے تھے کہ ’انگلینڈ واحد ملک ہے جہاں مجھے کبھی گھر جیسا احساس نہیں ہوتا۔‘
متعدد سوانح نگاروں نے انھیں ’انتہاؤں کا آدمی‘ قرار دیا ہے، ایک ایسا شخص جو کتاب خانوں سے بھی شغف رکھتا تھا، دانشوروں کی محفلوں اور سرائے خانوں میں بھی نظر آتا، مختلف تجربات کا خواہشمند تھا، اور اپنی بے پایاں جستجو اور تجسس کی وجہ سے ہر اس معاشرے کا مطالعہ کرتا جس سے وہ گزرتا۔
اس کی شخصیت میں وسعتِ نظر، ثقافتی گہرائی، بے خوف تجسس اور حد سے بڑھ کر کھوج لگانے کی خواہش نمایاں تھی۔
کراچی رپورٹ
ایک واقعہ واضح کرتا ہے کہ رچرڈ برٹن کس قدر شدت اور جرات سے زندگی گزارتے تھے، جسم اور روح کے ساتھ ہر تجربے میں داخل ہو جانے والا انسان۔
آکسفورڈ سے نکلنے کے بعد رچرڈ برٹن نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو جوائن کیا، جہاں انھوں نے سخت گیر جنرل چارلس نیپیئر کے ماتحت خدمات انجام دیں۔
رچرڈ برٹن نے مقامی زبانوں، جیسے گجراتی، پنجابی، تیلگو، پشتو، مرہٹی اور ہندی کے ساتھ ساتھ فارسی اور عربی پر بھی عبور حاصل کر لیا۔
یہ اُن کی زبردست لسانی قابلیت تھی جو انھیں خفیہ خدمات سرانجام دینے کے لیے ’انٹیلیجنس‘ کا نہایت قیمتی فرد بنا دیتی تھی۔
ہندوستان میں مقامی آبادی میں گھلنے ملنے اور ان جگہوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے، جہاں یورپی عام طور پر نہیں جا سکتے تھے، رچرڈ برٹن نے اپنے بال کندھوں تک بڑھا لیے اور لمبی، گھنی داڑھی رکھ لی۔
انھوں نے ہاتھ پاؤں پر مہندی لگائی اور اپنا نام ’مرزا عبداللہ‘ رکھا، اور یہ ظاہر کیا کہ وہ خلیج کا ایک عربی، فارسی النسل تاجر ہے۔
چونکہ سندھ میں وہ سندھی بولنے والے واحد برطانوی افسر تھے، چنانچہ ان کے باس نیپیئر نے سنہ 1845 میں انھیں کراچی کے بعض ایسے سماجی مراکز کی خفیہ نوعیت پر تحقیق کرنے کی ذمہ داری دی جنھیں اس دور میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کے مراکز سمجھا جاتا تھا۔
مقصد یہ تھا کہ وہاں ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کا سدباب کیا جائے۔
اپنے کچھ مقامی جاننے والوں کی مدد سے ’مرزا عبداللہ‘ نے کئی راتیں مختلف مقامات کا جائزہ لینے میں گزاریں۔
رچرڈ برٹن نے یہ ذمہ داری اس قدر باریک بینی سے ادا کی کہ وکٹورین دور کی بہت سخت گیر اور اخلاقی لحاظ سے محتاط برطانوی سماج میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا، جس نے رچرڈ کے فوجی مستقبل کو ہمیشہ کے لیے داؤ پر لگا دیا۔
مزید یہ کہ جیسا کہ کچھ سوانح نگار لکھتے ہیں کہ ان کی رپورٹ میں یہ ذکر ہونا کہ ان سرگرمیوں میں ملوث افراد میں چند برطانوی سپاہی اور افسران بھی شامل تھے، ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوا۔
مکہ، مدینہ کا سفر
اس کے بعد رچرڈ برٹن انگلینڈ واپس آئے، جہاں انھوں نے برصغیر کی مختلف قوموں کے رسوم و رواج پر کئی کتابیں لکھیں، مگر مہم جوئی اور کھوج کی خواہش ان کے دل سے کبھی نہ نکلی۔
اس کی سب سے بڑی خواہشات میں سے ایک یہ تھی کہ وہ مکہ اور مدینہ جائیں، وہ مقدس شہر جن میں غیرمسلموں کا داخلہ اُس دور میں بھی اور آج بھی غیر مسلموں کے لیے ممنوع ہے۔ اُس دور میں اس پابندی کی خلاف ورزی کی سزا موت تھی۔
لیکن یہ بات بھی رچرڈ برٹن کو نہ روک سکی۔
جیسا کہ تھامس رائٹ کی سنہ 1909 کی تفصیلی سوانح ’دی لائف آف سر رچرڈ برٹن‘ میں لکھا ہے، انھوں نے کئی سال اسلامی فقہ اور مذہب کا مطالعہ کیا، قرآنِ مجید کے بڑے حصّے کو زبانی یاد کیا اور نماز کے طریقوں میں مہارت حاصل کی۔
اس بار اپنی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے انھوں نے ایک پشتون حکیم کا حلیہ اختیار کیا اور اپنا نام ’شیخ عبداللہ‘ رکھا اور خود کو افغانستان کا باشندہ ظاہر کیا۔
انھوں نے سر منڈوا لیا اور داڑھی دوبارہ بڑھا لی۔ اس کے ایک دوست کے مطابق کردار کو حقیقت کے قریب تر دکھانے کے لیے انھوں نے کچھ اضافی اقدامات بھی کیے تھے۔
یہ سب کرنے کے بعد رچرڈ سنہ 1853 میں انگلینڈ سے قاہرہ پہنچے، جہاں سے انھوں نے احرام (وہ کپڑے جو حاجی پہنتے ہیں) خریدے اور مقدس سرزمین کے سفر کی تیاریاں مکمل کیں۔
وہ اونٹ پر سوار ہو کر سویز کے سفر پر نکلے۔ ’ایک ایسی اجاڑ سرزمین سے گزرتے ہوئے جو جنگلی جانوروں اور جنگجو انسانوں سے بھری ہوئی تھی،‘ جیسا کہ رائٹ اپنی سوانح میں لکھتے ہیں ’سویز میں اُن کی ملاقات مدینہ اور مکہ کے کچھ باشندوں سے ہوئی، جو اس کے ہم سفر بننے والے تھے۔
ان میں شامل تھے: ’سعد دی ڈیمن‘— ایک تیز مزاج آدمی۔ ایک حبشی شخص، جو مدینہ میں موجود اپنی تین بیویوں کے لیے دو بکسوں میں نئی نفیس پوشاکیں لیے ہوئے تھا، اور شیخ حامد ایک لمبا چوڑا پسینے میں شرابور عرب۔
ایسے ہی رنگین اور دلچسپ واقعات نے ان کے سفرنامے ’پیلگریمیج ٹو مدینہ اینڈ مکہ‘ کو انگلینڈ میں بے حد مقبول بنایا، ایک ایسا ملک جو تعصبات سے بھرا ہوا بھی تھا، اور مشرقی دنیا کی پراسراریت کا دیوانہ بھی۔
کشتیاں بدلتے ہوئے وہ ینبع کی بندرگاہ پہنچے اور وہاں سے سفر جاری رکھتے ہوئے مدینہ تک پہنچ گئے۔ راستے میں انھیں بدوی قبائل کے حملے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
مدینہ پہنچ کر انھوں نے مقدس مقامات کی زیارت کی، اور پھر دمشق سے آنے والے ایک عظیم الشان قافلے کی شہر میں شاندار آمد دیکھی۔
اس قافلے کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ ’سات ہزار افراد پر مشتمل یہ قافلہ سبز اور سنہری جھولوں میں سجے امرا، بڑے سفید شامی اونٹ، رنگین ساز و سامان سے لیس گھوڑے اور خچر، عبادت گزار حاجی، شربت فروش، پانی لانے والے اور بے شمار اونٹ، بکریاں اور بھیڑیں۔۔۔ ایک ایسا منظر تھا کہ جسے دیکھ کر کون نہ مسحور ہو جاتا؟‘
اس کے بعد وہ مکہ جانے والے ایک بڑے قافلے میں شامل ہو گئے اور 11 ستمبر 1853 کو مکہ پہنچے۔ وہاں ایک عام حاجی کی طرح انھوں نے تمام مذہبی ارکان ادا کیے۔ انھوں نے سات مرتبہ کعبہ کا طواف کیا اور اپنا راستہ بناتے ہوئے حجرِ اسود تک پہنچ گئے اور اسے بوسہ دیا۔
رچرڈ برٹن لکھتے ہیں ’جب میں اسے بوسہ دے رہا تھا اور اپنے ہاتھ اور پیشانی اس پر رگڑ رہا تھا تو میں نے اسے نہایت قریب سے دیکھا۔۔۔‘
رچرڈ برٹن، جو اپنے اس سفر کے دوران خفیہ طور پر کعبہ کے نوٹس اور خاکے بنا رہے تھے، یہ بھی سمجھتے تھے کہ مقدس پردوں سے لپٹ کر رونے والے تمام زائرین میں ’کسی کی کیفیت مجھ سے زیادہ گہری نہ تھی، اگرچہ میں جانتا ہوں کہ میرا جذبہ بھی دراصل اپنی کامیابی پر مسرت کا ہی سرور تھا۔‘
اگرچہ رچرڈ برٹن مکہ میں داخل ہونے والے پہلے مغربی شخص نہیں تھے لیکن وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے اسلامی مناسک اور سفر کی پوری داستان انتہائی باریک بینی اور تفصیل کے ساتھ قلم بند کی اور یوں اپنی ہی زندہ افسانوی شخصیت کو مزید جِلا بخشی۔
دریائے نیل کے سرچشموں کی جستجو میں
ان کی کتاب کی خوب پزیرائی ہوئی، لیکن انگلینڈ واپس جا کر شہرت کا لطف اٹھانے کے بجائے انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک اور ایسی جگہ کا سفر کریں جو اُس زمانے میں غیر مسلموں کے لیے ممنوع تھی: ہارر۔۔۔ جو مشرقی افریقہ (ہارن آف افریقہ) میں واقع ایک شہر تھا۔
اس مرتبہ وہ ترک تاجر کا روپ دھار کر وہاں پہنچے، اور شہر کے امیر سے یہ اجازت حاصل کر لی کہ انھیں دس دن تک شہر میں ٹھہرنے دیا جائے۔
تھامس رائٹ کے مطابق رچرڈ برٹن بے خوف تھے مگر بے وقوفانہ خطرہ مول لینے والے نہیں۔
رائٹ لکھتے ہیں کہ ’جب انھیں یہ محسوس ہوا کہ وہ ایک ایسے عدم برداشت رکھنے والے اور خونخواری کی شہرت یافتہ امیر کے زیرِ سایہ ہیں، جس کی گندی کوٹھڑیوں میں بھوکے اور زنجیروں میں جکڑے قیدیوں کی چیخیں گونجتی رہتی ہیں اور اس کے اردگرد وہ لوگ ہیں جو اجنبیوں سے نفرت کرتے ہیں، تو ایک ایسا یورپی جو پہلی بار اس اجنبی سرحد کو پار کر کے آیا تھا، قدرتی طور پر بے چینی میں مبتلا ہو گیا۔‘
ہارر کو اپنی کامیابیوں کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد رچرڈ برٹن کی نظر اب نیل کے افسانوی سرچشموں پر جا ٹھہری۔۔۔ وہ معمہ جس نے اس دور کے بے شمار مہم جوؤں کے تجسس میں اضافہ کر رکھا تھا۔
دریا کو پانی فراہم کرنے والی دو بڑی شاخوں میں سے ’نیلے نیل‘ کے بارے میں معلوم تھا کہ وہ ایتھوپیا سے نکلتا ہے، لیکن ’سفید نیل‘ کا منبع ابھی تک ایک راز تھا۔
اس کے منبع تک پہنچنے کی پہلی کوشش ناکام ہو گئی، جب رچرڈ برٹن اور ان کی مہم، جس میں انگریز افسر اور مہم جو جان سپیک بھی شامل تھے، پر بربیرہ میں تقریباً 300 مقامی افراد نے حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے ان کے چند ساتھیوں کو قتل کر دیا اور جان سپیک کے کندھے اور ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں، جبکہ رچرڈ برٹن کے چہرے پر نیزہ مارا گیا، جو ان کے چہرے پر وہ نمایاں اور خوفناک نشان چھوڑ گیا جو بعد کی زندگی میں اُن کی پہچان بن گیا۔
انگلینڈ میں صحت یاب ہونے کے بعد اور کریمیا کی جنگ میں بطور رضاکار حصہ لینے کے بعد، جو ان کی زندگی کے حیرت انگیز تجربات میں سے ایک تھا، رچرڈ برٹن نے دوبارہ نیل کے سفر کا آغاز کیا۔
وہ جان سپیک اور 132 قلیوں کے ساتھ زنجبار کے جزیرے سے روانہ ہوئے۔ نیل کے ساتھ سفر کرنے کے بجائے، رچرڈ برٹن کا خیال تھا کہ منبع تک پہنچنے کا سب سے تیز طریقہ یہ ہے کہ وہ بحرِ ہند سے پورے براعظم کو عبور کریں۔
یہ مہم ہر قسم کی تکلیف سے بھرپور تھی، جنگلات، دلدلیں، مختلف حشرات کے کاٹنے حتیٰ کہ رچرڈ برٹن اور جان سپیک دونوں ملیریا میں مبتلا ہو کر نیم بے بصری کی کیفیت تک پہنچ گئے۔
آخرکار وہ دونوں جھیل ٹانگانیکا تک پہنچے، ایک ایسی جگہ جسے اس سے پہلے کسی بھی یورپی نے نہ دیکھا تھا اور نہ اس کا نام سنا تھا۔
جان سپیک جلد صحت یاب ہو گئے اور جب دونوں نے اس بات کی تصدیق کر لی کہ جھیل ٹانگانیکا نیل کا سرچشمہ نہیں ہے، تو انھوں نے مقامی لوگوں کی رہنمائی کے مطابق شمال کی جانب کئی ہفتوں کے فاصلے پر موجود ایک اور بڑی جھیل کی طرف سفر شروع کر دیا، جبکہ رچرڈ برٹن بیماری میں پیچھے رہ گئے۔
جان سپیک اس جھیل تک پہنچ گئے، جو آج جھیل وکٹوریہ کہلاتی ہے اور انھوں نے اسی وقت یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ انھوں نے نیل کا راز تلاش کر لیا ہے۔
لیکن ان کی یہ دریافت رچرڈ برٹن کے ساتھ شدید اختلاف کا سبب بن گئی، کیونکہ رچرڈ برٹن انھیں ماننے پر تیار نہ تھے۔
واپسی پر انگلینڈ میں ان دونوں کے درمیان یہ جھگڑا اور بڑھ گیا۔ جان سپیک کی جانب سے جھیل وکٹوریہ کی دوسری مہم نے ان کے دعوے کی مزید تصدیق کر دی، جس سے رچرڈ برٹن کی ساکھ کو خاصا نقصان پہنچا۔
لیکن یہ بھی اس مہم جو کی آخری مہم نہیں تھی۔
سفارتی اہلکار اور مترجم
وہ امریکہ کی سالٹ لیک سٹی گئے تاکہ وہاں مورمن فرقے کا مطالعہ کریں، جن پر انھوں نے بعد میں ’شہرِ مقدس‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی۔
انھوں نے اشرافیہ خاندان کی ایک خاتون سے شادی کی۔ بعد ازاں انھیں قونصلر کے طور پر فرنانڈو پو بھیجا گیا، جو اُس وقت ہسپانوی کالونی گنی آئسکیٹوریل کا دارالحکومت تھا۔
وہاں سے انھوں نے افریقہ کے مختلف حصوں میں مزید مہمات کیں اور کم از کم پانچ مزید کتابیں لکھیں جن میں انھوں نے ان قوموں کے رسوم و رواج، عقائد اور متنوع ثقافتی طریقوں کا تفصیلی بیان کیا جن سے وہ ملے تھے۔
بعد ازاں وہ برازیل کے شہر سینٹوس میں قونصل مقرر ہوئے، جہاں انھوں نے پرتگالی شاعر لوئیس دی کاموئیش کے کام کا ترجمہ کیا۔
پھر انھیں دمشق میں تعینات کیا گیا، اور آخرکار 1872 میں انھوں نے اٹلی کے شہر تریئستے میں قونصل کا منصب قبول کیا، جو ان کی آخری سرکاری تعیناتی تھی۔
وہاں، اپنی پوری زندگی جس اجنبیّت اور غیر معمولی فضا کا پیچھا کرتے رہے تھے، اُس سے دُور بیٹھ کر انھوں نے خود کو مکمل طور پر ادب کے حوالے کر دیا۔ انھوں نے آئس لینڈ اور ایٹرُسکن قوم پر لکھا، اور کیٹلس اور جیام باتیستا بازیلے کے تراجم کیے۔
اب برٹن اپنی تخیل اور علمی وسعت کے ذریعے سفر کرتے تھے۔
شاید یہی اُن کی بے جھجھک جستجو، خاص طور پر انسانی تعلقات کے نجی پہلوؤں سے متعلق، آخرکار اُن کے بڑھاپے کو مالی طور پر آسودہ بنانے کا ذریعہ بھی بنی۔
قید کے خطرے کے باوجود، انھوں نے خفیہ طور پر ’کام سُوتر‘ کا ترجمہ اور اشاعت کی، جس کے ذریعے انھوں نے مشرقی دنیا کے بعض قدیم تصوراتِ محبت کو مغرب تک پہنچایا۔
اسی کے ساتھ انھوں نے ’الف لیلہ‘ کا ہو بہو ترجمہ بھی تیار کیا، اور اس کے ساتھ چند مضامین شامل کیے جن میں انھوں نے اُس زمانے کے حساس سماجی موضوعات، جیسے جنسی تعلیم اور مخصوص سماجی رویوں، پر علمی انداز میں بحث کی۔
رچرڈ برٹن مبینہ طور پر اپنی بیوی الزبتھ سے کہا کرتے تھے: ’بڑھاپے میں میں نے ایک مشتبہ کتاب کا ترجمہ کیا اور فوراً 16 ہزار گنیز کما لیے۔ اب جب میں انگلینڈ کے ذوق سے واقف ہو گیا ہوں، تو ہمیں کبھی پیسوں کی کمی نہیں ہو گی۔‘
لیکن ان کی بیوی، جو ایک مذہبی کیتھولک خاتون تھیں، اپنے شوہر کے ان موضوعات سے اتنی مطمئن نہ تھیں۔
رچرڈ برٹن کی موت کے اگلے ہی روز، ایزابیلا اپنے شوہر کے مطالعہ خانے میں داخل ہوئیں اور اپنے شوہر کی بعد از مرگ شہرت کو وکٹورین دور کے سخت گیر اور اخلاقی طور پر متعصب معاشرے سے بچانے کے لیے انھوں نے کئی مخطوطے جلا دیے۔
ان میں ایک نیا ترجمہ بھی شامل تھا، جو 15ویں صدی کی ایک عربی کتاب ’دی پرفیومڈ گارڈن‘ کا تھا۔ رچرڈ برٹن اس پر 14 برس سے محنت کر رہے تھے، اور اس میں ایک ایسا باب بھی شامل تھا جسے ان سے پہلے کبھی ترجمہ نہیں کیا گیا تھا۔
اس کتاب کا دوبارہ ترجمہ سامنے آنے میں تقریباً سو سال لگ گئے۔