جب سرسوں کا تیل جھارکھنڈ کے مہتو خاندان کے لیے ’زہرِ قاتل‘ بن گیا

    • مصنف, محمد سرتاج عالم
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

’گذشتہ دو ہفتوں میں والدین سمیت خاندان کے چھ افراد کی آخری رسومات ادا کرنے کے بعد میری ہمت ٹوٹ چکی ہے۔‘

انوج مہتو کے چہرے پر اپنے والد، والدہ، دو بہنوں، بھائی اور اہلیہ کو کھو دینے کا غم صاف نظر آتا ہے۔

جھارکھنڈ کے ضلع پالامو کے گاؤں سکّا میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد کی موت ایپیڈیمک ڈراپسی کی وجہ سے ہوئی۔

ضلع پالامو کے سول سرجن ڈاکٹر انیل کمار شریواستو نے اموات کی وجہ کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے کہا، ’یہ چھ اموات کسی پراسرار بیماری سے نہیں بلکہ ’آرجیمون میکسیکانا‘ ملا سرسوں کا تیل استعمال کرنے سے ہونے والی ایپیڈیمک ڈراپسی کے باعث ہوئی ہیں۔‘

آرجیمون میکسیکانا ایک جنگلی پودا ہے جسے عرفِ عام میں کٹیلا یا میکسیکن پوست کہا جاتا ہے۔

پہلے والد، پھر بہن، پھر اہلیہ۔۔۔

خاندان میں 19 جون کو سب سے پہلے کلدیپ مہتو کی موت ہوئی۔ اگلے ہی دن ان کی بڑی بیٹی یعنی انوج کی بہن ببیتا کماری نے آخری سانس لی۔

اپنے والد اور بہن کی موت کی خبر سننے کے بعد بنگلورو میں کام کرنے والے انوج مہتو فوری طور پر گھر واپس آ گئے۔

انوج مہتو کہتے ہیں، ’والد اور بہن سے نہ مل پانے کا غم مجھے ساری زندگی ستاتا رہے گا۔ میں صرف ان کی آخری رسومات ہی ادا کر پایا۔‘

وہ بتاتے ہیں، ’تب مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان دو لوگوں کے بعد میری اہلیہ، چھوٹی بہن، بھائی اور ماں بھی دنیا چھوڑ جائیں گے۔‘

26 جون کو انوج مہتو کی 18 سالہ بہن اندو کماری اور 28 جون کو انوج کی اہلیہ شویتا دیوی کی موت رانچی کے راجندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ہوئی۔

بہن اور اہلیہ کی موت سے ٹوٹ چکے انوج اپنے ایک سالہ بیٹے کو لے کر گھر ہی میں رک گئے جبکہ ان کی بڑی بہن منیتا دیوی ہسپتال میں رک گئی تھیں کیونکہ ان کی ماں اور بھائی آئی سی یو میں داخل تھے۔

29 جون کو ان کے بھائی نکُل مہتو کی بھی موت ہو گئی اور آٹھ جولائی کی صبح ماں لاکھو دیوی نے بھی دم توڑ دیا۔

خاندان کا ایک ہی رکن صحت یاب ہو سکا

اس خاندان میں بیمار پڑنے والے ایک رکن سنیل مہتو ہی صحت یاب ہو پائے۔

جب وہ اپنی ماں کی آخری رسومات میں آئے تو لوگوں کی توجہ ان کے پاؤں کی طرف گئی جو اب بھی سوجا ہوا تھا اور ان کی آنکھیں زرد پڑ چکی تھیں۔

سنیل کا کہنا ہے، ’جون کے تیسرے ہفتے میں مجھے کئی دن تک ہر وقت قے جیسا محسوس ہوا، پھر کمزوری ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے میرے پاؤں میں سوجن آ گئی، پاخانے میں خون آنے لگا۔ تب بہنوئی نے مجھے پالامو صدر ہسپتال میں داخل کروایا۔‘

سنیل مہتو کی حالت کے بارے میں ان کے بہنوئی دیپک دیو ورما بتاتے ہیں کہ ابتدا میں خاندان کے افراد کو متلی محسوس ہوئی تو انھیں لگا کہ یہ گرمی کی وجہ سے ہے، اس لیے انھوں نے لیموں اور ٹھنڈی چیزیں کھانی شروع کر دیں، لیکن پھر سب کے پاؤں سوجتے چلے گئے۔

دیپک دیو ورما نے بتایا، ’سب کا علاج نجی سے لے کر سرکاری ہسپتال تک ہر جگہ کروایا، لیکن نہ بیماری کا پتہ چل رہا تھا اور نہ ہی کوئی ٹھیک ہو رہا تھا۔

سرسوں کے تیل میں آرجیمون کی تصدیق

سول سرجن انیل کمار شریواستو کے مطابق، 29 جون کو انوج کے گھر سے فوڈ سیفٹی افسر نے سرسوں کے تیل کے علاوہ آٹے، دال، چاول، پانی وغیرہ کے نمونے تجزیے کے لیے جمع کیے۔

انیل کمار نے بتایا، ’تمام مریضوں کی ابتدائی علامات میں قے، پاخانے میں خون آنا، پاؤں میں سوجن اور سانس لینے میں دشواری جیسی حالتیں شامل تھیں۔ یہ دیکھ کر مجھے کھانے پینے کی اشیا پر اور خاص طور پر سرسوں کے تیل پر شک ہوا۔ جب گھر کے دوسرے حصے سے آرجیمون کا تیل ملا تو شک مزید گہرا ہو گیا۔‘

وہ بتاتے ہیں، ’میں نے سرسوں سمیت تمام چیزوں کا تجزیہ کروایا تو سرسوں کے تیل میں آرجیمون کی ملاوٹ نکلی۔ نمونے جمع کرتے وقت یہ معلومات ملی کہ آرجیمون کے تیل کا استعمال اس علاقے میں ہر گھر میں مویشیوں کی بیماری دور کرنے کے لیے ہوتا ہے۔‘

گھر کی غذائی اشیا کا تجزیہ دو مقامات پر ہوا۔ ایک تجزیہ سول سرجن نے میڈیکل کالج کی بایو کیمسٹری لیبارٹری میں کروایا اور دوسری جانچ سٹیٹ فوڈ ٹیسٹنگ لیب میں ہوئی۔

اس لیب کے غذائی تجزیہ کار چتربھج مینا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’تجزیے میں آرجیمون آئل کی موجودگی پائی گئی، جو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔‘

ڈاکٹر شریواستو کہتے ہیں، ’مجھے پہلے ہی شک تھا کہ یہ ایپیڈیمک ڈراپسی کا معاملہ ہے۔ دونوں رپورٹوں سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ سرسوں کے تیل میں آرجیمون موجود ہے، جو خاندان کے چھ افراد کی موت کا سبب بنا۔‘

اس کے بعد ڈاکٹر شریواستو نے دیہاتیوں کے صحت سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے ایک فوڈ سیفٹی ٹیم کو سکّا گاؤں بھیجا۔

وہ بتاتے ہیں کہ 195 گھروں کے سروے میں 1,378 افراد کی صحت سے متعلق معلومات جمع کی گئیں اور ان میں سے 56 افراد کے خون کے نمونے بھی لیے گئے، لیکن کسی میں بھی ڈراپسی کی علامات نہیں دکھائی دیں۔

انیل کمار شریواستو کہتے ہیں، ’ایپیڈیمک ڈراپسی کوئی متعدی بیماری نہیں بلکہ زہریلی کیفیت ہے، جو آرجیمون ملے سرسوں کے تیل کے استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔‘

ادھر مہتو خاندان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سرسوں کا تیل کہیں سے خریدا نہیں تھا بلکہ خود نکلوایا تھا۔

تاہم غذائی تحفظ کی ماہر نویدیتا شرما کا کہنا ہے کہ ’آرجیمون کے بیج سرسوں کے مقابلے میں کچھ بڑے ہوتے ہیں، تو تیل نکالتے وقت یہ غلطی کیسے ہو گئی؟‘

ادھر منیتا دیوی کا کہنا ہے کہ ’سب کہہ رہے ہیں کہ سرسوں کے تیل میں کٹیلا (آرجیمون میکسیکانا) کے بیجوں کا تیل ملا ہوا تھا، تو وہ تیل میں نے بھی استعمال کیا ہے، مجھے کچھ کیوں نہیں ہوا؟‘

اس پر نویدیتا شرما کہتی ہیں، ’اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے ان کے جسم میں آرجیمون میکسیکانا کی مقدار کم پہنچی ہو اور بہتر ہاضمے کی وجہ سے وہ میٹابولائز ہو گئی ہو، ایسے میں اثر کا امکان کم ہوتا ہے۔‘

آرجیمون میکسیکانا کیا ہے؟

کٹیلا کے نام سے پہچانا جانے والا آرجیمون میکسیکانا گہرے سبز رنگ کے کانٹے دار پتوں والا ایک جنگلی پودا ہے جس کے پھول بھی زرد رنگ کے ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جب اس کا تیل سرسوں کے تیل میں شامل ہو جاتا ہے تو اس میں سینگوئینارین نامی زہریلا عنصر موجود ہوتا ہے جو استعمال کرنے والے کے خون کی نالیوں میں پہنچ کر جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچاتا ہے۔

غذائی تحفظ کی ماہر نویدیتا شرما بتاتی ہیں کہ اسی مضر اثر کو ایپیڈیمک ڈراپسی کہا جاتا ہے۔

وہ بتاتی ہیں، ’اگر 200 لیٹر سرسوں کے تیل میں آرجیمون کے تیل کے دو قطرے بھی موجود ہوں تو ایپیڈیمک ڈراپسی کی علامات استعمال کرنے والے کے جسم میں فوری طور پر ظاہر ہونے لگیں گی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ایسی صورت میں آگے چل کر پھیپھڑوں کے ٹشوز میں سوجن آنے پر خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں۔

نویدیتا شرما کہتی ہیں، ’ایسے میں جب خون دل تک نہیں پہنچے گا تو دل کے دورے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے اور گردے بھی فیل ہو جائیں گے، کیونکہ ان اثرات کے بعد وہ خون کو فلٹر کرنا بند کر دیں گے۔‘

سول سرجن ڈاکٹر شریواستو دعویٰ کرتے ہیں، ’2011کے بعد سے انڈیا میں ایپیڈیمک ڈراپسی کا یہ پہلا معاملہ ہے۔ اس سے پہلے سال 2011 میں پنجاب کے فتح گڑھ علاقے میں ایک خاندان اس بیماری کا شکار ہوا تھا۔‘

ان کے مطابق اس بیماری سے پہلے بھی لوگوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ سنہ 1998 میں دہلی میں تقریباً تین ہزار افراد اس بیماری سے متاثر پائے گئے تھے، جن میں سے 60 افراد کی موت ہو گئی تھی۔

اپنے خاندان میں چھ افراد کو کھونے کے بعد انوج مہتو اپنے بیٹے اور چھوٹے بھائی کے ساتھ گھر میں تقریباً اکیلے رہ گئے ہیں۔

حال ہی میں خاندان نے ایک نیا مکان بنایا تھا جس پر ابھی پلستر نہیں ہوا ہے۔ اسی مکان کے صحن میں بیٹھی منیتا دیوی اپنے میکے کے موجودہ حالات پر فکرمند ہیں جو مالی تنگی کا شکار ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے والد پہلے ہی بھائی کی شادی اور گھر بنانے کے لیے قرض لے چکے تھے اور اب خاندان کے افراد کے علاج کے لیے بھی قرض لینا پڑا۔

انوج کے سامنے قرض ادا کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

قرض اور خاندان کی مالی حالت کے بارے میں پالامو کے ضلع مجسٹریٹ دلیپ پرتاپ سنگھ شیخاوت نے بی بی سی نیوز ہندی سے کہا، ’متاثرہ خاندان کو معاوضہ دیا جائے گا۔ ساتھ ہی کھیتوں کے رقبے کی بنیاد پر کسان سمان ندھی سے جوڑا جائے گا۔ متاثرہ خاندان کے فرد کو روزگار سے بھی جوڑیں گے۔‘

ضلع مجسٹریٹ شیخاوت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسے مزید معاملات سامنے نہ آئیں، اس کے لیے آرجیمون میکسیکانا کے مضر اثرات کے بارے میں دیہات میں آگاہی بھی پھیلائی جائے گی۔