آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’جلادوں کو پھانسی سے پہلے شراب دی گئی‘: دو قاتلوں کی سزائے موت کی کہانی جن کے جُرم نے پورے انڈیا کو جھنجوڑ ڈالا
انتباہ: اس تحریر میں درج تفصیلات کچھ قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔
31 جنوری سنہ 1982 کو تہاڑ جیل میں دو ظالم قاتلوں رنگا اور بلّا کی پھانسی کی تیاریاں تقریباً مکمل ہی تھیں۔
جب یہ دونوں صبح پانچ بجے نیند سے جاگے تو انھیں چائے کا کپ دیا گیا۔ ان سے آخری مرتبہ پوچھا گیا کہ کیا وہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنی وصیت لکھوانا چاہیں گے؟
دونوں نے انکار کر دیا۔ پھر ان دونوں کو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنائی گئیں، حکم دیا گیا کہ وہ پھانسی کے پلیٹ فارم کی طرف جائیں، جہاں پھانسی کا پھندا 10 منٹ پہلے ہی تیار کیا گیا تھا۔
’بلیک وارنٹ: کنفیشنز آف آ تہاڑ جیلر‘ کے مصنف سنیل گپتا کہتے ہیں کہ ’رنگا ایک خوش مزاج شخص تھا، اس کا قد پانچ فُٹ 10 انچ تھا۔ وہ ہمیشہ خوش رہتا تھا۔ پھانسی کا سن کر بھی پریشان نہیں تھا۔‘
سنیل گپتا کہتے ہیں کہ دوسری جانب ’بِلا پیشے کے اعتبار سے ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ اس کا قد تقریباً ساڑھے پانچ فٹ تھا۔ وہ ہمیشہ سنجیدہ رہتا تھا اور یہ کہہ کر روتا تھا کہ رنگا نے اسے مشکل میں ڈال دیا جبکہ رنگا کہتا تھا کہ بِلا نے اسے مشکل میں ڈالا۔ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے سے الجھتے رہتے تھے۔‘
جیل میں فُٹبال اور بیڈمنٹن
سنیل گپتا کہتے ہیں کہ ’جیل کا قانون یہ ہے کہ سزائے موت پانے والے شخص کے ساتھ اس وقت تک ایک عام ملزم کی طرح سلوک کیا جاتا ہے جب تک صدر کی جانب سے اس کی رحم کی درخواست مسترد نہ ہو جائے۔ اس کے بعد ہی اسے سیل میں منتقل کیا جاتا ہے اور زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے۔‘
’جب میں اس جیل میں گیا تو ان کے قانونی معاملات جاری تھے۔ میں نے دیکھا کہ کبھی یہ دونوں بیڈمنٹن کھیلتے نظر آتے اور کبھی فٹ بال۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت کا سنگین ترین جُرم
آخر دونوں نے ایسا کون سا جرم کیا تھا کہ پورا ملک انھیں پھانسی کے پھندے پر جھولتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا؟
بلیک وارنٹ کی شریک مصنفہ اور ہندوستان ٹائمز کی پولیٹیکل ایڈیٹر سونیترا چودھری کہتی ہیں کہ ’جس طرح ہماری نسل کے لیے نربھیا کیس سب سے بڑا جرم تھا، اسی طرح ہم سے پچھلی نسل کے لیے سب سے بڑا جرم بِلا اور رنگا نے ہی کیا تھا۔‘
’سنہ 1978 میں دو کم عمر نوجوان 16 سالہ گیتا چوپڑا اور ان کے 14 سالہ بھائی سنجے چوپڑا نے آل انڈیا ریڈیو جانے کے لیے ایک گاڑی میں لفٹ لی، جہاں ان کا ایک شو تھا۔ بدقسمتی سے انھیں لفٹ دینے والے دو غنڈے تھے، جو بمبئی سے دہلی آئے تھے۔ وہ چھوٹے درجے کے مجرم تھے۔‘
’ان کا منصوبہ تھا کہ کسی کو اغوا کر کے اس کے خاندان سے تاوان وصول کریں۔ انھوں نے ان بچوں کو اغوا اس سوچ کے ساتھ کیا کہ ان کے والدین کے پاس بہت پیسہ ہوگا لیکن سارا معاملہ ریپ اور پھر قتل تک جا پہنچا۔‘
جب دونوں نوجوان لاپتا ہوئے
گیتا چوپڑا کے ریپ اور بھائی کے ساتھ قتل نے پورے انڈیا کے ہلا کر رکھ دیا۔
30 ستمبر 1978 کو مشہور جریدے انڈیا ٹوڈے میں دلیپ بوب نے لکھا کہ ’گیتا اور سنجے چوپڑا کے والد کیپٹن ایم ایم چوپڑا نے بتایا کہ ان کے دونوں بچے ہفتے کے روز شام 6:15 بجے دھولا کنواں آفیسرز کوارٹرز سے روانہ ہوئے تھے۔ گیتا جیسس اینڈ میری کالج میں کامرس کی دوسرے سال کی طالبہ تھیں اور اسی شام پارلیمنٹ سٹریٹ پر واقع آل انڈیا ریڈیو سٹوڈیو میں یوواوانی کے ’اِن دی گروو‘ پروگرام میں شرکت کرنے والی تھیں۔‘
’ان کے بھائی سنجے، جن کا قد تقریباً 5 فٹ 10 انچ تھا، دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔ باہر موسم ابر آلود تھا اور صبح سے وقفے وقفے سے بارش ہو رہی تھی۔ یہ طے پایا کہ پروگرام کے بعد کیپٹن چوپڑا آکاش وانی بھون کے دروازے سے اپنے بچوں کو لے جائیں گے۔‘
’جب وہ رات 9 بجے وہاں پہنچے تو بچوں کا کوئی سراغ نہیں تھا۔ جب انھوں نے اندر جا کر دریافت کیا تو انھیں بتایا گیا کہ گیتا اور سنجے چوپڑا ریکارڈنگ کے لیے وہاں پہنچے ہی نہیں تھے۔‘
عینی شاہد کیا کہتے ہیں؟
ان بچوں کو تلاش کرنے کے لیے دہلی اور دیگر کئی ریاستوں کی پولیس نے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کیں۔
ایک عینی شاہد بھگوان داس نے پولیس کو بتایا کہ ’تقریباً ساڑھے چھ بجے شام کے وقت لوہیا اسپتال کے قریب میرے سکوٹر کے پاس سے ایک تیز رفتار فیٹ کار گزری۔ میں نے ایک لڑکی کی دبی ہوئی چیخ سنی۔ میں نے سکوٹر کار کے قریب لے جانے کی کوشش کی۔ اگلی نشست پر دو افراد بیٹھے تھے اور پچھلی نشست پر ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھے۔‘
’جب کار سگنل پر رکی تو میں نے آواز دی، ’بھائی، کیا ہو رہا ہے؟‘ لڑکے نے اپنا چہرہ شیشے کے ساتھ لگا لیا اور اپنی خون میں لت پت ٹی شرٹ کی طرف اشارہ کیا۔ لڑکی پیچھے سے ڈرائیور کے بال پکڑ کر کھینچ رہی تھی۔‘
’ڈرائیور ایک ہاتھ سے گاڑی چلا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے بار بار لڑکی کو مار رہا تھا۔ مندر مارگ اور پارک سٹریٹ کے چوراہے پر کار نے رفتار بڑھا دی اور سگنل عبور کر گئی۔ گاڑی کا نمبر ایچ آر کے 8930 تھا۔‘
پہلے سنجے کا قتل کیا گیا اور بعد میں گیتا کا ریپ
رنگا اور بِلا دونوں کو رج کے علاقے میں بدھا گارڈن کی طرف لے گئے۔ وہاں انھوں نے ایک سنسان جگہ پر گاڑی روکی، سنجے چوپڑا کو قتل کیا اور اس کے بعد گیتا کا ریپ کیا۔
بعد میں رنگا نے اپنے اعترافی بیان میں میں کہا کہ ’میں لڑکی کو اس جگہ کی طرف لے جا رہا تھا جہاں اس کے بھائی کی لاش پڑی تھی۔ وہ میرے دائیں جانب چل رہی تھی۔ بِلا نے مجھے اشارہ کیا اور میں کچھ آگے بڑھ گیا۔ بِلا نے اپنی تلوار سے پوری قوت کے ساتھ لڑکی کی گردن پر وار کیا۔ اس وار کے فوراً بعد وہ مر گئی۔ ہم نے اس کی لاش اٹھائی اور جھاڑیوں میں پھینک دی۔‘
جیسے ہی اس واقعے کی خبر پھیلی، عوام میں غصہ بھڑک اٹھا۔ جیسس اینڈ میری کالج کی طالبات نے بوٹ کلب پر احتجاج کیا۔
جب اُس وقت کے وزیرِ خارجہ ان سے بات کرنے کے لیے پہنچے تو طلبہ نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ ایک پتھر ان کے سر پر لگا جس سے ان کے سر سے خون بہنے لگا۔
سنیل گپتا کہتے ہیں کہ ’مجھے آج بھی یاد ہے کہ اُس وقت کے وزیرِ اعظم مورارجی ڈیسائی ان کے گھر تعزیت کے لیے گئے۔ یہ بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی وزیرِ اعظم اس طرح کے کسی جرم سے متاثرہ خاندان کے گھر جا کر تعزیت کرے۔‘
پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہوا کہ گیتا چوپڑا کے جسم پر پانچ زخم تھے جبکہ سنجے کے جسم پر مجموعی طور پر 21 زخم تھے۔ گیتا کا شناختی کارڈ ان کی پتلون کی جیب میں محفوظ حالت میں ملا اور اس سے بٹوہ بھی برآمد ہوا۔
جب فوجی اہلکاروں نے قاتلوں کو گرفتار کیا
قتل اور ریپ کے واقعے کے بعد بلّا اور رنگا پہلے دہلی دے ممبئی اور پھر آگرہ فرار ہوئے۔
یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ آگرہ سے دہلی آتے ہوئے وہ کالکی میل ٹرین میں فوجی اہلکاروں کے ڈبے میں چڑھ گئے، جنھوں نے دونوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
سونیترا چودھری کہتی ہیں کہ ’اس واقعے کے فوراً بعد وہ خوفزدہ ہو گئے اور دوسرے شہروں کی طرف بھاگنے لگے۔ وہ ایک ایسی ٹرین پر سوار ہو گئے جس میں فوجی سفر کر رہے تھے۔ ان کا ان سے جھگڑا ہو گیا اور فوجیوں نے ان سے شناختی کارڈ مانگے۔ رنگا نے بِلا سے کہا کہ ان کو ’بھرا ہوا شناختی کارڈ‘ دے دو۔ اسی لمحے فوجیوں کو شک ہو گیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ انھوں نے دونوں کو باندھ دیا اور جب وہ دہلی سٹیشن پہنچے تو انھیں پولیس کے حوالے کر دیا۔‘
جب جلادوں کو پھانسی کے لیے بُلایا گیا
عدالت نے بِلا اور رنگا کو سزائے موت سنائی، جسے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں نے برقرار رکھا۔
صدر نیلم سنجیوا ریڈی نے ان کی رحم کی اپیل مسترد کر دی۔ پھانسی سے ایک ہفتہ قبل انھیں جیل نمبر تھری کے پھانسی سیل میں منتقل کر دیا گیا۔ وہاں انھیں مکمل تنہائی اور تمل ناڈو سپیشل پولیس کے اہلکاروں کی 24 گھنٹے نگرانی میں رکھا گیا۔
ان دونوں کو پھانسی دینے کے لیے فریدکوٹ سے فقیرا اور میرٹھ سے کالو جلاد کو بلایا گیا۔
سونیترا چودھری کہتی ہیں کہ ’کالو اور فقیرا ایک طرح سے مشہور شخصیات بن چکے تھے۔ یہ ایک روایت سی بن گئی تھی کہ پھانسی سے قبل انھیں ’اولڈ مونک‘ شراب دی جاتی تھی، کیونکہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی بھی شخص یہاں تک کہ جلاد بھی ہوش میں رہ کر کسی کی جان نہیں لے سکتے۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی کی جان لینے کے عوض جلاد کو صرف 150 روپے ادا کیے جاتے تھے، جو بہت کم ہیں۔‘
پھانسی کا پھندا
ان دونوں کو پھانسی دینے کے لیے بہار کی بکسَر جیل سے رسی منگوائی گئی۔
سنیل گپتا وضاحت کرتے ہیں کہ ’یہ رسی بازار سے نہیں خریدی جاتی بلکہ اسے خاص طور پر بہار کی بکسَر جیل میں تیار کیا جاتا ہے۔ اسے نرم اور لچکدار بنانے کے لیے اس پر موم یا مکھن لگایا جاتا ہے۔ بعض جلاد پکے ہوئے کیلے کو کچل کر بھی رسی پر مل دیتے ہیں۔ اس رسی کی لمبائی 1.8 میٹر سے 2.4 میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔‘
’ان جلادوں میں سے ایک، فقیرا مکمل طور پر سیاہ فام تھا۔ وہ اپنے آپ کو یمراج کی طرح پیش کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ کالو کا پیٹ نکلا ہوا تھا، جیسا کہ عام طور پر حلوائیوں کا ہوتا ہے۔ دونوں جان بوجھ کر خوفناک دکھنے کی کوشش کرتے تھے۔‘
پھانسی سے ایک دن پہلے دہلی کے پانچ صحافیوں نے رنگا اور بِلا سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان میں سے ایک پرکاش پاترا تھے، جو اس وقت نیشنل ہیرالڈ کے لیے کام کر رہے تھے۔
پرکاش کے مطابق ’رنگا نے ہم سے ملنے سے انکار کر دیا لیکن بِلا نے ہم سے تقریباً 20 منٹ تک ملاقات کی۔ ہم سے بات کرتے ہوئے اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ وہ آخر تک یہی کہتا رہا کہ خدا جانتا ہے اس نے یہ جرم نہیں کیا اور اسے پھنسایا گیا لیکن ہم اس کی جسمانی حرکات سے سمجھ سکتے تھے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔‘
پھانسی سے قبل منھ پر کالا کپڑا
پھانسی سے ایک رات پہلے رنگا نے معمول کے مطابق کھانا کھایا اور سو گیا جبکہ بِلا نے نہ کچھ کھایا اور نہ ہی ایک لمحہ سو سکا۔ وہ ساری رات اپنے کمرے میں ٹہلتا رہا اور بڑبڑاتا رہا۔
سنیل گپتا یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’ہم نے انھیں صبح پانچ بجے جگایا اور نہانے کے لیے کہا۔ رنگا نے نہا لیا لیکن بِلا نے انکار کر دیا۔ پھانسی سے پہلے دونوں کے چہرے پر سیاہ کپڑے کا تھیلا چڑھا دیا گیا تاکہ وہ باہر کا منظر نہ دیکھ سکیں۔ پھانسی کے وقت بِلا رو رہا تھا، جبکہ رنگا آخری وقت تک بہت پرجوش تھا۔ پھانسی سے پہلے اس نے بلند آواز میں نعرہ لگایا: ’جو بولے سو نہال، ست سری اکال۔‘
’پھانسی سے چند لمحے پہلے میں نے دیکھا کہ دونوں کے چہروں کا رنگ بدل گیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے خوف کے باعث ان کے چہرے سیاہ پڑ گئے ہوں۔‘
موت کا منظر
مقررہ وقت پر جیل کے سپرنٹنڈنٹ آریہ بھوشن شکلا نے سرخ رومال لہرا کر اشارہ دیا اور کالو نے فقیرا کی مدد سے لیور کھینچ دیا۔
اس کے کئی سال بعد تک شکلا اپنے دوستوں کو وہ سرخ رومال دکھاتے رہے، جس سے انھوں نے بِلا اور رنگا کو پھانسی دینے کا حکم دیا تھا۔
دو گھنٹے بعد جب ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو بِلا مردہ پایا گیا لیکن رنگا کی نبض ابھی چل رہی تھی۔
پھانسی کے عینی شاہد سنیل گپتا کہتے ہیں کہ ’یہ مجرم کے وزن پر منحصر ہوتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ چونکہ وہ لمبا تھا اور پھانسی کے وقت اس نے سانس روک لی تھی، اس لیے وہ فوراً نہیں مرا۔ پھر جیل کے ایک ملازم کو کنویں میں اتارا گیا۔ اس نے اس کی ٹانگیں کھینچیں، تب جا کر وہ مرا۔‘
’یہ خوش قسمتی تھی کہ اس زمانے میں پھانسی کے بعد پوسٹ مارٹم عام نہیں تھا، ورنہ یہ خبر سامنے آ جاتی کہ رنگا کی موت ’بیرونی مدد‘ سے ہوئی۔ 32 سال بعد شترگھن چوہان فیصلے کے بعد پھانسی پانے والوں کا پوسٹ مارٹم ضروری قرار دے دیا گیا۔‘
’پھانسی کی تاریخ میں ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ لیور اس قدر زور سے کھینچا گیا کہ جسم دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، جس میں گردن اوپر رہ گئی اور جسم کا نچلا حصہ ٹوٹ کر کنویں میں گر پڑا۔ پھانسی کے بعد اکثر چہرہ بدصورت ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات زبان اور آنکھیں بھی باہر نکل آتی ہیں۔ جیل کی اصطلاح میں اسے ’گردن کا لمبا ہو جانا‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم اُس وقت کسی باہر کے شخص نے اس پر توجہ نہیں دی اور نہ ہی کسی نے اس کی پروا کی۔‘
نہ بِلا کے اور نہ ہی رنگا کے رشتہ داروں نے ان کی لاشیں وصول کیں، اور ان کی آخری رسومات جیل کے اندر ہی ادا کی گئیں۔