گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس

    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

گلگت بلتستان میں ہفتے دس دن سے لگا لکی سیاسی سرکس مکمل ہوا۔ کس کا کرتب جنتا کو زیادہ بھایا اس بابت نو لاکھ 58 ہزار سے زائد ووٹرز بیلٹ باکس کے ذریعے پسند نا پسند ظاہر کر رہے ہیں۔

یہ سرکس سنہ 2009 کے بعد سے پانچ پانچ برس کے وقفے سے چوتھی بار آیا ہے۔ لگ بھگ 10 چھوٹی بڑی منڈلیوں نے تماشائیوں کا دل لبھانے کی کوشش کی۔ ڈھائی سو سے اوپر مقامی شوقینوں نے بھی 24 مقامات پر انٹرٹین کیا مگر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی گلگت بلتستان سے باہر کی دو تین بڑی منڈلیاں ہی منظر نامے پر چھائی ہوئی ہیں۔

وہی ریہرسل شدہ تقاریر، وہی پرانی پیٹیوں سے جھاڑ پونچھ کر نکالے وعدے جنھیں ووٹر چوتھی بار بھی اسی دلچسپی سے سن رہے ہیں جیسے پہلی بار سن رہے ہوں۔

’میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔۔۔‘

ہمیں معلوم ہے کہ اس خطے میں خواندگی کا تناسب 80 فیصد سے زائد ہے اور کہیں کہیں تو 100 فیصد بھی ہے۔ بس اس بار آپ ہمیں دو تہائی اکثریت دلوا دیں تو ہم پڑھے لکھے نوجوانوں میں پھیلی شدید بے روزگاری ختم کر دیں گے اور یہ روزگار اقتصادی و سیاحتی انفراسٹرکچر کو ترقی دے کر فراہم کیا جائے گا۔

دیا میر بھاشا ڈیم کے متاثرین عرصے سے جوتیاں چٹخا رہے ہیں۔ اس بار ان کے معاوضے کا مسئلہ بھی مکمل حل کر دیں گے۔

نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) میں آپ کو حصہ دار بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے، اگر دو دو نہیں تو کم ازکم ایک میڈیکل اور انجینئرنگ کالج تو ضرور ہی بنوا دیں گے تاکہ آپ کو گھر کے قریب ہی اعلی پروفیشنل تعلیم مل سکے۔ نیز پاکستان کے پیشہ ورانہ و ٹیکنیکل تعلیمی اداروں اور مقابلے کے امتحانوں میں بھی آپ کے بچوں کے کوٹے میں اضافہ کروائیں گے۔

ہمیں شرمندگی ہے کہ ایک بار پہلے بھی آپ لوگوں نے میری پارٹی کو کامیاب کروایا مگر ہم آپ کی ویسی خدمت نہ کر سکے جیسا وعدہ کیا تھا مگر اس بار میں بقلم خود ذاتی وچن دیتا ہوں کہ مجھ پر اور میری جماعت پر دوبارہ اعتبار کریں۔ اگر تمام نہیں تو کم ازکم 75 فیصد وعدے تو ضرور پورے کر کے دکھائیں گے۔

میرے بھائیو اور بہنو، کون نہیں جانتا کہ گلگت بلتستان قدرتی آبی ذخائر سے مالا مال ہے مگر یہاں کے مکینوں کو پھر بھی انسانی استعمال کے لیے صاف پانی میسر نہیں۔ یہاں کے چشموں اور دریاؤں پر بند باندھ کر ہزاروں کلو واٹ آبی توانائی پیدا ہو سکتی ہے مگر افسوس کہ یہاں 12 ماہ لوڈ شیڈنگ رہتی ہے۔

میں سینے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ اگر آپ نے مجھ پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کیا تو لوڈ شیڈنگ زیرو کرواؤں گا۔ بھلے اس کے لیے مجھے بجلی کے تاروں پر ہی کیوں نہ چلنا پڑے۔

بھائیو اور بہنو یہ علاقہ جنت کا ٹکڑا ہے جہاں خوبانی، سیب، چیری، آڑو، آلو اور ٹماٹر کی 40 فیصد پیداوار صرف اس لیے ضائع ہو جاتی ہے کہ نہ تو بروقت منڈی میں پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی یہاں مناسب تعداد میں کولڈ سٹوریج یونٹس ہیں۔ آج کے بعد ایک بھی آڑو، چیری، سیب اور ٹماٹر ضائع نہیں ہو گا۔ بس آپ ایک بار مجھے اور جتوا دیں۔

ہاں مجھے معلوم ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے سبب باقی دینا کے ماحولیاتی گناہوں کا کفارہ آپ لوگ مسلسل ادا کر رہے ہیں۔ آلودگی کہیں بھی پیدا ہو مگر گلیشیرز آپ کے پگھل رہے ہیں، فلیش فلڈز میں اضافے سے بستیاں اُجڑ رہی ہیں اور زمین غائب ہو رہی ہے، اچانک بادل پھٹنے کے واقعات بھی پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

میرے مخالفین تو آج تک صرف آپ کے زخموں پر نمک چھڑکتے آئے ہیں مگر میں وعدہ کرتا ہوں کہ گلیشیرز کو پگھلنے سے روکنے کے لیے ان پر ہزاروں لاکھوں ٹن نمک ڈلواؤں گا بھلے اس کے لیے ہمیں پورا کھیوڑہ ہی کیوں نہ اکھاڑ کے لانا پڑے۔

جو بھائی بہن ماحولیاتی تباہی سے بے گھر یا بے زمین ہوں گے انھیں فوری طور پر معاوضہ اور متبادل زمین فراہم کی جائے گی۔ بس اس بار مجھے کامیاب کر دو اور پھر دیکھو بلکہ میری راہ دیکھتے رہو۔

گلگت بلتستان کے ووٹرز ان سب تماشوں کے ہمیشہ سے عادی ہیں۔ انھیں اچھے سے معلوم ہے کہ جب اسلام آباد والوں کو بلند و بالا پہاڑوں، گلیشیئرز، سبز جھیلوں اور کوہ پیماؤں کی جنت والا پاکستان دکھانا ہوتا ہے تو گلگت بلتستان ریاستِ پاکستان کا پوسٹر بوائے بن جاتا ہے۔

اور جب اس خطے کو پاکستان کا پانچواں عبوری صوبہ بنانے اور دیگر پاکستانیوں کے برابر آئینی و قانونی حقوق دینے کا سوال اٹھایا جاتا ہے تو جواب یہ ملتا ہے کہ چونکہ آپ کا خطہ مسئلہ کشمیر سے نتھی ہے لہذا ہمارے ہاتھ بندھے ہیں۔

اگر ہم نے آپ کو صوبائی درجہ دیا تو مسئلہ کشمیر پر ہمارا اُصولی موقف کمزور پڑ سکتا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم آپ کی فلاح و بہبود سے غافل ہیں۔

ہم نے آپ کو ایک علیحدہ 33 رکنی میونسپل کمیٹی دی جسے ہم اور آپ پیار سے گلگت بلتستان اسمبلی کہتے ہیں۔ ہم ہر پانچ برس بعد بیلٹ پولو کا ٹورنامنٹ بھی منعقد کرواتے ہیں اور آپ بھی جانتے ہیں کہ اس خطے میں دو ہی کھیل مقبول ہیں۔ ایک فری سٹائل پولو اور دوسرا بیلٹ پولو۔

فری سٹائل پولو میں تو ایک ٹیم مسلسل کئی برس تک چیمپیئن رہ سکتی ہے مگر نیم فری سٹائل بیلٹ پولو کے کھیل میں وہی ٹیم ٹرافی اٹھا سکتی ہے جس کا کوچ پنڈی اسلام آباد سے ہو۔

جب سنہ 2009 میں اسلام آباد میں پیپلز پارٹی حکمران تھی تو گلگت بلتستان میں بھی یہی پارٹی چیمپیئن تھی، جب 2015 میں اسلام آباد میں مسلم لیگ نون تھی تو یہاں بھی مسلم لیگ نون نے کپ اٹھایا۔ جب سنہ 2020 میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی تھی تو آپ کے جٹیال اسمبلی ہال میں بھی عمران خان کا بول بالا تھا۔ جیسے ہی خان صاحب کا گھوڑا سلپ ہوا یہاں بھی پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک ٹرافی اٹھا کر لے گیا۔

گلگت بلتستان ہو یا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر چونکہ دونوں خطے حساس ہیں لہذا حکومت ہمیشہ پاکستان سے امپورٹڈ جماعتوں کی ہی رہے گی۔ مقامی سیاسی جماعتوں کو نہ تو مساوی مواقع مل سکتے ہیں اور نہ ہی ان پر اعتماد کا خطرہ مول لیا جا سکتا ہے۔ جانے کب طے شدہ کھیل کے قواعد و ضوابط چیلنج کر بیٹھیں۔

ان قواعد و ضوابط میں یہ بھی شامل ہے کہ جو بھی تقاریر ہوں گی فی البدیہہ اور رٹی رٹائی ہوں گی۔ کوئی نیا یا تازہ نعرہ ایجاد نہیں ہو گا اور تمام وعدے تحریری منشور کی شکل میں نہیں بلکہ زبانی کلامی ہوں گے تاکہ ان کا کوئی دستاویزی ریکارڈ نہ ہو ورنہ اگلے الیکشن میں پھر کیا بیچیں گے؟