تھائی لینڈ میں 17 سالہ لڑکی کا قتل اور سوٹ کیس میں لاش کا معمہ جس پر آسٹریلوی شہری کو گرفتار کیا گیا

    • مصنف, مایا ڈیوسینڈ اور ہیلن لیونگ سٹون
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر تھائی لینڈ میں 17 سالہ لڑکی کی لاش سوٹ کیس میں ملنے کے بعد قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ساحلی شہر پٹایا میں سنیچر کی صبح ریلوے ٹریک کے قریب پھینکے گئے ایک بیگ سے لڑکی ’ٹنچانوک ڈونہوملا‘ کی لاش ملی، جسے مبینہ طور پر قتل کے بعد سوٹ کیس میں رکھ دیا گیا تھا۔

تھائی پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے سلسلے میں سائمن پیٹر کارمین کو بنکاک کے سوورن بھومی ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مبینہ طور پر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

ملزم نے اپنے اوپر لگائے جانے والے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ گرفتاری کے بعد متاثرہ لڑکی کے اہلِ خانہ کو بھیجے گئے ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے آپ کی بیٹی کے ساتھ ہونے والے واقعے پر افسوس ہے، یہ میرے اختیار سے باہر تھا۔‘

پٹایا سٹی پولیس کے مطابق لڑکی کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ جمعے کو درج کروائی گئی تھی۔

پولیس نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ جمعرات کی صبح تین بج کر 34 منٹ پر ملزم مقتولہ کے ساتھ ایک عمارت میں داخل ہوئے۔ تاہم اسی رات وہ ’اکیلے اس مقام سے باہر نکلے اور ان کے ہاتھ میں ایک کالے رنگ کا بڑا سوٹ کیس تھا۔‘

بیان کے مطابق انھوں نے وہ سوٹ کیس ’موٹر سائیکل پر رکھا اور ریلوے لائن کی جانب روانہ ہو گئے۔‘

پولیس نے بتایا کہ ’ملزم کو سنیچر کی صبح ایک بج کر 15 منٹ پر بنکاک کے ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا، جو پٹایا سے تقریباً 150 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

پولیس کے مطابق تقریباً 15 منٹ بعد ریلوے ٹریک کے قریب اسی سوٹ کیس سے 17 سالہ لڑکی کی برہنہ لاش برآمد ہوئی۔

سائمن کارمین نے قتل، لاش کو منتقل یا چھپانے اور کم عمر لڑکی کو جنسی مقاصد کے لیے ساتھ لے جانے سے متعلق تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ سب کچھ اپنے دفاع میں کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم نے پولیس کو بتایا کہ ’انھوں نے ٹنچانوک ڈونہوملا کو جنسی خدمات کے عوض 1000 بھات (تقریباً 30 امریکی ڈالر) دینے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اپارٹمنٹ واپس پہنچنے کے بعد دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے بعد اس نے صرف 500 بھات دینے کی پیشکش کی۔‘

تھائی پولیس نے آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا کہ ’ملزم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹنچانوک اس وقت کمرے سے ’غائب ہو گئی‘ جب وہ سو رہے تھے۔‘

حراست کے دوران ریکارڈ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں ملزم نے متاثرہ لڑکی کے اہلِ خانہ سے مخاطب ہو کر کہا ’مجھے اس بات کا افسوس ہے جو آپ کی بیٹی کے ساتھ ہوا۔ یہ میرے اختیار سے باہر تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ آپ بہت غمزدہ اور پریشان ہوں گے۔۔۔ میں بھی ویسا ہی محسوس کر رہا ہوں۔‘

آخر میں انھوں نے کہا کہ ’براہِ کرم دوسری لڑکیوں سے کہیں کہ وہ محتاط رہیں۔‘

پٹایا سٹی پولیس سٹیشن کے سپرنٹنڈنٹ کرنل انیک سرتھونگیو نے اے بی سی کو بتایا کہ ’سائمن کارمین کے جسم پر ناخنوں کے خراشوں کے نشانات موجود ہیں جو بظاہر مزاحمت کی نشانی ہیں، تاہم ملزم نے لڑکی کے قتل سے انکار کیا ہے۔‘

پولیس کی ایک اور ویڈیو میں کارمین سے جب ان خراشوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’میرا خیال ہے یہ مکڑی کے کاٹنے کے نشانات ہیں، یہاں مکڑیاں اکثر آ جاتی ہیں۔‘

پولیس کے مطابق 17 سالہ ٹنچانوک ڈونہوملا کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ وہ اپنے والد اور سوتیلی والدہ کے ساتھ صوبہ کالاسن میں رہتی تھیں، جو پٹایا سے تقریباً 480 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ وہ اکلوتی تھیں اور انھیں پیار سے ’کیک‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔

اہلِ خانہ کے مطابق ٹنچانوک نے والدین کو بتایا تھا کہ ’وہ ایک دوست کے ساتھ چھٹیاں گزارنے جا رہی ہیں‘، جس کے بعد وہ 16 جون کو پٹایا روانہ ہوئیں۔

لڑکی کے والد تھونگ چائی ڈونہوملا نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی موت پر ’شدید صدمے‘ میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میری بیٹی کی والدہ نہیں تھیں، اس لیے جب بھی انھیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی وہ خود ہی راستہ نکال لیتی تھیں اور وہ ہمیشہ میری بھی مدد کرتی تھیں۔‘

لڑکی کی سوتیلی والدہ اورادی بوساراکم نے کہا کہ ’ہم بہت زیادہ ڈرے ہوئے تھے ہم صرف دعا کر رہے تھے کہ ہمیں جس بات کا ڈر تھا ایسا کُچھ بھی نہ ہو۔ اب روتے روتے ہماری آنکھیں سوج گئی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ اسے سزائے موت دی جائے جس نے ہماری بیٹی کے ساتھ یہ سب کیا۔۔۔ میں نے پولیس سے یہ بھی پوچھا کہ کیا میں اسے خود اُس کے کیے کی سزا دی سکتی ہوں، کیا میں اس پر ہاتھ اٹھا سکتی ہوں۔‘