آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میسی اس کھیل کے بادشاہ ہیں‘: وہ 39 سالہ فٹبالر جو آدھے میچ میں چہل قدمی کرنے کے بعد گیند ملتے ہی جاگ جاتا ہے
- مصنف, ایملن بیگلے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
چار سال پہلے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ فٹ بال سپر سٹار لیونل میسی کی کہانی مکمل ہو چکی ہے۔
انھوں نے محض 35 برس کی عمر میں ورلڈ کپ جیت لیا تھا، جسے انھوں نے ٹورنامنٹ میں اپنا آخری میچ قرار دیا تھا۔
بہت سے لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ میسی نے خود کو فٹبال کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی ثابت کر دیا تھا۔
میسی کی 2022 میں عالمی کپ جیتنے سے چار سال پہلے 31 برس کی عمر میں ان کے قریبی جاننے والوں سمیت بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ اپنا آخری ورلڈ کپ میچ کھیل چکے ہیں اور بغیر ورلڈ کپ جیتے کریئر کا اختتام کریں گے۔
اور اب 39 برس کی عمر میں وہ اس مقام پر ہیں جنھوں نے انگلینڈ کو شکست دینے میں مدد کی اور ارجنٹینا کو لگاتار دوسری ورلڈ کپ فائنل تک پہنچا دیا۔
میسی کی گول کے حصول میں معاونت (اسِسٹس) نے جنوبی امریکی ٹیم کو گھاٹے سے نکل کر 2-1 سے جیت دلائی اور یوں 2026 ورلڈ کپ میں ان کی اسِسٹس کی تعداد چار ہو گئی، جبکہ ان کے آٹھ گول بھی اس میں ہیں۔
وہ مجموعی طور پر سب سے زیادہ گول کرنے والے اور پورے ٹورنامنٹ میں دوسرے سب سے زیادہ اسِسٹ کرنے والے کھلاڑی ہیں۔
ارجنٹینا اتوار کو نیو جرسی میں ہونے والے فائنل میں سپین کے خلاف کھیلے گا یعنی میسی ایسے ملک کے مدمقابل ہوں گے جہاں انھوں نے اپنا زیادہ تر فٹبال بارسلونا کے ساتھ کھیلا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے قومی ٹیم کے کوچ لیونل سکلونی کہتے ہیں کہ ’وہ تاریخ کے بہترین کھلاڑی ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ اسے ثابت کرنے کے لیے انھیں اور کیا کرنا ہوگا۔ سپین کے زیادہ تر لوگ انھیں پسند کرتے ہیں۔‘
بی بی سی کے تجزیہ کار مائیکا رچرڈز کہتے ہیں کہ ’ان کے پاس لیونل میسی ہیں جووقت کے عظیم ترین کھلاڑی ہیں۔‘
’یہ لمحات کی بات ہے۔ ہم نے سوچا تھا کہ یہ جوڈ بیلنگھم یا ہیری کین ہو سکتے ہیں، لیکن اسی لیے وہ بادشاہ ہے۔‘
میسی نے انگلینڈ کی امیدوں کو کیسے تباہ کیا
بارسلونا اور پیرس سینٹ جرمین کے سابق فارورڈ میسی نے اس سے پہلے اپنے کریئر میں کبھی انگلینڈ کے خلاف نہیں کھیلا تھا، اور تھامس ٹوخل اور تھری لائنز کے ہر مداح کی یہی خواہش ہوگی کہ کاش ایسا اب بھی نہ ہوا ہوتا۔
اس میچ میں تجربہ کار میسی نے پہلے ہاف میں چند شاندار لمحات دکھائے، جہاں وہ بڑھ چڑھ کر کھیلتے رہے لیکن انتھونی گورڈن کے 55ویں منٹ میں انگلینڈ کو برتری دلانے کے بعد ارجنٹینا میں نئی جان آ گئی۔
جیسے ہی ٹوخل نے مزید دفاعی کھلاڑی میدان میں بھیجے اور انگلینڈ پیچھے ہٹ گیا، اگلے 37 منٹ میں گیند پرارجنٹینا کا قبضہ غالب رہا۔
اور دائیں ونگ پر منتقل ہونے کے بعد میسی چھا گئے۔
گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز نے بعد میں کہا کہ ’میسی کو ونگ پر لے جانا کامیابی کی کنجی ثابت ہوا۔‘
انھوں نے نو کامیاب ڈربلز کیے اور انگلینڈ کے خلاف دو گولوں میں مدد دی۔ سنہ 1966 کے بعد کے ریکارڈ کے مطابق وہ پہلے کھلاڑی ہیں جنھوں نے ورلڈ کپ کے کسی ناک آؤٹ میچ میں یہ کارنامہ انجام دیا۔
پورے انگلش ٹیم نے مل کر اٹلانٹا میں سات کامیاب ڈربلز کیے۔
میسی کے مخالف کے پینلٹی ایریا میں سات ٹچز تھے جو تمام انگلش کھلاڑیوں کے مجموعی ٹچز کے برابر تھے۔
اسی طرح انھوں نے چار مواقع بھی تخلیق کیے، جو پوری انگلش ٹیم کے برابر تھے۔ انھوں نے میچ میں سب سے زیادہ نو کراسز بھی کیے۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ انھوں نے ارجنٹینا کے دونوں گول یقینی بنوائے۔
پہلا ایک کارنر کی حکمت عملی سے آیا، جب انھوں نے اینزو فرنانڈیز کو گیند دی، جنھوں نے 85ویں منٹ میں باکس کے باہر سے گول مار کر حساب برابر کیا۔
اس کے بعد انھوں نے لاؤتارو مارٹینیز کے لیے کراس دیا، جنھوں نے اضافی وقت میں فاتحانہ ہیڈر کیا۔
سابق انگلش مدافع رچرڈز نے کہا ’وہ میدان میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، اور پھر جب گیند ان کے قدموں میں آتی ہے تو زندہ ہو جاتے ہیں۔‘
سابق انگلینڈ گول کیپر جو ہارٹ نے کہا کہ ’ان لڑکوں نے میکسیکو اور ناروے کے خلاف والی حکمت عملی اختیار کی، جہاں انھوں نے دروازہ بند کر دیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لیونل میسی آزاد ہو گئے، جن کے پاس ’ماسٹر کی‘ تھی، اور انھوں نے آخری 15 منٹ میں مکمل طور پر کھیل پر حکمرانی کی۔‘
انگلینڈ کے کپتان ہیری کین نے کہا کہ ’میچ کے بڑے حصے میں ہم نے ان کا اچھا مقابلہ کیا، لیکن دنیا کے خطرناک ترین کھلاڑیوں کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ جب گیند ان کے پاس ہو تو وہ کچھ بھی تخلیق کر سکتے ہیں۔ وہ کسی وجہ سے تاریخ کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔‘
کیا میسی گولڈن بوٹ جیت سکتے ہیں؟
اس موسمِ گرما میں میسی ورلڈ کپ کی تاریخ میں 21 گول کے ساتھ سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں (یہ ان کے ارجنٹینا کے لیے مجموعی 125 گول کا حصہ ہے)۔
ان 21 میں سے 15 گول انھوں نے اپنی 35 ویں سالگرہ کے بعد کیے ہیں۔
ان میں سے آٹھ گول اس ٹورنامنٹ میں آئے ہیں، یوں انھوں نے 2022 میں کیے گئے اپنے سات گولوں کا ریکارڈ عبور کر لیا، جو گولڈن بوٹ کی دوڑ میں کیلیان ایمباپے سے صرف ایک گول کم تھے۔
اس بار میسی اور ایمباپے آٹھ، آٹھ گول کے ساتھ برابر ہیں۔ ایمباپے کی فرانس ٹیم ہفتے کو تیسرے نمبر کے پلے آف میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گی۔
انگلینڈ کے بیلنگھم اور کین کے بھی چھ، چھ گول ہیں اور وہ بھی دوڑ سے مکمل طور پر باہر نہیں ہوئے۔
اگر کھلاڑی گولوں کی تعداد میں برابر رہیں تو فیصلہ اسسٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے، جہاں میسی کے چار اسسٹ ہیں جبکہ ایمباپے کے تین۔
میسی اس موسمِ گرما کے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ اسسٹ کرنے والے کھلاڑی بھی بن سکتے ہیں کیونکہ وہ فرانس کے مائیکل اولیزے سے صرف ایک اسسٹ پیچھے ہیں۔
سابق انگلش گول کیپر پال رابنسن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’وہ ایک چھوٹے سے جادوگر ہیں، واقعی ہیں۔ وہ پورے ٹورنامنٹ میں یہی کرتے آئے ہیں۔ آپ ان کے کیے گئے گول دیکھیں اور وہ گیندیں بھی جو انھوں نے انگلینڈ کے پینلٹی ایریا میں پہنچائیں۔‘
کیا میسی کی رفتار کبھی کم ہو سکے گی؟
یہ بات بھول جانا آسان ہے کہ میسی، جو اس وقت بارسلونا میں تھے اور جن کی عمر 29 سال تھی، درحقیقت 2016 میں بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائر ہو گئے تھے۔
وہ 2014 کے ورلڈ کپ فائنل میں جرمنی سے ہار گئے تھے اور کوپا امریکہ کے تین فائنل بھی ہارے تھے۔
اپنا فیصلہ واپس لینے کے بعد وہ دو بار کوپا امریکہ جیت چکے ہیں۔
جب میسی نے، جو اس وقت پی ایس جی سے وابستہ تھے، 2022 میں قطر میں ورلڈ کپ ٹرافی اٹھائی تو ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے کریئر کی پہیلی کا آخری حصہ بھی مکمل ہو گیا ہو۔
بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ وہ آخری چیز تھی جو اب تک بہترین کھلاڑی کے بارے میں بحث میں کمی تھی، جہاں بہت سے لوگ ورلڈ کپ جیتنے والے پیلے اور ڈیاگو میراڈونا کو عظیم ترین کھلاڑی قرار دیتے ہیں۔
2022 کے فائنل سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ ’میں بہت خوش ہوں کہ میرا ورلڈ کپ کا سفر ایک فائنل میں اختتام پذیر ہو رہا ہے اور میں اپنا آخری میچ فائنل میں کھیلوں گا۔ یہ واقعی بہت اطمینان بخش ہے۔‘
’اس سال اور اگلے ورلڈ کپ کے درمیان بہت زیادہ وقت ہے۔ میرا نہیں خیال کہ میں ایسا کر سکوں گا۔ اس انداز میں اختتام کرنا شاندار ہے۔‘
اور جب اگلے برس انھوں نے یورپ چھوڑ کر میجر لیگ ساکر میں انٹر میامی میں شمولیت اختیار کی تو ایسا لگا کہ وہ اپنے کریئر کی رفتار آہستہ کرنے جا رہے ہیں۔
حتیٰ کہ گذشتہ برس فیفا کلب ورلڈ کپ کے دوران، جس میں انھوں نے حصہ لیا تھا، یہ بھی واضح نہیں تھا کہ آیا وہ اس موسمِ گرما میں کھیلتے نظر آئیں گے یا نہیں۔
لیکن وہ یہاں موجود ہیں، اور اب بھی بظاہر ناقابلِ شکست دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ ان کے کھیل کا انداز بدل چکا ہے۔
انگلینڈ کے خلاف میچ سے قبل، اس ٹورنامنٹ میں انھوں نے جتنا فاصلہ طے کیا، اس کا 47 فیصد پیدل چلتے ہوئے طے کیا تھا، جو کسی بھی آؤٹ فیلڈ کھلاڑی کے مقابلے میں سب سے زیادہ تناسب تھا۔
ہسپانوی صحافی گیئم بالاگے، جنھوں نے میسی کی سوانح عمری لکھی ہے، کہتے ہیں کہ میسی نے حکمتِ عملی کے اعتبار سے کم از کم پانچ بار خود کو نئے انداز میں ڈھالا ہے۔
میسی اب انٹر میامی اور ارجنٹینا کے لیے مسلسل 13 میچوں میں یا تو گول کر چکے ہیں یا گول میں معاونت فراہم کر چکے ہیں۔
اگر وہ اتوار کو سپین کے خلاف فائنل میں کسی گول میں حصہ لیتے ہیں تو وہ 2011 میں قائم کیا گیا اپنا مسلسل 14 میچوں کا ریکارڈ برابر کر دیں گے۔
وہ کافو کے بعد صرف دوسرے کھلاڑی بھی بن جائیں گے جو تین ورلڈ کپ فائنل کھیلیں گے۔
یقیناً یہ ان کا آخری ورلڈ کپ میچ ہو گا؟ آخرکار 2030 میں ان کی عمر 43 برس ہو جائے گی۔
لیکن شاید اس مرحلے پر ہمیں آٹھ بار کے بیلن ڈی اور جیتنے والے اس کھلاڑی کے بارے میں کسی بھی قسم کا مفروضہ قائم کرنا چھوڑ دینا چاہیے۔