آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران کے ڈرونز نے دنیا میں طاقت کے تصور کو کیسے بدلا؟
- مصنف, احمد راوبہ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
ایرانی ڈرونز کا پہلا تذکرہ برسوں قبل اسرائیل کے ساتھ لبنان کی سرحد پر حزب اللہ کی سرگرمیوں سے متعلق فوجی رپورٹس میں سامنے آیا تھا۔ بعدازاں عسکری ماہرین نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ استعمال ڈرونز کا سِرا بھی ایرانی صنعت سے جوڑا۔
تاہم ستمبر 2022 میں دنیا اُس وقت حیران رہ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ ایران روسی فوج کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔ اس سے کچھ ہی عرصہ قبل جیرینیم-2 (شاہد-136) نامی ڈرونز کی ابتدائی تصاویر یوکرین کے دارالحکومت کئیو کی فضاؤں میں منڈلاتے ہوئے منظرِ عام پر آ چکی تھیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ 40 برس سے پابندیوں کا شکار ملک بین الاقوامی تنازعات میں کھیل کے اصول کیسے بدلنے میں کامیاب ہو گیا؟ کون سی بنیادی قدریں اور عوامل تھے جنھوں نے اسے ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ کامیابی دلائی؟
یہ دراصل 1979 کے بعد عائد کی گئی پابندیاں ہی تھیں جنھوں نے ایرانی قیادت کو اپنے ملک میں دستیاب امکانات پر غور کرنے، مشکلات سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے اور درست فیصلے کرنے پر مجبور کیا۔ انھی پابندیوں نے ایرانی قیادت کو اپنے ملک کے انجینیئروں پر اعتماد کرنے پر آمادہ کیا۔
پابندیوں کے باعث ایران نے بیرونِ ملک سپلائی نیٹ ورکس قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ ضروری ساز و سامان اور پرزہ جات حاصل کیے جا سکیں۔ بعض مواقع پر انھوں نے سول ٹیکنالوجی کا بھی سہارا لیا۔
لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ محدود وسائل کی موجودگی میں ایرانیوں نے واضح حکمتِ عملیاں وضع کیں اور انھیں صبر، استقامت اور تسلسل کے ساتھ عملی جامہ پہنایا اور یہی ان کی کامیابی کی اصل بنیاد بنی۔
جنوری 1979 میں جب شاہ محمد رضا پہلوی ملک چھوڑ کر روانہ ہوئے تو اپنے پیچھے ایک ایسی فوج چھوڑ گئے جو اسلحے کے اعتبار سے خطے کی سب سے طاقتور فوج سمجھی جاتی تھی۔ ایرانی فضائیہ اس وقت ایف‑14 ٹام کیٹ، ایف‑4 فینٹم اور ایف‑5 ٹائیگر جیسے جدید طیاروں سے لیس تھی۔
اس دور میں، عسکری سازوسامان کے لحاظ سے ایرانی فوج امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ اور فرانس کے بعد دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔ خاص طور پر ایرانی فضائیہ جرمن، چینی اور اسرائیلی فضائیہ سے بھی زیادہ جدید سمجھی جاتی تھی، کیونکہ اس کے پاس ایف‑14 ٹام کیٹ جیسے طیارے موجود تھے جو اُس وقت دنیا کے جدید ترین جنگی طیاروں میں شمار ہوتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ان طیاروں کی آپریشن اور دیکھ بھال کا دارومدار بڑی حد تک ایران میں تعینات امریکی ٹیکنیشنز (تکنیکی عملے) اور انجینیئروں پر تھا جبکہ سپیئر پارٹس (پرزہ جات) براہِ راست امریکی کمپنی ’گرومن‘ فراہم کرتی تھی۔ یوں ایرانی فضائیہ مکمل طور پر امریکی عسکری و صنعتی نظام پر انحصار کرتی تھی۔
شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد ایرانی فوجی قیادت یا تو ملک چھوڑ گئی، قتل کر دی گئی یا قید میں ڈال دی گئی۔ امریکی ٹیکنیشنز اور انجینیئرز ایران سے روانہ ہو گئے، اور امریکی کمپنیوں نے نئی حکومت سے تعلقات منقطع کر لیے۔
نتیجتاً ایران نے جن اربوں ڈالر مالیت کے طیارے خریدے تھے، وہ دیکھ بھال اور پرزہ جات کی عدم دستیابی کے باعث محض ناکارہ دھات بن کر رہ گئے۔
ضرورت ایجاد کی ماں ہے
ستمبر 1980 میں عراقی افواج نے ایرانی سرزمین پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک نہایت خونریز جنگ شروع ہوئی جو آٹھ سال تک جاری رہی۔
اس جنگ میں قتل و غارت اور تباہی کے بدترین طریقے استعمال کیے گئے، جن میں کیمیائی ہتھیار بھی شامل تھے۔ اس طویل اور ہولناک جنگ میں تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
جنگ کے ابتدائی مراحل میں عراقی افواج کو فضائی برتری حاصل رہی، جس کے باعث انھیں نمایاں کامیابیاں ملیں۔ عراقی فوج نے سوویت یونین سے ’ریکانیسنس ایئرکرافٹس‘ یعنی جاسوس طیارے خریدے اور وہاں سے حاصل کردہ سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے ایرانی افواج کی پوزیشنز کی نشاندہی اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی، جس سے انھیں میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہوئی۔
دوسری جانب ایرانی افواج ایک ایسی جنگ لڑ رہی تھیں جس کے لیے ان کے پاس نہ واضح وژن تھا اور نہ ہی ضروری عسکری صلاحیت۔ وہ نہ تو اُن جدید امریکی طیاروں کو فعال کر پائے جو امریکیوں کے رخصت ہونے کے بعد گراؤنڈ کر دیے گئے تھے، اور نہ ہی اس ٹیکنالوجی کو خرید سکتے تھے جو اپنے دفاع کے لیے ناگزیر تھی کیونکہ ان پر سخت بین الاقوامی پابندیاں عائد تھیں۔
ایران کو ایک ایسی جنگ لڑنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت تھی جو اس کے وجود کے لیے خطرہ بن چکی تھی۔ لیکن معاشی پابندیوں نے اسے عالمی منڈی سے یہ ٹیکنالوجی خریدنے کے قابل نہ رہنے دیا۔ چنانچہ ایرانی قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دوسروں سے ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے بجائے خود ایجاد کرے اور خود تیار کرے۔
خیال بالکل سادہ تھا: اگر دشمن کی پوزیشن اور نقل و حرکت جاننے کے لیے سرحد کے پار جاسوس طیارے نہیں بھیجے جا سکتے، تو کیوں نہ چھوٹے، ریموٹ کنٹرول آلات استعمال کیے جائیں؟ یہ نہ صرف سستے تھے بلکہ ان کا سراغ لگانا بھی مشکل تھا، اور وہ قیمتی معلومات فراہم کر سکتے تھے۔
ایرانیوں نے سنہ 1981 کے اوائل ہی میں ان چھوٹے آلات پر کام شروع کر دیا۔ ان پر کیمروں کی تنصیب کا خیال زیرِ غور آیا۔ اس منصوبے کی بنیاد اصفہان یونیورسٹی میں رکھی گئی، جہاں طلبہ اور انجینیئرز نے مل کر اس خیال کو عملی شکل دینے کا کام شروع کیا۔
انھوں نے ان آلات کے ڈیزائن، تیاری، آزمائش اور بہتری کے مراحل طے کیے، اور بالآخر ابتدائی نمونے تیار کر کے پاسداران انقلاب کے عسکری حکام کے سامنے پیش کیے۔
یونیورسٹی میں قائم ایک معمولی سی ورکشاپ، جہاں عزم سے مسلح نوجوان آیا کرتے تھے۔ یہ وہ نوجوان تھے جو ’جہادِ تعمیر‘ اور ’یونیورسٹی جہاد‘ جیسے تصورات پر یقین رکھتے تھے، جنھیں اسلامی انقلاب کے بعد ملک کی قیادت نے بطور قومی نصب العین اپنایا تھا۔
برسوں کی کوششوں، بار بار کی ناکامیوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد، اصفہان کی اسی یونیورسٹی ورکشاپ میں یہ نوجوان ڈیزائن تیار کرتے اور پھر خوزستان کے کھلے میدانوں میں ان کے تجربات کرتے رہے۔
ان میں ایک سویلین پائلٹ جس کا نام فرشید تھا، دوسرا سعید نامی فزکس کا طالبعلم اور تیسرا مسعود زاہدی نامی پیشہ ور سنار تھا۔
جب پہلی مرتبہ انھوں نے اپنا ابتدائی نمونہ فوجی حکام کے سامنے پیش کیا تو بعض افسران نے اس خیال کا مذاق اڑایا۔
یہ ماڈل کسی بچے کے کھلونے سے زیادہ معلوم نہیں ہوتا تھا، جو نہایت غیر معمولی اشیا سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کا فیول ٹینک ایک طبی آئی وی بیگ تھا، جبکہ اس کا ’فین‘ یا پنکھا مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا گیا تھا۔
پہلا جنگی ڈرون
سنہ 1983 میں، محاذِ جنگ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور، وہی ’کھلونا‘ طیارہ پہلی بار عراقی فوجی پوزیشنز کے اوپر پرواز کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہ طیارہ واضح اور قابلِ استعمال تصاویر کے ساتھ واپس لوٹا، جن میں عراقی فوجی تنصیبات صاف نظر آ رہی تھیں۔ اس کامیابی کے بعد تھنڈر بٹالین کے قیام اور ایک باقاعدہ ڈرون پروگرام کے آغاز کے احکامات جاری کیے گئے۔
یہ پروگرام اصفہان یونیورسٹی کی ایک طالب علمانہ ورکشاپ سے نکل کر پاسداران انقلاب کے فوجی کمانڈروں کے زیرِ نگرانی آ گیا۔ طیاروں کی تیاری کے لیے درکار پرزہ جات حاصل کرنے کی خاطر، پروگرام کے منتظمین کو ملک پر عائد پابندیوں کو توڑتے ہوئے عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا پڑی۔
پاسداران انقلاب نے دبئی میں کمپنیوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا اور سنگاپور میں موجود ثالثوں کے ذریعے درجنوں ممالک سے پرزہ جات علیحدہ علیحدہ حالت میں خریدے۔ یہ پرزے بعد ازاں اصفہان منتقل کیے گئے، جہاں ان کی ’اسمبلنگ‘ کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ یوکرین میں مار گرائے گئے شاہد‑136 ڈرونز میں امریکی ساختہ چِپس پائے گئے۔
ڈرونز نے جاسوسی کے میدان میں اپنا لوہا منوایا اور سنہ 1983 کے بعد کئی فیصلہ کن معرکوں میں ایرانی افواج نے عراقی فوج کے خلاف ان کا استعمال کیا۔ تاہم سنہ 1987 سے رعد بٹالین کے انجینیئرز اور فوجی اہلکار اس خیال پر بھی کام کر رہے تھے کہ ڈرونز کو محض جاسوسی کے بجائے حملہ آور ہتھیار کے طور پر تیار کیا جائے۔
اگر کوئی ڈرون دشمن کی پوزیشنز کے اوپر پرواز کرتے ہوئے ان کی نقل و حرکت کی فلم بنا سکتا ہے، تو مسلح کیے جانے کی صورت میں وہ انھیں نشانہ بنا کر تباہ بھی کر سکتا ہے۔ البتہ اس کے لیے بالکل مختلف نوعیت کی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی درکار ہوتی ہے، جسے بعد میں رعد بریگیڈ نے ترقی دے کر ’مہاجر‘ نامی جنگی ڈرونز کی صورت میں پیش کیا۔
سنہ 1988 میں ایران اُن اولین ممالک میں شامل تھا جنھوں نے مسلح اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں یعنی یو اے ویز، جو آج ڈرونز کہلاتی ہیں، میدانِ جنگ میں استعمال کیں۔ اگرچہ آج امریکہ، ترکی اور اسرائیل اس صنعت میں نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران اس میدان میں ابتدائی پیش روؤں میں شامل تھا۔
سنہ 1988 میں ایرانی ڈرونز ڈیزائن کے اعتبار سے نہایت ابتدائی نوعیت کے تھے، جن کی زیادہ سے زیادہ پرواز کی حد 50 کلومیٹر سے زیادہ نہیں تھی۔ مگر 2026 تک ایران ایسے جدید ڈرونز تیار کر چکا تھا جو ایرانی سرزمین سے پرواز کر کے کئی ممالک کی فضائی حدود عبور کرتے ہوئے اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
درحقیقت، اسرائیل حتیٰ کہ امریکہ سے بھی پہلے وہ پہلا ملک تھا جس نے فوجی مقاصد کے لیے بغیر پائلٹ ڈرونز یعنی یو اے ویز کا استعمال کیا۔ اس نے سنہ 1973 کی جنگ میں انھیں مصری فضائی دفاعی نظام کو دھوکا دینے اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کو ناکارہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔ یہی اصول بعد میں ایرانی ڈرون پروگرام کے ذمہ داروں نے بھی اپنایا اور اسے مزید ترقی دی۔
اسی طرح سنہ 1982 میں لبنان پر اسرائیلی حملے کے دوران، اسرائیل نے ’سکاؤٹ‘ اور ’ماسٹف‘ ڈرونز کو جاسوسی کے لیے اور وادیِ بقاع میں شامی میزائل بیٹریوں کی نشاندہی اور انھیں نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔
یہ واقعہ مسلح تنازعات کی تاریخ میں جنگی ڈرونز کے عملی اور مؤثر استعمال کا پہلا واضح مظاہرہ سمجھا جاتا ہے۔
متضاد تصورات
ایرانی ماہرین نے لبنان میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھی۔ حزب اللہ میں موجود ان کے اتحادیوں نے اسرائیلی ڈرونز کے بارے میں درست اور تفصیلی معلومات اکٹھی کرنے میں ان کی مدد کی۔ ان معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اسرائیلی ڈرونز اتنے زیادہ پیچیدہ نہیں ہیں کہ تہران اور اصفہان کی جامعات میں موجود ایرانی ماہرین اور انجینیئرز ان کی نقل تیار نہ کر سکیں۔
عسکری تجزیہ کاروں نے متعدد رپورٹس میں نشاندہی کی ہے کہ ابتدائی ایرانی ڈرون ماڈلز میں اسرائیلی ’سکاؤٹ‘ اور ’ماسٹف‘ ڈرونز سے کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی انجینیئرز نے ان خصوصیات کے لیے اسرائیلی ڈیزائنز سے تحریک حاصل کی۔
سنہ 1970 کی دہائی سے یہ تصور عام رہا ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیار ہی سب سے زیادہ قیمتی اور مؤثر ہوتے ہیں۔ ایک گائیڈڈ میزائل، جو ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنائے، سو ایسے ہتھیاروں سے کہیں زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے جو گائیڈّڈ نہ ہو۔
ایرانیوں نے اس عسکری مساوات میں ایک نیا تصور شامل کیا: اگر ان کا ملک تکنیکی ترقی میں اپنے مخالفین کا مقابلہ نہیں کر سکتا، تو پھر اسے تعداد اور معاشی لاگت میں مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہی وہ بنیادی تصور ہے جس پر ایرانی ڈرون پروگرام کی بنیاد رکھی گئی۔
اگر ایک ڈرون تیار کرنے پر تقریباً 20 ہزار ڈالر لاگت آتی ہے، تو وہ درستگی کے لحاظ سے 20 لاکھ ڈالر مالیت کے کروز میزائل کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر 100 ڈرونز ایک ساتھ بھیجے جائیں، تو مخالف کو انھیں مار گرانے کے لیے کم از کم 100 کروز میزائل استعمال کرنا پڑیں گے اور ممکن ہے اس سے بھی زیادہ۔
ڈرونز کو بنیادی طور پر انتہائی درستگی یا شدید تباہی کے لیے نہیں بلکہ دشمن کے دفاعی نظام کو تھکانے، ختم کرنے اور اس کے مالی وسائل پر دباؤ ڈالنے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔
ایرانی حملے طویل عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں، کیونکہ یہ دشمن کے میزائل دفاعی نظام کے مقابلے میں 10 سے 20 گنا کم لاگت رکھتے ہیں۔
ایک سادہ حساب یہ ظاہر کرتا ہے کہ 100 ڈرونز لانچ کرنے پر حملہ آور ریاست کو تقریباً 20 لاکھ ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس اپنے مفادات کے دفاع کے لیے کھڑی ریاست کو ان ڈرونز کو مار گرانے کے لیے 200 ملین ڈالر مالیت کے جدید میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں چاہے ان ڈرونز سے ہونے والا نقصان کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔
ڈرونز کی ایک اور اہم برتری یہ ہے کہ انھیں ریڈار کے ذریعے شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ کم رفتار سے اور نچلی پرواز کی سطح پر پرواز کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ جب ڈرونز کو ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں روانہ کیا جائے تو وہ دفاعی نظام پر حد سے زیادہ دباؤ ڈال دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض اوقات یہ نظام تمام ڈرونز کو روکنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔
سنہ 2019 میں سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملے نے اس صلاحیت کی مؤثریت کو واضح طور پر ثابت کر دیا۔ اس حملے کے دوران امریکی دفاعی نظام ایرانی ساختہ ڈرونز کو روکنے میں ناکام رہے۔ اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی، لیکن بڑے پیمانے پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ڈرونز ایران یا عراق کی سرزمین سے لانچ کیے گئے تھے۔
آرامکو تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں دسیوں ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جبکہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرونز کی لاگت محض کئی ملین ڈالر تھی۔
یہی لاگت کا فرق دراصل ڈرون جنگ میں فاتح اور مفتوح کا تعین کرتا ہے۔