’حلب دنیا کا سب سے زیادہ خوبصورت اور دلکش شہر‘

وقت اشاعت

حلب شہر کی تاریخی تصاویر اور دستاویزات بچانے کے لیے ایک شخص جان کی بازی لگا کر ایک علیحدہ ہی جنگ لڑ رہا ہے۔

حلب شہر
،تصویر کا کیپشنشام کے سب سے قدیم شہر حلب میں ہونے والی طویل جنگ کے دوران جب اس شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا، تو ایک شخص تھا جو اس کے خوبصورت ماضی کی یادیں بموں اور دھماکوں سے بچا رہا تھا۔
حلب شہر
،تصویر کا کیپشن’جتنا میں نے ان تصاویر کی تاریخ ڈھونڈنے کی کوشش کی اتنا ہی میں اس کے ہر علاقے کی عمارتوں کی تاریخ میں ڈوبتا چلا گیا۔ سنہ 2010 میں انھوں نے ایک کتاب مرتب کی جس کا عنوان ’حلب کی تاریخ تصاویر میں‘ تھا۔ اس کے دو سال بعد شام کی جنگ شروع ہو گئی۔ ان کے آبائی شہر پر جو بھی شیل گرا، جو بھی بم پھوٹا وہ انھوں نے ذاتی طور پر محسوس کیا ہے۔
السید
،تصویر کا کیپشنالسید اس سے پہلے ہی لائبریریوں کا دورہ کر رہے تھے اور تاریخی دستاویزات کو ڈیجیٹائز کر رہے تھے، لیکن انھوں نے چند رضاکار طالب علموں کی وجہ سے اپنے کام کو تیز کر دیا۔ 2014 میں انھوں نے حلب نیشنل آرکائیو کا سنگِ بنیاد رکھا۔ السید کہتے ہیں کہ حلب دنیا کا سب سے زیادہ خوصورت اور جاذبِ نظر شہر تھا۔
حلب کا نقشہ
،تصویر کا کیپشن’ہم نے جنگ، ناکہ بندی، پانی اور بجلی کی معطلی جیسے حالات میں کام کیا۔ لمبے عرصے تک ہمارا انٹرنیٹ کنیکشن بھی معطل رہا۔‘ لیکن کسی بیرونی امداد کے بغیر انھوں نے نایاب کتابوں اور حکومتی دستاویز سے لے کر خاندانی ریکارڈ اور نقشے تک سکین کیے۔ آجکل کے دور میں بمباری کی وجہ سے شہر کا نقشہ روز بدل رہا ہے جس کی وجہ سے ان نقشوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
حلب کا پرانا اخبار
،تصویر کا کیپشنآرکائیو میں شامل حلب کے اخبارات میں کچھ 19ویں صدی کے اخبارات بھی ہیں۔ جن اخبارات کو انھوں نے ڈیجیٹائیز کیا ہے ان میں سے اکثر تباہ ہو چکے ہیں۔
حلب شہر کی تباہی
،تصویر کا کیپشنجنگ شدید ہو گئی تو ان کے رضاکار شہر چھوڑ کر چلے گئے۔ لیکن السید اور ان کا خاندان شہر میں رہا جس کی بنیادی وجہ ان کی ذاتی لائبریری سے ان کا لگاؤ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’شاید شہر نہ چھوڑنے کی وجہ یہ ہے کہ مجھ میں اپنی کتابیں چھوڑ کر جانے کی ہمت نہیں ہے۔‘
حلب شہر
،تصویر کا کیپشنآرکائیو کی تصاویر شہر میں رہنے اور اسے چھوڑ کر جانے والے دونوں کے لیے اہم ہیں۔ جنگ سے پہلے حلب کی آبادی بیس لاکھ سے زیادہ تھی لیکن کئی اندازوں کے مطابق اب یہ آدھی ہو چکی ہے۔
حلب شہر کی تباہی
،تصویر کا کیپشنلیکن آج کل یہ شہر ویران پڑا ہے۔ کسی زمانے میں یہاں گہما گہمی ہوتی تھی اور اس کے چائے خانوں میں لوگ خوش گپیوں میں مصروف رہتے اور شیشہ پیتے تھے۔
المدینہ سوق
،تصویر کا کیپشنالمشہور المدینہ سوق ۔ 14 ویں صدی کا یہ خوبصورت بازار پتھر سے بنی گلیوں کا ایک نیٹ ورک تھا جو اب ایک کھنڈر بن چکا ہے۔ یہ 2012 میں جل گیا تھا۔
حلب شہر کی تباہی
،تصویر کا کیپشنجنگ سے پہلے السید اپنے دو بچوں اور بیوی کے ساتھ تاریخی عمارتوں اور آثارِ قدیمہ کی سیر کرتے تھے۔ ’میں ہر جمعے انھیں ٹور پر لے کر جاتا اور تفصیل سے انھیں چیزیں بیان کرتا۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ شاید میرے دل میں کہیں تھا کہ ان کو یہ چیزیں دوبارہ دیکھنے کو نہیں ملیں گی۔‘