بابری مسجد کے انہدام کی کہانی، تصویروں کی زبانی

وقت اشاعت

بابری مسجد کی تباہی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسجد کو ایک گہری سازش کے تحت گرایا گیا۔

بابری مسجد
،تصویر کا کیپشنفوٹوگرافر پروین جین نے بابری مسجد کو گرانے سے پہلے ایک دن پہلے کی جانے والی مشقوں کی تصاویر بنائیں۔ ان مشقوں میں آر ایس ایس کے ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی تھی۔
بابری مسجد
،تصویر کا کیپشنکارکنوں نے مٹی کے ٹیلے زمین پر گرا دیے تھے اور اگلے دن چھ دسمبر 1992 کو یہ عمل دہرایا گیا۔
بابری مسجد
،تصویر کا کیپشنچھ دسمبر کو، پولیس اہلکار بھی وہاں نعرے لگا رہے رہے تھے. دوپہر کے بعد بھیڑ پرتشدد ہو گئی اور مسجد کی حفاظت کے لیے تعینات پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی۔
بابری مسجد
،تصویر کا کیپشنبابری مسجد کے انہدام کے بعد فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
بابری مسجد
،تصویر کا کیپشنبابری مسجد کو گرانے میں نہ صرف کارکنان بلکہ عمارت گرانے والے پیشہ ور افراد بھی شامل تھے۔
بابری مسجد
،تصویر کا کیپشنکچھ ہندوؤں کا خیال ہے کہ اس متنازع جگہ پر ہندو دیوتا شری رام کی جائے پیدائش ہے۔
بابری مسجد
،تصویر کا کیپشنتباہ ہونے والی بابری مسجد کو 16 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔
بابری مسجد
،تصویر کا کیپشنبابری مسجد کی تباہی کی تحقیقات کرنے والے جسٹس لبرہان کمیشن نے 2009 میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ مسجد کو ایک گہری سازش کے تحت گرایا گیا۔
بابری مسجد
،تصویر کا کیپشنجس کے بعد لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اما بھارتی سمیت بہت سے افراد کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
بابری مسجد
،تصویر کا کیپشناس سلسلے میں دو مقدمات چل رہے ہیں، ایک سازش کرنے کا اور دوسرا زمین کے مالکانہ حقوق کا۔