آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ناقابل برداشت قیمت‘: ایران اور امریکہ کے لیے جنگ بندی برقرار رکھنا مشکل کیوں ہے؟
- مصنف, لوئس باروچو
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
اپریل کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی اب خطے میں تازہ حملوں کی لہر کے بعد بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
بدھ کے روز جب ایک امریکی ہیلی کاپٹر خلیج میں مار گرایا گیا تو واشنگٹن نے کہا کہ اس نے ایران کے فوجی اور نگرانی کے مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جواب میں بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے۔ اس دوران کویت کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ اس نے ایک اور ایرانی حملہ ناکام بنا دیا۔
یہ کشیدگی اتوار کے روز ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغنے کے چند دن بعد سامنے آئی، جس کے جواب میں اسرائیل نے مغربی اور وسطی ایران میں اہداف پر فضائی حملے کیے۔ جنگ بندی کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلی براہِ راست جھڑپ تھی۔
ٹرمپ نے فریقین سے ’فائرنگ بند‘ کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن پھر خود امریکہ نے ایران پر حملے کیے جس کا دوسرا دور جمعرات کو ہوا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو اب ’اس کی قیمت چکانا ہوگی‘، تاہم انھوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ’مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے‘ اور ’صرف باتیں کرتا ہے، عملی اقدام نہیں کرتا‘۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ ان کا ملک ’ہر حملے یا دھمکی کا جواب دے گا‘ اور کہا کہ امریکہ کو ’میدانِ جنگ میں پے درپے شکست‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فی الحال کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر جنگ بندی ختم نہیں کی، لیکن خدشہ ہے کہ مزید کشیدگی واشنگٹن اور تہران کے وسیع معاہدے کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے جس کا مقصد ایران جنگ کا خاتمہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو پھر جنگ بندی کو برقرار رکھنا اتنا مشکل کیوں ثابت ہوا؟ ماہرین کے مطابق اس کی چار وجوہات یہ ہیں۔
ایران کے لیے غیر مستحکم جنگ بندی
واشنگٹن کے تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سینیئر فیلو سینا توسی کے مطابق ’ایک وجہ یہ ہے کہ جنگ بندی نے ’تنازع کے بنیادی مسئلے کو ایران کے نقطۂ نظر سے حل نہیں کیا‘۔
وہ لبنان میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے تسلسل کے ساتھ ساتھ ایران پر امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ۔۔ بشمول پابندیاں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی۔۔ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ایران کی طرف سے حملے روکنے کے مطالبے کے ایک دن بعد ہی منگل کو اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنانی شہر صور کو نشانہ بنایا۔
سینا توسی کی رائے میں تہران اس صورتحال کو ایک بعد از جنگ انتظام کے طور پر دیکھتا ہے جس میں واشنگٹن ’نمایاں اثر و رسوخ‘ برقرار رکھتا ہے جبکہ مکمل جنگ سے گریز کرتا ہے، جسے ایرانی حکام ’غیر مستحکم اور ناقابل قبول‘ سمجھتے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ایران کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ کم لاگت پر فوجی دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو نشانہ بناتا رہتا ہے، تو یہ اقدامات خطے کے مستقل منظرنامے کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے وقت کے ساتھ ایران کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کی قیادت پر دباؤ ہے کہ وہ ایسی جنگ بندی قبول کرتی نظر نہ آئے جس میں اس کے مخالفین فوجی اور اقتصادی دباؤ برقرار رکھیں جبکہ تہران تحمل کا مظاہرہ کرے۔
اسرائیل کا کردار
تجزیہ کار اسرائیل کے اقدامات کو بھی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوششوں میں ایک اہم رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔
برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ڈاکٹر ایچ اے ہیلیئر کہتے ہیں کہ ’تل ابیب کی بنیادی دلچسپی کسی ایسے امریکہ-ایران معاہدے کو روکنے میں ہے جو ایران کو علاقائی طاقت کے طور پر برقرار رکھے‘، اور اسرائیل کو سفارتی کوششوں میں ممکنہ ’خرابی پیدا کرنے والا عنصر‘ قرار دیتے ہیں۔
وہ مذاکرات کے لیے جاری امریکی سفارت کاری کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کے لیے سرگرم ہیں۔
اسرائیل نے کس حد تک ٹرمپ کی مخالفت کی، جنھوں نے اتوار کے حملوں کے بعد تل ابیب سے ایران پر حملہ نہ کرنے کو کہا تھا۔
تاہم عسکری ماہرین اسرائیل کے ایران کے ساتھ کسی طویل تنازع میں امریکی حمایت پر انحصار کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ برائے نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے سینیئر محقق یہوشوعا کالیِسکی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل اس جنگ کو طویل عرصے تک تنہا نہیں لڑ سکتا، کیونکہ اسلحہ استعمال ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔‘
عکسری مؤرخ ڈینی اورباخ کے مطابق اسرائیل یہ پیغام دے رہا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ اس کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔
انھوں نے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’اگر کوئی ممکنہ جنگ بندی معاہدہ اسرائیلی مفادات کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے تو اسرائیل صورتحال کو الٹ سکتا ہے۔‘
بی بی سی کو ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے اس تاثر کی تردید کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی کر کے ان کی خلاف ورزی کی۔
محتاط کشیدگی
تیسرا عنصر یہ ہے کہ کشیدگی خود مذاکراتی حکمت عملی کا حصہ بنتی دکھائی دیتی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی دباؤ، پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران کی قیادت اپنی جگہ قائم رہی ہے اور اس کا سکیورٹی ڈھانچہ برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے تہران کے اندر مزاحمت کا اعتماد مضبوط ہوا ہے۔
مکمل طور پر ٹکراؤ سے بچنے کے بجائے، ایران اب خود کو دباؤ برداشت کرنے کے قابل سمجھ سکتا ہے اور نئی سرخ لکیریں نافذ کرنے کے لیے زیادہ تیار ہو سکتا ہے۔
اسی دوران ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فوجی دباؤ اور سفارت کاری ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں۔
سینا توسی کہتے ہیں کہ ’ایران سفارت کاری ترک نہیں کر رہا۔‘
ان کے مطابق لبنان، خلیج اور دیگر مقامات پر حالیہ سرگرمیاں، جن میں اکثر ایران کی حمایت یافتہ گروہ شامل ہیں، ضروری نہیں کہ وسیع جنگ چھیڑنے کے لیے ہوں، بلکہ موجودہ صورتحال کی قیمت بڑھانے اور ایران کی سودے بازی کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ہیں۔
ایچ اے ہیلیئر بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’منطق سادہ ہے۔ اگر ایران پر حملہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے مہنگا نہیں ہے، تو اسے خطے میں وسیع امریکی سکیورٹی نظام کے لیے مہنگا بنا دو۔‘
امریکی اثر و رسوخ کی حدود
چوتھا اور آخری عنصر امریکہ کا کردار ہے اور یہ کہ وہ اپنا اثر و رسوخ کس حد تک استعمال کرنے کو تیار ہے۔
اسرائیل کے بنیادی فوجی حامی کے طور پر واشنگٹن اسلحہ، مالی وسائل اور سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے، جس سے اسے تنازع کے رخ پر نمایاں اثر حاصل ہوتا ہے۔
ایچ اے ہیلیئر کے مطابق یہی اثر جنگ بندی کی نزاکت کو سمجھنے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر واشنگٹن چاہے کہ تل ابیب اپنا رویہ تبدیل کرے، تو حمایت کی حدود کا اشارہ دینا بھی ’فوراً تل ابیب کی توجہ حاصل کرے گا‘۔
آئندہ کے خطرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ عوامل دیرپا حل کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔ فی الحال بہت سے ماہرین کے مطابق سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
لیکن ایچ اے ہیلیئر خبردار کرتے ہیں کہ اگر سفارت کاری کو بڑھتے ہوئے ’فوجی کارروائی کے پردے‘ کے طور پر دیکھا جانے لگے، تو ایران اپنی حکمت عملی بدل کر اس پر حملے کی ’ناقابل برداشت قیمت‘ مقرر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایسی تبدیلی مستقبل میں کشیدگی کو نہ صرف زیادہ ممکن بلکہ زیادہ خطرناک بھی بنا سکتی ہے۔