آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
منشیات فروشی کی ملزمہ ’پنکی‘ کے خلاف قتل کا مقدمہ: عدالت پیشی کے دوران آج کیا ہوا؟
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کے مقدمے میں عدالت نے ان کے جسمانی ریمانڈ میں دو دن کی توسیع کر دی ہے۔
سنیچر کے روز انمول عرف پنکی کو کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں قتل کے مقدمے میں جب ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا تو انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ لیاری میں بغدادی پولیس نے ایک نامعلوم نوجوان کی لاش ملنے کے بعد ملزمہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
اس کیس کے مدعی محمد شیروز کا کہنا ہے کہ وہ سات مئی کو موٹر سائیکل پر حاجی پیر محمد روڈ سے گزر رہے تھے کہ وشو سکول کے قریب انھوں نے دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم، چھیپا ایمبولینس اور پولیس موجود ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ فٹ پاتھ پر ایک 25 سے 30 سالہ نوجوان کی لاش پڑی تھی جس نے رنگین شرٹ اور چیک والا ٹراؤزر پہن رکھا تھا جسے مدعی نے چھیپا ڈرائیور کی مدد سے ایمبولینس میں رکھا اور اسے بغدادی تھانے منتقل کیا گیا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ لاش کی جامہ تلاشی کے دوران اے ایس آئی محمد زاہد کو مقتول کی پتلون کی دائیں جیب سے ایک چھوٹی سنہری ڈبیہ ملی جس پر درج تھا ’کوئین میڈم پنکی ڈان، نام ہی کافی ہے، انجوائے۔‘
درخواست گزار کے مطابق اس ڈبیہ پر دل کے نشان بنے ہوئے تھے اور اس میں نشہ آور چیز موجود تھی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ مقامی طور پر معلومات کرنے پر مدعی کو پتہ چلا کہ انمول عرف پنکی نامی خاتون اس علاقے میں یہ نشہ فروخت کرتی ہے۔ مدعی محمد شیروز کے بیان کی روشنی میں پولیس نے موقف اختیار کیا کہ متوفی کی موت انمول عرف پنکی کی جانب سے فراہم کردہ نشہ آور چیز کے باعث ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت پیشی کے دوران آج کیا ہوا؟
ملزمہ انمول عرف پنکی کو پولیس کے ساتھ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کے اوپر دوپٹہ ڈالا ہوا تھا۔ اس دوران وہ بار بار کہتی رہیں کہ ’اس کو ہٹائیں، دم گھٹ رہا ہے‘ تاہم پولیس اہلکار دوبارہ ان پر دوپٹہ ڈال دیتی تھیں۔
پیشی کے دوران ملزمہ نے مجسٹریٹ کو بتایا کہ انھیں 22 دن سے حراست میں رکھا گیا ہے۔
ملزمہ کے مطابق انھیں وین کے ذریعے لاہور سے کراچی منتقل کیا گیا اور اس دوران ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اںھیں کبھی کہاں، تو کبھی کہاں لے کر جایا جا رہا ہے۔ انھوں نے عدالت میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ملزمہ انمول نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ یہ سب کچھ ان کا سابقہ شوہر کروا رہا ہے۔
اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ وہ یہ سب کیوں کروا رہا ہے تو انمول نے جواب دیا کہ انھوں نے تین ماہ پہلے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا۔
اس دوران تفتیشی افسر مقبول مہر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے پہلے شوہر نے انھیں 14 سال پہلے چھوڑا تھا اور اس کے بعد ملزمہ نے لاہور کے ایک سابق ڈی ایس پی سے بھی شادی کی تھی۔
انمول کے وائس نوٹس لیک ہونے سے متعلق تفتیشی افسر کا کہنا تھا وہ وائس میسجز پولیس نے نہیں بلکہ انمول کے کلائنٹس نے لیک کیے ہیں۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اب تک سات لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا اور ملزمہ کی نشاندہی پر ریکوری ہو رہی ہے تاہم وہ وہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں، اس لیے مزید ریمانڈ دیا جائے۔
مقبول مہر نے دعوی کیا کہ تفتیش کاروں کو ملزمہ کے موبائل سے منشیات بنانے کی ویڈیوز ملی ہیں۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ نے منشیات کا اپنا برانڈ بنایا ہوا ہے، جس کی ڈبیاں ملی ہیں۔
اس کے جواب میں ملزمہ کے وکیل نے اپنی مؤکلہ کے خلاف سارے کیسز کو جعلی قرار دیتے ہوئے عدالت سے انمول کو عدالتی ریمانڈ پر بھیجنے کی استدعا کی۔
ملزمہ کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ قتل کے کیس کی تاریخوں میں تضاد ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے کیونکہ ملزمہ لاہور میں تھی۔
مؤکلہ بیس سال سے کراچی میں نہیں: وکیل کا دعویٰ
انمول عرف پنکی کے وکیل میر ہدایت اللہ کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر کے بقول ان کی مؤکلہ اتنے عرصے سے کام کر رہی ہیں لیکن اگر ایسا ہے اور تفتیش کاروں کے پاس ہر چیز ہے تو پھر گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ملزمہ کے وکیل میر ہدایت اللہ نے بتایا کہ ان کی مؤکلہ کو لاہور سے لایا گیا اور یہاں جھوٹے کیس میں ملوث کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق ملزمہ سے کوئی منشیات نہیں ملی اور جو ویڈیو منظرِ عام پر آئی، اس میں پولیس نے آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی مؤکلہ زیر حراست تھیں جب انھیں ایک گھر میں لے جا کر ان کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی۔
ان کے مطابق ان کی مؤکلہ بیس سال سے کراچی میں نہیں۔ میر ہدایت اللہ کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ اور ان کے خاندان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
ملزمہ کے وکیل کے مطابق انمول نے پولیس کے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ ان کا تعلق کسی انٹرنیشنل گینگ سے ہے۔
وکیل ہدایت اللہ کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن انھیں کہا جا رہا ہے کہ ’آپ بنی گالہ کا نام لو اور جن لوگوں کے نام ہم آپ کو بتاتے ہیں، ان کے نام لو۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی مؤکلہ میڈیا سے بات کرنا چاہتی ہیں لیکن انھیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔
واضح رہے کہ ملزمہ انمول کو جب پیشی کے لیے عدالت لایا جا رہا تھا تو انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ان لوگوں نے مجھ سے جھوٹے بیان دلوائے ہیں کہ میں بولوں کہ بنی گالا میں ایک بندے کو سامان دے کر آتی ہوں۔‘
بعد ازاں پولیس ملزمہ کو اپنے ہمراہ ملیر کورٹ لے گئی جہاں انھیں جمعہ کے روز ان کے گھر سے برآمد ہونے والی کوکین کے کیس میں ریمانڈ کے لیے مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ملیر کورٹ کے باہر صحافی نے جب ان سے سوال کیا کہ آپ میڈیا سے کیا کہنا چاہتی تھیں، تو انھوں نے کہا کہ ’ہم تو ڈوبیں گے صنم، تمہیں بھی لے ڈوبیں گے۔‘