یارکر کِنگ وقار یونس کی ان کہی داستان: ’میری زندگی واقعی ایک سفر رہی ہے‘

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

اپنے شاندار کیریئر میں خطرناک یارکرز کی مدد سے مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو چکرا دینے والے وقار یونس آج کل پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں اور اُن کا زیادہ تر وقت اپنی فیملی کے ساتھ سڈنی اور لاہور میں گزرتا ہے۔

وقار آج کل کیا کر رہے ہیں؟ اس سوال پر انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب فٹبال ورلڈ کپ چل رہا ہو، تو آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ کوئی اور مصروفیت نہیں ہو سکتی۔ میں اِس وقت سڈنی سے لاہور آیا ہوا ہوں اور اپنے بیٹے اذان کے ساتھ رات بھر بیٹھ کر ورلڈ کپ کے اہم میچ دیکھتا ہوں۔‘

’مجھے فٹبال کا شوق ضرور ہے لیکن میرے بیٹے اذان کو جنون کی حد تک اس کا شوق ہے۔ وہ پرتگال اور کرسٹیانو رونالڈو کا فین ہے اور جب رونالڈو سے گول نہیں ہوتے تو وہ پریشان ہو جاتا ہے، لیکن جب رونالڈو نے ازبکستان کے خلاف دو گول کیے تو میرے بیٹے کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی۔‘

اپنے بچوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وقار یونس نے بتایا کہ اُن کے بڑے بیٹے نے ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کر لی ہے جبکہ اُن کی بڑی بیٹی بھی ڈاکٹر بن رہی ہیں جبکہ چھوٹی بیٹی سڈنی میں قانون (لا) کی طالبہ ہے۔

وقار یونس کی اہلیہ فریال بھی ڈاکٹر ہیں۔

وقار یونس کہتے ہیں کہ ’تمام والدین اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانے اور اُن کا مستقبل سنوارنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ مجھے بھی خوشی ہے کہ میرے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ایک بامقصد زندگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’طویل کریئر کی وجہ سے میں اُس وقت (جب وقار انٹرنینشل کرکٹ کھیل رہے تھے) اپنی فیملی کو زیادہ وقت نہیں دے سکا۔ اس لیے اب میں اپنی فیملی کے ساتھ زیادہ وقت گزار کر اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘

وقار کہتے ہیں کہ ’میری زندگی واقعی ایک سفر رہی ہے۔ میرے بچپن اور جوانی کا بڑا حصہ ہاسٹلز میں گزرا ہے۔ کرکٹ کھیلنے کے دوران ہوٹلوں میں رہنا عام تھا۔‘

’زندگی ایسی تھی کہ مجھے مختلف شہروں میں وقت گزارنا پڑا۔ کبھی میں شارجہ اور دبئی میں رہا، کبھی ابو ظہبی میں۔ پاکستان میں رہتے ہوئے لاہور، وہاڑی اور بہاولپور میری زندگی کا حصہ رہے۔‘

’کمشنر کا بیٹا سلیکٹ ہو گیا‘

وقار یونس کو آج بھی اس بات کا افسوس ہے کہ وہ 1987 میں آسٹریلیا میں ہونے والے یوتھ ورلڈ کپ میں نہیں کھیل سکے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں وکٹیں لے رہا تھا اور انضمام الحق سنچری بنا رہے تھے، جس کے باعث ہم دونوں کو ساہیوال میں نوجوان ٹیم کے کیمپ میں بلایا گیا۔ جب ٹیم کا انتخاب ہوا تو یہ واضح تھا کہ میرا اور انضمام الحق کا انتخاب ہو گا۔‘

’لیکن انضمام کا انتخاب ہو گیا اور میرا نہیں۔ دراصل سفارش کام آ گئی اور فیصل آباد سے آئے ایک لڑکے کا انتخاب ہو گیا۔ وہ ایک کمشنر کا بیٹا تھا۔ وہ آسٹریلیا گیا، حالانکہ اُس نے وہاں کھیلنا نہیں تھا، صرف دورے پر گیا تھا۔‘

کٹی اُنگلی کی کہانی

کچھ عرصہ قبل وقار یونس ایک ٹی وی شو میں بیٹھے تھے، اسی دوران شو میں وقفہ ہوا اور ایک مزاحیہ گفتگو کے دوران وقار یونس کے بائیں ہاتھ کی چار انگلیاں سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔

وقار یونس کے ساتھی وسیم اکرم، مصباح الحق اور وہاب ریاض مذاق میں ایک دوسرے کو گیند پھینک رہے تھے اور کیچ پکڑ رہے تھے۔ جب وقار یونس وسیم اکرم کی ایک گیند نہیں پکڑ سکے تو انھوں نے مذاق میں کہا ’چار انگلیوں سے میں کیا کروں؟‘

اس موقع پر مصباح الحق نے کہا کہ ’ایک بار ٹیم کی میٹنگ ہوئی اور وقار یونس کوچ تھے۔ انھوں نے سعید اجمل کو سنجیدگی سے مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’اگر تم میدان میں جا رہے ہو تو تمھیں 10 وکٹیں لینا ہوں گی۔‘ اور یہ کہتے ہوئے انھوں نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دکھائیں، جس پر سعید اجمل نے معصومیت سے کہا، ’بھائی، یہ تو صرف نو ہیں۔‘

وقار یونس اپنی ایک انگلی نہ ہونے کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’ہم سب دوست نہر میں نہاتے تھے اور نہر پر بنے پل کے جال کو پکڑ کر اوپر چڑھتے تھے۔ ایک دن نہر میں نہانے کے بعد میں پل پر چڑھ رہا تھا کہ میرا پاؤں پھسل گیا۔ میں نے پل کے جال کو پکڑنے کی کوشش کی اور اسی دوران میرا ایک ہاتھ پھسل گیا۔‘

’میں نے دوسرے ہاتھ سے خود کو گرنے سے بچانے کی کوشش کی لیکن میری انگلی جال میں پھنس گئی اور کٹ گئی۔ میں نیچے گر گیا جس سے میری دو پسلیاں بھی ٹوٹ گئیں اور مجھے سرجری کروانا پڑی۔‘

سچن اور وقار نے ایک ساتھ ڈیبیو کیا

16 نومبر 1989 کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں جو منظر تھا، اسے کوئی نہیں بھول سکتا۔

ایک طرف گیند 18 سالہ پاکستانی بولر کے ہاتھ میں تھی اور دوسری طرف 16 سالہ انڈین بلے باز کریز پر کھڑا تھا۔

بولر وقار یونس تھے اور بلے باز سچن تندولکر۔ یہ اتفاق تھا کہ دونوں کا پہلا ٹیسٹ میچ یہی تھا۔ آنے والے برسوں میں دونوں نے اپنی پہچان قائم کی، لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں ان دونوں کھلاڑیوں کی صلاحیت دنیا کے سامنے آ گئی۔

اُس دن انڈین ٹیم کی گرنے والی چھ وکٹوں میں سے چار وکٹیں وقار یونس نے حاصل کیں، جن میں سنجے منجریکر، منوج پربھاکر، سچن تندولکر اور کپل دیو شامل تھے۔

دوسری جانب سچن تندولکر نے اس دورے کے ذریعے یہ پیغام دے دیا کہ آنے والے برسوں میں دنیا ایک عظیم بلے باز کو دیکھے گی۔

دیسی سپائکس نے پیر زخمی کر دیے

وقار یونس کی کرکٹ میں دلچسپی اس وقت بڑھی جب وہ دسویں جماعت میں داخل ہوئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے پہلی بار بہاولپور میں سپاٸکس خریدے تھے۔ دوسروں کو دیکھ کر مجھے بھی سپاٸکس میں کھیلنے کی خواہش ہوئی اور میں نے ایک چھوٹی سی دکان سے ہاتھ سے بنے دیسی سپاٸکس بنوائے، لیکن انھیں پہننے سے میرے پاؤں میں زخم آ گئے۔‘

’میرے پاؤں سے خون بہنے لگا۔۔۔ وہ بہت مشکل دن تھے جب ہمیں روزانہ پریکٹس کے لیے وہاڑی سے بوریوالا تک بسوں میں آنا جانا پڑتا تھا۔ کبھی پیسے نہ ہونے پر کنڈیکٹر سے جھگڑا بھی کرنا پڑتا تھا۔ کبھی ہم بس کی چھت پر سفر کرتے تھے تو کبھی بس کے پیچھے لٹک کر۔‘

’ہم دو تین بار کوئٹہ بھی گئے اور مال گاڑیوں میں دھکے کھائے، لیکن ہمارا جذبہ اتنا زبردست تھا کہ ہم جون اور جولائی کی شدید گرمی میں بھی میدان میں وقت گزارتے تھے۔‘

وقار یونس سابق ٹیسٹ کرکٹر شفیق احمد اور احتشام الدین کا نام بڑے احترام سے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھی لوگوں کی وجہ سے اُن کا کریئر بنا۔

عمران خان کی وجہ سے کاؤنٹی کھیلنے کا موقع ملا

وقار یونس کہتے ہیں کہ ’یو بی ایل اور دہلی کی ٹیموں کے درمیان سپر ولز کپ میچ ہوا جس میں مجھے سلیم جعفر کی خراب فٹنس کی وجہ سے کھیلنے کا موقع ملا۔ عمران خان نے مجھے ٹی وی پر بولنگ کرتے دیکھا اور میری رفتار سے متاثر ہوئے۔‘

’انھی کی وجہ سے مجھے شارجہ میں ٹورنامنٹ کے لیے ٹیم میں جگہ ملی۔ تاہم، سلیکٹرز نے محسوس کیا کہ میں ابھی بین الاقوامی کرکٹ کے لیے تیار نہیں ہوں۔ لیکن عمران خان اس بات پر بضد تھے کہ مجھے ٹیم میں ہونا چاہیے۔‘

عمران خان نے وقار یونس کو کاؤنٹی ٹیم میں لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے سسیکس کے کپتان پال پارکر اور کوچ نارمن گفورڈ کو بتایا کہ ان کے پاس ایک بہت باصلاحیت اور منفرد سٹرائیک بولر ہے اور اگر آپ لوگ انھیں سائن کر لیں تو یہ بہت اچھا ہو گا، ورنہ اگلے سال کوئی اور انھیں لے جائے گا۔

لیکن سسیکس نے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی اور معاہدہ ٹونی ڈوڈیمادے کو پیش کر دیا۔ اس کے بعد عمران خان نے ساری کے کپتان ایان گریگ سے بات کی، جو ان کے پرانے ساتھی تھے۔

ساری کاؤنٹی کو فاسٹ بولر ٹونی گرے کی فٹنس پر تشویش تھی۔ عمران خان نے وقار یونس کو بتایا تھا کہ انھیں وہاں جا کر اپنی قسمت آزمانا چاہیے۔

عمران کی درخواست پر، وقار یونس پہلی بار اوول گئے۔ وہاں ایان گریگ نے انھیں سیکنڈ الیون کے لیے کھیلنے کا موقع دیا، لیکن اس کے بعد انھوں نے کاؤنٹی چیمپئن شپ اور دیگر ٹورنامنٹس میں کھیلنا شروع کیا۔

ساری کاؤنٹی نے وقار یونس کو صرف 7,000 پاؤنڈ میں سائن کیا۔ اس سیزن میں انھوں نے شاندار بولنگ کی اور 57 وکٹیں حاصل کیں، اور اگلے سیزن میں انھوں نے 113 وکٹیں حاصل کیں اور وزڈن کے ٹاپ پانچ کرکٹرز کی فہرست میں شامل ہوئے۔

’وقار کی بولنگ کے لیے ہیلمٹ نہیں سٹیل کیپ ضروری ہے‘

کرکٹر اور صحافی سائمن ہیوز نے ایک بار کہا تھا کہ وقار یونس کی بولنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاؤں کی انگلیوں کی حفاظت کے لیے سٹیل کیپ ضروری ہے، ہیلمٹ نہیں۔ انھوں نے یہ بات وقار یونس کے خطرناک سوئنگنگ یارکرز کی وجہ سے کہی تھی۔

چاہے وہ کاؤنٹی کرکٹ ہو یا بین الاقوامی کرکٹ، بہت سے بلے باز وقار یونس کے خطرناک سوئنگنگ یارکرز کا نشانہ بنے۔ ان میں ویسٹ انڈیز کے برائن لارا بھی شامل تھے۔ کون اس واقعے کو بھول سکتا ہے کہ جب وقار یونس کو دو مسلسل چوکے مارنے کے بعد لارا اُن کے تیز یارکر پر توازن کھو بیٹھے اور بولڈ ہو گئے۔

یہ وہ دور تھا جب وقار یونس کی بولنگ اپنے عروج پر تھی۔ وہ بلے بازوں کے لیے خوف کی علامت تھے۔ ان کے خطرناک یارکرز بلے بازوں کے پنجوں کو بُری طرح زخمی کر دیتے تھے۔ اگر وہ اس چوٹ سے بچ جاتے تو یا تو وہ ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو جاتے یا اُن کے سٹمپ ہوا میں اڑ جاتے۔

بہت سے بلے باز درد سے کراہ اٹھتے اور ڈریسنگ روم کی طرف چل پڑتے۔ اسی وجہ سے، وقار یونس کو دنیا بھر میں انگلیوں کو کچل دینے والے بولر کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔

وسیم اکرم کو چیلنج

وسیم اکرم اور وقار یونس کی جوڑی کرکٹ کی تاریخ کے بہترین فاسٹ بولنگ جوڑیوں میں شمار ہوتی تھی، جنھوں نے متعدد مواقع پر پاکستانی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔

وقار یونس کہتے ہیں کہ ’وسیم بھائی مجھ سے سینیئر ہیں۔ جب میں ٹیم میں آیا تو وہ ایک سپر سٹار تھے۔ اس عرصے میں کوئی بولر ان کا مقابلہ کرنے والا نہیں تھا۔ اس وقت سلیم جعفر، عظیم حفیظ اور محسن کمال جیسے لیجنڈری بولرز بھی تھے۔‘

ان کے مطابق ’جب میں نے کاؤنٹی کرکٹ میں وکٹیں لینا شروع کیں، تو میں ان کے ساتھ مقابلہ کرنے آیا۔ انھیں عزت دی جاتی تھی، لیکن میدان میں چیلنج ایک مختلف معاملہ تھا۔ اس وقت وہ لنکاشائر کے لیے کھیل رہے تھے۔ ہمارے درمیان مقابلے نے نہ صرف ہم دونوں کو فائدہ پہنچایا بلکہ پاکستان ٹیم کو بھی فائدہ پہنچایا اور ہم نے پاکستان کے لیے کئی سیریز جیتیں۔‘

کرکٹ کی وجہ سے شادی

وقار یونس کی شادی کا معاملہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ جب وہ لاہور میں میچ کھیل رہے تھے، فاطمہ جناح میڈیکل کالج کے طلبہ کا ایک گروپ سٹیڈیم میں میچ دیکھنے آیا۔

’میں نے فریال کو دیکھا۔ مجھے وہ پسند آئیں اور میں نے ان سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ مجھے وہ پسند ہیں، مگر کیا وہ بھی مجھے پسند کرتی ہیں؟‘

’ان کا خاندان آسٹریلیا میں رہائش پذیر تھا۔ کچھ ملاقاتوں کے بعد، میں نے باضابطہ طور پر شادی کی پیشکش بھیجی، جسے ان کے خاندان نے قبول کر لیا۔‘

عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ یوسین بولٹ بھی وقار یونس کے بڑے مداح ہیں۔ ایک انٹرویو میں، یوسین بولٹ نے کہا کہ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم سے محبت کرتے ہیں اور وقار یونس کی تیز گیند بازی کے دیوانے ہیں۔

وقار یونس کہتے ہیں کہ ’میں ہمیشہ یوسین بولٹ سے ملنا چاہتا تھا، لیکن ان سے نہیں مل سکا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ سڈنی کلب فٹبال کھیلنے آئے ہیں، تو میں ان سے نہیں مل سکا۔ اسی طرح، ہم ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھے، لیکن تب بھی مجھے یوسین بولٹ سے ملنے کا موقع نہیں ملا۔‘