آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ کے ساتھ بات چیت کے بارے میں ایران ’پُرامید نہیں‘، روس کی ثالثی میں مدد کی پیشکش

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاملات کے حوالے سے ’پر امید نہیں‘۔ اسماعیل بقائی کے مطابق ’اگر یہ کہا جائے کہ ایک حد تک بدگمانی موجود ہے… تو یہ بالکل فطری بات ہو گی۔‘ دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ثالث نہیں لیکن ضرورت پڑنے پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

خلاصہ

  • امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: ایران
  • افزودہ یورینیم کے ذخائر کی منتقلی ایران کے ایجنڈے کا حصہ نہیں، اسماعیل بقائی
  • چین کا امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز تحویل میں لیے جانے پر 'تشویش' کا اظہار
  • ایران امریکہ سے مذاکرات جاری رکھنے پر تیار، مگر ہر قیمت پر نہیں: ابراہیم عزیزی کی الجزیرہ سے گفتگو
  • ایران نے امریکی بحری جہازوں کو ڈرونز کی مدد سے نشانہ بنایا ہے: ایرانی میڈیا کا دعویٰ
  • امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ’ناکہ بندی کی خلاف ورزی‘ پر 900 فٹ طویل ایرانی کارگو جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے قبضے میں لے لیا
  • آبنائے ہرمز میں ایرانی کارگو جہاز پر قبضہ ’مسلح بحری قزاقی‘ اور ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ ہے جس کا جلد جواب دیا جائے گا: ایران

لائیو کوریج

  1. آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کی آمدورفت جاری رہنی چاہیے، صدر شی جنپنگ

    چین کے صدر شی جنپنگ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی معمول کی آمدورفت جاری رہنی چاہیے۔

    چینی خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق، صدر شی نے یہ بات سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔

    مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے شی جنپنگ کا کہنا تھا کہ چین فوری اور جامع جنگ بندی اور عسکری کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے اور امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    چینی صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کے مطابق آمدورفت خطے کے ممالک اور عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

  2. امریکہ کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے پر امید نہیں، ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاملات کے حوالے سے زیادہ ’پر امید نہیں‘، وہ بس ’حقیقت پسند‘ ہے۔

    ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ: ’اگر یہ کہا جائے کہ ایک حد تک بدگمانی موجود ہے… تو یہ بالکل فطری بات ہو گی۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’دشمن کے حوالے سے بدگمان رہنا دراصل دانائی کے مترادف ہے۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنا ایک وفد پاکستان بھیجا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اب تک ان مذاکرات میں شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

  3. ثالث نہیں لیکن ضرورت پڑنے پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں: روس

    روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ثالث نہیں ہے لیکن ضرورت پڑنے پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال بہت نازک اور عملی طور پر غیر متوقع ہے۔

    روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، پیسکوف کا کہنا ہے کہ روس کو امید ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے مذاکراتی عمل جاری رہے گا اور دوبارہ طاقت کا استعمال شروع نہیں کیا جائے گا۔

    ’ہمیں امید ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہے گا جس سے فوجی کارروائیوں کو روکنا ممکن ہو گا کیونکہ اس سے علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘

    روسی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ماسکو نے اب تک مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا نہیں کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ماسکو فریقین کو کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ روس متعدد مواقع پر پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہم پرامن حل کی تلاش اور متعلقہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوئی بھی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  4. اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا تعلق ایران، امریکہ بات چیت سے نہِیں: لبنانی صدر

    لبنان کے صدر جوزف عون کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا تعلق امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات یا ’کسی اور قسم کی بات چیت‘ سے نہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اگلے دور میں لبنانی وفد کی قیادت امریکہ میں لبنان کے سابق سفیر سائمن کرم کریں گے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ لبنان کی جانب سے اس مشن میں نہ تو کوئی اور شریک ہوگا اور نہ ہی ان کی جگہ لے گا۔

    لبنانی صدر کے مطابق مذاکرات کے مقاصد میں عسکری کارروائیوں کا خاتمہ‘ لبنان کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی ’قبضے کا خاتمہ‘ اور لبنان کی ’بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جنوبی سرحدوں‘ تک اس کی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔

    ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی لبنان کے مطالبات کو پوری طرح سے سمجھتے ہیں اور مذاکرات کے اگلے دور کی راہ ہموار کرنے میں مدد کی ہے۔

    لبنانی صدر کا کہنا ہے کہ ’پوری امید ہے کہ ہم لبنان کو بچانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔‘

    تاہم دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر (6.2 میل) اندر تک تعینات رہے گی۔

  5. نیتن یاہو کی اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسی کے مجسمے پر حملے کی مذمت: ’اس واقعے سے پہنچنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں‘

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسی کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے عمل کی ’شدید ترین الفاظ میںمذمت‘ کی ہے۔

    نتن یاہو کا بیان اس تصویر کے آن لائن وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے سے حضرت عیسی کے ایک مجسمے پر وار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ کہ وہ اور ’اسرائیلیوں کی بھاری اکثریت‘اس واقعے کی بارے میں جان کر ’دلبرداشتہ‘ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ فوجی حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ذمہ دار فوجی کے خلاف ’سخت تادیبی کارروائی‘کی جائے گی۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا کہ ’اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں واحد مقام ہے جہاں تمام مذاہب کے لیے عبادت کی آزادی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ ہم اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے پہنچنے والی کسی بھی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔‘

    اس سے قبل اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے اس واقعے پر ’فوری، سخت اور اعلانیہ‘ کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

  6. پاکستانی وزیرِ داخلہ کی امریکی اور ایرانی سفیروں سے ملاقات: ’اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں‘

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوموار کے روز اسلام آباد میں امریکہ کی سفیر نیٹلی بیکر اور ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔

    اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع امریکہ کے سفارتخانے میں نیٹلی بیکر سے ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے سکیورٹی انتظامات سے متعلق امریکی سفیر کو آگاہ کیا۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے تمام خاص مہمانوں کے لیے سکیورٹی کےخصوصی انتظامات کیے ہیں۔

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفیر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے مخلصانہ کردار کو سراہا۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم سے بھی ملاقات کی اور اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے کیے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی و مذاکراتی چینلز کے ذریعے پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے ایران امریکہ تنازع کے حل کا داعی ہے۔

    انھوں نے ایرانی سفیر کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں اور غیر ملکی وفود کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

    بیان کے مطابق ایرانی سفیر نے کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے مثبت و تعمیری کردار کو سراہا۔

  7. افزودہ یورینیم کے ذخائر کی منتقلی ایران کے ایجنڈے کا حصہ نہیں، اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی منتقلی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے کسی دور میں بھی ایران کے یورینیم کے ذخائر امریکہ یا کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کا معاملہ زیرِ بحث نہیں آیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ایران کے مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے یورینیم ذخائر حاصل کر کے اسے امریکہ منتقل کر دیں گے۔

  8. مردان میں تحریک انصاف کا جلسہ: عمران خان کی رہائی سے متعلق کسی تحریک کا اعلان کیوں نہ ہو سکا؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اتوار (19 اپریل) کی شب صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر مردان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کی رہائی، اُن کے خلاف مقدمات کے خاتمے اور عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو فوری اور مکمل طبی سہولیات کی فراہمی جیسے مطالبات کو دہرایا ہے۔

    اس جلسے میں منظور ہونے والی قرار داد کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا نے وفاق سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت حصہ ادا کرنے اور مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ صوبے کو اس کے مالی حقوق خاص طور پر ضم شدہ اضلاع کے فنڈز فوری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مردان جلسے کے ذریعے تحریک انصاف نے اِس صوبے میں اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے جہاں وہ گذشتہ 13 سال سے برسراقتدار ہے مگر اس موقع پر بھی قائدین کی جانب سے ایسا کوئی منصوبہ یا تحریک کا اعلان نہیں کیا جس کے ذریعے بانی پاکستان تحریک انصاف کی رہائی ممکن ہو سکے۔

    اس جلسے کا انعقاد ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب جماعت کے اندر اختلافات کی آوازیں صاف سُنائی دے رہی ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے سینیئر رہنماؤں بشمول بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا نے پارٹی میں اختلافات کی باتوں کو درست قرار نہیں دیا ہے لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں علیمہ خان، سلمان اکرم راجا اور مشال یوسفزئی کے علاوہ بیرسٹر محمد علی سیف کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات دوسری کہانی بیان کرتے ہیں۔

    صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے مردان جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے تمام اراکین صوبائی اسمبلی، خاص طور پر صوبے کے شمالی علاقوں اور مرکزی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین کو ٹاسک دیا تھا، جبکہ چند روز پہلے ہی انھوں نے کابینہ میں توسیع کا عندیہ بھی دیا تھا جس کی بدولت عوام کی بڑی تعداد اس جلسے میں شریک ہوئی۔

    لحاظ علی خان کا کہنا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت پر اُن کے اپنے سوشل میڈیا اور کارکنوں کی جانب سے سخت دباؤ ہے اور موجودہ قیادت یہ بات بھی جانتی ہے کہ کارکن صرف عمران خان کی وجہ سے نکلتے ہیں اور اسی صورتحال میں کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہ کرنے کے باعث کارکنوں کا اپنی موجودہ قیادت سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مردان جلسے سے قیادت نے اگرچہ کارکنوں کو اس حوالے سے مطمئن کرنے کی کوشش کی ہو گی مگر قیادت جانتی ہے کہ فی الحال وہ اسلام آباد یا راولپنڈی جیسے شہروں میں جلسہ منعقد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ سے جب پوچھا کہ کیا پی ٹی آئی میں اختلافات پائے جاتے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت میں اختلاف یا متحد ہونے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ فیصلے کون کر رہا ہے یا کتنے افراد کر رہے ہیں اور اگر فیصلے مختلف سمتوں سے آ رہے ہیں تو اس سے لگتا ہے کہ پارٹی میں اتحاد کا فقدان ہو سکتا ہے ۔

    اس بارے میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان کو سوالات بھیجے گئے مگر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    سینیئر صحافی اور تجزیہ کار علی اکبر کا کہنا ہے کہ اِس وقت وزیر اعلی سہیل آفریدی ہی پی ٹی آئی کا چہرہ ہیں جن سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ اُن کے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے اور ان کے پاس زیادہ اختیارات بھی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات اور عمران خان کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں لیکن بظاہر ان کے لیے تمام راستے بند ہیں اور ایسے میں ان پر سوشل میڈیا اور کارکنوں کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کی قیادت نے شاید اپنے صوبے میں جلسے منعقد کیا اور اس پر مقتدر قوتوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔

    صحافی علی اکبر کا کہنا ہے کہ اگرچہ مردان جلسے میں پی ٹی آئی نے عوامی قوت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس طرح کے جلسوں سے جماعت کے اندر جو ایک ہلچل یا کسی حد تک اگر اختلاف موجود ہے وہ کم نہیں ہو سکتا، بلکہ پارٹی کے اندر سخت مؤقف رکھنے والے افراد موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ پارٹی ایسا کچھ کرے جس سے پارٹی نمایاں ہو، چاہے اس کے لیے سخت جدوجہد ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

    لحاظ علی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کی عمومی رائے یہ ہے کہ پارٹی کارکن عمران خان کے لیے نکلتے ہیں، اور اگرچہ پی ٹی آئی اندروںی طور پر تقسیم کا شکار نظر آتی ہے لیکن جماعت کے کارکن ایک نقطے پر متحد ہیں اور وہ عمران خان ہے۔

  9. امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان اور تنازع کے حل کی دم توڑتی امیدیں, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوتا بھی ہے تو اس سے کسی بڑی پیش رفت کی زیادہ توقع نہیں۔

    آٹھ روز قبل اسلام آباد میں جو تھوڑی بہت امید دکھائی دے رہی تھی اب وہ بھی معدوم پڑتی جا رہی ہے۔ ایران نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایران کی خلیجی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ اب امریکی افواج کی جانب سے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم بردار جہاز توسکا پر فائرنگ اور اسے تحویل میں لیے جانے کے بعد ایران نے امریکہ پر بحری قزاقی کا الزام بھی لگا دیا ہے۔

    یہ حالات قطعاً ایسے نہیں جن میں کسی مشترکہ نکتے پر پہنچنے یا اس تنازع کا خاتمہ ممکن ہو۔

    بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقصد پہلے سے کمزور ایرانی معیشت پر اس حد تک دباؤ ڈالنا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائے۔

    بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ حکمتِ عملی شاید اب بھی کارگر ثابت ہو لیکن ایران عام طور پر اس طرح کے دباؤ پر ویسے ردِعمل نہیں دیتا جیسا بعض لوگ اس سے توقع کرتے ہیں۔

    اس کے برعکس، ایران اپنے مؤقف میں مزید سختی لا رہا ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو اپنا ’خود مختار حق‘ قرار دے رہا ہے۔

  10. چین کا امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز تحویل میں لیے جانے پر ’تشویش‘ کا اظہار

    چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے چاہییں۔ یہ بیان امریکہ کی جانب سے ایرانی پرچم بردار جہاز ’توسکا‘ کو تحویل میں لیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گؤ جیاؤں کن نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ چین کو امریکی افواج کی جانب سے ایرانی جہاز کو ’زبردستی روکے جانے‘ پر ’تشویش‘ ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ اس سے قبل بھی امریکہ کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو ’غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک‘ قرار دے چکی ہے۔

    اندازوں کے مطابق چین ایران کے برآمد کیے جانے والے تیل کا لگ بھگ 90 فیصد خریدتا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کا مقصد چین پر دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے تاکہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

  11. پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور انڈین حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہے: جنرل سیکریٹری کانگریس جے رام رمیش

    انڈین کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش کی جانب سے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اب انڈیا کو اپنی خارجہ پالیسی اور حکمتِ عملی مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا کہ ’وہ (پاکستان) آج مُمکنہ طور پر امریکہ ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی حکمتِ عملی پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کو ایک نئی شناخت اور نئی حیثیت مل گئی ہے، جو اس تصویر سے بالکل مختلف ہے جسے منموہن سنگھ نے سنہ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔‘

    جے رام رمیش نے مزید لکھا کہ ’فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اشتعال انگیز بیانات، جنھیں پہلگام حملے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، اب صدر ٹرمپ کے پسندیدہ بن گئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ مودی جی کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ انڈیا کو اپنی سفارتی حکمتِ عملی اور طریقہ کار کو مکمل طور پر بدلنے کی ضرورت ہے، جو مودی جی کے بس کی بات نہیں۔‘

  12. امریکہ امن کے لیے سنجیدہ نہیں اور ایران پر الزام تراشی کا ایک کھیل کھیل رہا ہے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ایران نے مذاکرات سے متعلق اپنے 10 نکات جمع کروا دیے تھے، جن پر اسلام آباد میں بات چیت بھی ہوئی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل محفوظ تھی۔‘

    ترجمان کے مطابق امریکہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کسی معاہدے کا حصہ نہیں تھی حالانکہ ایران نے اس بارے میں پاکستانی ثالث کو وضاحت فراہم کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے بحری ناکہ بندی کی اور ایک ایرانی جہاز پر حملہ کیا جو جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین دونوں کی خلاف ورزی ہے۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’امریکہ نے دو مرتبہ مذاکرات کی خلاف ورزی کی، ایران پر حملے کیے، ایرانی شہریوں کو نشانہ بنایا اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے۔‘

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’امریکہ ایران پر الزام تراشی کا ایک کھیل کھیل رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے، جب کہ انھیں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ لیکن ہم امریکیوں سے سچ بولنے کی توقع نہیں کر سکتے وہ ہمیشہ ہم پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ امریکہ مذاکرات اور امن کے لیے بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی وفد تہران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ کی ’منصفانہ اور مناسب‘ پیشکش قبول نہ کی تو وہ اس کے تمام بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دے گا۔

    تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اُس وقت اضافہ ہوا کہ جب امریکی فوجیوں نے خلیج فارس میں ایک ایرانی پرچم بردار بحری جہاز پر حملہ کیا اور اسے تحویل میں لے لیا۔

  13. بریکنگ, امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: ایران

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ہے کہ اُن کا مُلک امریکہ کے ساتھ پاکستان میں بات چیت کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔‘

    تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے ماضی کے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایسی روش کبھی مثبت نتائج نہیں دے سکتی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جنگ بندی کے نفاذ کے آغاز ہی سے امریکہ نے اس کی خلاف ورزی کی اور ہم نے اس بارے میں پاکستانی ثالث کو آگاہ کر دیا تھا۔‘

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’بحری ناکہ بندی نافذ کر کے امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، ہم پچھلے مذاکرات کے دوران امریکہ کے حملوں کو نہیں بھلا سکتے۔‘

    انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہم اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھیں گے، اگر امریکہ اور اسرائیل نئی جارحیت شروع کرنا چاہتے ہیں تو ہماری مسلح افواج اس کے لیے تیار ہے اور وہ اس کا مناسب جواب دیں گی۔‘

  14. وہ لمحہ کہ جب ہیلی کاپٹر پر سوار امریکی فوجی ایرانی کارگو جہاز پر اُترے

    امریکی ادارے سینٹ کام کی جانب سے اب سے کُچھ دیر قبل ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ہے کہ جس میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے امریکی فوجیوں کو ایرانی کارگو جہاز پر اُترتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ شب خلیجِ عمان میں ایران کے پرچم بردار کارگو جہاز ’توسکا‘ کے امریکی فورسز کی جانب سے تحویل میں لیے جانے کے بارے میں خبریں سامنے آئی تھیں۔

    اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ’امریکی میرینز اتوار کے روز یو ایس ایس ٹرپولی حملہ آور جہاز سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے روانہ ہوئے اور رسی کے ذریعے توسکا پر اترے۔‘

    سامنے آنے والی تفصیلات میں جن میں ہیلی کاپٹر میں سوار میرینز کی ویڈیو بھی شامل ہے بتایا گیا ہے کہ یو ایس ایس سپروئنس نے توسکا کے انجن کو ’غیر فعال‘ کر دیا، کیونکہ جہاز نے امریکی فورسز کی جانب سے چھ گھنٹے تک دی جانے والی بار بار کی وارننگز پر عمل نہیں کیا۔‘

  15. اسلام آباد میں امن مذاکرات کی تیاری، مگر کیا ایران شرکت کرے گا؟

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آج پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہونے والے ہیں۔

    شہر کے سرینا ہوٹل، جہاں 11 اپریل کو بھی ناکام امن مذاکرات ہوئے تھے، میں موجود مہمانوں کو آج کے اجلاس کی تیاری کے سلسلے میں ہوٹل خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ پولیس نے غیر ملکی وفود کی آمد کے باعث اہم سڑکیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے ’نمائندے‘ پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے، جن کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وفد میں شامل ہوں گے۔

    تاہم ایران نے تاحال باضابطہ طور پر ان مذاکرات میں شرکت کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، جب تک ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی برقرار ہے، ایرانی حکام مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو جائے گی۔ اس دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایرانی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا جائے گا۔

  16. ایران امریکہ سے مذاکرات جاری رکھنے پر تیار، مگر ہر قیمت پر نہیں: ابراہیم عزیزی کی الجزیرہ سے گفتگو

    ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم اس نے اپنی ’سرخ لکیریں‘ طے کر رکھی ہیں جن کا احترام لازم ہوگا۔

    ابراہیم عزیزی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ’کسی بھی قیمت پر مذاکرات‘ کیے جائیں یا دوسرے فریق کے ہر طرزِ عمل کو قبول کر لیا جائے۔ ان کے مطابق ایران کی کچھ سرخ لکیریں ہیں جنھیں لازماً مدنظر رکھنا ہوگا۔

    اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایرانی وفد بھیجنے سے متعلق سوال پر ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ تہران کو مثبت اشارے ملتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کبھی اصولِ مذاکرات سے خوف نہیں کھایا۔ ممکن ہے آج یا کل مزید جائزے کے بعد ہم اسے ممکن سمجھیں، بشرطیکہ امریکی مذاکراتی ٹیم اور ایران کو ملنے والے پیغامات مثبت ہوں۔‘

    ایک اور بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے تمام اقدامات قومی مفاد اور سلامتی کے اصولوں کے تحت ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ایران قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے‘ اور ملک کے مفادات و سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

    انھوں نے مذاکرات کو میدانِ جنگ کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم موجودہ مذاکرات کو میدانِ جنگ ہی کا تسلسل سمجھتے ہیں، اور ہمیں اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر اس سے میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو دوام ملتا ہے، تو مذاکرات کا میدان بھی ہمارے لیے ایک موقع ہے۔ لیکن اگر امریکہ اسے اپنی دھونس پر مبنی حکمتِ عملی کے تحت حد سے زیادہ مطالبات کا میدان بنانا چاہے، تو پھر نہیں۔‘

    اس سے قبل بی بی سی نیوز کی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور لیز ڈوسیٹ کو ابراہیم عزیزی نے کہا تھا ’ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول چھوڑنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوگا۔‘

    تہران میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر نے کہا کہ ’یہ ہمارا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا اختیار ایران طے کرے گا، بشمول اس بات کے کہ کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔‘

    ان کے مطابق یہ اختیار اب قانون کی شکل اختیار کرنے والا ہے۔

  17. بریکنگ, ایران نے امریکی بحری جہازوں کو ڈرونز کی مدد سے نشانہ بنایا ہے: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے خلیجِ عمان میں امریکی بحریہ کے جہازوں پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ کارروائی ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کی امریکی میرینز کے حملے اور اسے تحویل میں لیے جانے کے جواب میں کی گئی ہے۔

    بظاہر ہونے والے ان ڈرون حملوں سے کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

    اس سے قبل ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے امریکی بحریہ کی کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکی بحریہ کی اس ’مسلح بحری قزاقی‘ کا جواب دیں گے۔

  18. چھ گھنٹے کے انتباہ کے بعد امریکی میرینز نے ایرانی پرچم بردار جہاز پر دھاوا بولا: سینٹ کام

    ایران کے پرچم بردار کارگو جہاز توسکا کے امریکی فورسز کی جانب سے تحویل میں لیے جانے کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’امریکی میرینز اتوار کے روز یو ایس ایس ٹرپولی حملہ آور جہاز سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے روانہ ہوئے اور رسی کے ذریعے توسکا پر اترے۔‘

    سامنے آنے والی تفصیلات میں جن میں ہیلی کاپٹر میں سوار میرینز کی ویڈیو بھی شامل ہے بتایا گیا ہے کہ یو ایس ایس سپروئنس نے توسکا کے انجن کو ’غیر فعال‘ کر دیا، کیونکہ جہاز نے امریکی فورسز کی جانب سے چھ گھنٹے تک دی جانے والی بار بار کی وارننگز پر عمل نہیں کیا۔‘

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اسی واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہماری بحریہ نے ان کے انجن روم کو ناکارہ کر کے انھیں وہیں روک دیا۔‘

    ایران کے اعلیٰ عسکری ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کی جانب سے اس کارروائی کا جواب دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس واقعے کی پہلی اطلاع صدر ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دی تھی۔

  19. ٹرمپ کے ایرانی جہاز ضبط کیے جانے کے دعوے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک کر تحویل میں لیے جانے کے بیان کے بعد سوموار کی صبح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

    یہ پیش رفت ایران کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان کے بعد سامنے آئی کے جس میں ایران نے سنیچر کے روز یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کر رہا ہے اور جو بھی جہاز اس کے قریب آئے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت میں چار اعشاریہ سات چار فیصد اضافے کے بعد 94 اعشاریہ چھ چھ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ پانچ اعشایہ چھ فیصد اضافے کے ساتھ 88 اعشاریہ پانچ پانچ ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد جب تہران نے آبنائے ہرمز میں مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں تو اس کے بعد سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ وہ آبی راستہ جس سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔

  20. کوئی بھی ایران کی تیل برآمدات کو محدود کر کے دوسروں کے لیے اسے آسان نہیں بنا سکتا: محمد رضا عارف

    ایران کے نائب صدر اول محمد رضا عارف کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی ایران کی تیل برآمدات کو محدود کر کے دوسروں کے لیے اسے مفت یا آسان بنانے کی توقع نہیں رکھ سکتا۔‘

    ایرانی نائب صدر اول نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’انتخاب واضح ہے، یا تو سب کے لیے تیل کی منڈیوں تک آزادانہ طور پر رسائی یا پھر سب کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

    انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’عالمی ایندھن کی قیمتوں میں استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اقتصادی اور عسکری دباؤ کا پائیدار اور یقینی خاتمہ ہو۔‘