انڈیا کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں آتشزدگی کے تازہ واقعے نے ایک بار پھر یہ باور کرایا ہے کہ تین سال قبل پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات کی آگ ابھی تک پوری طرح سے نہیں بجھ سکی ہے۔
یکم جولائی کو منی پور کے ضلع کامجونگ میں میانمار کی سرحد کے ساتھ واقع ایک گاؤں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعے نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ایک وقفے کے بعد کوکی اور ناگا برادریوں کے درمیان کا تنازع دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو متعدد مکانات کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسے مودی حکومت کے 'تقسیم پسندانہ نظریے' کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
حزب اختلاف کے رہنما نے کہا کہ 'منی پور برسوں سے جل رہا ہے، اور نفرت اور تشدد کی آگ میں ایک بار پھر 20 گھر جل کر خاکستر ہو گئے۔'
انھوں نے ہندی زبان میں ایک پوسٹ میں لکھا: 'دو حکومتوں اور صدر راج کے ہوتے ہوئے بھی، تنازع مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ہزاروں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، لاتعداد خاندان بکھر چکے ہیں۔ منی پور جس ناقابل برداشت اذیت کو برداشت کر رہا ہے، اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔'
انھوں نے مزید لکھا: 'یہ مودی سرکار کے تفرقہ انگیز نظریے کا نتیجہ ہے، جو لوگوں کو مذہب، ذات، زبان، علاقہ اور شناخت کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے۔'
دریں اثنا دو کوکی تنظیموں نے دو الگ الگ بیانات میں گھر جلائے جانے کی مذمت کی ہے۔ کمیٹی آن ٹرائبل یونیٹی اور کوکی سی ایس او (سول سوسائٹی آرگنائزیشن) ورکنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالم (این ایس سی این) اور میانمار میں قائم شانی نیشنلسٹ آرمی کے تعاون سے اس 'منصوبہ بند حملے' کو انجام دیا گيا ہے۔
کوکی تنظیموں کے مطابق مسلح گروہوں نے یہ حملہ آسام رائفلز کی جانب سے فائیمول میں قائم سکیورٹی چوکی خالی کرنے کے ایک دن بعد کیا ہے، جس کے نتیجے میں گاؤں غیر محفوظ رہ گیا تھا۔ انھوں نے 11 جون کو سرحدی گاؤں کلتوہ پر ہونے والے اسی نوعیت کے حملے کا بھی حوالہ دیا، جو ان کے بقول کامجونگ ضلع میں کوکی دیہاتیوں کے خلاف 'منظم اور مہدف تشدد' کے ایک تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
انڈین خبررساں ادارے پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق تنظیم کا کہنا ہے کہ 'عینی شاہدین کے مطابق جدید ہتھیاروں سے لیس تقریباً 20 کوکی جنگجو سرحدی ستون نمبر 102 کے قریب واقع فائیکوہ گاؤں سے دریائے نامیا عبور کر کے آئے اور ناگا آبادیوں پر منظم حملہ کیا۔ مقامی لوگ جان بچانے میں کامیاب ہوگئے، لیکن ان کے مکانات جلا دیے گئے۔'
تنظیم نے مزید کہا کہ کھیروں گرام میں سنہ 2023 سے مقیم 365 برمی پناہ گزینوں کے لیے قائم 20 عارضی کیمپ بھی نذرِ آتش کر دیے گئے ہیں۔
جبکہ ناگا ولیج گارڈ کا کہنا ہے کہ 'ناگا آبادیوں پر حملے اس وقت ہوئے جب دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے فائیمول کے 20 متروک گھروں کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی تھی، اور صرف چند منٹ بعد ناگا بستیوں پر یلغار کی گئی۔'
تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ اسی طرز پر ترتیب دیا گیا تھا جیسے لانچاہ (کوکی) گاؤں کو جلائے جانے کے بعد 7 مئی کو تین تانگکھل ناگا دیہات 'زی چورو، وانگلی، اور ناملی پر حملہ کیا گیا تھا۔
دریں اثنا، منی پور پولیس نے پیپلز ریوولیوشنری پارٹی آف کانگلیپاک نامی میتئی شدت پسند تنظیم کے تین ارکان کو گرفتار کر لیا۔ ان پر امپھال ایسٹاور امپھال ویسٹ اضلاع میں گھروں پر کیے گئے متعدد گرینیڈ حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
اس سے قبل اپریل میں راکٹ نما حملے میں دو کمسن بچوں کی ہلاکت کے بعد ٹرونگلوبی میں مشتعل ہجوم نے جلمول میں واقع سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے کیمپ پر دھاوا بول دیا، جو ریاست کے دو اہم متحارب قبائل میتئی اور کوکی زور والے علاقوں کے درمیان ایک بفر زون میں واقع ہے۔ اسی دوران سی آر پی ایف کی فائرنگ میں تین مظاہرین ہلاک ہو گئے۔
بی بی سی کی ٹیم نے موقع پر دیکھا کہ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور احتجاج کرنے لگیں۔ ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا: 'ہمیں حکومت سے کوئی امید نہیں رہی۔ پچھلے کئی برسوں میں جتنی بھی ہلاکتوں کے واقعات ہوئے، آج تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ تشدد میں بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہو، اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں، مگر کسی کو انصاف نہیں ملا۔'
دو سال قبل لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے کہا تھا 'منی پور ایک سال سے امن کا انتظار کر رہا ہے، اس سے پہلے یہ 10 سال تک پرامن تھا۔ منی پور میں اب بھی جل رہا ہے، اس پر کون توجہ دے گا؟'