انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ: انڈین افواج کی ’متحدہ کمان‘ کا منصوبہ کیا ہے اور اس پر فضائیہ کو کیا تحفظات ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, راگھویندر راؤ
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی
- وقت اشاعت
انڈیا میں بری، بحری اور فضائیہ یعنی فوج کے تینوں ونگز کو ملا کر ’انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ‘ تشکیل دینے کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے اور اس کے ساتھ یہ مباحثہ بھی جاری ہے کہ اس کے متعلق فوج کے اعلی عہدیداروں کے بیانات کا کیا مطلب ہے۔
ایسی باتیں ہوتی رہی ہیں کہ انڈین فضائیہ ’انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ‘ کے قیام کے بارے میں پُرجوش نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں انڈیا کے آرمی چیف جنرل بپن راوت کے ایک حالیہ بیان نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
حال ہی میں انڈین چیف آف ڈیفننس سٹاف جنرل راوت نے ملکی فضائیہ کو انڈین مسلح افواج کی ایک ’معاون شاخ‘ قرار دیا اور اس کا موازنہ توپ خانے اور انجینیئرز سے کیا۔ جنرل راوت نے کہا کہ انڈین فضائیہ کے چارٹر کے مطابق کارروائی کے دوران وہ (فضائیہ) بری فوج کے معاون کا کردار ادا کرتی ہے۔
فضائیہ کے ’معاون کردار‘ کی بات جنرل راوت نے ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہی۔
دراصل کانفرنس میں جنرل راوت سے پوچھا گیا کہ ایسا کہا جاتا ہے کہ انڈین فضائیہ ’انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ‘ کے قیام کے بارے میں پُرجوش نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAni
جب فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل آر کے ایس بھدوریا سے جنرل راوت کے تبصروں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ فضائیہ کا کردار محض ایک ’معاون‘ یا ’ذیلی‘ کردار نہیں ہے اور کسی بھی باقاعدہ جنگ میں فضائیہ کا ’بہت بڑا کردار‘ ہوتا ہے۔
انڈین فضائیہ کے سربراہ بھدوریا نے یہ بھی کہا کہ انڈین فضائیہ ’انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ‘ کے قیام کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ لیکن انھوں نے مزید کہا کہ اس عمل کو ’صحیح طریقے سے انجام دینا چاہیے۔‘
انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ پر بحث کی ابتدا کب ہوئی؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1999 میں کارگل جنگ کے بعد قائم ہونے والی جائزہ کمیٹی سمیت کئی دیگر کمیٹیوں نے انڈین فوج کی انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ کے قیام اور چیف آف ڈیفنس سٹاف کے عہدے کی تجویز پیش کی تھی۔
15 اگست 2019 کو لال قلعہ سے یوم آزادی کے موقع پر کیے جانے والے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں فوجی نظام، فوجی طاقت اور فوجی وسائل کو بہتر بنانے کے سلسلے میں جاری گفتگو کا ذکر کیا تھا۔
مسٹر مودی نے کہا تھا کہ انڈیا کی تین فوجیں، آرمی، بحریہ اور ایئر فورس، میں مطابقت تو ہے اور وہ اپنے اپنے انداز میں جدید تکنیک اپنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جس طرح سے جنگ کا دائرہ اور سلسلہ بدل رہا ہے اور جس طرح سے ٹیکنالوجی کا کردار بڑھ رہا اس کی وجہ سے انڈیا کا بھی علیحدہ علیحدہ سوچنے سے کام نہیں بنے گا اور ملک کی پوری فوجی طاقت کو متحد ہوکر مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔
وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’ایسی صورتحال سے کام نہیں چلے گا جس میں تینوں افواج میں سے ایک آگے رہے، دوسرا دو قدم پیچھے اور تیسرا تین قدم پیچھے۔۔۔ تینوں فوجوں کو ایک ساتھ ایک ہی سطح پر آگے بڑھنا چاہیے اور دنیا میں جنگ اور سلامتی کے بدلتے ہوئے ماحول کے ساتھ ان میں اچھا آپسی تال میل ہونا چاہیے۔‘
اس کے ساتھ ہی مودی نے چیف آف ڈیفنس (سی ڈی ایس) کے عہدے کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے اعلیٰ سطح پر تینوں افواج کو موثر قیادت ملے گی۔

،تصویر کا ذریعہAni
انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ کیا ہے؟
انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ ایک متحد کمانڈ ہے جس کے تحت خطرے کی شدت کی بنیاد پر فوج، بحریہ اور فضائیہ کے تمام وسائل کو بہتر ہم آہنگی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے تحت فوج کے تمام ونگز ایک دوسرے کے وسائل کو ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔
اس خیال کے پس پشت بنیادی جذبہ یہ ہے کہ اگرچہ ابھی انڈین مسلح افواج بحرانی حالات میں کامیابی کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کر رہی ہیں اور اپنے اپنے کردار کو بخوبی انجام دے رہی ہیں لیکن اگر وہ مزید مربوط انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ بہتر ہم آہنگی سے کام کریں تو ان کا مظاہرہ مزید بہتر ہو گا۔
گذشتہ کئی برسوں سے انڈیا میں ایک متحدہ کمانڈ بنانے کی باتیں کی جا رہی تھیں لیکن اس خیال نے اس وقت زور پکڑا جب جنرل بپن راوت کو جنوری 2020 میں سی ڈی ایس یعنی چیف آف ڈیفنس سٹاف مقرر کیا گیا۔
سی ڈی ایس کے طور پر جنرل راوت کی اہم ذمہ داریوں میں تینوں افواج کے آپریشن، رسد، نقل و حمل، تربیت، امدادی خدمات، مواصلات، مرمت اور رکھ رکھاؤ کو مربوط کرنا اور بنیادی ڈھانچے کے مناسب استعمال کو یقینی بنا کر خدمات کے مابین وسائل کے بہتر استعمال کو فروغ دینا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
تھیئٹر کمانڈ کی اس تجویز کے تحت چار سے پانچ کمانڈز کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے اور ہر کمانڈ کی قیادت تھری سٹار آفیسر کے حوالے کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ منصوبے کے تحت ہر تھیٹر کمانڈ کے پاس تینوں افواج کے وسائل ہوں گے اور تھیٹر کمانڈر کو ان کا استعمال کرنے کا حق حاصل ہو گا۔
یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ تھیئٹر کے تمام کمانڈز کا کنٹرول آخر کار سی ڈی ایس کے تحت آ جائے گا اور آرمی چیف کی اصل ذمہ داری اپنی فوجی قوت کو بڑھانا، تربیت دینا اور ان کی دیکھ بھال کرنا ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہPib
پہلے مرحلے میں ایئر ڈیفنس کمانڈ اور میری ٹائم تھیئیٹر کمانڈ قائم کرنے کی تجویز ہے۔ ایئر ڈیفنس یا فضائی تحفظ کے کمانڈ تینوں خدمات کے فضائی دفاعی وسائل کو کنٹرول کرے گا اور فوجی اثاثوں کو دشمنوں کے ہوائی حملوں سے بچانے کی بھی ذمہ داری بھی اس پر ہو گی۔
اسی طرح میری ٹائم تھیئٹر کمانڈ کا کام انڈیا کو سمندری خطرات سے بچانا ہے اور اس کمانڈ میں زمینی اور فضائی افواج بھی شامل ہوں گی۔
اس کے ساتھ مستقبل میں مغربی، شمالی اور مشرقی محاذوں کی حفاظت کے لیے مزید تین مربوط دفاعی کمانڈ بنانے کا منصوبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انٹیگریٹڈ تھیئٹر کمانڈ کا سب سے بڑا فائدہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ وسائل کا زیادہ موثر استعمال اور تینوں افواج کے مابین ہم آہنگی کو بڑھاتا ہے۔ مثال کے طور پر ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ فضائی دفاع کی ذمہ داری فضائیہ پر عائد ہوتی ہے لیکن فوج کے تینوں حصوں میں میزائل جیسے فضائی دفاعی سازوسامان موجود ہیں۔
اب اگر متحد فضائی دفاعی کمانڈ قائم ہوتی ہے تو فضائی دفاع سے متعلق تمام اثاثے ایک ہی کمانڈ کے کنٹرول میں آ جائیں گے، جس کی وجہ سے وقت ضائع کیے بغیر بحران کی صورت میں فوری کارروائی کرنا آسان ہو جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیلنجز اور مشکلات
ایسی باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ ایئر فورس اس تجویز کے خاکہ سے مطمئن نہیں ہے اور انڈین فضائیہ کے سربراہ بھدوریا کے اس بیان نے اس امر کو تقویت پہنچائی ہے۔ انھوں نے اس عمل کو ’ٹھیک سے سرانجام‘ دینے کی بات کہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایئر فورس کو خدشہ ہے کہ انٹیگریٹڈ تھیئیٹر کمانڈ بننے کے بعد اس کا اپنے فضائی اثاثوں پر سے کنٹرول ختم ہو جائے گا۔ اسی کے ساتھ ایئر فورس کو یہ بھی تشویش ہے کہ تھیئیٹر کمانڈ کی تشکیل کے ساتھ ہی اس کے تمام اثاثوں کو بہت سی جگہوں پر تھوڑی تھوڑی مقدار میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
ان اختلافات کو حل کرنے کے لیے جون میں تینوں افواج کے نائب سربراہوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ تھیئٹر کمانڈر کے ڈھانچے میں کون کسے رپورٹ کرے گا۔ انٹیگریٹڈ تھیئٹر کمانڈ میں اہلکاروں اور مشینری کی آپریشنل کمانڈ فوجی سربراہ کے ہاتھوں میں ہو گی یا تھیئٹر کمانڈر کے ہاتھوں میں؟
گذشتہ سال اکتوبر میں آرمی چیف جنرل نراونے نے کہا تھا کہ دفاعی اصلاحات کے عمل میں اگلا منطقی قدم جنگ اور امن کے دوران تینوں افواج کی صلاحیتوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک متحد تھیٹر کمانڈ کا قیام ہوگا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک اچھی طرح سے سوچا سمجھا عمل ہوگا جس کے ثمر آور ہونے میں کئی سال لگیں گے۔
جنرل نراونے نے یہ بھی کہا تھا کہ اس عمل میں ’مڈ کورس اصلاحات‘ درکار ہوں گی یعنی جاری کارروائی کے دوران اصلاحات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال کیا ہے؟
اس وقت انڈیا میں 17 فوجی کمانڈز موجود ہیں۔ ان میں سے آرمی اور فضائیہ کی سات کمانڈز ہیں اور بحریہ کے پاس تین کمانڈز ہیں۔ اس کے ساتھ دو سہ فریقی کمانڈز بھی ہیں، انڈمان اور نکوبار کمانڈ (اے این سی) جس کی سربراہی تینوں افواج آفیسر کرتے ہیں اور سٹریٹجک فورسز کمانڈ ہے جو انڈیا کے جوہری اثاثوں کے لیے ذمہ دار ہے۔
سی ڈی ایس بپن راوت کیا کہتے ہیں؟
سی ڈی ایس جنرل بپن راوت نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو بتایا تھا کہ نئی اصلاحات میں کچھ رکاوٹیں ہیں لیکن تینوں افواج نے انٹیگریٹڈ تھیئٹر کمانڈ کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ رکاوٹیں بھی ضروری ہیں کیونکہ وہ ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ مزید بحث و مباحثے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہADG PI - INDIAN ARMY
جنرل راوت نے کہا کہ وہ اس منصوبے کو مزید تبادلہ خیال کے ساتھ آگے لے جا رہے ہیں اور تینوں افواج میں ہم آہنگی لانے کے لیے طے شدہ وقت میں تھیئٹر کمانڈ بنانے کا عمل جاری ہے۔
ماہرین کی رائے
انڈین فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ ایئر کموڈور اور سٹریٹجک امور کے ماہر پرشانت دکشت کا کہنا ہے کہ انٹیگریٹڈ تھیئٹر کمانڈ کی تجویز کو گہری خود احتسابی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس پر لاگت اور منافع کے نقطہ نظر سے سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیے
وہ پوچھتے ہیں ’جب ہمارے وسائل اتنے کم ہیں تو ہمیں تھیئٹر کے کمانڈز کی کیا ضرورت ہے جبکہ ہمیں ان وسائل کو مختلف مقامات پر تقسیم کرکے ان کی مورچہ بندی انتہائی مشکل ہو گی؟‘
وہ کہتے ہیں: ’تھیئٹر کمانڈ میں انڈین فضائیہ کے آپریشن پر مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ یہ بے معنی ہے۔ انڈین فضائیہ کے پاس ایسے وسائل نہیں ہیں جو تھیئٹر کمانڈ میں تقسیم کیے جا سکیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فضائیہ کے پاس رسائی کی قوت ہے اور یہ ایک واحد فائدہ ہے۔
’گگن شکتی‘ یعنی آسمانی قوت کی مشق کی مثال دیتے ہوئے دکشت کہتے ہیں کہ اس مشق سے ثابت ہوا کہ انڈین فضائیہ کا لڑاکا طیارہ مشرق بعید سے پرواز کر سکتا ہے اور انڈین جزیرہ نما کو عبور کر سکتا ہے اور طے شدہ اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انڈین فضائیہ کے ریٹائرڈ ایئر مارشل پی کے باربورا کا کہنا ہے کہ فضائیہ کے بنیادی اصول اس کی لچک، تیز ردعمل، فائر پاور اور فضائی دفاع ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’فضائيہ قومی فضائی حدود کے دفاع کی ذمہ دار ہے۔ لہذا اس بنا پر ایئرفورس کے پاس مختلف کمانڈز کو دینے کے لیے اثاثے موجود نہیں ہیں۔ اچانک سے ہی فضائیہ ہر تھیئٹر کے ہدف کے لیے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل نہیں ہو سکتی ہے۔ مغربی ممالک کے بہت سے فوجی سربراہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ فضائی اثاثوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔‘
ایئر مارشل (ریٹائرڈ) باربورا کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ اس طرح فضائی اثاثوں کو ختم کر دیتے ہیں تو آپ دفاع کی قومی صلاحیت کو پامال کر رہے ہیں۔ انڈین فضائیہ معاون بازو نہیں ہے۔ یہ قومی دفاع کا ایک اثاثہ ہے جس کا استعمال قومی مقاصد کے لیے دو دیگر خدمات کے ساتھ مل کر کیا جانا چاہیے۔‘
مسٹر باربورا نے 1948، 1965 اور 1971 کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین فضائیہ نے ہر بار فوج کے دوسرے حصوں کے ساتھ عمدہ مشترکہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا خیال ہے کہ اس سارے معاملے میں جلد بازی سے کام لیا جا رہا ہے۔
اس سارے منصوبے پر ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) دکشت کہتے ہیں کہ ان کے خیال سے یہ تبدیلی ضروری نہیں ہے۔ ’صرف اس وجہ سے کہ امریکہ نے یہ کیا، ہمیں اسے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق یہ فضائی طاقت کو سمجھنے کی بات ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’طاقت کے استعمال یا جنگ کے اصولوں کے تحت لچک اور رسائی زیادہ ضروری ہے۔ یہ ایک فضائی پلیٹ فارم ہے اور یہ متعدد کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے جیسے ایئر فورس کی حیثیت کم ہو جائے گی۔ یہ صرف فضائی طاقت کے استعمال کے بارے میں ہے۔‘
ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) مسٹر دکشت کا کہنا ہے کہ انڈین فضائیہ جیسی بڑی فوج کو کہا جائے کہ وہ اپنے کسی جہاز کو ایک جگہ رکھے اور کچھ کو دوسری جگہ، یہ ایک پسماندہ حکمت عملی ہے۔























