کشمیر: کرفیو کے باوجود ہزاروں جنازے میں شریک

وقت اشاعت

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہلاک ہونے والے بچے کے جنازے میں شریک کشمیریوں کا انڈیا کے خلاف احتجاج۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد نے اس بچے کے جنازے میں شرکت کی جس کی سنیچر کو چھروں سے چھلنی لاش ملی تھی۔
،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد نے اس بچے کے جنازے میں شرکت کی جس کی سنیچر کو چھروں سے چھلنی لاش ملی تھی۔
ناصر شفیع نامی سکول کا یہ بچہ جمعے کو سری نگر سے لاپتہ ہوگیا تھا اور سنیچر کو اس کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنناصر شفیع نامی سکول کا یہ بچہ جمعے کو سری نگر سے لاپتہ ہوگیا تھا اور سنیچر کو اس کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق کشمیر میں رواں برس جولائی میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے بعد سے لوگوں کی آمدو رفت اور انٹرنیٹ کے استعمال پرانڈیا کی حکومت نے سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں۔
،تصویر کا کیپشننامہ نگاروں کے مطابق کشمیر میں رواں برس جولائی میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے بعد سے لوگوں کی آمدو رفت اور انٹرنیٹ کے استعمال پرانڈیا کی حکومت نے سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے بچے کی عمر 11 برس تھی۔
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے بچے کی عمر 11 برس تھی۔
کشمیر میں پولیس نے گذشتہ کئی ہفتوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور ان گرفتاریوں پر لوگوں کے غصے میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں پولیس نے گذشتہ کئی ہفتوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور ان گرفتاریوں پر لوگوں کے غصے میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
خیال رہے کے کشمیر میں آٹھ جولائی کو عسکریت پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے ریاست میں صورتحال کشیدہ ہے اور عوامی احتجاج کو روکنے میں ناکامی کے بعد سے انتظامیہ نے کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔
،تصویر کا کیپشنخیال رہے کے کشمیر میں آٹھ جولائی کو عسکریت پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے ریاست میں صورتحال کشیدہ ہے اور عوامی احتجاج کو روکنے میں ناکامی کے بعد سے انتظامیہ نے کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔
کشمیر میں انڈیا کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے احتجاج کرنے والے شہریوں پر بڑے پیمانے پر چھروں والی بندوق سے فائرنگ کی جاتی رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں انڈیا کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے احتجاج کرنے والے شہریوں پر بڑے پیمانے پر چھروں والی بندوق سے فائرنگ کی جاتی رہی ہے۔