پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اتوار (19 اپریل) کی شب صوبہ
خیبرپختونخوا کے شہر مردان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے اسیر
رہنماؤں کی رہائی، اُن کے خلاف مقدمات کے خاتمے اور عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ
بی بی کو فوری اور مکمل طبی سہولیات کی فراہمی جیسے مطالبات کو دہرایا ہے۔
اس جلسے میں منظور ہونے والی قرار داد کے مطابق صوبہ
خیبرپختونخوا نے وفاق سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت حصہ ادا کرنے اور مطالبہ بھی
کیا اور کہا کہ صوبے کو اس کے مالی حقوق خاص طور پر ضم شدہ اضلاع کے فنڈز فوری فراہم
کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مردان جلسے کے ذریعے تحریک
انصاف نے اِس صوبے میں اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے جہاں وہ گذشتہ 13 سال سے برسراقتدار
ہے مگر اس موقع پر بھی قائدین کی جانب سے ایسا کوئی منصوبہ یا تحریک کا اعلان نہیں
کیا جس کے ذریعے بانی پاکستان تحریک انصاف کی رہائی ممکن ہو سکے۔
اس جلسے کا انعقاد ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب جماعت کے اندر
اختلافات کی آوازیں صاف سُنائی دے رہی ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے سینیئر رہنماؤں
بشمول بیرسٹر گوہر اور
سلمان اکرم راجا نے پارٹی میں اختلافات کی باتوں کو درست قرار نہیں دیا ہے لیکن
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں علیمہ خان، سلمان اکرم راجا اور مشال یوسفزئی
کے علاوہ بیرسٹر محمد علی سیف کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات دوسری کہانی بیان
کرتے ہیں۔
صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے مردان
جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے تمام اراکین صوبائی اسمبلی، خاص طور پر صوبے کے شمالی
علاقوں اور مرکزی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین کو ٹاسک دیا تھا، جبکہ چند روز
پہلے ہی انھوں نے کابینہ میں توسیع کا عندیہ بھی دیا تھا جس کی بدولت عوام کی بڑی
تعداد اس جلسے میں شریک ہوئی۔
لحاظ علی خان کا کہنا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت پر اُن
کے اپنے سوشل میڈیا اور کارکنوں کی جانب سے سخت دباؤ ہے اور موجودہ قیادت یہ بات بھی
جانتی ہے کہ کارکن صرف عمران خان کی وجہ سے نکلتے ہیں اور اسی صورتحال میں کوئی
ٹھوس منصوبہ پیش نہ کرنے کے باعث کارکنوں کا اپنی موجودہ قیادت سے اعتماد اٹھ رہا
ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مردان جلسے سے قیادت نے اگرچہ کارکنوں کو اس حوالے سے مطمئن
کرنے کی کوشش کی ہو گی مگر قیادت جانتی ہے کہ فی الحال وہ اسلام آباد یا راولپنڈی
جیسے شہروں میں جلسہ منعقد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور وکیل قاضی انور
ایڈووکیٹ سے جب پوچھا کہ کیا پی ٹی آئی میں اختلافات پائے جاتے ہیں؟ تو انھوں نے
کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت میں اختلاف یا متحد ہونے کا اندازہ اس سے لگایا جا
سکتا ہے کہ فیصلے کون کر رہا ہے یا کتنے افراد کر رہے ہیں اور اگر فیصلے مختلف
سمتوں سے آ رہے ہیں تو اس سے لگتا ہے کہ پارٹی میں اتحاد کا فقدان ہو سکتا ہے ۔
اس بارے میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، چیئرمین پی
ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان کو سوالات بھیجے گئے مگر
ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار علی اکبر کا کہنا ہے کہ اِس وقت
وزیر اعلی سہیل آفریدی ہی پی ٹی آئی کا چہرہ ہیں جن سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں
کیونکہ اُن کے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے اور ان کے پاس زیادہ اختیارات بھی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات اور عمران خان کو صحت
کی سہولیات فراہم کرنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں لیکن بظاہر ان کے لیے تمام راستے
بند ہیں اور ایسے میں ان پر سوشل میڈیا اور کارکنوں کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا جس کی
وجہ سے پی ٹی آئی کی قیادت نے شاید اپنے صوبے میں جلسے منعقد کیا اور اس پر مقتدر
قوتوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔
صحافی علی اکبر کا کہنا ہے کہ اگرچہ مردان جلسے میں پی ٹی آئی
نے عوامی قوت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس طرح کے جلسوں سے جماعت کے اندر جو ایک ہلچل
یا کسی حد تک اگر اختلاف موجود ہے وہ کم نہیں ہو سکتا، بلکہ پارٹی کے اندر سخت مؤقف
رکھنے والے افراد موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ پارٹی ایسا کچھ کرے جس سے پارٹی
نمایاں ہو، چاہے اس کے لیے سخت جدوجہد ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
لحاظ علی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کی
عمومی رائے یہ ہے کہ پارٹی کارکن عمران خان کے لیے نکلتے ہیں، اور اگرچہ پی ٹی آئی
اندروںی طور پر تقسیم کا شکار نظر آتی ہے لیکن جماعت کے کارکن ایک نقطے پر متحد
ہیں اور وہ عمران خان ہے۔