ایرانی عہدیدار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کے دورۂ تہران کی تصدیق کر دی
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترکی کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
علی باقری نے سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو میں کہا کہ عاصم منیر نے اس سے قبل سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقات میں ان تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے تہران آنے اور مشترکہ اجلاس کے انعقاد کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور یہ تینوں ممالک حالیہ جنگ کے دوران، ان کے بقول، ’ایران کے قومی سلامتی کے کامیاب تجربے‘ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’خطے کی سکیورٹی‘ کے لیے تعاون کر سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس سے قبل دو با خبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ’مکہ معاہدے‘ کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام، پیر 26 اکتوبر کو تہران میں علاقائی رابطہ کاری سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں طے کیا گیا ہے جب یمن کے حوثی جنگجوؤں کے سعودی عرب پر حملے جاری ہیں۔ مکہ معاہدے کے رکن ان تین ممالک کے حکام نے اکتوبر کے اوائل میں ریاض میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور عسکری صلاحیتوں کی تعیناتی پر اتفاق کیا تھا۔