شفیق مینگل کے گھر پر حملے میں 17 ہلاکتیں: ’ہدف میں ہی تھا لیکن ساتھیوں کی وجہ سے حملہ آور ناکام رہے‘

آٹھ جولائی کو جس وقت پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ اسلام آباد میں صحافیوں کو بلوچستان میں چار روز کے دوران شدت پسندی کے تین بڑے واقعات میں 27 پولیس اور 11 فوجی اہلکاروں سمیت 42 افراد کی ہلاکت کی خبر دے رہے تھے، خضدار میں مسلح شدت پسند شہر کے مرکز میں واقع قبائلی رہنما اور جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ میر شفیق الرحمان مینگل کے گھر پر حملہ آور تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے اور اس میں خود شفیق مینگل تو محفوظ رہے لیکن اُن کے 17 ساتھی مارے گئے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔
شفیق الرحمان مینگل کی سیاسی وابستگی صوبے میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے بھی ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
اس حملے کے بعد بی بی سی کے رابطہ کرنے پر شفیق مینگل نے واقعے کی تفصیلات بتائیں اور ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بلوچستان میں شاید ہمیں نظریہ پاکستان کے سب سے بڑا علمبردار سمجھتے ہیں اس لیے وہ ہمیں سب سے زیادہ نشانہ بنا رہے ہیں۔‘
’حملہ آور گھر کے اندر داخل ہونا چاہتے تھے‘
اس حملے کی حکومتی شخصیات کی جانب سے مذمت تو کی گئی لیکن نہ ان کی جانب سے اور نہ ہی پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے اس کے بارے میں میڈیا کو معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
تاہم جھالاوان عوامی پینل کے مرکزی رہنما ندیم الرحمان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ خضدار شہر میں میرشفیق الرحمان کے جس گھر کو نشانہ بنایا گیا وہ شہزاد سٹی میں واقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ میر شفیق الرحمان مینگل اور ان کے ساتھیوں نے ڈھائی گھنٹے تک حملہ آوروں مقابلہ کیا جس میں وہ حملہ آور مارے گئے جو گھر کے اندر داخل ہونا چاہتے تھے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شفیق الرحمان مینگل کا کہنا تھا کہ ’بیرونی ممالک کی ایما پر کام کرنے والے کرائے کے قاتلوں نے میرے گھر کے دروازے پر بارود سے بھری ایک گاڑی ٹکرا دی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ بدھ کے روز ڈھائی بجے کے قریب کیا گیا جس کے نتیجے میں مرکزی دروازے کے قریب ہمارے 17 ساتھی جان کی بازی ہار گئے جبکہ کچھ لوگ زخمی ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد ہمارے جو ذاتی محافظین اور رشتہ دار تھے انھوں نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں ان کے بقول جو باقی حملہ آور تھے وہ گھر کے اندر داخل نہیں ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
میر شفیق الرحمان مینگل کا دعویٰ تھا کہ ان کے محافظین کی جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آور مارے گئے اور ان میں سے بعض زخمی حالت میں فرار ہو گئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’میری اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے حملہ آوروں کی تعداد چھ ہے۔‘ تاہم سرکاری طور پر اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔
میر شفیق الرحمان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اُنھیں سکیورٹی فراہم کی گئی تھی اور اس حملے میں ان کی جانب سے جو لوگ مرے ان میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’یہ لوگ پہلے لیویز فورس میں تھے جو کہ بعد میں پولیس کا حصہ بن گئے اور یہ بھی ہمارے رشتہ دار اور علاقے کے لوگ تھے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ظاہر سی بات ہے کہ ان کا ہدف میں ہی تھا لیکن ہمارے ساتھیوں کی دلیری کی وجہ سے وہ ناکام رہے۔
واقعے کے بعد کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ تنظیم کی مجید بریگیڈ نے کیا۔
کالعدم بی ایل اے اس سے پہلے بھی میر شفیق الرحمان مینگل، ان کے رشتہ داروں اور حامیوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔
اس سوال پر کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے ان کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے تو میر شفیق الرحمان مینگل کا کہنا تھا کہ ’ہم اور قربانی دینے والے ساتھی نظریہ پاکستان کے علم بردار رہے ہیں اس لیے وہ ہمیں نشانہ بنارہے ہیں۔‘
میر شفیق مینگل نے کہا کہ ’پچھلے سال میرے چھوٹے بھائی میر عطاالرحمان مینگل پر حملہ کیا گیا جس میں وہ مارے گئے جبکہ اس سے پہلے بھی میرے رشتہ داروں اور ساتھیوں پر حملے ہوئے لیکن وہ ہمیں ہمارے نظریے اور جدوجہد سے نہیں ہٹا سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میر شفیق الرحمان کون ہیں؟
سابق وفاقی وزیر نصیر مینگل کے چھوٹے بیٹے میر شفیق الرحمان کا تعلق بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے ہے۔ وہ ماضی میں جھالاوان عوامی پینل سے منسلک رہے تاہم چند ماہ قبل انھوں نے صوبے میں حکمراں جماعت پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔
پیپلز پارٹی نے ضلع خضدار سے قومی اسمبلی کی نشست سے ضمنی انتخاب کے لیے ان کو ٹکٹ جاری کیا تاہم سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے تاحال اس نشست پر ضمنی انتخاب نہیں ہو سکا۔ یہ نشست بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل کے استعفے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔
میر شفیق الرحمان کا شمار کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے سخت ترین مخالفین میں ہوتا ہے اور ماضی میں کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے ان پر اور ان کے رشتہ داروں پر متعدد حملے کیے گئے۔
گذشتہ سال جون میں وڈھ میں ایک حملے میں ان کے چھوٹے بھائی میر عطا الرحمان مینگل مارے گئے تھے جس کی ذمہ داری بھی کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔
میر شفیق الرحمان مینگل اور ان کے ساتھیوں پر خضدار میں یہ پہلا اجتماعی خودکش حملہ تھا جبکہ مجموعی طور پر دوسرا خود کش حملہ ہے۔
میر شفیق الرحمان مینگل کے کوئٹہ میں واقع گھر پر پہلا خودکش حملہ 2011 میں کیا گیا تھا جس میں وہ خود محفوظ رہے تھے جبکہ 13 لوگ مارے گئے تھے۔
مجید بریگیڈ کیا ہے
مجید بریگیڈ کا نام پہلی بار 30 دسمبر 2011 میں کوئٹہ میں شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر خودکش حملے کے بعد ہی سامنے آیا تھا۔ اس حملے میں شفیق مینگل تو محفوظ رہے مگر اُن کے محافظوں سمیت 10 افراد ہلاک جبکہ 23 زخمی ہوئے تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی تھی اور بتایا کہ 'مجید بریگیڈ' کی جانب سے یہ 'فدائی حملہ' درویش نامی نوجوان نے کیا تھا۔ یہ بلوچستان میں طویل عرصے سے جاری موجودہ شورش میں پہلا خودکش حملہ تھا۔
اس کے بعد مجید بریگیڈ منظر عام سے کچھ عرصے کے لیے غائب ہو گئی اور اس کی جانب سے کسی بڑے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔
اُستاد اسلم عرف اچھو مجید بریگیڈ کے پہلے سربراہ تھے اور وہ اس کالعدم تنظیم کی کارروائیوں میں ناصرف جدت اور شدت لائے بلکہ وہ بلوچستان میں دہائیوں سے جاری بلوچ شدت پسندی کو پہاڑوں سے شہروں بلخصوص کراچی تک لے آئے۔
دسمبر 2018 میں اسلم اچھو قندھار میں ہونے والے ایک حملے میں ہلاک ہو گئے جس کے بعد اس کالعدم جماعت کی قیادت بشیر زیب نامی شخص کے پاس آئی جو ماضی میں بی ایس او کے چیئرمین رہ چکے تھے۔
اسلم اچھو پر بلوچستان میں بم دھماکوں، سکیورٹی فورسز پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے متعدد مقدمات درج تھے، جبکہ اُن کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔
شفیق مینگل پر ہونے والے حملے کے تقریباً سات سال بعد اگست 2018 کو بلوچستان میں سونے اور تانبے کے ذخائر والے ضلع چاغی کے صدر مقام دالبندین میں ایک ٹرک اپنے سامنے آنے والی ایک ایسی بس سے ٹکرا گیا جس میں چینی انجینیئرز سوار تھے۔ اس خودکش حملے میں تین چینی انجنیئروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔
مجید بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور بتایا گیا کہ حملہ آور 'ریحان' نامی نوجوان تھا جو مجید بریگیڈ کے سربراہ اسلم استاد عرف اسلم اچھو کا بیٹا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی سال یعنی نومبر 2018 میں کراچی میں چین کے سفارتخانے پر بڑا حملہ کیا گیا، جس میں چار حملہ آور پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی مجید بریگیڈ نے ہی قبول کی۔
سنہ 2019 میں اس گروپ نے چین، پاکستان اقتصادی راہداری کے مرکز گوادر شہر میں واقع پی سی ہوٹل پر حملہ کیا، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ تین حملہ آور مارے گئے۔ مجید بریگیڈ نے اس کارروائی کو 'فدائی مشن' قرار دیا تھا۔
اس کے اگلے سال جون 2020 میں کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا گیا جہاں چار حملہ آور مارے گئے، اس حملے کی ذمہ داری بھی مجید بریگیڈ نے ہی قبول کی تھی۔
حالیہ عرصے میں سنہ 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں شاری بلوچ نامی خاتون نے چینی کنفیوشس سینٹر کے اساتذہ پر خودکش حملہ کیا جبکہ سنہ 2023 میں تربت کے علاقے میں سمیعہ قلندرانی نامی خاتون نے ایف سی کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ سمیعہ اسلم اچھو کے بیٹے ریحان کی منگیتر تھیں۔
اس سے اگلے ہی برس یعنی سنہ 2024 میں ماہل بلوچ نامی خاتون نے بیلہ میں ایف سی کے کیمپ پر خودکش حملہ کیا۔ اس تمام حملوں کی ذمہ داری مجید بریگیڈ نے قبول کی اور اس کے نتیجے میں یہ بھی سامنے آیا کہ یہ کالعدم تنظیم اب اپنی خودکش کارروائیوں کے لیے خواتین کا استعمال کر رہی ہے۔
اسی طرح مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنانے اور مسافروں کو ہلاک کرنے کے واقعے کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی تھی۔





















